کیوں چاہئے مضبوط حق اطلاعات قانون

آنے والے 5 اکتوبر کو حق اطلاعات قانون کو نافذ ہوئے چھہ سال پورے ہوجائیںگے۔ اس دوران اس قانون نے عام آدمی کو کتناطاقتوربنایا، عام آدمی کیسے سوال پوچھ کر سسٹم میں لگے دہائیوں سے پرانے زنگ چھڑانے میں کامیاب رہا،اپنے اختیار کو پانے میں کامیاب رہا وغیرہ سے جڑی کچھ مثالیں اس شمارے میں پیش کی جارہی ہیں ۔ ساتھ ہی ان مثالوں کے ذریعہ یہ بھی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آخرکیوں ایک مضبوط حق اطلاعات قانون کی ضرورت ہے۔ کیوں اس قانون میں بار بار ہونے والی الٹی سیدھی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، تاکہ ایک عام آدمی کی طاقت بنی رہے ۔
بنا رشوت کے نوکری ملی:
آرٹی آئی اب لوگوں کو بنا رشوت دیے نوکری اور پرموشن بھی دلا رہا ہے۔ ریواڑی کی رہنے والی سپنایادونے گڑگائوں گرامین بینک میںپروبیشنری آفیسرکے عہدہ کے لئے درخواست دی تھی۔ سلیکشن نہیں ہوپایا توآرٹی آئی کے تحت سپنا نے سلیکشن پروسیس سے متعلق سوال پوچھے۔ معاملہ سی آئی سی گیا، بینک نے اطلاع تو فراہم نہیں کرائی،البتہ سپنا کو فون کر کے پروبیشنری آفیسر کے طور پر بینک جوائن کرنے کی گزارش ضرور کی۔بہار کے مدھوبنی ضلع کے چندر شیکھر نے جب پنچایت ٹیچر تقرری کے لئے رشوت نہیں دی تو ان کا تقرریہ کہہ کر نہیں کیا گیا کہ جس کالج سے انہوں نے ٹریننگ لی ہے وہ فرضی ہے، جبکہ اسی کالج سے ٹریننگ پانے والے دوسرے لوگوں کی تقرری کر دی گئی۔ چندر شیکھر نے جب بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر سے اس معاملے میں سوال کیے تو ان کی تقرری پنچایت ٹیچر کے طور پر کر دی گئی۔ اوڈیسہ فوریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں سیکشنل سپر وائزر کے عہدہ پر کام کر رہے گن پتی بہرا کو سینئرٹی کی بنیاد پر پرموشن نہیں دیا گیا ،جبکہ ان کے جونیئروں کو پرموشن دے دیا گیا۔ اس سلسلے میں آر ٹی آئی درخواست ڈالنے پر انہیں سیکشنل سپر وائزر سے سب ڈویژن منیجر کے عہدہ پر پرموٹ کر دیا گیا۔
:پنشن ٹینشن نہیں رہی
بزرگوں کے لئے بھی آر ٹی آئی قانون جادو کی چھڑی ثابت ہوا ہے۔ اوڈیسہ کی 70 سالہ کنک لتا ترپاٹھی کی 13 برسوں سے لٹکی پنشن آر ٹی آئی درخواست ڈالنے کے بعد ایک مہینے میں ہی مل گئی۔ بہار کے مدھوبنی ضلع کی گنگاپور پنچایت کے 200 پنشن پانے والے راشٹریہ وِردھا پنشن اور سماجی سرکشا پنشن پانے کے لئے سب پوسٹ آفس میں کھاتہ کھلوانے کے لئے مہینوں چکر لگاتے رہے۔ آر ٹی آئی کے تحت لوگوں نے آر ٹی آئی درخواست ڈال کر مدھوبنی کے پوسٹ سپرنٹنڈنٹ سے اس بارے میں سوال پوچھے۔ پوسٹ سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کی جانچ کی۔ قصوروار پوسٹ ما سٹر گنیش سنگھ کو فوری معطل کرتے ہوئے سبھی پنشن پانے والوں کا کھاتہ دوسرے ڈاک گھر میں کھلوا دیا گیا۔
:راشن دکانداروں کی خبر
راشن چوری اور راشن کارڈ نہ بننا، یہ دو مسئلے ہمارے ملک میں عام ہیں، لیکن ماس ڈسٹریبیوشن سسٹم میں لگے دھند کو بھی آر ٹی آئی نے دھیرے دھیرے صاف کیا ہے۔ دہلی میں تو اس کی سینکڑوں مثالیں ہیں۔پوری کے انسارا گائوں کی 68 سالہ جنت بیگم اور ان کے شوہر کو اناج یوجنا کے تحت ملنے والا اناج آر ٹی آئی کی وجہ سے دوبارہ ملنے لگا۔ جہان آباد ضلع کے کتائی بگہا گائوں میںگائوں والوں کوصحیح مقدار میں راشن اور مٹی کا تیل ملنے لگا ہے۔
:مڈ ڈے میل میں سدھار
احمدآباد میں مڈ ڈے میل منصوبہ کے تحت اسکولی بچوں کو دوسرے درجے کا کھانا ملتا تھا۔ کھانے میں کئی بار تو کیڑے بھی پائے گئے۔ کھانا کے معیار کی جانچ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ اس معاملے میں اندو پوری گوسائی نے آر ٹی آئی کے تحت جواب طلب کیا تو نہ صرف لیباریٹری میں کھانے کی جانچ ہوئی، بلکہ اس کے معیار میں بھی سدھار اور نگرانی کا پورا بندوبست ہوا۔یہ سب ایک ہفتہ کے اندر ہو گیا۔ اس طرح کے متعدد معاملے سامنے آئے ہیں، جن میں آر ٹی آئی کی بدولت مڈ ڈے میل سسٹم میں سدھار ہو سکا ہے۔
:پبلک اسکول میں داخلہ
حق اطلاعات قانون کا ہی کمال ہے کہ دہلی کی بازآبادکار بستی سندر نگری میں رہنے والا موہن اب وہاں کے پبلک اسکول میں پڑھتا ہے۔ آر ٹی آئی کی بدولت ہی موہن کا داخلہ اس اسکول میں فری شپ کوٹے کے تحت ہو پایا ہے۔ دہلی میں اس طرح کی ہزاروں مثالیں ہیں ۔ کلیان پوری میں رہنے والی سنیتا نے تو حق اطلاعات قانون کا سہارا لے کر اسکول کی سبھی طالبات کو وظیفہ دلایا ۔ سنیتا نے آر ٹی آئی کے تحت وظیفہ نہ ملنے کا سبب پوچھا۔ دو دنوں بعد ہی آفیسر اسکول میں اس معاملے کی جانچ کرنے آئے۔ سنیتا نے بیباکی سے پرنسپل کی شکایت کی۔ اس کے کچھ دنوں بعد اسکول کی سبھی طالبات کو وظیفہتقسیم کردیا گیا۔ اسی طرح ہریانہ کے سونی پت ضلع کے سلارپور مہتا گائوں کی 60 سالہ سمترا دیوی نے آر ٹی آئی کی مدد سے نہ صرف انتظامیہ کی لاپرواہی اجاگر کی، بلکہ غریب اسکولی لڑکیوں کے لئے سائیکل تقسیم کی سرکاری اسکیم اور ایجوکیشن فار آل کے تحت ملنے والے اسکول ڈریس کا فائدہ بھی طلباء و طالبات کو پہنچایا۔
:سڑک بھی بنواتا ہے آر ٹی آئی قانون
ملک کے کئی حصوں میں حق اطلاعات قانون نے سڑک تعمیر اور مرمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دہلی کے ماڈل ٹائون میں رہنے والے موہت اپنے علاقے کی سڑکوں کی خستہ حالت سے پریشان تھے۔ دہلی جل بورڈ نے سیور ڈالنے کے لئے ان کے گھر کے آگے سڑک کھود دی تھی۔ ایم سی ڈی سے اسی لا پرواہی کا جواب مانگنے کے لئے موہت نے آر ٹی آئی دائر کی۔ آر ٹی آئی کی عرضی آتے ہی ایم سی ڈی حرکت میں آئی اور سڑک مرمت کا کام ایک مہینے سے بھی کم وقت میں پورا ہو گیا۔ اوڈیسہ میں بھی ایسی ہی ایک مثال دیکھنے کو ملی۔ پوری ضلع کے کونارک حلقے کے کرمانگ گائوں میں آر ٹی آئی کی بدولت راتوں رات سڑک بنوا دی گئی۔
:پہلے فیل پھر پاس
ملے ناتھ نالندہ اوپن یونیورسٹی سے ماس میڈیا کی پڑھائی کررہے تھے۔ امتحان میں فیل ہونے پر انہوں نے آر ٹی آئی کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ سے اپنے جواب کی کاپی دکھانے کی مانگ کی۔ کاپی کی دوبارہ جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ فرسٹ ڈویژن کے مستحق ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *