یہ ٹیم انا کی آزمائش کا وقت ہے

سنتوش بھارتیہ
اپوزیشن پارٹیاں آخر پریشان کیوں ہیں۔ انا ہزارے کے پارٹی بنانے کے فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد ان کی پریشانی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے، جب کہ غیر کانگریسی اپوزیشن لوک نائک جے پرکاش نارائن کے وقت اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے وقت ایسی صورتِ حال کا خیر مقدم کرنے میں لگی تھی۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن نے بہار میں چل رہی نوجوان طلبہ کی تحریک کو سیاسی پارٹیوں سے دور رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر سیاسی پارٹیاں اس تحریک میں کودیں تو وہ اس تحریک کو بھٹکا دیں گی۔ اس وقت کی تمام سیاسی پارٹیاں الگ الگ ڈھنگ سے جے پرکاش جی پر دباؤ ڈالتی تھیں کہ وہ انہیں تحریک میں شامل ہونے کا موقع دیں، پر جے پرکاش جی نے اسے مانا نہیں۔ ایمرجنسی کے خاتمہ کے بعد ایک خاص صورتِ حال پیدا ہوئی، جس میں تمام پارٹیاں چاہتی تھیں کہ وہ الیکشن لڑیں اور جے پرکاش جی ان کے حق میں پرچار کریں۔ جے پرکاش جی نے شرط رکھی کہ وہ تبھی پرچار کریں گے جب سبھی اپوزیشن پارٹیاں مل کر ایک پارٹی بنا لیں گی۔ نتیجہ کے طور پر جنتا پارٹی بنی۔ لیکن جنتا پارٹی بننے کے باوجود فیصلے کبھی پارٹی کے ناطے نہیں ہوئے، بلکہ فیصلے حلیفوں کے ناطے ہوئے۔ نتیجتاً عوام کی تمناؤں کے کندھے پر سوار ہو کر اقتدار میں پہنچنے والی جنتا پارٹی ڈھائی سال میں ہی بکھر گئی۔
دوسری صورتِ حال 1987-88 میں پیدا ہوئی، جب وشوناتھ پرتاپ سنگھ سیاست کا مرکز بنے۔ کوئی بھی اپوزیشن پارٹی یا لیڈر انہیں سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا اور نہ ہی انہیں قیادت سونپنے کے لیے تیار تھا۔ لیکن عوام نے انہیں ایک مضبوط لیڈر کی شکل میں قائم کر دیا۔ سنہ 87 ختم ہوتے ہوتے یہ طے ہو گیا تھا کہ عوام انہیں سب سے بڑا لیڈر مانتے ہیں اور اسی دباؤ نے کئی پارٹیوں کو جنتا دل بنانے کے لیے مجبور کیا۔ یہاں بھی وہی کہانی دہرائی گئی اور ذاتی مفادات نے چندرشیکھر اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ کو آمنے سامنے کر دیا۔ اس میں ذاتی مفادات نے چودھری دیوی لال کا بخوبی استعمال کیا۔

اگلے تین مہینے ملک کے لیے ہلچل والے مہینے ہیں۔ ان مہینوں میں نہ صرف سیاسی پارٹیوں کا چہرہ صاف ہوگا، بلکہ انا ہزارے اور بابا رام دیو جیسے لوگوں کی حکمت عملی کا بھی پتہ چلے گا۔ سب سے زیادہ چنوتی کا وقت انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہے۔ اگر انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں نے پھر ویسی ہی غفلت دکھائی، جیسی انہوں نے پچھلے سال دکھائی تھی تو پھر ان کے اوپر لوگوں کا اعتماد کم ہو جائے گا۔ انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے لیے صرف اور صرف ایک راستہ بچتا ہے کہ وہ بنا وقت کھوئے عام لوگوں کے درمیان جائیں، ملک کو بدلنے کے اپنے پروگراموں سے متعارف کرائیں، ہر ضلع میں جلسے کریں، اور جو  جلسوں میں آتے ہیں انہیں وہ کہیں کہ وہ قصبوں اور گاؤوں میں اجلاس کریں۔

دونوں ہی سرکاریں اچھی پالیسیاں اختیار کیے ہوئی تھیں، اچھے کام کرنا چاہتی تھیں، لوگوں کے آنسو پونچھنا چاہتی تھیں، لیکن دونوں ہی سرکاریں بیچ میں ٹوٹ گئیں۔ جنتا کے نام پر ایک ہونے والے جنتا کے نام پر ہی الگ ہوگئے۔ اب 22 سال کے بعد پھر ایک موقع آیا ہے۔ ان 22 سالوں میں لوگوں کی پریشانیاں بری طرح بڑھی ہیں، لیکن صورتِ حال میں ایک بہت بڑا بنیادی فرق ہے۔ سنہ 74 اور سنہ 87 میں جنتا پارٹی اور جنتا دل میں شامل ہونے والی پارٹیاں کہیں بھی سرکاروں میں نہیں تھیں اور ابھی ہر سیاسی پارٹی کہیں نہ کہیں سرکار میں ہے۔ اسی لیے جس تیزی سے کانگریس انا ہزارے اور بابا رام دیو کی مخالفت کر رہی ہے، اتنی ہی شدت سے سبھی غیر کانگریسی پارٹیاں ان دونوں کی مخالفت کر رہی ہیں، کیوں کہ اس وقت سبھی سرکاروں کا کردار تقریباً ایک ہے۔ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں، جن میں تمام سیاسی پارٹیاں شامل ہیں، وہ یہ مانتی ہیں کہ وہ عوام کے لیے بہت بہتر کر رہی ہیں، لیکن عوام کا ماننا ہے کہ ان کے لیے کچھ نہیں ہو رہا ہے۔
شاید اسی لیے ساری سیاسی پارٹیاں پریشان ہیں اور انا ہزارے کے ذریعے شروع کی گئی مہم کی، چاہے پہلے وہ غیر سیاسی رہی ہو یا اب سیاسی ہو گئی ہو، مخالفت کر رہی ہیں۔ انا ہزارے کا قدم سیاسی پارٹیوں کو اس لیے پسند نہیں آرہا ہے، کیوں کہ شاید انہیں انا ہزارے کے عوام سے کیے گئے وعدوں کا جواب دینا پڑے گا یا اپنے حامیوں کو یہ سمجھانا پڑے گا کہ انا ہزارے جو بھی کر رہے ہیں وہ عوام مخالف ہے۔ یہ سمجھانا شاید سیاسی پارٹیوں کے لیے مشکل ہو۔
یہی سیاسی پارٹیاں اور ٹیلی ویژن پر بحث کرنے والے مہا پنڈت صحافی یہ بحث کر رہے تھے کہ اگر کانگریس بھی خراب ہے، بی جے پی بھی خراب ہے، سیاسی مشینری خراب ہے تو لوگ کسے ووٹ دیں، اور اب جب انا ہزارے نے ایک سیاسی متبادل دینے کی بات کی تو سب پریشان ہوگئے۔ ان میں سے بہتوں کو یہ لگ رہا تھا کہ انا ہزارے کبھی پارٹی بنائیں گے نہیں اور انا ہزارے کی تحریک کا فائدہ انہیں مل جائے گا۔ انا ہزارے کی تحریک کا نقصان کانگریس کو پہلے بہار میں ہوا، پھر اتر پردیش میں ہوا۔ انا ہزارے کی تحریک کا فائدہ بہار میں نتیش کمار اور اترپردیش میں ملائم سنگھ کو ہوا۔ پر یہ بلائنڈ گیم تھا۔ لوگوں میں اپنے مسائل کو لے کر، خاص کر بدعنوانی کو لے کر بیداری تو بڑھی لیکن وہ کسی ایک کے حق میں منظم نہیں ہوئی۔ اب سیاسی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ کسی کو بھی انا ہزارے کی تحریک کا فائدہ نہیں ملنے والا، اس لیے سبھی نے ایک سرے سے اس کی مخالفت کرنی شروع کر دی ہے۔
اب بابا رام دیو کی سمجھ کا سوال ہے۔ جس طرح راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے یہ پرچار کیا کہ اسی کے کارکنوں نے انا ہزارے کی تحریک منظم کی ہے اور اسی کے کارکنوں نے رام دیو کی تحریک کو منظم کیا ہے، انا ہزارے نے اپنی زبان، پروگرام اور اعلانات سے یہ ثابت کر دیا کہ آر ایس ایس نے یہ افواہ صرف کریڈٹ لینے کے لیے اور انا ہزارے کو ڈِس کریڈٹ کرنے کے لیے پھیلائی تھی۔ اب بابا رام دیو کو یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کا رشتہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، بی جے پی اور دوسری سیاسی پارٹیوں سے کتنا ہے۔ بابا رام دیو سیاسی بابا مانے جاتے ہیں، ان کی فوٹو ہر سیاسی لیڈر کے ساتھ ہے۔ راہل گاندھی، اڈوانی، ملائم سنگھ یادو، لالو یادو، رام ولاس پاسوان، نریندر مودی سمیت سبھی سے ان کے تعلقات ہیں۔ تعلقات ہونا ایک بات ہے، سیاسی دوستی ہونا دوسری بات ہے۔ بابا رام دیو کے لیے یہ صاف کرنا کہ ان کا سیاسی طریقہ کیسا ہے، اس لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ اس ملک کے لوگ سیاسی پارٹیوں کے اینٹی پیپل ایپروچ سے بہت دکھی ہو چکے ہیں۔ اگر وہ لوگوں کو بھروسہ دلا پائے کہ ان کا طریقہ اور ان کے وعدے سیاسی پارٹیوں سے الگ ہیں تو لوگ ان کا بھروسہ کریں گے۔
اگلے تین مہینے ملک کے لیے ہلچل والے مہینے ہیں۔ ان مہینوں میں نہ صرف سیاسی پارٹیوں کا چہرہ صاف ہوگا، بلکہ انا ہزارے اور بابا رام دیو جیسے لوگوں کی حکمت عملی کا بھی پتہ چلے گا۔ سب سے زیادہ چنوتی کا وقت انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہے۔ اگر انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں نے پھر ویسی ہی غفلت دکھائی، جیسی انہوں نے پچھلے سال دکھائی تھی تو پھر ان کے اوپر لوگوں کا اعتماد کم ہو جائے گا۔ انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے لیے صرف اور صرف ایک راستہ بچتا ہے کہ وہ بنا وقت کھوئے عام لوگوں کے درمیان جائیں، ملک کو بدلنے کے اپنے پروگراموں سے متعارف کرائیں، ہر ضلع میں جلسے کریں، اور جو  جلسوں میں آتے ہیں انہیں وہ کہیں کہ وہ قصبوں اور گاؤوں میں اجلاس کریں۔ اروِند کجریوال، پرشانت بھوشن، منیش ششودیا اور انا ہزارے کے لیے یہ سخت آزمائش ہے، انہیں اس الزام کو غلط ثابت کرنا ہے کہ یہ غیر سیاسی لوگ ہیں، انہیں نہ سیاسی زبان آتی ہے، نہ سیاسی طریقہ آتا ہے، نہ ان کے پاس سوچ ہے، نہ ان کے پاس پروگرام ہے۔ اگر یہ ثابت کر پائے کہ یہ اپنی بات سماج کے مختلف طبقوں، خاص کر مسلمانوں، دلتوں، پچھڑوں اور سبھی طبقوں کے غریبوں کو سمجھا سکتے ہیں تو ان کی جیت میں شک کم ہو جائے گا۔ جیت کی طرف قدم بڑھانے کے لیے آج ہی عام لوگوں کے درمیان جانے کا فیصلہ انہیں لینا ہوگا۔ لیکن فیصلہ تو انہیں ہی لینا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *