انسانی جسم کی جلد میں سب سے زیادہ درد کا احساس

وصی احمد نعمانی

اللہ کا کوئی بھی عمل حکمت سے خالی نہیں ہے اور تمام عمل میں انسانوں کے لئے نصیحت ہے۔ اللہ نے اپنے کلام پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے روز جب منکرین خدا کو جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا تو اس کے جسم کی کھا ل جب جل جائے گی تو اس کی جگہ نئی کھال پیدا کردی جائے گی ۔ اس طرح خدا کی آیات کا انکار کرنے والا سخت ترین سزا بھگتے گا ۔ یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ہے کہ جسم کی کھال کے جلنے سے زیادہ تکلیف ہوگی یا پورا جسم جلنے سے زیادہ تکلیف ہوگی۔ عام طور پر ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ پورا جسم جلنے پر زیادہ تکلیف ہوگی۔ مگر اللہ جو علیم و خبیر ہے وہی ساری حکمتوں اور ترکیبوں کا بہتر جاننے والا ہے ۔ ان کا فرمان ہے کہ جب منکروں کی کھال جل جائے گی تو دوسری کھال پیدا کردی جائے گی اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا خدا کی مرضی کے مطابق ۔ اللہ جل جلالہٗ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے کہ جب منکر کا پورا بدن جل جائے گا تو پھر سے نیا بدن پیدا کردیا جائے گا اور وہ نیا بدن جب بالکل جل کر راکھ ہوجائے گا تو تو پھر تیسرا ، چوتھا ، پانچواں اور چھٹا نیا بدن پیدا کردیا جائے گیا ہے اور پھر ان کو آگ میں جلا دیا جائے گا۔ بلکہ اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے کہ جب منکرین کے جسم کی کھال جل جائے گی تو نئی کھال پیدا کردی جائے گی اور پھر جب وہ کھال جل جائے گی تو اس کی جگہ دیگر کھال پیداکرکے اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی تاکہ اللہ کی آیات و ہدایات کے انکار کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے اور اس کے گناہ کے تناسب میں اسے سخت سزا ملے ۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ پوری جسم کے جلنے کے مقابلے میں جلد کے جلنے پر زیادہ تکلیف ہوتی ہے ۔ اللہ کا مقصد یہاںپر انکار کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دہ عذاب و سزا دے کر انصاف کرنا مقصود ہے جو پورے بدن کے جلنے پر پورا نہیں ہوتا چاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسم کے پوری طرح جلنے میں کیوں نہیں، صرف کھال کے جلنے میں زیادہ تکلیف کیسے ہوگی۔ اس پر سائنس نے کافی تحقیق اور ریسرچ کرنے کے بعد جو نتیجہ نکالا اور نکات پیش کیا ہے وہ اللہ کی کبریائی اور کرشمہ سازی کا بین ثبوت ہے اور یہ یقین ہوتاہے کہ جلد کو جلا کر سخت سزا دی جائے گی ،پورے جسم کو جلانا سخت سزا نہیں ہے۔
آئیے !سب سے پہلے سائنسی تجزیہ پر نہایت دل جمعی سے غور کریں پھر اللہ کی اس مشیت پر غور کریں کہ اس نے پورے بدن کو جلا کر انصاف کا تقاضہ پورا کرنے کے بجائے منکرین کے جسم کی کھال کو جلا کر سزا کے لوازمات کو مکمل کرنے کا حکم کیوںصادر فرمایا ہے جبکہ مقصد آیات کے انکار کرنے والوںکو بد ترین سزا دینے کا ہے۔
سائنسی تجزیہ پر غور فرمائیے! انسانی جسم کی ’’جلد‘‘ اس کی شخصیت کا اہم ترین حصہ ہے ۔ اس نے پورے بدن کو حفاظتی دیوار کے طور پر ڈھک رکھا ہے۔ یہاں تک کہ جسم کے سوراخوں منہ، ناک، کان ، پیشاب اور پاخانے کے سوراخوں تک کو ڈھانپ کر ان جگہوں کو باہری نقصانات سے حفاظت دی ہے۔یہاں تک کہ آنکھ کے ’’ ڈیئے‘‘ پر بھی ایک باریک شفاف جھلی کی شکل میں یہ کھال موجود ہے۔ درحقیقت انسان کے جسم پر موجود بال اور ناخن کو بھی جلد کا ’’ زائدہ‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ اس جلد کا اہم کام جسم کو بیرونی چوٹ ، زخم اور حادثہ سے آنے والی ضربوں سے حفاظت کرنا ہے۔ یہاں تک کہ سورج سے نکلنے والی بنفشی شعاعوں یا الٹراوائلیٹ ریز کے نقصانات سے بچانا ہے۔ انسان کے دل سے جب خون کو پمپ کیا جاتاہے تو وہ بدن کے تمام ریشے میں پہنچ کر اسے زندگی دیتا ہے۔جلد کے بیرونی حصے میں اعصاب کے بہت سے سرے پائے جاتے ہیں۔ انہیں اعصاب کے ذریعہ دماغ کو بیرونی درپیش حالات سے اطلاع ملتی ہے۔ یعنی یہ اعصاب جلد کی بیرونی سطح تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور بدن کے ہر حصہ کی اطلاع انہی اعصاب کے ذریعہ دماغ کو ملتاہے۔ سائنس کی نئی تحقیق اور ریسرچ نے یہ دریافت کیا ہے کہ وہ اعصاب جو درد کا ادراک کرتے ہیں خواہ وہ درد چوٹ لگنے ، جلنے یا شدید گرمی و سردی کی وجہ سے ہو، وہ اعصاب فقط جلد میں ہی پائے جاتے ہیں۔ یعنی اگر جسم میں سوئی چبھوئی جائے تو درد صرف جلد پر ہوگا لیکن سوئی اگرآگے گزار دی جائے تو بقیہ گوشت کے حصہ پر در حقیت درد کا احساس نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دو زخیوں کی جلد جلنے کے بعد اس کو تبدیل کرتے رہنے کا حکم صاد ر کیا ہے۔ تاکہ ان کو مزید سخت عذاب کا سامنا کرتے رہنا پڑے۔ ’’ چیانگ مائی یونیورسٹی‘‘ کے عالمی شہرت یافتہ پروفیسر ’ ٹیجاٹا ٹیجاسین‘ جو شعبۂ علم تشریح اعضاء کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے خاص اس عنوان پر یعنی ’’ جلد میں پائے جانے والے ’پین ریسیپٹرز‘ پر کافی وقت صرف کیا اور نہایت کامیابی سے یہ نتیجہ نکالا کہ انسانی جسم میں درد کومحسوس کرنے والے حساس اعصاب ہیں۔ یہی اعصاب جسم کے کسی بھی حصہ میںکوئی تکلیف ہو تو یہ حساس اعصاب دماغ کو مطلع کرتے ہیں۔ اس لئے فوراً انسان کو اپنی تکلیف کا احساس ہوتاہے۔ جلد کے پورے حصہ میں قدرتی طور پر حساس آلات نصب کئے گئے ہیں۔
عام طور پر صدیوں تک لوگوں کو یہ احساس تھا کہ تمام جسم کو درد کا احساس ہوتاہے یعنی اگر انگلی کو کانٹا بھی چبھ جائے تو بجائے اس کے کہ صرف متاثرہ حصہ یعنی انگلی کو ہی درد محسوس ہو، پورے جسم کو درد کا احساس ہوتا ہے۔ اس وقت تک لوگ اس بات کو نہیں مانتے تھے کہ انسان کی جلد کے اندر کچھ مخصوص رگیں اور اعصاب ہیں جو درد کو محسوس کرتے ہیں جن سے انسان کا جسم متاثر ہوتاہے اور وہ اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی جلد کے اندر ہی Pain Receptors پائے جاتے ہیں اور اب شعبہ علم الاعضاء میں جو جدید تحقیق کی گئی ہے اس کے مطابق انسان کو ہر قسم کے درد کا احسا س، انسان کی جلد میں پائے جانے والے اعصاب اور مخصوص رگ جس کو رگ ختمی یا Nerve Ending کہتے ہیں اس کے ذریعہ ہوتاہے اور یہ احساس جلد میں موجود مختلف رگوں کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ انسان کے جسم کے اندر تین مختلف رگیں ہوتی ہیں جو مختلف قسم کی چوٹ ، ضرب یا تبدیلی کو محسوس کرکے فوراً دماغ کو اطلاع دیتی ہیں۔ یہ تینوں اہم رگیں ہیں، جن سے تین خاص احساس جڑے ہوئے ہیں۔
چھونے کا احساس: خون کا چھوٹے سے چھوٹا جزو یعنی Corpus Cells اس حس کو محسوس کرتا ہے جسے Meissners and Merkels corpus cells کہتے ہیں۔
درد کا احساس: یہ جلد میں موجود آگ ختمی کے ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔
گرمی و حرارت کا احساس: اس حس کی ذمہ داری Ruffini Cylindders Corpus cles پر ہوتی ہے۔ یہی تینوں حس جلد کی کسی بھی تکلیف کو فوراً اور شدت سے پتہ بتانے کے لئے متحرک ہوتے ہیں ۔جلد کو درد کا احساس عام طور پر جلد کے جلنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔جلد کے جلنے کی اس حالت کو تین درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
پہلے درجے کا جلنا: سورج کی گرمی اور تپش سے انسانی جسم کی اوپر والی سطح جسے Epidermis کہتے ہیں متاثر ہوتی ہے اور اس جگہ میں سوزن اور ورم پیدا ہوجاتاہے اور وہ جگہ سرخی مائل ہو کر جسم کے دیگر حصوں سے مختلف نظر آتی ہے جس سے انسانی تکلیف کا احساس ہوتاہے مگر عام طور پر یہتکلیف دو یا تین دنوں میں ختم ہوجاتی ہے اور انسان خود کو آرام سے محسو س کرتا ہے۔
دوسرے درجے کا جلنا: اس درجہ کے جلنے میں انسان کی جلد کا اوپر والا حصہ یعنی Epidermise اور اندرونی حصہ یعنی Derim دونوں زخمی ہوجاتے ہیں یا جل جاتے ہیں ۔ اور دونوں حصے آپس میں علیحدہ ہوجاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان دونوں حصوں کے درمیان بدن کی رطوبات خون سے الگ ہوکر جمع ہوجاتی ہیں ۔ ایسی حالت میں متاثرہ آدمی کو بہت تکلیف کے ساتھ درد ہوتاہے اور آبلہ یا چھالہ بن جانے کے بعد رگ ختمی ننگی ہوجاتی ہے اور جب اس کو رگڑ لگتی ہے تو اس کی تکلیف اور درد میں بے حد اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح کی جلد کو اپنی اصلی حالت میں واپسی آنے اور صحت مند ہونے میں تقریباً دو ہفتے لگ جاتے ہیں لیکن یہ پوری مدت نہایت دشوار گزار ہوتی ہے۔جلد کا یہ حصہ سب سے زیادہ حساس ہے اور پین ریسیپٹر بھی اس حصہ میں موجود ہوتے ہیں ۔
تیسرے درجے کا جلنا: اس طرح کے تیسرے درجہ کے چلنے میں انسانی جلد کی پوری تہہ جل جاتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ زخم ، پٹھوں اور ہڈیوں تک پہنچ جائے۔ ایسی حالت میں جلد میں لچک بالکل ختم ہوجاتی ہے اور وہ خشک اور کھر دری ہوجاتی ہے اور اب ایسی کیفیت میں متاثرہ شخص کو زیادہ درد نہیں ہوتا ہے کیونکہ رگ ختمی اور درد محسوس کرنے والے اعصاب تقریبا ً مکمل طور پر جلنے کی وجہ سے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔
ان تینوں اقسام کے جلد ی جلن کا تجزیہ کریں تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ دوسرے درجے کا جلنا دراصل نہایت خطرناک اور تکلیف دہ جلنا ہے ۔ انسانی کھال یا جلد کا یہ اہم ترین حصہ ہے جس کے جلنے کی طرف اللہ نے قرآن کریم کے ذریعہ اشارہ فرمایا ہے یعنی قیامت کے روز کاکھال کے ساتھ گوشت بھی جلنے کا ذکرنہیں فرمایا جارہا ہے۔ بلکہ صرف کھال یا جلد کے جلنے کی بات کہی جارہی ہے۔ اس لئے ایک نہایت لطیف اور ثابت شدہ سائنسی نکتہ اللہ کی کتاب میں ظاہر کیا جارہا ہے۔ اسی لئے پورے بدن کو جلا کر سزا دینے کی بات نہیں کی جارہی ہے بلکہ صرف کھال یا جلد کو جلا کر اس کی جگہ دوسری تیسری اور بے شمار جلدوں کے پیدا کرتے رہنے اور سزا کو جاری رکھنے کی بات کہی جارہی ہے تاکہ منکرین آیات قرآنی خوب عذاب کا مزہ چکھیں۔امام ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں ’’ ایک ایک کافر (منکرین آیات اللہ) کی سو سو کھالیں ہوں گی،ہر ہر کھال پر قسم قسم کے علیحدہ علیحدہ عذاب ہوتے ہوںگے ۔ ایک ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ کھال الٹ پلٹ ہوگی یعنی کہہ دیا جائے گا کہ’’ پھر لوٹ آئے وہ پھر لوٹ آئے گی‘‘۔ حضرت معاذ بن جبل ؒ کہتے ہیں۔ایک ایک ساعت میں سو سو بار بدلی جائے گی۔

Share Article