منوج کی بات سنی جائے

راجستھان کے چورو ضلع سے منوج نروان نے ہمیں خط لکھ کر راجستھان انفارمیشن کمیشن کی ٹال مٹول اور غیر ذمہ دارانہ رویے اور چورو ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے اطلاع نہ ملنے کے سلسلے میں مطلع کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ اور گورنر تک کو خط لکھے، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔نہ تو انہیں اطلاع ملی اور نہ کوئی جانچ کی کارروائی کی گئی۔ ہم اس خط کو ہو بہو شائع کر رہے ہیں، تاکہ منوج نروان کی بات متعلقہ ایجنسی تک پہنچ سکے۔ منوج کی شکایت کی جانچ اس بات کے لئے بھی کرائی جائے کہ ان کی شکایت میں کتنا دم ہے، کتنی سچائی ہے اور پھر اس بنیاد پر پورے معاملے کی جانچ ہو۔کیونکہ جب ایک عام آدمی اپنی باتوں کو ، اپنی شکایتوں کو لے کر در در بھٹکتا ہے ، انصاف کی مانگ کرتا ہے تو بھلے ہی اس کی باتوں کی سچائی بعد میں ثابت ہو، لیکن یہ ضروری ہو جاتاہے کہ اس کی بات سنی جائے، اس پر دھیان دیا جائے اور مناسب کارروائی کی جائے۔ دیکھتے ہیں کہ منوج نے وزیر اعلیٰ ، راجستھان کو لکھے اپنے خط میں کیا کیا باتیں لکھی ہیں:

26 مارچ 2012 کو منوج کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو لکھا گیا خط:

جناب عالی وزیر اعلیٰ صاحب،
راجستھان سرکار، جے پور
موضوع:۔ راجستھان انفارمیشن کمیشن اور ریاست کے مختلف محکموں میں یقینی طور پر ہورہی بد عنوانی کی سی بی آئی جانچ کروانے اور مجھ غریب کو سرکاری وکیل کی مفت مدد اور تحفظ فراہم کرانے کی بابت۔
جناب عالی،
راجستھان انفارمیشن کمیشن کے ذریعہ ٹال مٹول اور مسلسل کئی برسوں تک اپیلوں کو لٹکانے کی روش اپنائی جا رہی ہے چنانچہ میں منوج نروان،باشندہ سردار شہر ،ضلع چورو آپ سے راجستھان کمیشن اور دیگر محکموں میں ہو رہی بد عنوانی کی جانچ کروانے کی گزارش کرتا ہوں۔ میری یہ درخواست مندرجہ ذیل ثبوت کی بنیاد پر ہے۔
1 ضلع ایجوکیشن اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، چورو ( ڈائٹ، چورو) کو اطلاع کے لئے بتاریخ 16 جون 2008 کو درخواست دی تھی۔ اطلاع نہ دینے اور غیر تسلی بخش جواب دینے پر فرسٹ اپیل کمشنر ڈاکٹر کے کے پاٹھک کو اپیل کی۔میری اپیل پر کوئی ایکشن نہیں لینے پر کمیشن کو بتاریخ 3 ستمبر ،2008 کو اپیل ( نمبر 1809/08) کی۔ کمیشن نے بار بار تاریخیں دینے کے بعد 3جون 2009 کو فیصلہ کیا۔ لیکن کمیشن کی حکم عدولی کی گئی، جس کی میں نے تین خطوط کے ذریعہ کمیشن کو شکایت کی تھی۔ پھر بھی کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی اور قصوروار اور اس کے گروپ کو اتنا وقت اور موقع دیا کہ وہ کمیشن کے فیصلے کے خلاف کورٹ سے اسٹے لے کر معاملے کو لٹکا دے۔ لازمی طور سے چورو ضلع کے ہزاروں غریب، بے سہارا اور نابالغ بچوں کو پڑھائی چھوڑنے کو مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ کیا اس کے لئے کمیشن کو ذمہ دار نہیں مانا جانا چاہئے؟
2 ایڈیشنل ڈائرکٹر ،ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بیکانیر کے پاس 28 مارچ 2011 کو اپیل کی تھی۔ مجھے آج تک نہیں بتا یا گیاکہ اس اپیل پر کیا کارروائی کی گئی؟معلوم نہیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا یا کیا کیا؟
3 ایجوکیشن سکریٹری، سکریٹریٹ، جے پور کے پاس میری اپیل نمبر 2141/2011 کی بنیاد پر بتاریخ 2جون 2011، 2جولائی 2011، 16ستمبر2011 اور 6 مارچ 2012 کو صرف چار نوٹس دینی محض فارملٹی پوری کی گئی۔ اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن نے مجھے اطلاع دلوانا تو دور ،قصوروار پی آئی او پر مالی جرمانہ تک لگانا ضروری نہیں سمجھا۔ کمیشن کے ذریعہ قصور وار پی آئی او کو یہ چھوٹ کس بنیاد پر دی گئی؟
4 پبلک انفارمیشن آفیسر، پنچایت کمیٹی،سردار شہر کے پاس 2 جون 2011 کو اپیل (نمبر 3439/2011)کی تھی ۔ کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی، صرف دو مرتبہ بتاریخ 5 جولائی 2011 اور 21 ستمبر 2011 کو نوٹس جاری کرکے اطمینان کرلیا۔لیکن اطلاع نہیں دلوائی اور قصور وار پی آئی او پر مالی جرمانہ بھی نہیں لگایا۔ اس وقت دھمکی ملنے پر آپ نے میری مدد کی تھی، جس کے لئے میں آپ کانہایت شکر گزار ہوں۔
5 اسی طرح سکریٹری مادھی مک شکشا بورڈ کیپاس میری اپیل نمبر 1318/2011 کی بنیاد پر چار مرتبہ بتاریخ 11مئی 2011، 14جون 2011، 4اگست 2011 اور 17 فروری 2012 کو نوٹس یقینا جاری کیے گئے، لیکن کوئی تسلی بخش کارروائی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔کمیشن نے قصوروار پی آئی او کو ایسی چھوٹ نہ معلوم کس بنیاد پر دے دی ہے؟
6 اور خود کمیشن ہی اطلاع نہیں دے رہا ۔ کمیشن کے پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ اطلاع نہ دینے پر میں نے کمیشن کو 26 دسمبر 2011 کو دوسری اپیل کی تھی، جس کی وصولی کمیشن کے ذریعہ 30-12-2011 بتائی گئی۔ لیکن کمیشن نے کمی کو پوری کرنے کے لئے 13-03-2012 کو میری اپیل مجھے واپس بھیجی ہے۔ کمیشن نے اپنے ہی دفتر کی اپیل میں کمی کو ڈھونڈنے میں 74 دن برباد کر دیے، جبکہ دفعہ 19(6) اور دفعہ 24(1) کے مطابق کمیشن کے ذریعہ اپیل کا نمٹارا 30 یا زیادہ سے زیادہ 45 دنوں میں کرنے کی وضاحت ہے۔
اوپر بیان کئے گئے تقریباً چار برسوں کی بد عنوانی کے خلاف میری لڑائی سے یہی سمجھ میں آیا ہے کہ جس راجستھان انفارمیشن کمیشن کو بد عنوانی کنٹرول کرنے کے لئے تشکیل کیا گیا ہے ، اس پرہی بد عنوانی اور سیاسی جانبداریت حاوی ہے۔ جناب عالی، آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مذکورہ سبھی محکموں میں ہو رہی بد عنوانی کی جانچ کروائی جائے اور مجھ غریب کو سرکاری وکیل کی مفت مدد اور مجھے نیز میرے خاندان کو تحفظ فراہم کرایا جائے۔
شکرگزار
(منوج نروان ( موبائل:9413451477
(سونگرا مارگ، ارجن کلب کے پاس، سردا ر شہر ، ضلع چورو ( راجستھان

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *