گھر والی جمہوریت

اسد رضا
مہاتما گاندھی، جواہرلعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، ، ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر، اے آر قدوائی، ڈاکٹر راجندر پرساد اورمولانا حفظ الرحمن کی کوششوں اور کاوشوں سے جب آزادی کے بعد ہندوستان جنت نشان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بن گیاتھا توہماری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ لیکن جلد ہی ہماری یہ خوشی گدھے کے سینگ کی طر غائب ہو گئی۔ ایک روز ہم جمہوریت کے نشے میں سرشار دفتر سے اپنے گھر پہنچے تو ہمیں دیکھتے ہی بیگم نے نعرہ بلند کیا، شوہر کی ڈکٹیٹر شپ نہیں چلے گی۔ نہیں چلے گی’اور‘ جو ہم سے ٹکرائے گا چور چور ہوجائے گا۔ ‘ یہ نعرے سن کر ہم حیرا ن وپریشان تھے اور سوچ رہے تھے ’یا اللہ کیا ٓج محلے میں کوئی کامریڈ خاتون آگئی تھی یا بیگم کسی انقلابی تنظیم کی رکن تونہیں بن گئیں ؟خدا نا خواستہ ہماری اکلوتی بیوی نے کسی ترقی پسند ادیب کی کوئی کتاب تو نہیں پڑھ لی؟ ہم ابھی ان سوالات پر غور ہی کر رہے تھے کہ بیگم گویا ہوئیں ’ اب اس گھر میں آپ کی ڈکٹیٹر شپ نہیں جمہوریت چلے گی۔‘’ لیکن جمہوریت توگرام پنچایت ، بلاک، ڈسٹرکٹ بورڈ، میونسپل بورڈ، کارپوریشن، ریاست اورملک کی سطح پرچلتی ہے۔ گھر میں چلنے والی ننھی منی سی جمہوریت تو کسی والٹیئر، مانٹیسکیو اور ابراہم لنکن جیسے فلسفیوں اورسیاستدانوں نے تشکیل ہی نہیں دی۔ یہاں تک کہ ہندوستانی آئین کے والد بزرگوار ڈاکٹر امبیڈکر صاحب نے بھی گھروالی جمہوریت کی تعریف نہیں کی۔‘ ہم نے نہایت نرمی سے عرض کیا تو بیگم کا سرخ وسپید چہرہ غصے سے مزید سرخ ہوگیا، لہٰذا انہوں نے فوراً اپنی قینچی نماز بان سے ہمارا کلام قطع کرتے ہوئے کہا’ بڑے بڑے فلسفیوں ، لیڈروں اور ماہرین آئین کے نام لے کر مجھے مرعوب کرنے کی کوشش نہ کیجئے، ورنہ میں گاندھی جی کی طرح بھوک ہڑتال کردوںگی، بیٹے کے ساتھ مل کر آپ کا گھیرائو بھی کیا جاسکتا ہے۔ آپ کو آئین گھریلو جمہوریت کو تسلیم ہی کرنا ہوگا۔‘
’آئین گھریلو جمہوریت !یہ کس چڑیا کا نام ہے۔‘ہمارے استفسار پہ بیگم مزید بھڑک اٹھیں’ یہ چڑیا نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے ، جو آپ کے ہاتھوں کے طوطے اور ڈکٹیٹر شپ دونوں کو اڑادے گی۔‘ ’دیکھئے بیگم حضور! انگلستان کے آنجہانی وزیر اعظم چرچل نے کہا تھا کہ جمہوریت بدترین نظام حکومت ہے، لیکن اس سے بہتربھی کوئی نظام نہیں ہے، مگر پھر بھی آپ اپنے پرسکون گھر میں اگرجمہوریت لانا چاہتی ہیں تو شوق سے لائیے۔‘
’بالکل ہمارے گھر میں جمہوریت ضرور آئے گی۔ ہمارے پاس کھونے کے لیے صرف آمرانہ بیڑ یاں ہیں اورجیتنے کے لیے سارا گھر ہے ‘ بیگم نے یہ نعرہ اس طرح بلند کیا کہ ہمیں محسوس ہوا جیسے کارل مارکس کی روح محترمہ کے جسم میں داخل ہوگئی ہے۔
’لیکن اے خاتون جمہور !گھر میں ہم دو کے علاوہ تیسرا فرد صرف ہمارا 10سالہ بیٹا ہے آئین ہند کی رو سے وہ ابھی نابالغ ہے اوراسے ووٹ دینے تک کا اختیار نہیں ہے، اس لیے جمہوریت کا تنازعہ صرف میرے اورآپ کے درمیان ہے ۔ ظاہر ہے کہ دووٹر کسی کو اپنا نیتا کیسے چن سکتے ہیں۔ یو ں بھی گھریلو جمہوریت میں گھر کی حکومت چلانے کے لیے میں یا آپ ہی امیدوار ہو سکتے ہیں۔ پھر ہمیں ووٹ کون دے گا؟‘ ہمارے اس معقول سوال پر بیگم نے نامعقول اندا ز میں منھ بنایا، کچھ دیر سوچا اورپھر غصے کے ساتھ جواب دیا ’ ٹھیک ہے ہمارے گھر میں الیکشن نہیں ہوسکتا کیوں کہ ابھی ہمارا بیٹا نابالغ ہے لیکن 8سال بعد وہ ووٹ دینے لگے گا، کیوں کہ تب وہ 18سال کا ہوجائے گا،مگر میں برخوردار کے جوان ہونے کا انتظار نہیں کروںگی۔ جمہوریت آج ہی سے بلکہ ابھی سے آئے گی۔‘ ’لیکن محترمہ! دوبالغ اورایک نابالغ یعنی دواعشاریہ پانچ شہریوں پر مشتمل گھر میں جمہوری نظام حکومت اورانتخاب پر عمل کیسے ہوگا؟‘ ہم نے استفسار کیا توبیگم نے اپنی ناک پرانگلی رکھ کر کہا ’عمل اس طرح ہوگا کہ ہمارا بیٹا جس کے حق میں ووٹ دے گا، حکومت اس کی ہی ہوگی اور فریق ثانی حزب اختلاف کا لیڈر قرار پائے گا۔‘
’لیکن بیگم حضور! کیا ہم دونوں مخلوط حکومت نہیں بناسکتے؟‘ ہم نے دریافت کیا۔
’نہیں !ہرگز نہیں۔یوں بھی مخلوط حکومت کی ہانڈی چوراہے پر پھوٹتی ہے اور سرپھٹول الگ ہوتی ہے لہٰذا گھر میں حکومت صرف ایک ہی پارٹی کی بنے گی، شوہر پارٹی کی یا بیوی پارٹی کی، اب یہ بات دبِند ہے کہ کبھی خواتین کے لیے ریزروڈ کوٹے کے تحت صرف بیوی کی ہی سرکاربنے۔‘ بیگم نے سخت لہجے میں کہا تو ہم بھی مردانہ جلال میں آگئے ’دیکھئے! آپ ہماری خاندانی شرافت ونجابت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں ۔ ہم نے بھی سیاسیات یعنی پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جمہوری گھر میں خواتین کے لیے کوئی ریزرویشن نہیں ہوتا۔‘
’کیوں نہیں ہوتا؟ پردھانی، گرام پنچایت، بلاک، تحصیل اورضلع کی سطح پر خواتین کے لیے ریزرویشن ہے توگھر کی جمہوریت میں کسی مخصوص مدت کے لیے بیوی ریزروڈ کوٹے کے تحت گھر کی سرکار کیوں نہیں چلا سکتی؟ ‘بیگم گرجیں توہم بھی برس پڑے’یہ عورت گیری اب نہیں چلے گی ۔مردوں بالخصوص شوہروں کا استحصال اب زیادہ دن برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
’عورتیں یا بیویاں کیا استحصال کررہی ہیں۔ قوم مرد اور شوہر ہی صنف ناز ک کااستحصال کرتے چلے آئے ہیں۔ آج بھی جب کہ عورتیں ،مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کررہی ہیں انجینئر ،ڈاکٹر، ٹیچر، افسر غرض یہ کہ سب کچھ ہیں عورتیں ، لیکن اعلیٰ عہدوں پر فائز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بیویوں سے بھی بہت سے شوہرچائے بنوانا چاہتے ہیں ۔ یہ استحصال نہیں تو کیا ہے؟‘
’لیکن آپ جیسی بیویاں بھی تو ہیں جو تھکے ہارے شوہر سے نوکروں جیسے کام لینے میں بالکل شرم محسوس نہیں کرتیں۔ شاید آپ ایسی ہی بیویوں کے لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ نصف بدتر بنا کے چھوڑ دیا/ نصف بہتر یہ کیا کیا تونے‘۔
’آپ جیسے شوہروں نے ہی نصف بہتر کو نصف بدتر بنا رکھا ہے۔بیوی کے جمہوری حقوق تک دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ بیگم نے منھ بنا کر کہا تو ہم بگڑنے ہی والے تھے کہ ہمارا بیٹا قمر گھر میں داخل ہوا۔شاید وہ بچوں کے ساتھ کھیل کر آیاتھا۔ دراصل یہ ایک نفسیاتی نکتہ اورفطری عمل ہے کہ عموماً بیٹے ماں سے اوربیٹیاں باپ سے زیادہ انسیت کرتی ہیں ،لہٰذا ہمارا بیٹا قمر بھی اپنی ماں سے ہی، جسے وہ پیار سے ’امّی‘ کہتا ہے زیادہ محبت کرتاہے۔ بیگم نے اسے چومتے ہوئے پوچھا۔ ’بیٹے! آپ کسے زیادہ پسند کرتے ہیں، مجھے یا ڈیڈی کو؟‘ قمر نے اس سوال کو سن کر پہلے مجھے دیکھا اور پھر اپنی ماں کو۔ ہم دونوں کو دیکھنے کے بعد اس نے اپنی امی سے دریافت کیا ’امی!مجھے بھوک لگی ہے۔ میں کھانا چاہتا ہوں۔‘ لیکن اس کی امی پرتو جمہوریت کا بھوت سوار تھا۔ لہٰذا انہوںنے قمر کے سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے پھر دریافت کیا ’قمر بیٹے !آپ نے ہمارے سوال کا جواب نہیں دیا۔ پہلے جواب دیجئے پھر آپ کوکھانا ملے گا۔ ‘ ہمارے برخوردار نے پھراپنی ماں اورمجھے دیکھا اورکہا امی اورڈیڈی آپ دونوں مجھے پسند ہیں۔ قمر کا یہ ڈپلومیٹک جواب سن کر ہم دونوں حیران ہوگئے۔ میرے منھ سے کسی شاعرکا یہ مصرعہ بے اختیارا نکلا’بچے ہمارے دور کے چالاک ہوگئے۔‘ دراصل قمر کو معلوم تھا کہ امی اس کا بہت خیال رکھتی ہیں اورڈیڈی مٹھائی، پھل اورکھلونے لاکر دیتے ہیں ،لہٰذا وہ دونوں میں سے کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ قمر کے اس جواب کو سن کر بیگم کے چہرے پر ناگواری کی لکیریں ابھرآئی تھیں، لہٰذا انہوںنے پھر گھماپھرا کر سوال کیا ’بیٹے! اگر آپ سے ووٹ ڈالنے کے لیے کہا جائے تو آپ میرے حق میں ووٹ ڈالیں گے یا ڈیڈی کے ؟‘ ’امی کیا الیکشن والا ووٹ؟‘ قمر نے سوال کیا تو بیگم نے چہک کر کہا ’ہاں ہاں الیکشن والا ووٹ۔‘ یہ سن کر قمر سلمہٗ ناک پرانگلی رکھ کر سوچنے لگے لیکن اپنی امی کے باربار اصرار پر مسکرا کر بولے ’میں آپ دونوں کے حق میں ووٹ دوںگا۔‘ اوریہ کہہ کر قمر ڈائننگ ٹیبل پررکھے ہوئے کیلوں میں سے ایک کیلا چھیل کر کھانے میں مشغول ہوگیا ۔ اس نے ایک کیلا کھا کردوسرا کیلا بھی ٹیبل سے اٹھایا اوراسے اپنے کمپیوٹر روم میں لے کر چلا گیا۔
ہم نے نہایت انکساری سے بیگم کو مخاطب کیا’ آپ تو ماشاء اللہ ہمارے دل و دماغ پر راج کرتی ہیں۔ پھر یہ گھر میں جمہوریت لانے اور ہم پر ڈکٹیٹر شپ کا الزام لگانے کی کیا ضرورت ہے؟‘
’’ضرورت ہے، کیوں کہ آپ گھر میں صرف اپنی چلاتے ہیں ،گھر کا بجٹ خودہی بناتے ہیں اورمیری مرضی کے بغیر خود ہی اسے پاس کر دیتے ہیں ،لہٰذا ہمارے گھرمیں جمہوریت کی اشد ضرورت ہے۔‘
’تو اس نصف بدتر کو گھر میں جمہوریت لانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟‘ ہم نے سوال کیا تو بیگم نے تڑسے جواب دیا ’بس اتنا کہ سال میں 6مہینے میر ی مرضی سے اور 6مہینے آپ کی مرضی سے گھر چلایاجائے گا۔‘ ہم نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے عرض کیا ’منظور‘ ۔ اور اس طرح گھروالی جمہوریت آگئی ہمارے غریب خانے میں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *