مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

شیخ مقبول احمد ہبلی
ابھی ماہ رمضان المبارک ہم سے رخصت ہوا ہے۔ شعبان المکرم کے آتے ہی تمام مسلمانوں نے رمضان کی تیاریاں شروع کردیں۔ شعبان کا مہینہ پورا ہوتے ہی غروب آفتاب کے ساتھ دنیا کے سارے مسلمانوں کی نگاہیں ہلال رمضان کے دیدار کیلئے آسمان کی جانب اٹھ گئیں۔ مطلع ابر الود ہونے کی وجہ سے اکثر مقامات پر رمضان کا چاند بادلوں میں چھپ گیاتھا۔ اس کے باوجود قرب و جوار سے موبائیل، ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعہ رویت ھلال کی تحقیق میں ہر کوئی مصروف تھا۔ چاند کی خبر ملتے ہی ہر کوئی تیزی سے سحری کے انتظامات سے فراغت حاصل کر کے نماز تراویح کے لے مسجد کی جانب دوڑ تا ہوانظر آرہاتھا۔ شہر اور گائوں کے تمام مساجد نمازیوں سے کجھاکھچ بھر گئی تھیں۔ تاخیر سے مسجدپہنچنے والوں کو راستوں پر نماز ادا کرنی پڑی۔ پچھلے گیارہ مہینوں کے بعد مساجد کو یہ منظر دیکھنا نصیب ہوا۔ ہر مسلمان رمضان کی آمد پر بے حد مسرور نظر آرہا تھا۔ سحری کے بعد نماز فجر میں بھی مساجد کے درویوار اور ممبر و محراب نے مسلمانوں اور نمازیوں کا یہ روح پرور منظر دیکھا۔ پھر رمضان کا پورا مہینہ مساجد نمازیوں سے بھری ہوئیںنظر آئیں۔ طاق راتوں میں مساجد کا روحانی ماحول اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ ساری ساری رات مسلمان نفل نمازوں اور تلاوت ِقرآن میں مصروف نظر آئے۔ عید کا چاند دیکھ کر جہاںمسلمانوں کی اکثریت فرط مسرت سے جھوم اُٹھی، وہیں پراہل ایمان کا ایک مختصر طبقہ رمضان المبارک کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھ کر غمگین اور بے قرار نظر آیا۔ رمضان المبارک کے ایمان پرورشب وروز، سحری اور افطار کی بارونق ساعتیں، قیام لیل اور تلاوت قرآن کی ایمان افروز گھڑیوں کو یاد کر کے آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
عید کی صبح اچانک نمازیوں کی تعداد میں کمی پاکر مساجد کے منبر و محراب اور درو دیوار پر سکتہ طاری ہوگیا۔ ہر مسلمان عید کی خوشیاں منانے کے سامان اور اشیائے خوردنوش حاصل کرنے کے لئے نماز فجر کو چھوڑ کر دودھ کی ڈیری اور گوشت کی دوکانوں کی جانب دوڑتا ہوا نظر آ رہا تھا اور مساجد کے گنبد و مینار نمازیوںمیںاس اچانک آئی تبدیلی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہ گئے۔ لیکن نماز عید میں عیدگاہوں کے ساتھ ساتھ تمام مساجد میں نمازیوں کی تعداد نے رمضان المباک کے پورے مہینے کے نمازیوں کی شرکت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ نماز تراویح یا جمعۃ الوداع یا کسی بھی نمازمیں نمازیوں کی ہوئی شرکت سے کہیں زیادہ تعداد میں مسلمان نماز عید کے لئے جمع ہوتے دیکھ کر مساجد پر وجدانی کیفیت طاری ہوگئی۔
مگر… اِن مساجد کو یہ خبر کہاں تھی کہ عید کے روز ہی نمازِ ظہر میں اُن پر ایک عظیم سانحہ گذرنے والا ہے۔ اور ایسا ہو کر رہا۔ تمام مسلمان نماز عید کے بعد بریانی، پلائو، کباب، تندور ی ، سویوں اور شیر خورما سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ قیمتی نئی پوشاکیں پہن کرہر کوئی اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ تفریح منانے کے موڑ میں نظر آنے لگا اور نماز ظہر میں تمام مساجدمہینے بھر نمازیوں کی پر جوش شرکت کا منظر دیکھنے کو ترس کر رہ گئیں۔ ایمان کی حرارت والے نمازی مسجدوںمیں جمع ہوئے مگر پچھلی صفیں مصلیوں سے خالی نظر آنے لگیں۔ کسی کسی مسجد میں تو ویرانی چھا گئی۔مساجد کے سناٹے میں ایک بے آواز سوال گونج رہا تھا۔ آخر ایسا کیوں ہوگیا؟ اور ہر سال ایسا ہی کیوں ہوتا ہے؟ رمضان کے نمازی نمازِ عید ادا کرنے کے بعد کہاں گم ہو جاتے ہیں؟ کیا انکے لئے نماز صرف رمضان ہی میں فرض ہوتی ہے؟ رمضان کی رخصتی کے بعد انکی نماز بھی کیوں رخصت ہو جاتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کی آواز تو سنائی نہیں دیتی مگر جن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے وہ مساجد کی ویرانی کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟؟آج مسلمانوں کی اکثریت اسلام اور ایمان کا وہ شعور نہیں رکھتی جس کا مطالبہ ہر اہل ایمان سے کیا گیا ہے۔ہم اپنے ماحول سے متاثر ہو کر وقتی اور ہنگامی طور پر کچھ عبادات تو کر لیتے ہیں، مگر جیسے ہی ماحول میں تبدیلی ہوتی ہے ہمارا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔بس یہی حال رمضان کی نمازوں کا ہے۔ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نماز کی حقیقت اور اہمیت کو جانے اور ترک نماز کا کیا انجام سامنے آنے والا ہے اس بات کو سمجھے۔بندۂ مومن کو نماز سے کسی حال میں بھی رخصت نہیں۔ حتیٰ کہ حالت جنگ میں بھی نماز کا نہ صرف حکم ہے بلکہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی تاکید ہے۔البتہ اللہ تعالیٰ نے جو نہایت رحیم و کریم ہے اپنے بندوں پر نماز کی ادائیگی میں ہنگامی حالات میںآسانی رکھ دی ہے۔ بیماری کی حالت میں اگر کھڑا ہوکر نماز ادا کرنا ممکن نہیں تو بیٹھ کر، اگر بیٹھ کر نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر اور اگر اتنی بھی سکت نہ ہو تو اشارے سے نماز ادا کرے مگر کرے ضرور۔ طہارت اور پاکی ممکن نہ ہو توتیمم کی سہولت دی گئی ۔ سفر میں نماز کو مختصر کرنے کی اجازت رکھی گئی اور حالاتِ جنگ میں جب کہ کسی بھی وقت دشمن فوج کے حملے کا اندیشہ ہو تب بھی حکم دیا گیا کہ فوج کا ایک حصہ نماز ادا کرے دوسرا حصہ اس کی حفاظت کے لئے ہتھیار بند نگرانی کرتا رہے۔آدھی نماز ادا کرنے کے بعد پہلا حصہ مورچہ سنبھالے اور دوسرا حصہ باقی نماز ادا کرے۔
قرآن مجید میں سب سے زیادہ تاکید اقامت صلوٰۃ یعنی نماز قائم کرنے کے متعلق آئی ہے۔(اجمالاً 700مرتبہ اور تاکیداً 73مرتبہ) اور نماز ہی کو اصل دین بتایا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاور انہیں تو اسی کا حکم ہوا تھا کہ اخلاص کے ساتھ ہر طرف سے یکسو ہوکر اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی ٹھیک دین ہے” (سورۃ البینہ، آیت ۵( اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ انسان کو جو بھی خیر اور بھلائی کمانی ہے اور اپنی آخرت کے لئے سرمایہ جمع کرنا ہے وہ نماز و زکوٰۃ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو تم اپنے لئے جو کوئی بھلائی آگے بھیجو گے اُسے اللہ کے یہاں موجود پائوگے۔”(سورۃ المزمل آیت ۲۰)
ایمان لانے کے بعد سب سے پہلا فرض جو عائد ہوتا ہے وہ نماز ہے۔ اِدھر کسی نے کلمۂ شہادت پڑھ کر ایمان لایا ، اُدھر موذن نے اذاں دی اور اُس پر نماز فرض ہو گئی۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے نماز کا طریقہ نہیں آتا اور نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اُسے میں نہیں جانتا۔پہلے میں سب کچھ سیکھ لوں گا اور اس کے بعد نماز اداکروںگا۔ نہیں ۔اس بات کی قطعاً گنجائش نہیں۔ ایمان لانے والے کو مسجد پہنچ کر امام کے پیچھے جیسا کچھ امام رکوع و سجود کیلئے حرکت کرے اُسی کی طرح کرنا فرض ہو جاتا ہے۔چاہے نماز کے اذکار پڑھے نہ پڑھے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نماز مومن اور کافر کے درمیان حد فاصل ہے۔(مسلم) ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز دین کا ستون ہے، جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، جس نے نماز کو ضائع کیا اس نے دین کو ڈھا دیا۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا نماز پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے زندہ اور مردہ آدمی۔
نماز کی اسقدر تاکید کے باوجود نماز کی ادئیگی میں ہمارا کیا حال ہے یہ سب پر عیاں ہے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ نماز سے غفلت دنیا میں اللہ تعالیٰ سے دوری، اسکی ناراضی اور غضب کا موجب بنتی ہے تو آخرت میں ذلت و رسوائی اور عذاب کا سبب بن جاتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں نماز ادا نہیں کرتے انکے متعلق بتایا گیا کہ میدان حشر میں جب انکو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو ان کی پیٹھیں تختے کی طرح سخت ہو جائیں گی اور وہ سجدہ نہ کر سکیں گے۔”جس دن ہلچل مچی ہوگی اور یہ لوگ سجدہ ریز ہونے کے لئے بلائے جائیں گے تو یہ سجدہ نہ کر سکیں گے انکی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور صورتوں پر ذلت چھا رہی ہوگی یہ وہی لوگ ہیں کہ جب دنیا میں انہیں سجدہ کرنے کے لئے بلایا جاتا تھا تو یہ صحیح سالم تھے مگر سجدہ نہ کرتے تھے”(سورۃ القلم ،آیت ۴۲۔۴۳)۔ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر نماز نہ پڑھنے والوں کے انجام کو یوں بتایا گیا ہے۔ہر شخص اپنے انجام کے پاداش میں پھنسا ہوا ہے، سوائے داہنے ہاتھ والوں کے یہ لوگ جنت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ مجرموں سے پوچھیں گے کس چیز نے انہیں جہنم میں ڈالا ہے؟ وہ جواب دیں گے ہم نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔”(سورۃالمدثر ۳۷ تا ۴۳)
افسوس صد افسوس اتنی واضح آیات اور ترک صلوٰۃ کہ اتنی سخت اور ہولناک وعید کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے دل نہیں دہلتے۔ نماز نہ پڑھنے والوں کے دل سخت ہو گئے ہیں یا پھر مردہ؟ ہم نے خدا کو بھلا دیا ہے اور دنیا کی محبت میں ہمارے دل پھنسے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر طرف ہم پر عذاب کے کوڑے برس رہے ہیں اور ہر جگہ ہم ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ جب کوئی قوم اللہ کو بھلا دیتی ہے، اللہ کی نافرمانی اور گناہوں میں ملوث ہو جاتی ہے تو اللہ اس قوم کو اپنے آپ سے بھلا دیتا ہے۔ پچھلی قوموں کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے اُنکو ایسا کر دیا کہ وہ خود اپنے آپ کو بھول بیٹھے۔ یہی لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔”(سورۃ الحشرأ آیت ۱۹) اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے دلدل سے باہر نکلیں اور ہم پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو اور آخرت میں عذاب جہنم سے نجات پا سکیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔ ہم ایک قدم اللہ کی جانب بڑھائیں گے تو اللہ تعالیٰ دس قدم ہماری طرف آئے گا۔ ہمارا پہلا قدم اقامتِ الصلوٰۃ ہے۔یعنی نماز کو قائم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر مسلمان کو نماز کا پابند بنادے اور ہماری مساجد ماہ رمضان کی طرح سال بھر آباد رہیں۔ آمین ثم آمین g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *