فرقے نہیں مکاتب فکر!ایک فریبِ مسلسل

بدر کاظمی
قرآن کریم نے فرقہ بندی کو شرک اور کفر سے تعبیر کیا ہے۔ رسول اللہؐ سے صریح الفاظ میں کہا گیا کہ جو لوگ دین میں فرقے پیدا کرلیں ان سے تیرا کوئی واسطہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعے اس سلسلے میں شدید طور پر متنبہ کرتے ہوئے سخت وعید سنائی ہے۔ قرآن کریم میں سابقہ قوموں کے تاریخی بیان میں مذہبی اجارہ داری کے جنون کا پس منظر پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لوگوں میں مذہبی اختلاف کی ابتداء کتب سماویہ کی معانی اور تفاسیر میں اختلاف اور ان کے متن کی تحریف کی وجہ سے ہوئی۔ ’’پہلے تو سب لوگ ایک ہی امت تھے لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے تو اللہ نے ان کی طرف بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی پر مبنی کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان میں ان کا فیصلہ کردیںاور اس میں اختلاف بھی ان لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی۔ باوجودیکہ ان کے پاس کھلے احکام آچکے تھے اور اختلاف انہوں نے صرف آپس کی ضد میں کیا۔

مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا اور اس کی علامت کیا تھی؟ الگ مسجد! یہی وہ فرقہ سازی ہے جسے قرآن نے یہاں کفر اور دوسرے مقام پر شرک کہہ کر پکارا ہے۔ جب تک اسلام دین کی شکل میں رہا امت میں کوئی فرقہ پیدا نہیں ہوا… یاد رکھئے دین کی بنیادی شرط وحدتِ امت ہے۔ اگر وحدت باقی نہ رہے تو پھر دین باقی نہیں رہتا۔ وہ دیگر مذاہب کی طرح محض پوجا پاٹ اور رسمی عبادت کا مظہر ایک مذہب بن کر رہ جاتا ہے۔

تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے اللہ نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھائی اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھادیتا ہے۔‘‘ (البقرہ213)اس تاریخی بیان کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرقہ بندی کی شدید مذمت کے ساتھ مسلمانوںکو بار بار متنبہ کرتے ہوئے سخت وعید سنائی۔ ’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو روشن دلیل آجانے کے بعد بھی تفرقہ کرکے ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے۔‘‘(آل عمران105)’’جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے اے رسول تمہارا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (الانعام159) پھر انہوں نے اپنے دین کو متفرق کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جو کچھ جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہے۔‘‘ (المو ٔمنون:53) ’’اور نہ ان لوگوں میں ہوجانا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے۔ سب فرقے اس سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہیں۔‘‘ (الروم:32) اور پھر اس پر یہ وعید بھی سنائی گئی ’’اور ان کے اس ظلم (فرقہ بندی) کے سبب ان کے حق میں وعدۂ عذاب پورا ہو کرے گا اور وہ بول بھی نہ سکیں گے۔‘‘ (النمل:85) اور یہ کہ دین میں فرقہ بندی کرنے والے مُردوں، گونگوں، بہروں اور اندھوں کے مانند ہیں۔ ’’بے شک تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں کوئی آواز سنا سکتے ہو۔‘‘ (النملـ:80) ’’اور نہ اندھوں کو گمراہی سے نکال کر راستہ دکھا سکتے ہو۔ تم تو انہیں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ (النمل:27) اور یہ کہ فرقہ بندی اللہ کا عذاب ہے۔ ’’کہہ دو کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر سے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کرکے اور ایک کو دوسرے سے لڑا کر آپس کی لڑائی کا مزہ چکھائے، دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس طرح بیان کرتے ہیں تا کہ لوگ سمجھیں۔‘‘(الانعام:65) مزید یہ کہ مساجد کا فرقہ واریت کے لئے استعمال ظلم ہے۔ ’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مساجد میں اللہ کے نام کا ذکر کئے جانے سے منع کرے اور اس کی ویرانی کی کوشش کرے یا اس کا باعث بنے… ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب۔‘‘ (البقرہ:114) اس سلسلے میں قرآن پاک کی اس قدر واضح اور بین آیات و ہدایت ہیں جن کا ہمارے مذہبی طبقے کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ سو انہوں نے اپنی خفت مٹانے اور فرقہ بندی کو صحیح ٹھہرانے کی سعی لاحاصل کرتے ہوئے ایک سیاسی حربے کے طور پر ایک اصطلاح مکتبۂ فکر وضع کرلی ہے۔ وہ یہ کہ یہ فرقے نہیں ’’مکاتب فکر‘‘ ہیں یہ کہہ کر عوام الناس کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قرآن کریم کی ان آیات کا اطلاق مکاتب فکر پر نہیں فرقوں پر ہوتا ہے…حالاںکہ گزشتہ بیس پچیس سال قبل تک اس فرقہ بندی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے یہ طبقہ اس حدیث سے دلیل لاتا تھا’’کہ حضورؐ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قوم بہتر فرقوں میں منقسم ہوگئی تھی، میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ صرف ایک فرقہ (ناجی) جنتی ہوگا، باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ (مشکوٰۃ شریف) اس حدیث کو یہ تمام فرقے صحیح تسلیم کرتے اور اپنے فرقے کو جنتی اور دوسروں کو جہنمی ثابت کرنے کے لئے بطور سند پیش کرتے اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے صادر کرتے چلے آرہے تھے۔ ہمارے نزدیک یہ حدیث وضعی اور رسول اللہ ؐ پر افتراء ہے جو اپنی گمرہی اور ضلالت کو چھپانے کے لئے گھڑی گئی تھی… مگر آج جبکہ عام مسلمانوں میں قرآن فہمی کا شعور بیدار ہوا ہے اور فرقہ بندی کے خلاف مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں تو ابلیس نے ان کے کان میں یہ افسوں پھونک دیا کہ اسے فرقہ نہیں مکاتب فکر کا نام دیں۔ چنانچہ ہر فرقے کی طرف سے اسے مکاتب فکر کا نام دیا جارہا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ مذکورہ حدیث سے فرقہ بندی کا جواز نکالا جاتا تھا۔ محض الفاظ کی تبدیلی سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ شردھانند کا نام محض عقیدت اللہ رکھ دینے سے وہ مشرک سے مومن نہیں ہوجاتا۔ ان کی یہ مذموم کوشش اتنا بڑا فریب ہے جس پر علم روتا اور دیانت ماتم کرتی ہے۔ آئیے دیکھیں مکتبۂ فکر اور فرقے میں کیا فرق ہوتا ہے؟
قرآن کریم نے حقائق کائنات پر غور و فکر کی تلقین ہی نہیں کی بلکہ بار بار تاکید کی ہے۔ مجرد حقائق پر غور و فکر کے نتیجے میں مختلف ادوار میں اور ایک ہی دور میں مختلف مفکرین کے نتائج و فکر میں اختلاف ہونا ایک بدیہی امر ہے۔ فکری (فلسفیانہ) اختلافات عصرقدیم و جدید، مشرق و مغرب، مسلم و غیرمسلم ہر جگہ پائے جاتے ہیں، اس قسم کے اختلافات مسلم مفکرین کے درمیان بھی رونما ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ لیکن اس اختلاف سے امت میں تفرقہ پیدا نہیں ہوتا۔ ان فلسفی مفکرین کے اختلافات کو مکاتب فکر School of thougth کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس فرقوں کی کیفیت یہ ہے کہ ایک گروہ احکام شریعت پر ایک طرح سے عمل کرتا ہے، دوسرا گروہ دوسرے طریقے پر۔ چوںکہ ان میں ہر گروہ اپنے اپنے طریقۂ عمل کی بنیاد ایک خاص عقیدے پر رکھتا ہے۔ اس لئے عقیدہ و عمل، فرقے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس طرح دین مختلف فرقوں میں بٹ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ فرقہ بندی جسے قرآن کریم نے دین میں فرقہ بندی سے تعبیر کیا ہے۔ ’’اور مت ہو شرک کرنے والوں میں، جنہوںنے پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہوگئے فرقے فرقے، ہر فرقہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔‘‘ (الروم: 31-32) دین میں تفرقہ مذہبی فرقوں سے پڑتاہے اور اس کی شہادت وہ تفرقہ ہے جو موجودہ فرقوں کی وجہ سے امت میں پیدا ہوا ہے، جس کے مظاہر دنیا بھر میں مسلم معاشرے میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ جس کا نقشہ پروفیسر عارف الاسلام صاحب نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کھینچا ہے۔ اس فرقہ بندی کو قرآن کریم نے کفر و شرک اور رسول اللہؐ کے ساتھ انقطاع تعلق سے تعبیر کیا ہے۔ ا س لئے موجودہ فرقوں کو مکاتب فکر کا نام دے کر یہ کہنا کہ ان آیات کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا ایک جسارت بیجا، خود فریبی اور ابلہ فریبی ہے۔ اس فریب سے عوام الناس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا… مختلف فرقے، مکاتب فکر (سوچ کے مختلف طریقے) نہیں ہوتے۔ مختلف سبل (چلنے کے مختلف راستے) ہوتے ہیں۔ اور جب ایک امت چلنے کے مختلف راستے اختیار کرے گی تو اس میں خودبخود تفریق پیدا ہوجائے گی۔ دین امت کو ایک سبیل (راستے پر ) چلاتا ہے۔ فرقے اس کے لئے مختلف راہیں تجویز کرتے ہیں اور اسی سے قرآن نے منع کیا ہے۔ ’’ یہ ہے سیدھا راستہ، اسی ایک راستے کا اتباع کرو، مختلف راستوں کا اتباع مت کرو، ’’ (الانعام:154) ایسا کروگے تو یہ مختلف راستے تمہیں خدا سے دور ہٹا کر الگ الگ کردیں گے‘‘۔ مذہبی فرقے وہ سبل متفرقہ ہیں جو امت کو خدا سے دور کرکے الگ الگ راہوں پر چلاتے ہیںاس لئے مشرک ہیں۔ فرقے کی سب سے بڑی پہچان نماز ہے اور یہ کہ ہر فرقہ دوسروں سے الگ نماز پڑھتا ہے، الگ مسجدیں بناتا ہے تو یہ فرقہ بندی ہے۔ فرقوں کی یہ علامت قرآن کریم کی بیان کردہ ہے۔ خود رسول اللہؐ کی زندگی میں ایک الگ مسجد تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی، اس مسجد کی تعمیر کرنے والوں نے نہ اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلیا تھا اور نہ ہی کوئی نماز وضع کرلی تھی، لیکن ان کا الگ مسجد بنانے کا جرم اس قدر سنگین تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے کہا کہ یہ مسجد نہیں، ان لوگوں کے لئے کمین گاہ ہے جو خدا اور رسولؐ کے خلاف جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ (توبہ:10) جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار نہیں کرلیا تھا لیکن اس کے باوجود قرآن نے ان کے اس مسجد بنانے کو کفر قرار دیا اور حضورؐ سے فرمایا کہ آپ اس میں قدم تک نہ رکھنا۔اوراس کے بعد کہا کہ یہ مسجد ان لوگوں کو جہنم میں لے جائے گی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا جرم کیا تھا جس کی پاداش میں یہ سب کہا گیا۔ سنئے اور غور سے سنئے یہ جرم تھا (توبہ:) مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا اور اس کی علامت کیا تھی؟ الگ مسجد! یہی وہ فرقہ سازی ہے جسے قرآن نے یہاں کفر اور دوسرے مقام پر شرک کہہ کر پکارا ہے۔ جب تک اسلام دین کی شکل میں رہا امت میں کوئی فرقہ پیدا نہیں ہوا… یاد رکھئے دین کی بنیادی شرط وحدتِ امت ہے۔ اگر وحدت باقی نہ رہے تو پھر دین باقی نہیں رہتا۔ وہ دیگر مذاہب کی طرح محض پوجا پاٹ اور رسمی عبادت کا مظہر ایک مذہب بن کر رہ جاتا ہے۔
آخر میں ہم ان خود فریبیوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ فرقوں کا نام مکاتب فکر رکھ لینے سے کیا آپ کے وہ جھگڑے ختم ہوگئے جن کو بنیاد بنا کر ہزاروں کتابیں، لاکھوں کتابچے، آپ ایک دوسرے کے خلاف برابر شائع کرتے آرہے ہیں؟ کیا اس سلسلے کو بند کردیا گیا؟ کیا کفر کے وہ فتوے واپس لے لئے گئے جو ایک دوسرے فرقے پر لگائے گئے تھے؟ اور کیا وہ دیانت داری کے ساتھ ایک دوسرے کو واقعی بطور ’’مکتبۂ فکر‘‘ تسلیم کرتے ہیں؟ کسی کے پاس ہے ان سوالوں کا جواب……؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *