معاملہ زیر التوا ہے، آر ٹی آئی کا استعمال کیجئے

کچھ وقت پہلے بہار کے جمال پورسے آر کے نرالا نے ہمیں خط لکھ کر دو واقعات کے بارے میں بتایا تھا۔ دونوں واقعات نگر پریشد،جمال پور سے متعلق تھے۔ پہلا واقعہ چمپا دیوی کا تھا۔ چمپا دیوی نگر پریشد جمال پور میں صفائی مزدور کے طورپر تعینات تھیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی پنشن کی ادائیگی اب تک نہیں ہو پائی تھی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ نے بھی ادائیگی کا حکم دے دیا تھا۔ دوسرا واقعہ بے بی دیوی کا تھا، جن کے شوہر کی موت نوکری کے دوران ہو گئی تھی، لیکن انہیں اب تک ہمدردی کی بنیاد پر نوکری نہیں مل سکی تھی۔ ان دونوں واقعات میں ایک مماثلت تھی۔ افسروں اور ملازمین کی ٹال مٹول اور لال فیتہ شاہی اور اڑیل رویہ، لیکن آر ٹی آئی قانون ایسے ہی افسروں کو صحیح راستے پر لانے کا کام کرتا ہے۔ یہاں پر ان دونوں واقعوں کا ذکر اس لئے بھی کیا جا رہا ہے، کیونکہ عام طور پر سرکاری محکموں میں زیادہ تر معاملے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بابوئوں کی فائل دبائو پالیسی کی وجہ سے عام آدمی پریشان ہوتا رہتا ہے۔ کبھی پنشن ، کبھی نوکری یا کوئی دیگر معاملہ۔ سرکاری بابو بنا رشوت لئے فائل آگے نہیں بڑھاتے اور لوگوں کو دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تب ایسے ہی معاملوں میں آر ٹی آئی ( حق اطلاعات قانون) کا اثر دکھتا ہے۔ اگر کسی سرکاری دفتر میں آپ کا بھی کوئی ایسا ہی معاملہ پھنسا ہو تو آپ پہلے ایک درخواست دے کر اپنی شکایت افسر تک پہنچائیں اور یاد کرکے اپنی درخواست موصول ہونے کی رسید لے لیں۔ اس کے ساتھ ہی درخواست کی ایک فوٹو کاپی بھی اپنے پاس رکھیں۔ اگر ہفتہ دس دنوں کے اندر آپ کی درخواست پر کوئی سنوائی نہیں ہوتی ہے تو پھر آپ حق اطلاعات قانون کے تحت ایک درخواست دے کر اپنی پہلے والی درخواست پر ہوئی کارروائی کے بارے میں اطلاع مانگیں۔ زیادہ تر معاملوں میں دیکھا گیاہے کہ آر ٹی آئی درخواست ڈالتے ہی افسر ملازم حرکت میں آجاتے ہیں۔ کیونکہ قانون کے مطابق انہیں 30 دنوں کے اندر جواب دینا ہوتا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اگر آپ حق اطلاات قانون کا استعمال کرتے ہیں تو آپ کا کام ضرور ہوگا وہ بھی بنا رشوت دیے۔ اس شمارہ میں ہم نے مذکورہ دونوں واقعات سے متعلق ایک آر ٹی آئی درخواست شائع کی ہے ،جس کا استعمال آپ ایسے معاملوں کے لئے کر سکتے ہیں ۔ ’چوتھی دنیا‘ آپ کے کسی بھی مسئلے کا حل دینے یا رہنمائی کرنے کے لئے ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔ آپ ہم سے خط ای میل یا فون کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں۔

کسی بھی محکمے میں زیر غور معاملہ سے متعلق درخواست
فرسٹ اپیلیٹ آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاع ایکٹ2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
میں نے اپنے معاملہ کے سلسلے میں ایک درخواست آپ کے محکمہ میں جمع کرائی تھی۔ (سابق درخواست کی کاپی منسلک کریں)لیکن اب تک میری درخواست پرکوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں مجھے مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں۔
1 میری درخواست پرہوئی کاررروائی کی یومیہ رپورٹ کی ایک مصدقہ کاپی فراہم کرائیں۔
2 ان افسروں ملازمین کا نام اور عہدہ بتائیں جن کے پاس میری درخواست اس دوران رہی۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ کن کن افسروں ملازمین کے پاس کتنے وقت تک میری درخواست رہی اور ان افسروں  ملازمین نے اس پر کیا کارروائی کی؟
3 میری درخواست ایک آفیسر ملازم سے دوسرے آفیسر  ملازم کو جب جب بھیجی گئی یا موصول کی گئی، اس کا ثبوت مہیا کرائیں۔
4 آپ کے محکمے کے شرائط قوانین ہدایات احکام کے مطابق ایسے معاملوں کو کتنے دنوں میں نمٹا دیا جانا چاہئے۔ اس کی ایک مصدقہ کاپی مہیا کرائیں۔
5 اگر آفیسرس  ملازمین نے میری درخواست پر عمل آوری مذکورہ شرائط  قوانین ہدایات  احکام کے تحت مقررہ وقت کے اندر نہیں کیا ہے تو کیا یہ آفیسر  ملازم مذکورہ باتوں کو نہ ماننے کا قصور وار ہے؟
6 ان آفیسروں ملازمین کے رویے کی وجہ سے مجھے ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا مذکورہ آفیسر  ملازم میرے ذہنی استحصال کے لئے قصوروار ہے؟
7 ان آفیسروں ملازمین کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی، جنہوں نے مذکورہ شرائط قوانین احکام ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے اور جس کی وجہ سے مجھے ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کب تک ان افسروں  ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی؟میری درخواست پر عمل کب تک پورا ہوجائے گا۔میں اس درخواست کے ساتھ دس روپے فیس کے طور پر جمع کر رہا  رہی ہوں۔

مخلص
نام :————————————————————————
پتہ : ————————————————————————-
تاریخ : ———————————————————————
منسلک دستاویز
(اگر کچھ ہوتو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *