ملک کو ایک مسیحا کی تلاش ہے

سروج سنگھ
انا ہزارے، بابا رام دیو، اروِند کجریوال۔ یہ چند نام ہیں، جنہیں دیکھ سن کر ایسا لگتا ہے کہ گویا بدعنوانی اور بدنظمی کے خلاف عام آدمی بھی اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ بدنما ڈھانچے کو بدل سکتا ہے۔ ملک کو بدل سکتا ہے۔ لیکن ملک کو بدلنے کا کام اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ صرف دہلی یا ممبئی کے لوگوں کو سڑک پر لا دینے سے بھی کام نہیں چلتا۔ ایک دو اَنشن کر دینے سے بھی اس گونگی بہری سرکار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر علاج کیا ہے؟ ظاہر ہے، جس تحریک کو لے کر بار بار انّا ہزارے، بابا رام دیو یا اروِند کجریوال دہلی، ممبئی جیسے بڑے شہروں کی سڑکوں پر اترتے ہیں، ضرورت ہے اس تحریک کو ہندوستان کے ہر ایک شہر، ہر ایک گاؤں تک پہنچانے کی۔
بہرحال، ایک واقعہ پر غور کیجئے۔ 27 اگست کو پٹنہ ایئرپورٹ پر ہزاروں لوگوں کا پرجوش ہجوم ایک عظیم ہیرو کو تلاش کر رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ عرصے بعد کوئی اصلی ہیرو پٹنہ کی سرزمین پر قدم رکھ رہا ہو۔ اور پٹنہ ایئرپورٹ پر جیسے ہی سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے قدم رکھا، پورا ہوائی ہڈہ ان کے زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ کوئی ایسا نہیں تھا جو وہاں پر نہ ہو۔

جنرل وی کے سنگھ نے سب سے اچھا کام یہی کیا کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے ہی وہ لگاتار ملک بھر میں گھوم رہے ہیں، کسانوں سے مل رہے ہیں۔ سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ سے مل رہے ہیں، تحویل اراضی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ جنرل سنگھ جب پٹنہ پہنچے، تو جس جوش کے ساتھ عام لوگوں نے ان کا استقبال کیا، عوام کے ساتھ ان کا جس طرح رابطہ قائم ہوا، وہ مایوسی بھرے اس ماحول میں امید کی ایک کرن جیسا لگتا ہے۔

گاندھی وادی، جے پی وادی، عورتوں، دانشوروں اور خاص کر نوجوانوں کی بڑی تعداد یہ بتا رہی تھی کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک عظیم ہیرو کو تلاش کرنے کی ان کی کوشش پوری ہو گئی ہے۔ پھول مالاؤں سے لدے جنرل وی کے سنگھ نے اعلان کیا کہ آپ آگے بڑھیں، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔ خاص کر نوجوانوں سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو دنیا میں سب سے آگے لے جانے کی طاقت آپ کے پاس ہے۔ آپ کو آگے آنا ہوگا تبھی اس عظیم ملک کو ہم عظیم رکھ پائیں گے۔
پٹنہ میں جس طرح سے جنرل سنگھ کو دیکھنے سننے کے لیے لوگ امنڈے، وہاں کا جو نظارہ تھا، جو ماحول تھا، لوگوں کا جو ردِ عمل تھا، اس میں ایک تحریک کا تیور اور جھلک نظر آ رہا تھا۔ جنرل سنگھ نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدعنوانی کینسر کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔ کبھی سبھاش چندر بوس نے نعرہ لگایا تھا کہ ’تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا‘۔ اس کے بالکل برعکس آج ملک بھر میں یہ چلن ہے کہ ’تم مجھے پیسے دو، میں تمہارا کام کروں گا‘۔ انہوں نے نوجوانوں اور دانشوروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، ایسے میں نوجوانوں کو ملک کو مسائل سے باہر نکالنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ بہار کی تعریف کرتے ہوئے سابق آرمی چیف نے کہا کہ بہار تبدیلی کا انقلاب برپا کرنے میں ہمیشہ آگے رہا ہے۔ جو چیز یہاں سے شروع ہوتی ہے، وہ ملک کے ہر کونے میں جاتی ہے۔
دراصل، پچھلے ایک سال کے اندر ملک میں جو ماحول بنا ہے، جس طریقے سے لگاتار تحریکیں ہوتی رہی ہیں اور پھر بھی سرکار پر کوئی اثر ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے، ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں ان تحریکوں کی حکمت عملی سے متعلق غلطی بھی ایک بڑی وجہ رہی ہے، مثلاً انّا ہزارے اور ان کی ٹیم نے رام لیلا میدان میں اَنشن کے بعد ملک گیر دورہ نہیں کیا، عوامی بیداری کی مہم نہیں چلائی۔ اگر انا ہزارے ملک بھر میں گھومتے، لوگوں سے ملتے تو شاید آج تصویر کچھ اور ہوتی۔ رام دیو بھلے ہی ملک بھر میں گھومے ہوں، لیکن ان کے ساتھیوں میں عام آدمی کی بجائے ان کے عقیدت مندوں اور مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ یاد کیجئے جنتر منتر کا وہ واقعہ۔ ٹیم انا اور خود انا ہزارے کا اَنشن تڑوانے جب جنرل وی کے سنگھ پہنچے تو عام آدمی سے لے کر، میڈیا اور لگ بھگ پورا ملک انہیں دیکھنے سننے کے لیے بیتاب تھا۔ جنرل وی کے سنگھ نے سب سے اچھا کام یہی کیا کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے ہی وہ لگاتار ملک بھر میں گھوم رہے ہیں، کسانوں سے مل رہے ہیں۔ سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ سے مل رہے ہیں، تحویل اراضی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
جنرل سنگھ جب پٹنہ پہنچے، تو جس جوش کے ساتھ عام لوگوں نے ان کا استقبال کیا، عوام کے ساتھ ان کا جس طرح رابطہ قائم ہوا، وہ مایوسی بھرے اس ماحول میں امید کی ایک کرن جیسا لگتا ہے۔ پٹنہ میں جنرل سنگھ نے دانشوروں کے درمیان کہا کہ آج پورا ملک ’ملٹی آرگن فیلیور‘ کا شکار ہو چکا ہے۔ چیلنج بڑا ہے، لیکن امید کی کمی نہیں ہے۔ ملک کا نوجوان آگے آئے گا تو اس سے نمٹنے میں وقت نہیں لگے گا۔ دانشوروں میں بیداری پیدا ہوئی ہے، لیکن اپنی لڑائی شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہمارا ملک تبھی ہارا، جب ہمارے درمیان اتحاد نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ڈیولپمنٹ جی ڈی پی پر منحصر نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف اعداد و شمار کی بازیگری ہے، جس کا کوئی سوشل امپیکٹ نہیں ہے۔ یہ اقتصادی اصلاحات کا اثر ہے، جس میں اپنا چہرہ صاف دکھانے کے لیے اعداد و شمار کو کئی طرح سے دکھایا جاسکتا ہے۔ ہماری اقتصادی حالت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری کرنسی کی ویلیو جب چاہے دوسرے ملک گرا سکتے ہیں۔ جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک وقت وہ تھا، جب ملک کے لیڈروں کے کہنے پر پورا ملک ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیتا تھا، لیکن آج ایسی حالت نہیں رہی۔ پی ایم، پریزیڈنٹ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، جس کا اثر جمہوریت کی کامیابی پر پڑتا ہے۔ جمہوریت کا مطلب صرف الیکشن مان لیا گیا ہے، جب کہ اس کا مقصد سب کو شامل کرنا ہوتا ہے۔ آزادی کی چھ دہائی بعد جہاں ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، وہاں ہم پچھڑ رہے ہیں۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ ہر کسی کا بیسک رائٹ ہونا چاہیے، لیکن اس میں ہم ناکام ہو رہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ سرکاری اسپتال صرف نام کے ہیں، سب پر کارپوریٹ ہاؤس حاوی ہو رہے ہیں۔ آج ضرورت اسکلڈ لوگوں کی ہے، لیکن سسٹم ایسا گڑ بڑ ہو چکا ہے کہ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ملک میں بڑھ رہے نکسل واد پر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’گوگل اَرتھ‘ میں اگر رات کا سین دیکھیں تو آبادی والے کئی حصوں میں اندھیرا دکھائی دیتا ہے، مطلب وہاں ترقی کی روشنی نہیں پہنچی ہے۔ آج نکسل واد تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حالات نہیں بدلے تو یہ پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ فوج کے بارے میں بولتے ہوئے جنرل سنگھ نے کہا کہ ملک بھر میں آرمی ایک ایسا ادارہ ہے، جو سیکولر بھی ہے اور محب وطن بھی۔ اس میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ فوج ہر کام کو بنا فیلیور پورا کرتی ہے، لیکن آج فوج کو بھی ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے، اسے کمزور بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
بہار تحریک کی سرزمین رہی ہے۔ یہ بات جنرل سنگھ بھی جانتے ہیں۔ تبھی انہوں نے پٹنہ میں ایک سیمینار میں کہا کہ بہار سے شروع ہوئی طلبہ کی تحریک دہلی کے اقتدار کو بے دخل کر چکی ہے۔ بہار تبدیلی کے لیے جانا جاتا رہا ہے اور ابھی بھی وہ جذبہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں سے شروع ہوئی ہر چیز ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ آج بھی بہار کو چینجر بننا ہوگا، ملک کو بدلنے کی شروعات یہیں سے ہوگی۔ یہاں کے یوتھ میں ہوپ اور لڑنے کا جذبہ بھی ہے۔ اس سے پہلے جنرل سنگھ کا استقبال کرتے ہوئے آئی آئی بی ایم، پٹنہ کے بانی سکریٹری پروفیسر اتم کمار سنگھ نے کہا کہ ملک میں آج جیسے حالات ہیں، اسے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے جنرل صاحب کو ’راشٹر نائک‘ (قوم کا ہیرو) کا لقب دیتے ہوئے اپیل کی کہ ہندوستان کو ایک بار پھر سونے کی چڑیا بنانے کے لیے آپ آگے آئیں، پورا بہار آپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے جنرل سنگھ سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اس مشکل کی گھڑی میں آپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ فوج میں رہتے ہوئے آپ نے فرض منصبی اور ایمانداری کی جو مثال قائم کی، اس سے ملک میں امید جگی ہے۔ سیمینار کی صدارت قانون ساز اسمبلی کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ نے کی۔
اس سیمینار کے بعد اے این سنہا انسٹیٹیوٹ میں ایک شہری استقبالیہ پروگرام رکھا گیا تھا، جہاں سو سے زیادہ تنظیموں نے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو اعزازات سے نوازا۔ اس موقع پر ویر کنور سنگھ کے پوتے کی بیوی پشپا سنگھ نے کہا کہ آج کے مخالف ماحول میں آپ کو ویر کنور سنگھ کی شکل میں دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں آپ کی ماں کی طرح ہوں اور بدعنوانی کے خلاف آپ نے جو لڑائی چھیڑی ہے، اس میں آپ کی جیت طے ہے۔ اس موقع پر سوامی سہجانند سرسوتی سماجک نیائے منچ کے صدر اور نوجوان لیڈر روہت سنگھ نے کہا کہ پورے بہار کی نوجوان طاقت جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ ہے۔ ان کے ایک اشارے پر بہار کا نوجوان سڑکوں پر اترنے کو تیار ہے۔ روہت سنگھ نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں صوبے کا نوجوان کوئی بھی تکلیف سہنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔منچ کی طرف سے انہیں علامتی نشان بھی بطور تحفہ دیا گیا۔ مختلف تنظیموں کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ کے تئیں جنرل وی کے سنگھ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ کئی مسلم تنظیموں کے لوگوں نے بھی جنرل وی کے سنگھ سے ملاقات کرکے ان سے اپنی مہم زور شور سے چلانے کی اپیل کی۔

Share Article

One thought on “ملک کو ایک مسیحا کی تلاش ہے

  • September 15, 2012 at 3:58 pm
    Permalink

    سروج جی آداب
    آپ کا مضمون پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی
    بہت اچھا لگا جنرل وی کے سنگھ کے بارےمیں جو خیالات آپ نے پیش کیا ہے وہ واقعی جوش بھر ا خیال ہے۔ آپ نے ایک حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ تحریکوں کے چلانے سے پہلے لوگوں میں جانکاری کو پھیلانا چاہئے ۔ اگر وی کے سنگھ جی کوئی تحریک چھیرتے تو انھین بھی پورے دیش میں جاکر اپنی تحریک کے بارےمیں لوگوں کو بتانا ہوگا۔ ان سے اس بات کی زیادہ امید بھی کی جاسکتی کہ وہ ہندوستانی قیادت میں ایک انقلاب لا سکتے کیوں کہ وہ اچھی طرح ملک کے حالات سے واقف ہیں کیوں کہ وہ ایک ایسی جگہ سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں جس سے پورے دیش کی سالمیت برقرا ہے، آپ چھوٹا بھائی افضل حسین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *