ہرفرعونے راموسیٰ

(ڈاکٹر نصر فردوسی ( جمشیدپور
دنیا میں حق و باطل کی زور آزمائی ہمیشہ ہوئی ہے یعنی اجل سے ابد تک بنی نوع انسان اس سے نبرد آزما ہوتا رہا ہے اور یہ قیامت تک جاری رہے گا۔بلکہ ہر انسان اپنی موت کے وقت تک اس کا سامنا کرتا ہے۔اور اسی لئے ہم اس بات کی دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارا انجام بخیر ہو۔عابدوں اور زاہدوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ زندگی بھر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزاری جاتی ہے۔کب شیطان لعین بندے پر حاوی ہو جائے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ابتدائے آفرینش میں ہی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ملعون قرار دے دیا تھا جب اُس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھااور اسے اجازت مل گئی تھی کہ قیامت تک بنی نوع آدم کو بہکانے اور گمراہ کرنے میں مصروف رہے گا۔شجر ممنوعہ کو آدمؑ نے چکھا،ابلیس ہی کے بہکانے پر۔جس کے نتیجے میں حضرت آدمؑ ٰ عتابِ الٰہی کا شکار ہوئے تھے اورجنت سے جنہیں رخصت کر دیا گیا تھا۔کرئہ ارضی پر انہیں معافی دے کر اور نیک بندہ بنا کر رکھا گیا ۔

اللہ تعالیٰ کے نام لیوائوں میں اور اس سے بڑھ کر اللہ کے آخری نبیؐ کی امّت یعنی امّتِ محمدیؐ ہمیشہ دنیاوی دشمنوں کا شکار رہی ہے۔جس نے بھی حق و صداقت کا علَم بلند رکھنے کی کوشش کی اُسے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہی لیکن اُمّتِ مسلمہ اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کا علَم اٹھانے والے اپنے ایمان کو متزلزل نہیں ہونے دیتے،سر نگوں نہیں ہوتے۔یعنی قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔اللہ تعالی کی صداقت اور حق پر عمل پیرا رہتے ہیں،جس کے لئے انسانی تاریخ میں عظیم ترین قربانی رسول اللہ ؐکے چہیتے نواسے حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں دی اور یزید کے مقابلے میں سرنگوں نہیں ہوئے۔

اللہ تعالیٰ کے نام لیوائوں میں اور اس سے بڑھ کر اللہ کے آخری نبیؐ کی امّت یعنی امّتِ محمدیؐ ہمیشہ دنیاوی دشمنوں کا شکار رہی ہے۔جس نے بھی حق و صداقت کا علَم بلند رکھنے کی کوشش کی اُسے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہی لیکن اُمّتِ مسلمہ اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کا علَم اٹھانے والے اپنے ایمان کو متزلزل نہیں ہونے دیتے،سر نگوں نہیں ہوتے۔یعنی قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔اللہ تعالی کی صداقت اور حق پر عمل پیرا رہتے ہیں،جس کے لئے انسانی تاریخ میں عظیم ترین قربانی رسول اللہ ؐکے چہیتے نواسے حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں دی اور یزید کے مقابلے میں سرنگوں نہیں ہوئے۔اُمّتِ مسلمہ کے لئے یہ بہترین مثال ہے اور سب سے بڑی قربانی ہے۔یاد کربلا ہر سال امّتِ محمدیؐ کو حق و صداقت پر اور اپنے ایمان پر قائم رہنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔
ملک ہندستان میں اُمّتِ محمدیؐ نے مسلسل اپنے خون سے اس سر زمین کی آبیاری کی ہے اور اللہ نے اس امّت کو اپنے انعام سے نوازابھی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات سے اس ملک کو سیراب کیا اور انسانیت سر بلند ہوئی۔اس امّت نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور رسولؐ کی اطاعت کی اور اسی لئے باطل ہم سے برابر بر سرِپیکار رہا ہے۔انتقامی جذبے سے بھی اور اقتدار کی ہوس نے ملک کے باشندوں کو ہمارے خلاف صف آرا ر کرکھا ہے۔ملک کو تقسیم کیا گیا اور کوشش ہوتی رہی کہ وطنِ عزیز سے چمٹے رہنے والے مصیبتوں میں گرفتارر ہیں۔بڑے بڑے منصوبے بنائے جاتے رہے ہیں کہ کیسے اس امّت کو وہاں پہنچا دیا جائے جہاں جانوروں سے بد تراِن کی زندگی ہو سکے۔لیکن اب تک آزاد ہندستان کے دستور کے تحت حکومت کم و بیش اپنے فرائض انجام دیتی رہی ہے ۔ملک کی عدلیہ تحسین و آفریں سے نوازی جاتی رہی ہے کہ مظلوم کی فریاد جہاں سنی جاتی ہے اور ظالم کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔عدلیہ اس حد تک انصاف پر ور ہے کہ ظالم کی بھی جرأت نہیں کہ عدلیہ کے خلاف صف آرا ہو سکے۔اب تو اکثر و بیشتر معاملات جن کو انجام دینے کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہوتی ہے۔عدلیہ میں پہنچتے ہیں جہاں آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کو بھی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔ فیصلے آسمان سے اترتے ہیں اور باطل طاقت کو کیفرکردار تک وہی قادر مطلق پہنچاتا ہے ،جس نے فرعون کو غرقاب کیا۔حضرت موسیٰؑ کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے دریائے نیل میں ان کے عصا مارنے سے راستہ بنا دیا۔وہ اپنے تمام پیروکاروں کے ساتھ دریا پار جا لگے۔لیکن ان کے تعاقب میں فرعون اپنی پوری فوج کے ساتھ غرقاب کر دیا گیا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *