دوسری پاری کا پیار

دلیپ چیرین
ایک ایسا ملک جہاں پر ریٹائرمنٹ کسی آدمی کی زندگی میں استقبال کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا ہے، لیکن آج کل بہار کے بابو اس کے لیے انتظار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اب ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی زیادہ حسین لگ رہی ہے، کیوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک اونچا عہدہ ان کا انتظار کر رہا ہے، وہ بھی خاص کر ان لوگوں کا جو برسر اقتدار پارٹی کے قریبی ہوں۔ بہار کے سابق چیف سکریٹری آر جے ایم پلئی کو ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والا عہدہ ایڈوانس میں ہی مل گیا ہے۔ اب وہ بہار کے چیف انفارمیشن کمشنر بن گئے ہیں۔ ان کے جانشین نوین کمار کے لیے بھی اسی طرح تقریباً طے ہو گیا ہے کہ وہ نو تشکیل سنٹر فار گڈ گورننس سوسائٹی کے ڈائریکٹر جنرل ہوں گے۔ ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سینئر پولس آفیسر اور نوکر شاہوں کو نتیش کمار کے دورِ اقتدار میں بہت فائدہ ہوا ہے۔ ایسے آفیسر جو اس لیگ میں شامل ہیں، ان میں سے سابق ڈیولپمنٹ ڈائریکٹر کے سی ساہا، ایس وجے راگھون، سابق ہوم سکریٹری یو این پنجیار اور شکیل احمد کا نام شامل ہے۔
جانشین کا ناٹک
اگر افواہوں پر یقین کیا جائے تو مرکزی وزارتِ داخلہ نے سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے وجے کمار کو ایک سال کا سروِس ایکسٹینشن دینے کی سفارش کی ہے۔ کمار کو اس ماہ کے اخیر میں ریٹائر ہونا ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس کا اثر انڈین پولس سروِس کے ان سینئر افسروں پر پڑے گا، جو اس عہدہ کو پانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہوگا جب سی آر پی ایف کے چیف کو ایکسٹینشن دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، وزارتِ داخلہ کی سوچ ہے کہ نئے چیف کی تقرری کرنے سے سی آر پی ایف کی قیادت میں چل رہے نکسل مخالف آپریشن پر اثر پڑے گا۔ لیکن اس قدم سے فطری طور پر 1976 اور 1977 بیچ کے سینئر آئی پی ایس افسروں کے جوش میں کمی آئے گی۔ اس معاملے کا خلاصہ جلد ہی ہو جائے گا۔ ابھی یہ معاملہ کابینہ کی اپوائنٹ منٹ کمیٹی کے سامنے ہے۔ وہ جلد ہی اس سلسلے میں فیصلہ لے لے گی۔
بابو یا کچھ اور
وزارتِ خزانہ کے نئے چیف فائننس ایڈوائزر رگھورمن راجن نے کہا ہے کہ بیوروکریسی ان کے لیے کوئی باہری چیز نہیں ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اپنے نئے کام میں وہ ہر وقت مصروف رہیں گے۔ ان کے والد ایک بیورو کریٹ تھے، شاید یہ ان کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک طرح کا دستور ہے کہ وزارت میں ان کی جگہ بابو کی بجائے ایک اکیڈمیشین ہی ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ وقت پہلے راجن کے نام کو پرنب مکھرجی نے وزیر خزانہ رہتے ہوئے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔ لوگوں کو ان سے امیدیں بھی بہت ہیں، ساتھ ہی ان کے سامنے بہت سی چنوتیاں بھی ہیں، اسے وہ سنجیدگی کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں۔ اس وقت ہندوستانی اقتصادیات میں سرمایہ کاری اور ترقی کی حالت ڈگمگ ہے اور اقتصادی اصلاحات میں سیاسی اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے دیری ہو رہی ہے۔ چیف فائننس ایڈوائزر کے پاس پہلے سے ہی بہت کچھ کرنے کے لیے ہے۔ تجزیہ کاروں کی اس بات پر گہری نظر ہے کہ رمن کس طرح اپنے وزیر پی چدمبرم کی ہندوستانی اقتصادیات کے لڑکھڑاتے جہاز کو سنبھالنے میں مدد کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *