حکومت کشمیر کے درد کو بھی سمجھے

سید علی شاہ گیلانی
جموں و کشمیر ڈوگرا شاہی میں سو سال تک رہا اور سو سال کے بعد جب ہندوستان آزاد ہوا ، اور پاکستان بنا تو جموں و کشمیر اپنی بدقسمتی اور لیڈرشپ کی ہوس پرستی کی وجہ سے پورے مشرقی ہندوستان کی جو اسٹیٹ اور رجواڑے وغیرہ تھے، ان میں یہ واحد اسٹیٹ ہے جس نے متنازع شکل اختیار کر لی۔ ایک طرف جموں و کشمیر کی خوبصورتی دیکھ لیجئے اور دوسری طرف دیکھ لیجئے کہ یہاں کے لوگ کس مصیبت میں مبتلا ہیں۔ جگہ جگہ آپ فوج دیکھیں گے، جگہ جگہ بنکر دیکھیں گے، جگہ جگہ فوجی بندوقیں شانوں پر لے کر گشت کر رہے ہیں۔

جموں میں اکتوبر، نومبر 1947 میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ، گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ جموں میںجو ڈوگرا فورس اس وقت تھی اور بہت پہلے سے پٹیالہ کی فوج بھی وہاں آئی ہوئی تھی، اور پھر وہاں جو کمیونل المینٹس ہیں، آر ایس ایس ہے، جن سنگھ تھی اس زمانے میں اور دوسری پارٹیاں، ان سب نے مل بیٹھ کر اور مشورہ کرکے جموں کے مضافات میں رہنے والے مسلمانوں سے کہا کہ تم یہاں جموں سٹی میں آ جاؤ، پاکستان بنا ہے، ہم آپ کو پاکستان بھیج دیں گے۔

انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کو آزادی ملے، وہ آزادی کے ساتھ گھومے پھرے، اپنے خیالات کا اظہار کرے، زبان کا استعمال کرے، قلم کا استعمال کرے، لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ لیکن ہمارے لیے یہ سب چیزیں ممکن نہیں ہیں۔ ہندوستان نے یہاں فوجیں اتاریں 27 اکتوبر 1947 کو۔ ہمارے نزدیک اس کا کوئی جواز نہیں تھا، کیوں کہ ہندوستان کی تقسیم دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوئی تھی، چاہے ہندوستان کے نیتا اِس وقت نہ مانیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور جو حصے مسلم اکثریت کے تھے وہ پاکستان کا حصہ بنے، جو ہندو اکثریت کے حصے تھے وہ بھارت کا حصہ بنے۔ 25 جولائی، 1947 کو آنجہانی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ جو ہندوستان میں اسٹیٹس ہیں، پونے چھ سو کے قریب، ان کو اختیار ہے چاہے ہندوستان کا حصہ بنیں یا پاکستان کا حصہ بنیں یا انڈیپنڈنٹ رہیں، لیکن کچھ گائڈ لائنس انہوں نے فراہم کی تھیں کہ ان اسٹیٹس کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ان کی باؤنڈریز کس کے ساتھ ملتی ہیں۔ پھر دوسرا پوائنٹ یہ ہوگا کہ ان کی پاپولیشن کا ریشیو کیا ہے، ہندو میجارٹی ہے یا مسلم میجارٹی اور پھر تیسرا یہ تھا کہ ان کا کلچرل اور مذہبی میلان کس کی طرف ہے۔ اس فارمولے کے مطابق جموں کشمیر پاکستان کاقدرتی حصہ بن رہا تھا ۔حیدر آباد نے انڈیپنڈنٹ رہنے کا اعلان کیا، لیکن بھارت کے نیتاؤں نے کہا کہ تم انڈیپنڈنٹ نہیں رہ سکتے، کیو ںکہ تمہاری باؤنڈریز چاروں طرف سے ہندوستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ یہ دلیل ٹھیک تھی۔ جوناگڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، وہاں سرحد ملتی تھی راجستھان کی طرف سے۔ وہاں ہندوستان نے یہ دلیل پیش کی کہ تمہاری پاپولیشن تم کو سپورٹ نہیں کر رہی ہے پاکستان کا حصہ بننے کے لیے، کیوں کہ یہاں پر ہندو میجارٹی ہے۔ یہ اصول اور یہ فارمولہ جو ہندوستان نے حیدرآباد اور جوناگڑھ کے لیے استعمال کیا تھا، کاش وہ جموں و کشمیر کے بارے میں بھی اس فارمولے پر نظر رکھتے۔ کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ (پاکستان) فوج بھیج کر اس خطہ پر اپنا قبضہ جمائے۔ ساڑھے سات سو میل سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، 85 فیصد 1947 میں یہاں مسلمانوں کی آبادی تھی۔ جب سے میں بالغ ہوا ہوں، یہاں اس وقت تک عید نہیں منائی جاتی ہے، جب تک وہاں (پاکستان) سے چاند دیکھنے کی اطلاع نہ آ جائے، اتنا قرب ہے، ماحول کا اتنا قریبی رشتہ ہے اس حصے کے ساتھ جو پاکستان بنا ہے۔
ہندوستان نے جب یہاں فوجیں اتاریں تو اس وقت انہوں نے کہا کہ یہاں قبائلی آئے ہیں اور یہاں کے مہاراجہ نے ہم سے درخواست کی ہے کہ آپ ہماری مدد کریں قبائلیوں کو نکالنے میں۔ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جو جدو جہد چل رہی تھی، اس میں کانگریس کا یہ اسٹینڈ تھا کہ اسٹیٹس کے فیوچر کے بارے میں راجے مہاراجے یہ اختیار نہیں رکھتے کہ وہ کوئی فیصلہ کریں، بلکہ لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے۔ یہ کانگریس کا اسٹینڈ تھا۔ مسلم لیگ کا اسٹینڈ یہ تھا کہ راجے مہاراجوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ فیصلہ کریں۔ اب اگر کانگریس کا یہ اسٹینڈ تھا کہ لوگوں سے پوچھا جائے، تو پھر ہری سنگھ کے نام نہاد الحاقی دستاویز کو تسلیم کرنے کا یا فوج بھیجنے کا کوئی جواز نہیں تھا، مورل یا لیگل یا ہیومن ویلیوز کی بنیاد پر کوئی جواز نہیں تھا۔

کشمیر اور کشمیریوں کے دکھ درد کو ہم نے ہمیشہ حکومت کی نظر سے دیکھا ہے۔ خود کشمیر کے لوگ بھی بہت ہی تلخ لہجے میں یہ بات کہتے ہیں کہ ہمارے دکھ درد کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہم نے کشمیر جاکر وہاں کے چند اہم لیڈروں سے گفتگو کی ہے ۔ اس کو ہم من و عن ان کی زبان ، ان کے الفاظ اور ان ہی کے جذبات و احساسات کے ساتھ لگاتار شائع کریں گے آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا ؟ آپ اگر اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں خط لکھ کر یا ہمارے میل ایڈریس پر اپنی قیمتی رائے سے نوازیں۔ہم آپ کی رائے جاننے کے منتظر ہیں۔
——سنتوش بھارتیہ

بہرحال، فوج بھیجی انہوں نے ہری سنگھ کے کہنے پر، لیکن فوج بھیجنے کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم فوج واپس بلا لیں گے حالات ٹھیک ہونے پر اور پھر آپ کو موقع دے دیں گے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا۔ ایک تو یہ کمٹمنٹ تھی، پھر جنوری 1948 میں ہندوستان ہی اقوام متحدہ میں اسے لے گیا اور یہ دلیل لے کر گیا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے، لیکن وہاں جب بحث ہوئی تو بحث میں یہ وہ ثابت نہیں کر سکے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ وہاں تسلیم کیا گیا کہ نہیں، جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور آخری فیصلہ اور حل کے لیے جموں و کشمیر کے عوام کو اختیار دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ ہندوستان نے ان قراردادوں پر دستخط کیے، ان کو قبول کیا اور پاکستان نے بھی ایسا کیا۔ 21 اپریل 1948 کو پہلی قرارداد پاس ہوئی اور کل ملا کر جموں و کشمیر کے بارے میں اب تک 18 قراردادیں پاس ہو چکی ہیں، سب پر ہندوستان نے دستخط کیے ہیں اور سب کو انہوں نے تسلیم کیا ہے، عالمی برادری اس کی گواہ ہے۔ پاکستان نے بھی اس پر دستخط کیے ہیں۔ اب ہم یہی کہتے ہیں کہ تم لوگوں نے قومی سطح پر بھی ہم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم سے پوچھیں گے اور بین الاقوامی سطح پر بھی قراردادیں موجود ہیں۔ تو یہ آپ پر مورل اور لیگل آبلیگیشن ہے کہ آپ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیں۔ ہم اس فوجی قبضے کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں، ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے کسی بھی حال میں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان یہاں بہت سرمایہ خرچ کر رہا ہے، سڑکیں بنا رہا ہے، فلائی اوورس بنا رہا ہے، باقی ڈیولپمنٹ کا کام کر رہا ہے، یہاں ملازمتیں دینے، نوجوانوں کو اسکالرشپ دینے کے لیے، ہائر ایجوکیشن کے لیے بہت کام کر رہا ہے، بہت سرمایہ خرچ کر رہا ہے، لیکن جموں و کشمیر کے عوام کی جو اکثریت ہے، وہ دل سے ہندوستان کا یہ جبری قبضہ قبول نہیں کرتی۔ دباؤ ہے۔ دباؤ اس حیثیت کا ہے کہ میں نے 6 اپریل کو بارہمولہ میں نمازِ جمعہ ادا کی ہے، تب سے آج تک مجھے نمازِ جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ 2011 میں بھی یہی حال تھا۔ 2010 میں بھی میں 141 دن ہاؤس اریسٹ رہا۔ 2009 میں بھی مجھے پروگراموں میں جانے نہیں دیا جاتا تھا، کہیں راستے میں گرفتار کرنا، کبھی گھر میں ہی ہاؤس اریسٹ رکھنا۔ 2008 سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ اس دوران بہت زیادہ عرصہ یا تو میں ہاؤس اریسٹ رہا یا چشمہ شاہی جیل میں قید رہا۔ اب یہ میرا ہی حال نہیں ہے، بلکہ جو بھی آزادی کی بات کر رہے ہیں، جو بھی ہندوستان کو اپنے وعدے یاد دلا رہے ہیں، ان کے ساتھ یہی حال ہو رہا ہے۔
پھر آپ اس پر بھی غور کریں کہ جموں و کشمیر کے عوام نے اب تک بھارت کے اس فوجی قبضے کے خلاف جتنی بھی قربانیاں دی ہیں، چھ لاکھ جانوں کی قربانیاں دی گئیں آج تک۔ یہ چھ لاکھ کیسے ہیں؟ جموں میں اکتوبر، نومبر 1947 میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ، گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ جموں میںجو ڈوگرا فورس اس وقت تھی اور بہت پہلے سے پٹیالہ کی فوج بھی وہاں آئی ہوئی تھی، اور پھر وہاں جو کمیونل المینٹس ہیں، آر ایس ایس ہے، جن سنگھ تھی اس زمانے میں اور دوسری پارٹیاں، ان سب نے مل بیٹھ کر اور مشورہ کرکے جموں کے مضافات میں رہنے والے مسلمانوں سے کہا کہ تم یہاں جموں سٹی میں آ جاؤ، پاکستان بنا ہے، ہم آپ کو پاکستان بھیج دیں گے۔ مسلمان وہاں کے باشندے تھے، جموں و کشمیر کے سٹیزن تھے، ان سے یہ کہنا کہ اب ہم تم کو پاکستان بھیجیں گے، اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مائنڈ سیٹ کیا تھا۔ مائنڈ سیٹ بیک گراؤنڈ میں یہی تھا کہ ہم تم کو یہاں بسنے نہیں دیں گے۔ حالانکہ اس وقت تک یہاں بھارت کی فوجیں بھی نہیں آئی تھیں، 27 اکتوبر کو وہ یہاں آئی ہیں، لیکن اس سے پہلے جونہی پاکستان بنا تو وہاں کے لوگوں نے، ہری سنگھ کی فوج نے، پٹیالہ فوج نے، پولس نے، ایڈمنسٹریشن نے اور کمیونل الیمنٹس نے پہلے ہی طے کرلیا کہ جموں میں مسلمانوں کو بسنے نہیں دینا ہے۔ اب خود ہی اندازہ کیجئے کہ مائنڈ سیٹ کیا تھا، سوچ کیا تھی، فکر کیا تھی، پہلے سے ہی۔ وہ لوگ سادگی میں آگئے جموں سٹی میں، تقریباً چھ لاکھ کی تعداد میں وہاں جمع ہو گئے سارے مضافات سے۔ اس کے بعد ان کو گاڑیوں میں بیٹھایا گیا اور بجائے پاکستان کی سرحد کے پاس اتارنے کے، ان کو گاجر مولیوں کی طرح کاٹا گیا۔ ڈھائی لاکھ تو کنفرمڈ فیگر ہے۔ ایک بار جب میں جموں کے شہیدی چوک میں تقریر کر رہا تھا، اور میں نے جب ڈھائی لاکھ کی فیگر بتائی تو وہاں پر موجود لوگوں کی طرف سے مجھے سختی سے ٹوکا گیا اور ان لوگوں نے بتایا کہ پانچ لاکھ لوگوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا اور تقریباً ایک ملین لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ تو اس وقت تک پانچ لاکھ لوگوں کی قربانیاں دی جا چکی تھیں اور جب سے یہاں فوج کا عمل دخل ہوا، اس کا کام ہی یہی رہا کہ جہاں کوئی مسلمان ملے، سامنے آ جائے، کسی نہ کسی بہانے اس کو نشانہ بنانا ہے، تو گزشتہ بیس بائیس سال کے عرصے میں کوئی ایک لاکھ سے زیادہ لوگ یہاں شہید ہو چکے ہیں، دس ہزار لوگوں کو گرفتار کیے جانے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے، ہزاروں خواتین کی عزتیں اور عصمتیں لوٹی گئی ہیں، ہزاروں مکانات بغیر کسی جواز کے جلا دیے گئے۔ ٹھیک ہے، کوئی مجاہد کسی مکان میں رہتا تھا، جواز بنتا تھا کہ اس مکان میں مجاہد ہے، تلاشی لیں گے یا اس نے سرنڈر نہیں کیا تو مکان کوبلاسٹ کریں گے، لیکن ہمسایے کے مکانات ہیں، جہاں کوئی مجاہد نہیں ہے، ان کو جلانے کا کیا جواز تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بہت سی بستیوں کو دیکھا ہے، جہاں پندرہ پندرہ، بیس بیس مکانات جلائے گئے۔ میں خود وہاں گیا ہوں، میں نے لوگوں سے پوچھا ، انہوں نے کہا کہ ہاں، ایک مجاہد تھا، وہاں باہر لڑ رہا تھا۔ مکانوں کو جلانے کا کوئی جواز نہیں تھا، لیکن انتقام گیری میں کہ یہاں کے مسلمانوں کو جتنا ہوسکے ڈیمورلائز کیا جائے، ان کو پستی میں گرایا جائے، ان کی پناہ گاہیں ختم کی جائیں اور ماں باپ کی موجودگی میں ان کی بیٹیوں کے ساتھ عزت ریزی اور عصمت ریزی کی جائے۔
پنن پوش پورہ، تریگام میں 1991 میں کریک ڈاؤن ہوا، وہاں کے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال دیا گیا اور آرمی والوں نے دن دہاڑے گھروں میں داخل ہو کر درجنوں خواتین کی عصمت دری کی۔ 6 اکتوبر، 2001 کا واقعہ ہے، جگت پورہ ایک بستی ہے تحصیل ہندواڑہ میں، 7 اکتوبر کو میں خود وہاں گیا تھا۔ 30 آر آر والے لنگیٹ سے وہاں آگئے، انہوں نے کریک ڈاؤن کیا۔ گاؤں سے باہر ابراہیم ڈار کا مکان تھا، بستی سے ذرا دور بنا تھا، وہاں پر وہ لوگ ٹھہرے اور انہوں نے ابراہیم ڈار سے چائے پلانے کے لیے کہا، ابراہیم ڈار کی بہو نے ان لوگوں کو چائے بناکر پلائی۔ اس کے بعد 30 آر آر کے میجر نے ابراہیم ڈار سے کہا کہ ایک بیٹے کو جگت پورہ گاؤں میں بھیجو اور اعلان کرواؤ کہ یہاں کریک ڈاؤن ہے۔ اس نے وہاں جاکر اعلان کروایا کہ کریک ڈاؤن ہے، سارے لوگ ایک جگہ جمع ہو جاؤ۔ ابراہیم ڈار اور اس کے بیٹے عبدالرشید ڈار سے آرمی کے لوگوں نے کہا کہ تم لوگ صحن میں بیٹھ جاؤ۔ اس کے بعد آرمی والے اندر گئے، اور جس عورت نے ان کو ابھی ابھی چائے بناکر پلائی تھی، اس کی انہوں نے عزت لوٹی۔ وہ بیچاری عورت چیخی چلائی۔ اس کا سسر، ابراہیم ڈار اندر گیا اس کو بچانے کے لیے۔ اندر داخل ہوتے ہی اس کو گولی ماردی گئی۔ اس کے بعد عورت کا شوہر، عبدالرشید ڈار اندر گیا، اس کو بھی آرمی والوں نے گولی مار کر ٹھنڈا کر دیا۔ ان کے پاس کوئی بندوق نہیں تھی، وہ ملی ٹینٹ نہیں تھے، انہوں نے ان پر کوئی گرینیڈ نہیں پھینکا تھا، صرف وہ لوگ اس عورت کی عصمت بچانے اندر گئے تھے۔ اسی دن دو اور لوگوں کو اس گاؤں میں قتل کر دیا گیا۔ ایک 80 سالہ بوڑھا اپنے مویشیوں کو گھاس ڈالنے کے لیے باہر نکلا تھا، اس کو گولی ماردی۔ اس کے بعد دوسرے گاؤں سے اخروٹ کی گیریوں کا کاروبار کرنے والا آدمی اس گاؤں میں آیا تھا، اس کو ملی ٹینٹ کہہ کر گولی ماردی۔ اس طرح 6 اکتوبر کو اس گاؤں میں چار لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ 2005 کا ہے۔ اسلام آباد، جسے سرکاری سطح پر اننت ناگ کہتے ہیں، وہاں ڈورو شاہ آبادکے پاس ہی ایک گاؤں ہے، جس کا نام چامبو ہے۔ 13 یا 14 جولائی 2005 کو وہاں کریک ڈاؤن ہوا۔ جگت پورہ کی طرح ہی وہاں پر 6 آر آر والوں کو چائے پلاتے وقت تیرہ چودہ سال کی ایک لڑکی، جو شاید پی یو سی (گیارہویں کلاس) میں پڑھ رہی تھی، کافی خوبصورت تھی، اس پر ایک سپاہی کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے کہا کہ مجھے اس کو ہتھیانا ہے۔ تیرہ چودہ جولائی کی درمیانی شب کو بلوندر سنگھ نام کا وہ سپاہی، وردی بدل کر سول لباس میں اس لڑکی کے مکان میں آ گیا۔ مکان کی چھت پر اخروٹ کی ایک شاخ لٹک رہی تھی، اس سے وہ مکان کے اندر گھسا، باہر سے دروازہ پر سٹکنی لگائی تاکہ اس کے ماں باپ باہر نہ نکل سکیں، پھر لڑکی کے کمرے میں داخل ہوا۔ لیکن لڑکی نے مزاحمت کی ، اس لڑکی کو اس نے شہید کردیا۔ اس لڑکی نے اپنی جان دے دی، لیکن اپنی عزت لوٹنے نہیں دی۔ اس کے بعد بلوندر سنگھ جب بھاگ رہا تھا، تو گاؤں میں باہر سی آر پی ایف والے گشت کر رہے تھے، انہوں نے جب اسے دیکھا تو سمجھا کہ شاید کوئی ملی ٹینٹ بھاگ رہا ہے، لہٰذا انہوں نے بلوندر سنگھ کو گولی مار کر ختم کردیا۔ یہ قدرت نے اس وقت انصاف دکھایا۔ اگلے دن اس کی لاش دھان کے کھیت سے اٹھائی گئی۔ اسی طرح اسلام آباد ڈسٹرکٹ میں کہیں سے ایک بارات آ رہی تھی، آرمی والوں نے دلہن کو بیچ راستے میں ہی گرفتار کیا اور پھر اس کی عصمت دری کی۔ ایسے ہزاروں واقعات ہیں، بغیر کسی مبالغہ کے۔ اسی طرح جموں و کشمیر کے صرف چھ ضلعوں میں 7600 نامعلوم قبروں کا انکشاف ہوا ہے۔ اگر پوری ریاست کے تمام ضلعوں میں ایسی قبروں کا پتہ لگایا جائے تو نہ معلوم ایسی کتنی قبریں ہوں گی، جن کے بارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے کہ ان میں کون لوگ دفنائے گئے ہیں۔ یہ نامعلوم قبریں ہیں، جن کا انکشاف ہوا ہے۔
اس طرح بھارت کا یہاں پر جو ظلم و جبر چل رہا ہے، بھارت کے لوگوں پر یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کریں اور بھارت کی حکومت سے کہیں کہ آپ کا یہ جو فوجی جبر کی بنیاد پر، فوجی طاقت کی بنیاد پر جموں و کشمیر پر قبضہ ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ہے، اور جموں و کشمیر کے عوام نے اتنی عظیم اور بے مثال قربانیاں دی ہیں کہ آپ اگر وہاں کی سڑکوں پر سونا بھی بچھا دیں گے، تب بھی ہندوستان کے اس جبری قبضے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان یہاں پر بہت سرمایہ خرچ کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس سرمایہ سے یہاں کے لوگوں کو خریدا جائے، لیکن جہاں تک یہاں کی میجارٹی کی سوچ اور فکر کا تعلق ہے، وہ کبھی بھی بھارت کے اس جبری قبضے کو قبول نہیں کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *