ہم کسی سے سے کم نہیں

سلمان علی
چھبیس اگست کا دن ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب بن کرجڑ گیا، جب ہندوستانی کرکٹ کے ابھرتے ستاروں نے آسٹریلیا کی سر زمین پر ہی کنگاروئوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ مقابلہ خواہ انڈر 19 کا ہو یا سینئرٹیم کا، ورلڈ کپ فائنل میںدونوں ہی میں ہندوستان کا وقار دائو ں پر ہوتا ہے۔لہٰذا، آسٹریلیا میں ہوئے اس ورلڈ کپ فائنل کے مقابلہ میںہندوستان کے ابھرتے نوجوان کرکٹروں نے بتا دیا کہ جوش، جذبہ اسی کا نام ہے۔اس پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ اگر کسی کھلاڑی نے متاثر کیا ہے تو وہ ٹیم کے کپتان انمکت چند ہیں۔ جنھوں نے فائنل مقابلہ میں انتہائی شائستگی اور استحکام کے ساتھ سنچری مکمل کی اور ٹیم انڈیا کو جیت کیہدف تک پہنچایا۔انمکت کی یہ پاری کئی معنوں میں تاریخی ثابت ہوئی۔ کرکٹ نے ہمارے ملک کو دنیا میں ایک منفرد شناخت دلائی ہے اور باوقار مقام حاصل کرایا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈر 19ورلڈ کپ میں نوجوان کھلاڑیوں نے ہندوستانی کرکٹ میں نئی امیدیں جگائی ہیں۔وریندر سہواگ، ہربھجن سنگھ، محمد کیف یوراج سنگھ، پارتھیوپٹیل، عرفان پٹھان،وراٹ کوہلی،روندرجڈیجاجیسے کھلاڑی انڈر 19ورلڈ کپ کی ہی دین ہیں۔2000میں سری لنکا میں میں ہوئے انڈر 19ورلڈ کپ فائنل میں انڈیا کو سری لنکا کا سامنا تھا اور جیت کے لیے 178رن کا ہدف ملا تھا، جسے محمد کیف کی کپتانی میں ٹیم انڈیا نے آسانی سے حاصل کر لیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد یوراج سنگھ اور محمد کیف کو ٹیم انڈیا میں کھیلنے کا موقع ملا۔ انڈر 19ورلڈ کپ کا آغاز 1988میں ہوا تھا اور اس کی سب سے پہلی چمپئن ٹیم آسٹریلیا بنی تھی۔اس کے بعد دوسرا انڈر 19ورلڈ کپ ٹورنامنٹ تقریباً دس سالبعد منعقد کیا گیا۔ اس میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو 7وکٹ سے ہراکر فتح حاصل کی تھی اور پہلا خطاب اپنے نام کیا تھا۔ بعد ازاں ہر دو سال بعد انڈر 19ورلڈ کپ کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔2002میں منعقد ہوئے انڈر 19ورلڈکپ کا خطاب آسٹریلیا نے سائوتھ افریقہ کو شکست دے کر حاصل کیا تھا۔
اس کے علاوہ سال 2004کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کو 25رنوں سے ہرا کر پاکستان دوسری ایسی ایشین ٹیم بنی ،جس نے انڈر 19ورلڈ کا خطاب اپنے نام کیا ہو۔سال 2006کا فائنل مقابلہ انتہائی ڈرامائی ثابت ہوا، جس میں ہندوستان کا مقابلہ پاکستان سے ہوا تھا اور پاکستان نے ہندوستان کو جیتنے کے لئے محض 110رن کا معمولی اسکور دیا تھا، لیکن ٹیم انڈیا نے اپنے 6ٹاپ وکٹ صرف 9رن کے اسکور پر ہی گنوا دئے اور اس طرح پوری ٹیم انڈیا صرف 71رن بنا کر ہی پویلین لوٹ گئی اور پاکستان نے اپنی مسلسل دوسری خطابی جیت حاصل کی۔اس مقابلہ میں ٹیم انڈیا کی طرف سے پیوش چاؤلہ، چتیشور پوجارا، روہت شرما جیسے کھلاڑی شامل تھے۔
اس سے پہلے انڈر 19 ورلڈ کپ کے سب سے زیادہ تین خطاب آسٹریلیا کے نام تھے لیکن جونیئر ٹیم انڈیا نے آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر شکست دے کر چوتھی بار ورلڈ چمپئن بننے کا خواب چکناچور کر دیا۔ اور اس طرح جونیئر ٹیم اندیا نے تیسرا ورلڈ کپ خطاب جیت کر آسٹریلیا کی برابر ی کر لی۔
انڈر 19کپ نے ہندوستان کو وقار اورشہرت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ دیا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں جوش ، جذبہ اور استحکام کے ساتھ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اپنے سینئرس کو بتا دیاہے کہ ہم بھی جوش میں ہیں ۔غور طلب ہے کہ اسی سال فروری مارچ میں کھیلی گئی بارڈر گواسکر ٹیسٹ سیریز میں سینئر ٹیم انڈیانے انتہائی شرمناک کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، جس کے نتیجہ میں اسے 4ٹیسٹ میچوں کی سیریز4-0 سے گنوانی پڑی تھی۔اس کے علاوہ کامن ویلتھ بینک سیریز کے فائنل میں بھی ٹیم انڈیا رسائی حاصل نہیں کر پائی تھی اور اس کا خطاب آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرا کر اپنے نام کیاتھا۔ اس طرح انمکت چند، ہرمیت سنگھ، سمت پٹیل ، سندیپ شرما جیسے کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ٹیم انڈیا میں اپنی جگہ بنانے کی دعویداری پیش کی ہے اور بتا دیا ہے کہ وہ لمبی ریس کے کھلاڑی ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *