کس کی شہ پر پھل پھول رہا ہے نقلی نوٹوں کا کاروبار

ششی شیکھر
آر بی آئی کے مطابق، گزشتہ چھ سالوں میں ہی تقریباً 76 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ ضبط کیے گئے ہیں۔ دھیان دیجئے، صرف ضبط کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار کروڑ روپے کے جعلی نوٹ بازار میں ہیں۔ اب، حقیقت میں کتنی تعداد میں یہ نقلی نوٹ بازار میں استعمال کیے جا رہے ہیں، اس کے صحیح صحیح اعداد و شمار کا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اس ملک میں آر بی آئی، سی بی آئی، این آئی اے جیسے ادارے کیا کر رہے ہیں؟ کیا مرکزی حکومت کو ان لوگوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے جو ملک میں نقلی نوٹ پھیلانے کے لیے ذمہ دار ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کہیں بھی ملک میں نقلی نوٹ پکڑا جاتا ہے تو سیدھے سیدھے ایک خاص ملک (پاکستان) اور ایک خاص ایجنسی (آئی ایس آئی) کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ لیکن نقلی نوٹ کی اس کہانی میں صرف یہی دو کردار نہیں ہیں۔ اس کہانی میں اور بھی کئی کردار ہیں، جن کا خلاصہ نہ تو سرکار کرتی ہے اور نہ ہی اس ملک کی تفتیشی ایجنسیاں، جب کہ انہیں پوری حقیقت معلوم ہے۔

نقلی گھی، نقلی تیل، نقلی دوائیں اور سب سے بڑھ کر نقلی نوٹ۔ ایک آپ کی صحت خراب کرتا ہے تو ایک ملک کی اقتصادیات۔ لیکن علاج کسی کا نہیں ہو رہا، باوجود اس کے کہ سرکار کو مرض اور مرض کے اسباب، دونوں کا علم ہے۔آخر کون ہے اس نقلی نوٹ کے کاروبار کے پیچھے؟ کس کی ملی بھگت سے چل رہا ہے یہ کھیل؟ اور کیوں نہیں نقلی نوٹ کے جال سے نکل پا رہا ہے یہ ملک؟

دستاویزوں کے مطابق، سال 2011-12 کے دوران 24.7 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ ضبط کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں ضبط کیے گئے نقلی نوٹوں کی یہ تعداد پانچ گنا زیادہ ہے۔آر بی آئی نے 1996 سے نقلی نوٹ ضبط کرنے کا کام شروع کیا تھا اور صرف گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہی، آر بی آئی کے مطابق، قریب 76 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ ضبط کیے گئے ہیں۔ 2010-11 کے دوران قریب 18.9 کروڑ روپے، 2009-10 کے دوران 16.45 کروڑ روپے، 2008-09 کے دوران 15.5 کروڑ روپے اور 2007-08 کے دوران 4.54 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ ضبط کیے گئے۔ 2007-08 کے مقابلے 2011-12 میں ضبط کیے گئے نقلی نوٹوں کی تعداد کو دیکھیں تو یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس میں بھی 500 روپے کے نوٹوں کی تعداد زیادہ ہے۔ چوتھی دنیا کے پاس موجود دستاویز میں درج وزارتِ داخلہ کے جواب کے مطابق، اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے آر بی آئی، وزارتِ خزانہ، وزارتِ داخلہ، تفتیشی ایجنسیاں اور این آئی اے کو اس کی جانچ کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ کیا ابھی تک این آئی اے کو یہ پتہ ہے بھی یا نہیں کہ نقلی نوٹ کے اس نیٹ ورک کے پیچھے کون کون سے لوگ اور کون کون سی کمپنیاں شامل ہیں؟ اگر پتہ ہے، تو اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے، اور اس کے بارے میں عام آدمی ، پارلیمنٹ یا میڈیا کو کیا کوئی جانکاری دی گئی ہے؟
جب کبھی نقلی نوٹ پکڑے جاتے ہیں تو پاکستان یا آئی ایس آئی کا نام لیا جاتا ہے، لیکن یہ ادھورا سچ ہے۔ پوری کہانی میں کچھ اور بھی کردار ہیں، جو اس کھیل میں شامل ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ ایسی کمپنیاں جو پہلے ہندوستان کے لیے کرنسی چھاپنے یا کرنسی پیپر سپلائی کرنے کا کام کرتی رہی ہیں۔ شری وی کشور چندر ایس دیو کی صدارت میں پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے کچھ دنوں پہلے ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ پر یقین کریں تو ان نقلی نوٹوں کے پیچھے امریکہ، جرمنی اور برطانیہ کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کی طرف اشارہ پارلیمنٹ کی اس کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں کیا تھا۔ دراصل، 1996-97 کے دوران آر بی آئی کو 3 لاکھ 35 ہزار 900 کروڑ روپے قیمت کے برابر نوٹوں کی ضرورت تھی، جب کہ اس وقت کل چھپائی صرف 2 لاکھ 16 ہزار 575 کروڑ روپے قیمت کے برابر ہی تھی۔ اس طرح آر بی آئی کو ایک لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے قیمت کے برابر نوٹوں کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ بتاکر آر بی آئی اور اس وقت کی حکومت کے وزیر خزانہ نے غیر ملکی ایجنسیوں سے ہندوستانی نوٹ چھپوانے کا فیصلہ لیا۔ ظاہر ہے، 1997 میں ہندوستانی حکومت نے جو فیصلے لیے تھے، کیا اس کی وجہ سے یہ اندیشہ جائز نہیں مانا جاسکتا کہ وہ غیر ملکی کمپنیاں بھی نقلی نوٹ کے اس کھیل میں شامل ہوں؟ کیا اس اندیشہ کو غلط ثابت کرنے کی گارنٹی آر بی آئی اور چدمبرم دے سکتے ہیں، جو اُس وقت بھی وزیر خزانہ تھے اور اب بھی وزیر خزانہ ہیں؟ سوال ہے کہ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی کیا ملک کے ٹکسال اتنے مضبوط نہیں ہیں وہ ہماری ضرورت کے حساب سے نوٹ چھاپ سکیں۔ اگر 1997 میں زیادہ تعداد میں نوٹوں کی ضرورت تھی اور ہندوستانی ٹکسالیں انہیں چھاپ پانے میں نااہل تھیں، تو ٹکسالوں کو اس کے لیے اہل بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ دوسرے ملکوں سے آخر نوٹوں کی چھپائی کیوں کرائی گئی؟ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں سے نوٹ چھپائی کا جو معاہدہ کیا گیا تھا، اس میں اس بات کا ذکر تھا کہ چھپائی کے بعد نوٹ پلیٹس اور بچی ہوئی روشنائی کو برباد کر دیا جائے گا۔ ان کمپنیوں نے ایسا کیا یا نہیں، اس بات کا علم کسی کو نہیں ہے۔ آر بی آئی بھی اس بات کی گارنٹی نہیں دے رہا ہے کہ مذکورہ کمپنیوں نے معاہدہ پر پورا عمل کیا ہے یا نہیں۔
سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ موجودہ سرکار اس پورے معاملے میں خاموشی اختیار کیے ہوئی ہے، جب کہ یہ معاملہ ملک کے اقتصادی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو دھوکے میں رکھنے کا بھی ہے۔ چوتھی دنیا نے پہلے بھی اپنی کئی رپورٹس کے ذریعے یہ بتایا ہے کہ کس طرح جو کمپنی ہندوستان کے لیے کرنسی چھاپتی رہی، وہی کمپنی 500 اور 1000 کے نقلی نوٹ چھاپنے کا بھی کام کر سکتی ہے اور بہت حد تک اندیشہ یہ بھی ہے کہ اس کھیل میں یہ کمپنیاں بھی شامل رہی ہیں (دیکھیں باکس اسٹوری)۔ سوال یہی ہے کہ اس خطرناک سازش پر ملک کی سرکار اور ایجنسیاں کیوں خاموش ہیں؟

نقلی نوٹ اور پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ
پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے کچھ دنوں پہلے ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1996-97 کے دوران آر بی آئی اور اس وقت کی حکومت کے وزیر خزانہ نے غیر ملکی ایجنسیوں سے ایک لاکھ کروڑ روپے قیمت کے ہندوستانی نوٹ چھپوانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سوال ہے کہ جن غیر ملکی کمپنیوں سے نوٹ چھپوائے گئے، ان پر کس بنیاد پر بھروسہ کیا گیا۔ کیا ان کمپنیوں نے ہندوستانی نوٹوں کا غلط استعمال نہیں کیا ہوگا یا اب نہیں کر رہی ہوں گی؟ کیا اس کی گارنٹی آر بی آئی اور چدمبرم دے سکتے ہیں جو اس وقت بھی وزیر خزانہ تھے اور اب بھی وزیر خزانہ ہیں، کیوں کہ کمیٹی نے جب آر بی آئی سے بیرونی ممالک میں نوٹ چھپوانے کے دوران اپنا گئے حفاظتی ضابطوں کے بارے میں پوچھا تو تو وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا۔ آر بی آئی نے پارلیمانی کمیٹی کو تحریری طور پر یہ جواب دیا ہے کہ نوٹ چھپائی میں اپنا گئے خاص حفاظتی پیمانوں کے رکھ رکھاؤ، چھپائی سے پہلے اور معاہدہ ختم ہونے کے بعد کی ذمہ داری چھپائی کرنے والی کمپنی کی تھی۔ اس کے علاوہ نوٹ چھاپنے کے لیے ضروری پلیٹس بنانے کی ذمہ داری بھی کمپنی کی تھی۔ اتنا ہی نہیں، فوٹو پرنٹ، ڈائی اور نمبرنگ باکس وغیرہ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی انہی کمپنیوں کی تھی۔ ظاہر ہے، جس کمپنی کے پاس نوٹ چھپائی کے بارے میں اتنی جانکاری ہے، وہ اگر چاہے تو کبھی بھی اس کا غلط استعمال کر سکتی ہے، ایک ہی نمبر کے کئی لاکھ نوٹ چھاپ سکتی ہے، پلیٹس یا ڈائی کا استعمال بعد میں کر سکتی ہے۔ کیا یہ سب دیکھنے یا جانچنے کی کوشش کبھی آر بی آئی یا ہندوستانی سرکار نے کی؟ کیا اس سب کی جانکاری ملک کی پارلیمنٹ اور عوام کو ہے؟ ایسے میں اگر پارلیمانی کمیٹی یہ تشویش ظاہر کر رہی ہے کہ آر بی آئی کا یہ فیصلہ ملک کی اقتصادی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کے برابر تھا، تو اسے بے بنیاد نہیں مانا جاسکتا ہے۔

کیا ہے ڈیلارو
روبیرٹو گیوری کو دنیا بھر میں کرنسی کنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ روبیرٹو کو کرنسی کنگ اس لیے کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ ڈیلارو نام کی کمپنی کا مالک ہے۔ دنیا کی کرنسی چھاپنے کا 90 فیصد کاروبار اس کمپنی کے پاس ہے۔ یہ کمپنی دنیا کے کئی ملکوں کے نوٹ چھاپتی ہے۔ چوتھی دنیا نے پہلے بھی اپنی کئی رپورٹس میں اس بات کا خلاصہ کیا ہے کہ کیسے ہندوستان میں جعلی نوٹوں کے پیچھے اس کمپنی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ڈیلارو کمپنی کا سب سے بڑا معاہدہ ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ تھا، جسے یہ اسپیشل واٹر مارک والا بینک نوٹ پیپر سپلائی کرتی رہی ہے۔ جنوری، 2011 میں ایک خبر آئی۔ کہا گیا کہ ہندوستانی حکومت نے ڈیلارو کے ساتھ اپنے رشتے توڑ دیے ہیں۔ حکومت نے 16 ہزار ٹن کرنسی پیپر کے لیے ڈیلا رو کی چار حریف کمپنیوں کو ٹھیکہ دے دیا، جب کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے ڈیلارو کو اس ٹنڈر میں حصہ لینے کے لیے مدعو بھی نہیں کیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا اور حکومت ہند نے اتنا بڑا فیصلہ لیا، لیکن یہ فیصلہ کیوں لیا گیا، کیا پارلیمنٹ کو اس کے بارے میں اطلاع دی گئی، ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ بہرحال، اس رشتے کے ختم ہونے کے بعد بھی ڈیلارو کا ہندوستان کے ساتھ رشتہ ختم نہیں ہوا۔ اس کمپنی کا گڑ گاؤں میں ایک بڑا دفتر ہے۔ یہ کمپنی یہاں کرنسی پیپر کے علاوہ پاسپورٹ، ہائی سیکورٹی پیپر، سیکورٹی پرنٹ، ہولو گرام اور کیش پروسیسنگ سولیوشن میں ڈیل کرتی ہے۔ یہ ہندوستان میں اصلی اور نقلی نوٹوں کی پہچان کرنے والی مشین بھی بیچتی ہے۔ اب اس سے زیادہ دلچسپ کیا ہوگا کہ جس کمپنی پر نقلی نوٹ کا جال پھیلانے کا شک ہے، وہی کمپنی نقلی نوٹوں کی جانچ کرنے والی مشین بھی بناتی ہے۔ اگر جانچ ایجنسیاں ہی کہہ رہی ہیں کہ نقلی نوٹ کا کاغذ اصلی نوٹ کے جیسا ہے تو پھر سپلائی کرنے والی کمپنی ڈیلا رو پر سرکار نے کارروائی کیوں نہیں کی، اور اب بھی یہ کمپنی ہندوستان میں دفتر کھول کر اپنا کام کاج کیسے چلا رہی ہے؟g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *