منی پور :زمین کی ایک لڑائی یہاں بھی

ایس بجین سنگھ
سترہ اگست، 2012۔ منی پور کے تمینگ لونگ ضلع کا نونگبا کمیونٹی ہال۔ سرکار کے ذریعے عوام کی شکایتوں کو سننے کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا، تاکہ لوگ اپنے مسائل حکومت سرکار کے سامنے رکھ سکیں۔ منی پور پالیوشن کنٹرول بورڈ نے اس پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ اس میں مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لوگوں ہاتھوں میں بینر لیے ہوئے تھے اور تیل کی کھدائی کے لیے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ اس کی وجہ سے عوامی سنوائی نہیں ہو سکی۔ مخالفت کر رہے 15 مقامی لوگوں کے خلاف نونگبا پولس نے آئی پی سی کی دفعات 148، 149، 341، 353 اور 506 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے، یعنی منظم طریقے سے ہتھیار بند لوگوں کے ذریعے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور فساد پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ سرکاری ملازم بھی ہیں، جنہیں متعلقہ محکموں نے سرنڈر کرنے کے لیے کہا ہے۔ مذکورہ واقعہ حکومت ہند اور نیدر لینڈ کی کمپنی کے درمیان ہوئے ایک معاہدہ کا نتیجہ ہے۔ حکومت ہند کی وزارتِ پٹرولیم اور قدرتی گیس کے ٹنڈر پر نیدر لینڈ کی جوبلئینٹ آئل اینڈ گیس پرائیویٹ لمیٹڈ (جے او جی پی ایل) کو 2009 میں منی پور کے دو حصوں : جریبام (امپھال ایسٹ)، تمینگ لونگ اور چوراچاند پور ضلعے میں پٹرولیم ڈھونڈنے اور کھدائی (ڈریلنگ) کرنے کا کام دیا گیا تھا۔ اب کمپنی یہاں تیل کی پیداوار کرنا چاہتی ہے۔ منی پور کا کل رقبہ 22327 مربع کلومیٹر ہے۔ تیل نکالنے کے لیے بورنگ والے علاقے کا کل رقبہ 4000 مربع کلومیٹر ہے، یعنی ریاست کے چھٹویں حصہ کا استعمال تیل پیداوار کے لیے کیے جانے کا پلان ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ منی پور میں 5000 بلین کیوبک فٹ تیل موجود ہے۔ فی الحال تیل کے 30کنووں سے تیل نکالنے کے لیے کام چل رہا ہے۔

کیا نارتھ ایسٹ کو تبھی یاد کیا جائے گا، جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوگا، جب لوگوں کا خون پانی بن کر بہے گا؟ یا تب بھی ان کی جد و جہد کو جگہ ملے گی، ان کی آواز سنی سنائی جائے گی، جب وہ اپنے پانی، جنگل اور زمین کی لڑائی کے لیے پرامن طریقے سے احتجاج کریں گے؟ منی پور میں تیل کی کھدائی کے مسئلے پر جاری عوامی جد و جہد کی آہٹ آخر نام نہاد ہندوستانی میڈیا میں کیوں نہیں سنائی دے رہی ہے؟ ایس بجین سنگھ کی خاص رپورٹ:-

دراصل، ایس ای این ای ایس کنسلٹینٹس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے ایک سروے کیا تھا، جس کی انوائرمنٹ اسسمنٹ رپورٹ کی بنیاد پر 17 اگست کو مذکورہ عوامی سماعت ہو رہی تھی۔ اس کی صدارت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جریبام وائی ایبویائما نے کی۔ اجے وِسین کمپنی کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پیداوار کی تقسیم کے معاہدہ پر دستخط حکومت ہند اور نیدر لینڈ کی جوبلئینٹ آئل اینڈ گیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان 19 جولائی، 2010 کو ہوئے تھے۔ پروڈکشن شیئرنگ کے پہلے حصہ (اے اے – او این این 2009/1) کے لیے دستخط 30 جون، 2010 کو کیے گئے تھے اور اس کا لائسنس منی پور حکومت نے 23 ستمبر، 2010 کو دیا تھا۔ دوسرے حصہ (اے اے – او این این 2009/2) کے لیے دستخط 19 جولائی، 2010 کو ہوئے اور لائسنس 20 ستمبر، 2010 کو دیا گیا۔ ایکسپلوریشن لائسنس کی ڈیڈ پر دستخط 15 نومبر، 2010 کو مقامی لوگوں کو اطلاع دیے بغیر کرا لیے گئے۔ امپھال کے چورا چاند پور اور جریبام سب ڈویژن کے لوگوں کو ان قواعد و ضوابط کا علم نہیں ہے، جن کے تحت مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور جوبلئینٹ آئل اینڈ گیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان تیل کی کھدائی کے لیے اتفاق ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیات سے متعلق رپورٹ بھی مقامی زبانوں جیسے جیمی، لیانگمے اور کوکی وغیرہ میں نہیں ہے، جو کہ عوامی سماعت کے عمل کے لیے بہت ضروری ہے۔ ابھی تک منی پور میں کھوجے گئے پٹرولیم آئل کی مقدار کا خلاصہ متاثر ہونے والے اور ریاست کے دیگر لوگوں کے سامنے نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی تک منی پور کے مقامی لوگوں کو باقاعدہ طور پر یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ وہاں پٹرولیم آئل ملا ہے اور اسے نکالنے کا ٹھیکہ ایک غیر ملکی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ بہرحال، اس کام سے وہاں کی ماحولیات پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ پیڑ پودوں اور چرند و پرند کو بھی بھاری نقصان ہوگا۔ یہ علاقہ ماحولیاتی زندگی کے لحاظ سے کافی ہرا بھرا ہے۔ دواؤں کے روپ میں استعمال کیے جانے والے پیڑ پودے بھی بڑی مقدار میں دستیاب ہیں۔ ویسے بھی تمینگ لونگ ماحولیات کے حساب سے حساس علاقہ ہے۔ جنگل پر مبنی زندگی کے وسائل اور گروہوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ بہت سارے ایسے ثبوت ملے ہیں، جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ تیل کے رساؤ، ان کی جانچ، کھدائی (ڈریلنگ)، حادثہ اور پائپ لائن پھٹنے کے سبب ندیوں اور دیگر ذرائع سے ملنے والا پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ تیل کی کھوج کے دوران مٹی، پانی اور غذائی عناصر آلودہ ہو جاتے ہیں اور جنگلات اور ماحولیات کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ براک، ایرنگ، مکرو اور دیگر معاون ندیوں پر پٹرولیم کی کھوج اور ڈریلنگ کا اثر سب سے پہلے پڑے گا۔ یہ پروجیکٹ اس علاقہ کے معدنیاتی ذخائر، ہاٹ اسپاٹ ژون اور ہندوستان اور پڑوسی ملکوں کے درمیان موجود واقع آبی رہائش کو برباد کر دے گا، جس کی وجہ سے کئی جانور ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔g

انوائرمنٹ امپیکٹ اسسمنٹ رپورٹ
ایس ای این ای ایس (سینس، حیدرآباد) کنسلٹینٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے ایک سروے کیا تھا، جس کی انوائرمنٹ اسسمنٹ رپورٹ کہتی ہے کہ دو حصوں میں تیل کے کل 30 کنویں ہیں، جو 4000 مربع فٹ میں پھیلے ہوئے ہیں، جن سے تیل کی کھدائی کی جائے گی۔ پہلے حصہ میں 17 کنویں ہیں اور دوسرے حصہ میں 13۔ ہر ایک کنواں 7 ہیکٹیئر علاقہ میں پھیلا ہوا ہے۔ تیل ایکسپلوریشن کا مقصد ممکنہ خام تیل کا ذخیرہ طے کرنا، کھودنا اور تجربہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی پتہ لگانا کہ آگے تیل کا وافر ذخیرہ ہے یا نہیں۔ ہر کنویں کی گہرائی 2500-4500 میٹر طے کی گئی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ کھدائی کے عمل میں ہر روز 41 کیوبک میٹر فضلات سے بھرا پانی نکالا جائے گا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان ضلعوں (چورا چاندپور، تمینگ لونگ اور امپھال ایسٹ) میں جنگل کا رقبہ علی الترتیب 90.96 فیصد، 88.11 فیصد اور 34.08 فیصد ہے۔ ساتھ میں وائلڈ لائف سینکچوری بھی شامل ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس جنگل میں سے 9.76 فیصد ریزرو فاریسٹ ہے۔ یہ نہایت حساس علاقہ ہے۔ یہاں لوگوں کے داخلہ پر پابندی ہے۔ اس میں ہولوک، گیبون ایپ اور ہمالیائی بھالو پائے جاتے ہیں۔ تمینگ لونگ ضلع چیتوں اور سنہری بلیوں کا بھی گھر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محکمہ جنگلات کسی پرائیویٹ کمپنی کو وہاں تیل کی کھدائی کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟

تیل کی کھدائی نہیں ہونے دیں گے: سول سوسائٹی
منی پور پریس کلب میں اس معاملے کو لے کر سماجی تنظیموں نے میٹنگ کی، جس میں آل جیلیانگ رونگ اسٹوڈنٹ یونین، جیلیانگ رونگ باوڑی، ناگا ویمنز یونین، نارتھ ایسٹ ڈائیلاگ فورم، لائف واچ، جومی ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن، سنٹر فار آرگنائزیشن ریسرچ اینڈ ایجوکیشن، سنلونگ انڈیجینس پیپلز ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، ایکشن کمیٹی اگینسٹ تپائی مکھ پروجیکٹ، سٹیزن کوسن فار ڈیم اینڈ ڈیولپمنٹ، تمینگ لونگ ولیج اتھارٹی، ناگا پیپلز موومنٹ فار ہیومن رائٹس وغیرہ تنظیموں نے کہا کہ ترقی کے نام پر تباہ کن کام نہیں ہونے دیں گے۔ ریاستی حکومت، مرکزی حکومت اور جوبلئینٹ آئل پرائیویٹ لمیٹڈ کو منی پور میں تیل کی کھوج اور کھدائی کا کام تب تک نہیں کرنا چاہیے، جب تک مقامی لوگوں سے بات چیت کرکے ان کی منظوری نہیں لے لی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ذریعے اعلان شدہ مقامی لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہیے۔

 

منی پور پالیوشن کنٹرول بورڈ کے ذریعے منعقدہ عوامی سماعت میں حصہ لینے والے اور تیل نکالنے کی مخالفت کرنے والے نونگبا کے دیہی باشندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا بالکل غلط ہے۔ اس کا مطلب ہے منی پور حکومت، مرکزی حکومت اور جوبلئینٹ آئل اینڈ گیس پرائیویٹ لمیٹڈ مل کر اس ریاست کے آدی واسیوں کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ گاؤں کے باشندوں کے ساتھ سراسر دھوکہ ہے۔ وہ اپنے جنگل اور زمین کی حفاظت کرتے ہوئے پرامن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
– پامے تنگین لونگ، سی پی این آر

عوامی سماعت کے دوران اس پروجیکٹ کے صرف فائدے ہی مقامی باشندوں کو بتائے گئے، نقصان نہیں۔ ہم اس طرح تیل کھدائی کی مخالفت کرتے ہیں۔
(- جری ایما میری پائبی اپونبا لوپ (جی آئی ایم پی اے ی

ریاستی حکومت اور جوبلئینٹ آئل کے درمیان ہوئے ایگریمنٹ میں یہ نہیں لکھا ہے کہ تیل کے پھیلاؤ اور دیگر نقصان کی ذمہ داری کون لے گا۔
رام وانگ کھیراکپم، جنگلاتی کارکن

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *