ہندو پاک کے درمیان دوستی ہو سکتی ہے؟

اعجاز حفیظ خاں

پچھلے دنوں لاہور میں بھارت کے عالمی شہرت یافتہ صحافی جناب ستیش جیکب سے ملاقات ہوئی ہے ۔ہمارے پیارے دوست گجندر سنگھ بھی لاہور تشریف لائے ہوئے تھے ۔اُن کے کمرے میں ہی جناب ستیش جیکب صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ہمیں اس بات پر بہت خوشی ہوئی کہ ’’چوتھی دنیا ‘‘کے بارے میں اُن کی بہت اچھی رائے تھی ۔پاکستان کے باہر یہ واحد اخبار ہے جہاں ہمارا مضمون باقاعدگی سے چھپتا ہے۔اس کے لئے ہم اُس کی ایڈیٹر محترمہ وسیم راشد صاحبہ کے بہت مشکور ہیں ۔پچھلے دنوں ہی ہم نے ’’چوتھی دنیا ‘‘ کو اس کی حقیقی حالت میں دیکھا ۔ہمیں یہ سچ بھی کہنے دیں کہ ایسا معیار کا اخبار ہمارے پاکستان میں بھی نہیں چھپتا۔لاہور پریس کلب کے جن دوستوں کو ہم اسے دکھایا ،اُن کی بھی رائے بھی ایسی ہی تھی۔بات ستیش جیکب سے ملاقات کی ہورہی تھی ۔انہوں نے سوال پوچھا کہ ‘‘کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی ہو سکتی ہے ‘‘؟ہم نے عرض کیا دونوں ممالک کے عوام معاشرتی طور پر ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔صرف ایک ماحول بنانے کی ضرورت ہے ۔لیکن یہ پکنک پارٹی سٹائل یا فائیو سٹار ہوٹلوں میں گپ شپ سے پیدا نہیں ہو گا ۔اس کے لئے سیاست دانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ستیش جیکب صاحب کی یہ بات بہت دل کو لگی کہ ’’دوستی کے درمیان سب سی بڑی رکاوٹ دونوں ممالک کی سٹیبلشمنٹ ہے۔ ہمارے خیال میں دوستی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک درمیاں محبت کے جذبات کا ہونا بھی ضروری ہے محبت پر شہرہ آفاق شاعر جان کیٹس کی یاد آرہی ہے ۔فروری 1820ء میں اپنی محبوبہ کے نام خط میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’پیاری فینی !اگر بیماری سے تمہاری آنکھوں میں رضا مندی اور محبت کے اقرار کی کیفیت اس طرح جھلملا سکتی ہے تو کبھی کبھی بیمار ہونا ہی چاہیے۔مجھے یقین ہے کہ تمہیں یقین ہو گیا ہو گاکہ میں تمہارے علاوہ کچھ نہیں سوچ سکتا ۔کل رات جب مجھ پر شدیدبیماری کا حملہ ہوا ۔جب میراسارا خون پھیپھڑوں کی طرف دوڑ آیا۔میرا دم گھٹنے لگا اور مجھے یقین ہو چلا تھا کہ میں اب شاید زندہ نہ رہوں تو اس وقت میں صرف تمہارے بارے میں سوچ رہا تھا ‘‘۔معزز قارئین کو یہ بھی یاد کراتے چلیں کہ انگریزی ادب کے اس ناقابلِ فراموش شاعر نے صرف 25 سال کی عمر میں(23 فروری 1821ئ) کو اپنی پیاری فینی کو ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہہ دیا ۔فانی ؔ بدایونی کا ایک شعر بھی نذر ِ قارئین ہے

سُن کے تیرا نام آنکھیں کھول دیتا تھا کوئی
آج تیرا نام لے کر کوئی غافل ہو گیا
بات نصیب نصیب کی بھی ہوتی ہے ۔کہیںپیار ہے تو کہیں چانٹے (تھپڑ)،کہیں پھول ہے تو کہیں کانٹے ۔ پاکستان کی سیاست کو دیکھ لیں،جہاں اب کانٹوں کے ’’بیوپاریوں ‘‘کی بھی کوئی کمی نہیں لیکن اپنے لئے یہ پھول ہی کاشت کرتے ہیں ۔ان کا بس چلے تو اُس کی خوشبو بھی صر ف اپنا اثاثہ ڈیکلیئر کر دیں ۔لیکن ہوا بھی کبھی قید ہوئی ہے ؟پھول اور ہوا کا تو ویسے بھی چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اسی وجہ سے کبھی کبھارغربیوں کی بستیاں بھی اس سے مہک رہی ہوتی ہیں ۔یہ درست ہے کہ اُن کے گھروں سے غربت ٹپک رہی ہوتی ہے لیکن خلوص و محبت کے زمزے بھی وہیں سے نکلتے ہیں ۔لیکن کیا کریں کہ ہمارے وطن کو سنبھلنے ہی نہیں دیا جا رہا ۔ ایک طرف ہم کئی سال سے حالت ِ جنگ میں ہیں اور دوسری طرف ہمارے کچھ اپنوں نے خود کو خود ہی بڑا ثابت کرنے کے لئے ایک جنگ شروع کر رکھی ہے ،اس کا انجام کیا ہو گا؟ عرض ہے کہ اگر کسی کو بھی سیاست کا شوق ہے تو اپنی گاڑی اُس کے پلیٹ فارم پر لے کر آئے ۔بصورت دیگر ایسی ’’ڈرائیونگ ‘‘ قوم کو کچلنے کے متراد ف ہوں گی ۔لیکن یہ بھی بتاتے چلیں کہ جو قوم جنرل ضیا کے ڈریکولین دور سے نہیں ڈری ،انہیں زنداں سے ڈرانا
یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ آہیں اور بانہیں ،دونوں سے ڈرنا چاہیے ۔اسی لئے تو بہت سی باتیں چوک پر آن کھڑی ہوتی ہیں ۔وزیراعظم جناب پرویز شوکت نے تمام جماعتوں کو الیکشن کی تیاری کے لئے کہہ دیا ہے ۔وہ جنہیں روز الیکشن کی مرگی جیسا دورہ پڑتا تھا ،آج …اُس سے فرار کے چکر میں ہیں ۔اِ دھر اُدھر آس لگائے ہوئے ہیں کہ شاید کسی کا کوئی حکم صادر ہو جا ئے ۔آئین ِ پاکستان کے مطابق الیکشن کا اعلان صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔یہ بات چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابرا ہیم بھی کہہ چکے ہیں ۔انہیں تو اس عہدے کے لئے مسلم لیگ ن نے نامزد کیا تھا ۔لگتا ہے کہ شاید کہ مسلم لیگ ن اور عمران خان صاحب نے آنے والے دنوں کو پڑھ لیا ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے پیپلز پارٹی کی حکومت کے لئے خیر ِ مستور ثابت ہورہے ہیں ۔جناب یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے بعد جنوبی پنجاب میں سیاسی ہوائوں کا رخ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی طرف ہے ۔یہ میرا دعویٰ یا کسی قسم کی پیش گوئی نہیں لیکن وہاں کے بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے پیش ِ نظر میرا خیال ہے کہ موجودہ حکمران اتحاد جنوبی پنجاب سے 80فیصد سے زائد نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے گا ۔اندرون سندھ میں اُسے 90فیصد سے زائد کامیابی ملے گی ۔اُس دن گیلپ مافیا منہ چھپا رہا ہو گا ۔کل ہی ہمارے ایک دوست اینکر پرسن کہہ رہے تھے کہ ’’عمران خان اور شیخ رشید کے اتحاد سے دونوں کو فائدہ ہو گا ‘‘۔شیخ رشید کی’’ تاریخ ساز جلسی ‘‘ میں خان صاحب کی شرکت کے بعد اب اسے ہی تبصرے ہوں گے ۔
آخر اُن کا دل بھی تو بڑھانا ہے ۔لگتا ہے کہ یہ بھی کسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اُس دن روز روز انقلاب لانے والوں کی خیر وعافیت کے لئے انہیں ڈھونڈنا تو پڑے گا ۔ وہ جوبھی ہیں ،جیسے بھی ہیں،ہمارے اپنے ہی ہیں ۔اُس دن کی منظر کشی کچھ اس طرح کی بھی ہو سکتی ہے ،بقول ریاض ؔ خیر آبادی
بہت ہے جم کو اپنے جام پر ناز
ذر ا لانا مرا ٹوٹا ہوا دل !
ناز پر تو صبر شکر کیا جا سکتا ہے ۔یہ جو ان لوگوں کے چہروں پر تکبرچڑھا ہوا ہے ،اس پر کیا کیا جا سکتا ہے ؟میاں نواز شریف ،عمران خان صاحب اور جناب زرداری میں یہی فرق ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں زرداری صاحب کی عاجزی و انکساری بھی ضرب المثل کا درجہ اختیار کر جا ئے ۔میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ ’’اگر خط نہ لکھنے پر 100وزرائے اعظم کو بھی بر طرف کرنا پڑے تو سپریم کورٹ کو کر دینا چاہیے ‘‘۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری نظرسے کسی بڑے سیاستدان کا اتنا غیر سنجیدہ بیان آج تک نہیں گزرا ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ توخود دو دفعہ برطرف ہو چکے ہیں۔ عمران خان صاحب فی الحال وزیراعظم جناب پرویز اشرف تک ہی محدودہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ’’ پرویز اشرف کے ساتھ بھی یوسف رضا گیلانی والا سلوک ہونا چاہیے‘‘۔عرض ہے کہ اب یہ سب کچھ اتنی آسانی سے ہونے والا نہیں ۔اگر ایسا ہوا تو… پھرپھوٹھوار بھی جنوبی پنجاب کا روپ دھا ر لے گا۔ ایسے میںمسلم لیگ ن کے لئے پھر اُس کے حوالے سے پرانی یادیں ہی رہ جائیں گی۔
آخر میں مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ کاش محبت کی کوئی کرنسی بھی ایجاد ہو جائے ۔جس دن ایسا ہو گیا توہماری پیاری دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جا ئے گی اور پاکستان اوربھارت اس کی سب سے بڑی ’’منڈیاں‘‘ ہوں گی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *