ہندوستانی فلموں کے فروغ میں اردو کا حصہ

پروفیسر شاکر خلیق
اردو ایک ایسی ہر دل عزیز زبان ہے، جس کے دامن سے ہندوستان کی مٹی کی سوندھی خوشبو نکلتی ہے۔ یہ ایک طرف ہماری مشترکہ تہذیب کی نمائندہ ہے تو دوسری طرف قومی یکجہتی اور قومیت کی علم بردار۔ اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کا بہترین نمونہ ہے۔ اردو کے دامن کو رنگ برنگے پھولوں سے بھرنے کا کام مادر وطن کے ان بے شمار سپوتوں نے انجام دیا، جن کا تعلق مختلف مذہب و قوم سے تھا۔ ہندوستان کی مختلف زبانوں کے پھولوں اور کلیوں کو اپنے اندر سمیٹ کر اردو نے ایک ایسا حسین گلدستہ بنایا، جس کی خوشبو اور رنگ روپ نے ساری دنیا کو چکاچوند کر دیا۔
اردو نے سنسکرت سے گھن گرج، کھڑی بولی اور برج بھاشا سے لوچ و لچک، ہریانوی اور پنجابی سے بسنتی الہڑپن، دکھنی ہندوستان کی زبانوں سے سانولا اور سلونا پن اور مختلف علاقائی زبانوں اور بولیوں کی شیرینی اور مٹھاس سے ایک ایسا رنگ و روپ نکھارا کہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی ہمت کسی کو نہ رہی۔ کشمیر کی دل فریب وادیوں سے حسن و نکھار، آسمان کو چومتی ہوئی ہمالیہ کی چوٹیوں سے بلندی، گنگا اور جمنا کی بل کھاتی ہوئی لہروں سے روانی، دکن کی سنگلاخ مضبوط چٹانوں سے ہمت و حوصلہ اور سمندر کے کناروں سے وسعت، پھیلاؤ کو سمیٹ کر اردو نے خود کو سنوارا اور سجایا ہے۔
اردو حضرت امیر خسرو کے دوہوں اور کہہ مکرنیوں کے ذریعہ عوام سے رشتہ جوڑتی ہوئی گول کنڈہ اور بیجاپور کی ریاستوں کی سیر کرتی ہوئی، بادشاہوں کے محلوں سے کتراتی اور گلیوں کوچوں، میلوں ٹھیلوں میں پھرتی ہوئی، گلبرگہ کے خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے آستانہ سے ہوتی ہوئی، مرہٹوں اور پیشواؤں کے درباروں کی سیر کرتی ہوئی نہایت بے نیازی سے اپنا سفر اختیار کرتی رہی۔
اردو اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے جب فلم انڈسٹری کے روپہلے پردے تک پہنچتی ہے تو کیمرے کی آنکھوں نے اس کے روپ و بہروپ کو اور بھی نکھار اور ابھارکر دیکھنے والوں کی آنکھوں کو چکاچوند کردیا اور اردو نغموں پر تیار کی گئی موسیقی نے سننے والوں کے کانوں میں رس گھول دیا۔ فلم سے عوام کا براہِ راست رابطہ ہے اور اس طرح اردو نہ صرف ہندوستان کے عام لوگوں تک پہنچی، بلکہ اس نے ملک کی سرحدوں سے باہر نکل کر بھی اپنے حسن کے جادو سے دنیا کو موہ لیا۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری کے شاندار سو سال کو کامیابی اور بلندی عطا کرنے میں اردو نے سب سے بڑا رول ادا کیا ہے۔ اگر ایک طرف اردو کے سدا بہار گانوں کے میٹھے بول سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں تو دوسری طرف اس کے زوردار مکالمے اپنے کرداروں کے رول کو اور بھی اجاگر کرتے ہیں۔ اردو کے گانوں اور ڈائیلاگ کے بغیر آج تک ایک بھی فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ الٹیے اور غیر جانبدارانہ فیصلہ کیجئے تو آپ کو اس نتیجہ پر پہنچنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا کہ اردو کے مکالمے اور اردو کے نغموں کے بغیر کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوسکی۔
ہندوستانی فلم انڈسٹری کی پہلی بولتی فلم ’عالم آرا‘ سن 1931 میں بنی تھی۔ ’عالم آرا‘ کے ساتھ اردو جب ہندوستانی فلم انڈسٹری کے روپہلے پردے تک پہنچتی ہے تو اس کے رنگ و روپ نے کیمرے کی آنکھوں کو اور بھی چکاچوند کردیا۔ اس کے حسن پر فدا اور اس کے جادوئی اثر و کشش سے مدہوش ہو کر انڈسٹری اس کے عشق میں پاگل ہوگئی اور اسی جنون میں یہ دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی ہوئی آج اس مقام پر براجمان ہے، جہاں اردو کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔
فلمی دنیا میں اردو کے استعمال اور اس کے ارتقائی سفر کا جائزہ لینے کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف ادوار میں کامیاب فلموں کے اندر اردو نغموں اور مکالموں کے عمل دخل کو قارئین کرام کے روبرو پیش کیا جائے۔ ڈرامائی اور تمثیلی ادب میں کرداروں کے ذریعہ پیش کیے گئے مکالمے اور اداکاری کے مابین گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ ڈرامہ کے نقطہ عروج تک ناظرین و قارئین کی رسائی سسپنس کے ختم ہونے کے بعد ہی ہوسکتی ہے۔
بے محل نہ ہوگا اگر یہاں فلم انڈسٹری کے مختلف مراحل میں اردو کی خدمات میں سرگرم چند افراد کا نام نمونہ کے طور پر پیش کیا جائے، جن کی کاوشوں سے انڈسٹری میں اردو کا فروغ ہوتا رہا۔ پروڈیوسر اور ڈائرکٹر کی حیثیت سے محبوب خاں، شانتا رام، کے آصف، سہراب مودی، ستیہ جیت رے، راج کپور، موتی لال، پرتھوی راج کپور، اشوک کمار، دلیپ کمار، نور جہاں ، مینا کماری، نرگس، ثریا، مدھو بالا، وحیدہ رحمن، امیتابھ بچن، سنیل دت، جونی واکر، محمود، شبانہ اعظمی، نصیرالدین شاہ، شاہ رخ خان، عامر خان و سلمان خان وغیرہ۔ شاعر اور نغمہ نگار کی حیثیت سے شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطانپوری، فراق گورکھپوری، راجہ مہدی علی خاں وغیرہ۔ گلوکار کی حیثیت سے نور جہاں، ثریا، محمد رفیع، طلعت محمود، لتا منگیشکر، آشا بھونسلے وغیرہ۔
آپ کی دلچسپی اور معلومات کے لیے اردو کے چند سدا بہار نغموں اور مکالموں کے حوالے دے کر اپنے اس وعدے کی دلیل پیش کرنا چاہوں گا کہ ہندوستانی فلموں کو بام عروج پر پہنچانے میں اردو اور صرف اردو نے ہی کلیدی رول ادا کیا ہے۔ بھلے ہی سیاست اور مصلحت وقت فلموں کے سرٹیفکیٹ پر ہندی کا لیبل چسپاں کرے۔ 1939 کی مشہور فلم ’پکار‘ میں شہنشاہ جہانگیر کے رول میں چندر موہن، ملکہ عالم کے رول میں نسیم بانو اور سنگرام کے رول میں سہراب مودی کے درمیان کا مکالمہ۔ 1960 کی شہرۂ آفاق فلم ’مغل اعظم‘ کا وہ تاریخی مکالمہ جو شہنشاہ اکبر (پرتھوی راج کپور) اور شہزادہ سلیم (دلیپ کمار) کے درمیان پیش کیا گیا، جس سے ایک طرف اردو کی جادوگری کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف فلم کی کامیابی کی ضمانت۔ 1946 کی فلم ’انمول گھڑی‘ میں ملکہ ترنم کے ذریعے پیش کیا گیا نغمہ ’ آ جا آجا… آجا میری برباد محبت کے سہارے۔‘ 1955 کی فلم شری چار سو بیس کا مقبول گانا ’میرا جوتا ہے جاپانی‘۔
درج بالا فلموں کے مکالموں اور نغموں کی گھن گرج اردو ہی کی صدائے باز گشت ہے۔ وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ اردو کا کارواں رواں دواں ہے اور نت نئی فلموں کے ذریعے اردو عوام سے رشتہ جوڑتی ہوئی فلم انڈسٹری پر راج کر رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *