اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

سلمان علی
’’اتناسناٹا کیوں ہے بھائی‘‘ یہ مکالمہ سن کرہر ہندوستانی کے ذہن میں صرف ایک ہی تصویر ابھرے گی اور وہ صرف فلم شعلے کے رحیم چاچاکی ۔اوتار کشن ہنگل عرف اے کے ہنگل آج ہمارے درمیان نہیں ہیں،لیکن فلم شعلے میں ادا کیا گیا ان کا یہ مکالمہ آج بھی ہر شخص کے ذہن میں تر و تازہ ہے۔ حقیقت میں ہنگل صاحب نے اس دنیا کو خیر آباد کہہ کر ہندی سنیما میں سناٹا پیدا کر دیا ہے۔ہنگل صاحب وہ اداکار تھے جنھوں نے جنگ آزادی سے لے کر آزاد ہندوستان کا دور دیکھا اور ہمیشہ ہی اپنی فنکاری میں سرگرم عمل رہے۔لیکن المیہ یہ رہا کہ انہیں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھی علالت کی حالت میں کیمروں کی لائٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔جنگ آزادی کی لڑائی میں مہینوں جیلوں میں گزارنے کے باوجود ہنگل صاحب کو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں تنگ دستی سے دو چار ہونا پڑا۔اے کے ہنگل تقریباً 7سالوں سے پردۂ سیمیں سے دور تھے، تقریباً250سے زائد فلموں میں اداکاری کرنے والے ہنگل صاحب کو اپنے آخری دنوںمیں جبکہ وہ بیماریوں سے لڑ رہے تھے ، تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے علاج کے لئے معقول رقم کے فقدان سے دو چار ہونا پڑا۔بالی ووڈ کا بھی عجیب دستور ہے کہ ایک طرف بالی ووڈ کے بڑے بڑے اسٹار مفلسوں اور معذوروں کے لئے طرح طرح کی این جی اواور ایسو سی ایشن چلانے کا دعویٰ کرتے ہیں،تودوسری طرف انہی کی انڈسٹری کا ایک بزرگ اور عظیم فنکار تنگ دستی کی حالت میں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ہندی فلم انڈسٹری میں ایسے بزرگ اداکاروں کے لئے کوئی تنظیم یا ایسو سی ایشن نہیں ہے، جس سے وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں چین کی سانس لے سکیں۔اکثر دیکھا اور سنا جاتا ہے کہ امیتابھ بچن ،سلمان خان یا شاہ رخ خاں یا پھر فلاں اداکار نے لاکھوں روپے دے کر فلاں این جی او یا فلاں شخص کی مدد کی،لیکن ہنگل صاحب کو کسی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔اے کے ہنگل صاحب جو اپنے علاج کے لئے مالی تنگی کا شکار تھے، کے لئے کوئی آگے نہیں آیا۔ ہنگل صاحب ایک تاریخ ساز شخصیتتھے اور پدم بھوشن جیسے عظیم ایوارڈ سے سرفراز کئے جا چکے تھے۔آخر ایک عظیم فنکار کے ساتھ ایسا سوتیلا برتائو کیوں ہوا؟کیا بالی ووڈ کے سرفہرست اداکار وں کو اپنے بزرگ ساتھی اداکار کی بیماری کی خبر نہ ہوئی؟یہاں تک کہ ہنگل صاحب کے اکلوتے بیٹے وجے ہنگل ،جو کہ تقریباً 70سال کے ہو چکے ہیں اور بالی ووڈ میں مشہور فوٹو گرافر رہے ہیں ،وہ بھی فی الحال ریڑھ کی ہڈی کی بیماری سے لڑ رہے ہیں اور کام کرنے کے لائق نہیں ہیں۔انسانی قدریں تواس وقت اور شرمسار ہوئیں ،جب اے کے ہنگل صاحب کی آخری رسومات میں فلم انڈسٹری کی کوئی بڑی شخصیت شریک نہیں ہوئی۔ہنگل صاحب نے اپنا کچھ وقت اپٹا میں بھی گزارا جہاں وہ کیفی اعظمی اور بلراج ساہنی کے ساتھ سرگرم رہے،لیکن ان تینوں کے خیالات کبھی نہ مل پائے ،کیونکہ ہنگل صاحب کمیونسٹ آئیڈیالوجی کے حامی تھے اور کیفی اعظمی اور بلراج ساہنی مارکسوادی آئیڈیالوجی کے حامی تھے۔
بالی ووڈ میں یوں تو پہلے بھی کئی اداکار گمنامی کی موت مرتے رہے ہیں۔ لیکن ہنگل صاحب ان سب سے الگ تھے اور ان کی ہندی سنیما کو دی گئیں خدمات کوبھی کبھی فراموش نہیںکیا جا سکتا ۔تقریباً چار دہائیوں تک انھوں نے بالی ووڈ میں اس وقت کے سرفہرست کے اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے اور ہر فلم میں کسی کے والد کسی کے چاچا کا رول ادا کیا،جن میںآنجہانی راجیش کھنہ کے ساتھ انھوں نے تقریباً درجن بھر فلمیں کیں۔اس کے علاوہ جیہ بہادری کے ساتھ کئی فلموں میں ان کے والد کے رول ادا کئے ہیں۔لیکن افسوس کہ نہ تو جیہ بہادری ان کی آخری رسومات میں پہنچیں اور نہ ہی امیتابھ بچن۔ گزشتہ دنوں جب وہ اپنیعلاج کے لئے پیسوں کی قلت سے پریشان تھے تو امیتابھ بچن ، سلمان خان اور عامر خان نے ان کو مالی تعاون دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن افسوس کہ یہ لوگ بھی اپنے وعدے نہیں نبھا سکے۔
یکم فروری 1917کو سیالکوٹ پنجاب میں کشمیری پنڈت خاندان میں پیدا ہوئے اے کے ہنگل نے اپنا بچپن پشاور میں گزارا اور وہیں اپنی تعلیم مکمل کی۔ان کے خاندان کے بیشترا فراد انگریزوںکے دور حکومت میںاعلیٰ عہدوں پر فائز تھے لیکن اس کے برعکس ہنگل صاحب نے ٹیلرنگ کے پیشہ کو منتخب کیا اور بیرون ملک کے ٹیلر سے ٹیلرنگ کے گر سیکھے۔اس کے بعد انھوں نے سری سنگیت پریا منڈل جوائن کیا ، جو پشاور میں واقع ایک تھیٹر گروپ تھا اور یہیں سے انھوںنے اپنے تھیٹر کریئر کی شروعات کی اور کئی یادگار اوراہم رول ادا کئے۔اے کے ہنگل صاحب کو ہم کیرکٹر آرٹسٹ کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے تھیٹر سے لے کر فلموں تک کیرکٹر رول ہی اداکئے ہیں۔بھلے ہی اے کے ہنگل صاحب نے ہندی فلموں میں چھوٹے اور مختصر کردار ادا کئے ہوں لیکن شعلے ، آئینہ، شوقین،نمک حرام جیسی فلموں میں ادا کئے گئے ان کے کردار ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔رفتہ رفتہ بالی ووڈ کے وہ چہرے ہمیں ہمیشہ کے لئے الوداع کہتے جا رہے ہیں، جنھوں نے ہندی سنیما کو بالی ووڈ تک کا سفر کرایا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ان یادگار ہستیوں کی قدر نہیں کر پا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *