درد محسوس کرنے والا نظام

وصی احمد نعمانی
انسانی جسم کی جِلد اس کے جسم کے باہر کے جراثیموں کے خلاف ہمیشہ جنگ لڑتی ہے اور باہر کے جراثیموں کو جو انسان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں انہیں جسم کے اندر آنے سے روکتی ہے اس طرح مختلف نقصان دہ اثرات اور جراثیموں سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔خدا نے اس جلد کی تشکیل نہایت مدبرانہ انداز میں فرمائی ہے۔ مثال کے طور پر انسانی جسم 0.05 سینٹی میٹر سے لے کر 0.65 سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ آنکھ کے پپٹیوں پر سب سے پتلی اور پائوں اور تلوئوں پر سب سے زیادہ موٹی ہوتی ہے۔ اگر انسانی جسم کی جلد کو پوری طرح اتار کر اس کا وزن کیا جائے تو ڈھائی سے چار کلو تک اس کا وزن ہوگا جو پورے وزن کے سولہویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا پورا وزن جگر یا دماغ کے وزن کے دوگنا ہوتا ہے۔ جسم میں گردش کرنے والے سارے خون میں ایک تہائی خون کا حصہ جلد کی اسی سطح تک پہنچتا ہے۔ اس کا کل سطحی رقبہ 20ہزار مربع سینٹی میٹر ہے یعنی اگر اسے کسی ہموار تختے پر پھیلا یا جائے تو دو میٹر لمبائی اور ایک میٹر چوڑائی کی ایک چادر بنتی ہے۔جسم کی جلد کے ہر مربع سینٹی میٹر میں 30 ہزار خلیات پائے جاتے ہیں۔ جس میں اوسطاً 10 عدد بال، چکنائی پیدا کرنے والے 15 غدود، عصبی ریشوں کے سروںپر موجود 3 ہزار حسی خلیات ، عصبی رگیں چار گز، لمس کی تحریک وصول کرنے والے 25 فشاری آلات، درد کو ریکارڈ کرنے والے دو سو اعصاب کے سرے، ٹھنڈک محسوس کرنے والے دو آلات اور گرمی وصول کرنے والے کل 12 آلات ہوتے ہیں ۔ اگر پورے انسانی جلد میں ان ساختوں کو معلوم کرنے کے لئے ان اعداد کو 20 ہزار سے ضرب کردیں تو یہ تمام ساختوں کی تعداد معلوم ہوجائے گی۔ یہی ساخت یا جلد مکمل طور پر بیرونی جراثیموں کے خلاف حفاظتی دیوار کا کام کرتے ہیں ۔اسی رکاوٹ کے باعث جراثیم جسم میں براہ راست داخل ہیں ہوسکتے ہیں۔ ہاں اگر کسی وجہ سے جسم کی جلد کٹ یا پھٹ جائے تو جسم کا وہ حصہ ننگا ہوجاتا ہے جس سے جسم کے اندر جراثیموں کے جسم کے اندر داخل ہونے کا راستہ کھل جاتا ہے لیکن اللہ نے انسانی جسم کے اندر ہی ایسا خود کار نظام بنا رکھا ہے کہ باہری جراثیم کو جلدی حصہ کے قلعہ میں جلد کے خود کار مدافعتی نظام کے باعث یہ جراثیم باہر ہی خلیوں سے لڑ کر مر کر ختم ہوجاتے ہیں۔ اس دوران جلد پر لگنے والا یہ زخم ایک پختہ کار رفوگر کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ماہر انہ انداز میں خود بخود مندمل ہوجاتاہے اور اس کے نتیجہ میں بہنے والا خون گاڑھا ہو کر جیلی کی طرح جم جاتا ہے اور زخم کا منہ خود بخود بند ہوجاتا ہے۔ اس جمے ہوئے خون میں چھوٹے ریشے ہوتے ہیں جو ایک طرح کا جال سا بن دیتے ہیں اور قلیل عرصہ میں ہی اس کٹی ہوئی جلد کی مرمت قدرتی طور پر جلد میں موجود اعصاب کی مدد سے ہوجاتی ہے او پھر جما ہوا خون بھی آہستہ آہستہ سخت ہو کر کھرنڈ بن جاتا ہے او خود بخود جھڑ جاتا ہے۔
اسی جلد میں جگہ جگہ ننھے ننھے اعضائے حاسہ بھی موجود ہوتے ہیں ۔یہی اعضائے حاسہ سردی ،گرمی، دبائو اور باہری اذیت یا آرام کو محسوس کرکے دماغ کو اطلاع دے کر اس کی شدت کا پتہ دیتے ہیں۔ جیساکہ ہمیں معلوم ہے کہ جلد کی اندرونی تہہ ’’ ادمہ‘‘ جسے جلد حقیقی بھی کہا جاتاہے اس میں خون کی نالیوں ، لمغی نالیوں، اعصابی ریشوں اور جلد کا گھنا سا جال سا بنا ہوا ہوتا ہے۔یہ تمام چیزیں ایک لچکدار اور ریشے دار ’بافت‘ اور اصلی بافت (Connective Tissue) میں مضبوطی سے ملی ہوتی ہیں۔ یہ لیس دار ریشے ہی دراصل جلد میں تنائو باقی اور برقرار رکھتے ہیں۔ بڑھاپے میں ریسے کمزور ہوکر الاسٹک کی تاروں کی طرح ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور پھر جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں۔ یہ ادمہ ہتھیلیوں اور تلوئوں میں بہت موٹی اور آنکھ کے ڈیلے اورذَکَر (اعضائے تناسل)اور فوطوں میں بہت پتلی ہوتی ہے۔ جلد کے اسی حصہ میں پائے جانے والے غدود دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک پسینے کے غدود،دوسرے چربیلے غدود۔پسینے کے غدود پسینہ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ غدود ہمارے جسم کے لئے بے حد اہم ہیں کیونکہ انہیں غدودوں کی وجہ سے ہمارے جسم کا درجہ ٔحرارت ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں پاتا ہے۔ چربیلے غدود ایک طرح کی چربی خارج کرتے ہیں جسے شحم (Sebum) کہا جاتا ہے۔ یہ چربی جسم کی سطح کے لئے ایک حفاظتی کام سر انجام دیتی ہے۔ بالوں کی جڑیں اسی حقیقی جلد یعنی ادمہ میں موجود ہوتی ہیں۔ بظاہر لوگوں نے یقین کر رکھا تھاکہ پورے جسم کو درد یا تکلیف کا احساس ہوتا ہے ۔اگر کانٹا چبھ جائے یا انگلی کٹ جائے تو بجائے اس کے کہ صرف متاثرہ حصہ میں تکلیف ہو پورا جسم اسکو محسوس کرتا ہے، مگر سائنسی تحقیق اور ریسرچ کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صرف متاثر حصہ ہی جسم کا تکلیف یا آرام محسوس کرتاہے۔ اسی طرح جب قیامت کے روز انسانوں کو ان کے کئے کی سزا دی جائے گی تو پورا جسم نہیں بلکہ مکمل احساس یا تکلیف انسانی جلد کو ہوگی۔ اسی لئے اللہ نے پورے جسم کو جلانے کی بات نہیں کہی ،انسانی جسم کو سزا کے طور پر جلانے کی بات کہی ہے اور ارشاد فرمایا ہے ’’ جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیںگے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیںگے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں ۔اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتاہے‘‘سورہ النساء چیپٹر نمبر 4 آیت نمبر 56۔ اللہ اپنے فیصلوں کو لاگو کرنے میں حکمت کا استعمال خوب جانتا ہے اور اسی حکمت کی وجہ سے اللہ فرماتا ہے کہ جب ایک کھال جل کر ختم ہوجائے گی تو دوسری اور نئی کھال اس کی جگہ پر چڑھا دی جائے گی یعنی پورا جسم جلنے سے وہ حکمت پوری نہیں ہوتی ہے جو کھال کے جلنے اور پھر نئی کھال اسی جسم پر چڑھنے پھر اس کے جلنے میں پوری ہوتی ہے یہاں تک کہ انکار کرنے والوں کی کھالوں کی تعداد سو سو تک ہوگی اور ہر کھال پر قسم قسم اور علیحدہ علیحدہ سزا ہوگی یہاں تک کہ ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ کھال کی الٹ پلٹ ہوگی اور کھال پھر اپنی جگہ لوٹ آئے گی پھر انہیں کھالوں پر سزا دی جائے گی۔ اس طرح کھال کو جلا کر سزا کی تکمیل ہوگی۔سائنس اسی اہم نکتہ کی تحقیق اور تصدیق حالیہ برسوں میں کی ہے جبکہ اللہ کی کتاب نے اس حقیقت کو آشکار ساڑھے چودہ سال قبل کردی ہے جو دلیل ہے کہ قرآـن صرف اللہ کی کتاب ہے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *