عورت، خاندان اور عام ذمہ داریاں

عوام کے بغیر گھر کا کوئی تصور نہیں۔عورت گھر میں یگانگت اور محبت کی روح پھونکتی ہے۔ عورت ایک متوازن اور مکمل انسان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جو چیز بھی عورت کو اس ذمہ داری کی ادائیگی سے روکے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کے خلاف ہوں۔ اسی طرح انہیں اس وقت زندہ درگور کرنا بھی ناپسندیدہ ہے جب ان کی صلاحیتیں پختہ ہوجائیں اور وہ اپنے خاندان اور قوم کو خیر ہی خیر عطا کرسکتی ہوں۔پھر ہم ان دو چیزوں میں کیسے تطبیق دیں گے؟
پہلے ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ نسوانیت کو حقیر سمجھنا جرم ہے، اسی طرح ہم اسے ان راہوں پر بھی نہیں ڈال سکتے جہاں اسے انسان نما بھیڑیے اچک لیں۔ صحیح مذہب ہمیں ان لوگوں کی تقلید سے منع کرتا ہے جو عورتوں کو مقید کرکے اور ان کی امنگوں کا گلا گھونٹ کر رکھتے ہیں اور ان پر طرح طرح کی ذمہ داریاں ڈالتے ہیں اور ان قوموں کی روایات کو بھی مسترد کرتا ہے جنہوں نے ہر آبرو کو مباح کر رکھا ہے اور نفسانی جذبات کو بے لگام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے تمام قوانین کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ایک عورت گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ کام کرسکتی ہے بشرطیکہ خاندان کے مستقبل کے تحفظ کی مکمل ضمانت ہو اور پاکیزہ و صاف ستھرا ماحول بھی ہو جس میں عورت اپنے فرائض کو کسی خوف و خطر کے بغیر انجام دے سکے۔ ایک لاکھ ڈاکٹر اور ایک لاکھ مدرس مطلوب ہیں تو آدھی تعداد عورتوں کی لی جا سکتی ہے۔ بشرطیکہ معاشرہ پاکیزہ ہو اور اس میں اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود کا خیال رکھا گیا ہو۔ نہ تو اس میں لباس و جسم کی نمائش ہو اور نہ چھچھورا پن ہو، نہ ہی اجنبی کے ساتھ بے لگام اختلاط ہوا ور نہ ہی خلوت کے اسباب مہیا ہوں۔یہاں پر یہ بات ضرور مد نظر رہے کہ باہمی ارتباط اور زندگی گزارنے کا اصل مرکز گھر ہے۔ مجھے ان لوگوں کے حال پر بہت دکھ ہوتاہے جو اپنے بچوں کو نوکروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں یا بچوں کو دیکھ بھال اور دودھ پلانے کے لئے اس کے مخصوص مرکزوں میں ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ماں کی گرم سانسیں بچوں کی تربیت، خوبیوں کی نشوو نما اور برائیوں سے بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں ۔ عورتوں کے اس بنیادی کردار کو نبھانے کے لئے ہمیں ہزاروں وسیلے تلاش کرنے ہوںگے ۔ یہ بات بہت آسان ہے بشرطیکہ ہم دین کو اس کے صحیح خد وخال میں دیکھیں اور بے جا انحراف اور غلو سے اجتناب کریں۔ میں بہت سی ایسی مائوں کو جانتا ہوں جو اسکولوں کی کامیاب پرنسپل ہیں او بہت سی ماہر لیڈی ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جنہوں نے یہ پیشہ اختیارکرکے اپنے پیشہ اور خاندان کو عزت بخشی ہے ۔ان سب کے پیچھے صحیح دین کی جان کاری کارفرما تھی۔ ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہئے کہ یہودیوں نے ہمیں شکست دے کر ہماری سرزمین پر یہودی مملکت قائم کی تھی اور ان کے اس کام میں ان کی عورتیں برابر کی شریک تھیں۔ ان یہودی عورتوں نے اپنے مذہب کی خاطر سماجی اور فوجی خدمات میں شرکت کی تھی۔ میں نے یہ بات بھی دیکھی تھی کہ ایک یہودی عورت نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے چھ روزہ جنگ اور پھر بعد کی جنگوں میں بڑی بڑی داڑھی مونچھوں والے عرب لیڈروں کو خاک چٹا دی تھی۔ میں نے شمالی افریقہ اور بہت سے دیگر ممالک میں راہبائوں ،کنواری اور شادی شدہ عوروں کو نہایت جوش و خروش کے ساتھعیسائیت کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہمیں اس لیڈی ڈاکٹر کی جرأت و ہمت کی بھی داد دینی چاہئے جو فلسطینی پناہ گزینوں کے خیموں میں اخیر وقت تک ڈٹی رہی جس کی وجہ سے اسے بھی مردار کا گوشت تک کھانا پڑا اور پھر آخری حصار کو عبور کرتے ہوئے وہ کچھ عرب بچوں کو اپنے ساتھ برطانیہ لے گئی تاکہ وہاں پر ان کا باقاعدہ علاج کیا جا سکے۔
بہت سے میدانوں میں بے حیائی اور عریانیت کی حدود کو پار کرنے کے ساتھ ساتھ عورتیں بین الاقوامی سطح پر شرافت و کرامت کے کشادہ اور وسیع میدانوں میں بھی قابل قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان غیر مسلم عورتوں کی طرف سے ہماری سر زمین اور دیگر علاقوں میں مذہبی اور سماجی جہاد کو دیکھ کر مجھے اسلاف کی عورتوں کا وہ جہاد اکبر یاد آگیا جو انہوں نے اسلامی جنگوں میں شامل ہوکے کیا تھا۔ انہوں نے دین کی خاطر قربانیاں دیں،جب ہجرت فرض ہوئیتو انہوں نے ہجرت کی اور ہجرت کرنے والے لوگوں کو پناہ دی۔انہوں نے مسجد نبوی میں حاضر ہوکر سالہا سال تک نما ز ادا کی اور جب جنگ کی نوبت آئی تو وہ بھی میدان جنگ میں شریک ہوئیں۔ اس سے قبل انہوں نے میدان جنگ میں طبی خدمات انجام دی تھیں اور فوجی امور میں ہر قسم کی ممکنہ مدد بہم پہنچائی تھی لیکن بعد کے دور میں عورتوں کی پوزیشن خراب ہوگئی او ان پرجہالت مسلط کردی گئی اور پھر وہ عام انسانی راستوں سے بچھڑ گئیں کیوں کہ عورت کے حقوق اور مصالح کے بارے میں قرآنی آیات پر عمل موقوف کردیا گیا ۔چنانچہ اسے میراث سے بالکل ہی بے دخل کردیا گیا اور شادی بیاہ کے معاملہ میں بھی اس سے مشورہ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ۔ ہزاروں لاکھوں طلاقوں میں شاید ایک فیصد عورتوں کو کچھ دے دلا کر با عزت طور سے ان کے گھروں کو واپس بھیجا گیا ہو۔تو ان کی حیثیت عملًاکاغذ پر ایک سیاہی سے زیادہ نہیں رہنے دی گئی۔عورت گویا اس قدر حقیر ہے کہ اس کے لئے صلح کی مجلس کون منعقد کرے اور اگر اسے گھر سے باہر نکال پھینکا جائے تو کوئیبھی اس کی مزاحمت نہیں کرے گا۔ مرد کی خطا تو قابل معافی ہے مگر عورت کو تو اس کی قیمت بہر حال چکانی پڑتی ہے۔عالمی استعمار نے اپنے آخری حملہ میں ہماری اس کجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسلامی تعلیمات کے خلاف کافی نقصان دہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔گویا مظلوم اسلام ہی اپنے متبعین میں انتشار و افتراق کا ذمہ دار بن گیا۔ تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ اسلام کے یہ ترجمان اور محافظ اس موروثی انتشار کے سب سے بڑے نقیب بن کر اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنی نادانی سے اسی انتشار کو اسلام سمجھ لیا تھا۔ پاگل پن کی بھی بہت سی قسمیں ہیں اور جہالت کی بھی۔ مرد وزن کے تعلقات کی بنیاد خدا تعالیٰ کے اس فرمان پر قائم ہے’’ میں تم میں سے کسی مرد یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کرتا تم میں سے بعض بعض سے ہے‘‘ ۔شریعت میں کچھ چیزوں کے بارے میں نہ تو حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی روکا گیا ہے بلکہ مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے تاکہ ہم ان میں پوری آزادی کے ساتھ مثبت یا منفی تصرف کرسکیں۔ کسی شخص کو یہ اختیارنہیں دیا گیا کہ وہ اپنی ذاتی رائے کو دین کا ایک حصہ قرار دے۔ یہ اس کی ذاتی رائے ہے اور بس۔ شاید ابن حزم کے اس قول میں یہی راز پنہاں ہو کہ اسلام نے عورت کو کسی منصب پر فائز کرنے سے منع نہیں کیا ہے صرف خلافت عظمیٰ کو چھوڑ کے۔ اب حزم کے اس قول کی بعض لوگوں نے یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ یہ بات قرآن کی اس آیت کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے ’’ مرد عورتوںپر حاکم ہیں کیونکہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور کیونکہ وہ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں‘‘۔ کیونکہ اس آیت سے بقول ان کے یہ اشارہ ملتاہے کہ عورت کسی بھی کام میں مرد کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ یہ بات قطعی غلط ہے۔قرآن شریف کے اگلے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مرد کی یہ حاکمیت اس کیگھر اور اس کے خاندان تک محدود ہے۔ حضرت عمرؓ نے مدینہ کے بازار کے حساب او رکتاب کے فیصلوں کے لئے محترمہ شفاء کو مقرر کیا تھا ۔وہ تمام اہل بازار خواہ مرد ہوں یا عورت کے مابین حلال و حرام کی تفریق کرنے ، عدل و انصاف کرنے اور خلاف ورزیوں کو دفع کرنے کی ذمہ دار بنائی گئی تھیں۔ g
(ماخوذ از: معرکۂ حجاب اور عورت کی دنیا)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *