یہ وزیر اعظم کے سرگرم ہونے کا وقت ہے

کمل مرارکا
اب جبکہ صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب پر بحث ختم ہونے کے قریب ہے، یہ وقت سیاسی صورتحال کو سمجھنے اور یہ جاننے کا ہے کہ ملک کی دو بڑی پارٹیاں، کانگریس اور بی جے پی کیسے کام کر تی ہیں۔ یہ بتانا کسی بھی سیاسی تجزیہ نگار کے لیے معمولی سی بات ہے کہ اگر کانگریس نے صدر اور نائب صدر کے امیدوار کے سلسلہ میں بی جے پی کے ساتھ بات چیت کی ہوتی تو دونوں کا انتخاب عام اتفاق رائے سے ہوجاتا۔ایسا نظر نہیں آتا کہ پرنب مکھرجی کو صدر جمہوریہ کا امیدوار بنائے جانے سے بی جے پی کو کسی طرح کی کوئی مخالفت درپیش ہوتی۔ہو سکتا ہے کہ بات چیت کے ذریعہ نائب صدر کے عہدہ کے لیے کوئی عام اتفاق رائے والے امیدوار کا نام آ جاتا اور دونوں عہدوں کے لیے عام اتفاق رائے بن جاتا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یا تو سیاسی بات چیت کا دور ختم ہو گیا ہے یا پھر رک گیا ہے۔دونوں جماعتوں میں کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ ملک کی فکر کرتے ہیں۔ ہندوستان کی معیشت بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسیمیں یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے اتفاق رائے ہونا چاہیے جوکہ بہت مشکل نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ پندرہ سالوں سے وہی پالیسیاں چل رہی ہیں جو پہلے سے چل رہی تھیں۔ پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔موجودہ وقت میں جیسا کہ میں سوچتا ہوں ، وزیر اعظم اور ان کے معاونین، اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کرنے سے اس وجہ سے ڈرے رہتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے پارٹی کوغلط فہمی ہو سکتی ہے۔ جماعتوں کے معیار کو دیکھا جائے تو ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے جو اپوزیشن کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔تمام باتیں میڈیا کے توسط سے کی جاتی ہیں۔ میڈیا کے توسط سے بات کرنے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی لیڈر سخت لہجہ میں بولتا ہے تو اپوزیشن کے لیڈر اس سے بھی زیادہ سخت لہجے میں بات کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پاتا۔ میں پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ اب صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات ختم ہو گئے ہیں اور یہ وقت ہے کہ آئندہ لوک سبھا انتخاب سے پہلے کانگریس اور بی جے پی بیٹھ کر یہ سوچیں کہ ملک کے مفاد میں کیا کیا جانا چاہیے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے بعد کیا ہوگا یہ دوسری کہانی ہے، لیکن اس بچے ہوئے وقت میں پارلیمنٹ کی کارروائی صحیح طریقہ سے ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ میں جن مدعوں پر دونوں کے درمیان اتفاق نہیںہے ، انہیں ملتوی کر دینا چاہیے، جن مدعوں پر اتفاق ہے انہیں آگے بڑھانا چاہیے۔ اگر پارلیمنٹ کی کارروائی کے وقت ایک دوسرے پر چیخنا چلانا ہی ہے تو پارلیمنٹ سیشن کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ہے۔ مسئلہ ان قوانین کا ہے جن پر کانگریس اور بی جے پی متفق ہیں، لیکن کانگریس کے معاون ہی متفق نہیں ہیں۔ کانگریس کے پاس ایک کو آرڈی نیشن کمیٹی ہونی چاہیے جس سے اپنے معاونین کے ساتھ کسی بھی مدعے پر اتفاق بنایا جا سکے اور وہ لوگ یہ طے کر سکیں کہ کون سا قانون لایا جا سکتا ہے ۔ تمام لوگوں سے بات کرنے کے بعد اچانک کانگریس کے ہی معاون کہتے ہیں کہ یہ قانون نہیں لانا چاہیے اور اس کے بعد کانگریس کو اسے چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات سے لوگوں کے درمیان کانگریس کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آنے والا صدر جمہوریہ کافی سرگرم ہوگا۔ یہ خطرناک سوچ ہے۔ اس ملک کو چلا پانے میں کانگریس پارٹی کی ناکامی کے بعد کیا ہم صدر جمہوریہ پر منحصر ہونے جا رہے ہیں۔ معاونین سمیت آپ کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ مؤثر ڈھنگ سے حکومت چلائیں۔ ایک بے اثر وزیر اعظم، اتحاد کے معاونین کے ساتھ تال میل کا فقدان، بے اثر اپوزیشن کی صورت میں یہ توقع کرنا کہ ہمارے پاس ایک فعال صدر جمہوریہ ہے اور وہ ہماری مدد کرے گا، ایسی امید کرنا کافی افسوسناک ہے۔ جمہوریت اس طرح نہیں چلتی۔ملک چلانے کی ذمہ دار ہماری اور ہمارے سرگرم لیڈروں کی ہے ۔ صدر جمہوریہ صرف بحران کے وقت ہی مداخلت کریں۔ لیکن یہ ایک عجیب وغریب خیال ہے کہ آپ پہلے ایک بحران کھڑا کرلیں اور پھر اس سے نمٹنے کے لیے صدر جمہوریہ سے مداخلت کی امید کریں، انہیں مدعو کریں۔ یہی وقت ہے ، جب وزیر اعظم کو آگے آنا چاہیے۔ انہیں اپنی پسند کے حساب سے کابینہ میں تبدیلی کرنی چاہیے تاکہ ملک کو مؤثر طریقہ سے چلانے میں مدد ملے۔ کافی مسائل ہیں اس وقت۔ نظم و نسق ، مائونواز ، اقتصادی مسائل، چین کی وجہ سے بہت حد تک دفاع کا بھی مسئلہ ہے۔ اس وقت وزیر اعظم کو سرگرم ہونا چاہیے۔ کانگریس کہتی ہے کہ راہل ایک بڑا رول ادا کر سکتے ہیں ، یہ بڑا رول کیا ہے؟ وہ راہل کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے، ٹھیک ہے بنائے یا انہیں پارٹی کا صدر بنانا چاہتی ہے ، وہ بھی بنا دے، تبھی وہ کچھ کرے گی، لیکن یہ سب کرنے سے پہلے کانگریس کو دھیان رکھنا چاہیے کہ ایسا کچھ بھی کرنے کے لیے موجودہ صورتحال (ایک بے اثرحکومت) میں اصلاح کرنی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *