سونیا کا رازدار

سنتوش بھارتیہ
شریمتی اندرا گاندھی جب وزیر اعظم تھیں، تو ان کے سب سے بھروسے مند آدمی کا نام یشپال کپور تھا۔ جب یشپال کپور سیاست میں زیادہ مصروف ہوگئے تو ان کی جگہ آر کے دھون نے لے لی۔ آر کے دھون شریمتی اندرا گاندھی کی آنکھ، ناک اور کان تھے۔ آر کے دھون اور شریمتی اندرا گاندھی کے درمیان اتنی اچھی سمجھ پیدا ہوگئی تھی کہ شریمتی گاندھی کی آنکھیں اٹھتی تھیں اور آر کے دھون سمجھ جاتے تھے کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ آر کے دھون اُس اشارے کو پہچانتے تھے کہ شریمتی گاندھی اس وقت چائے پینا چاہتی ہیں یا کافی اور وہ یہ بھی سمجھ جاتے تھے کہ شریمتی گاندھی کس آدمی کو اپنے سامنے بیٹھا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں اور کسے فوراً بھگا دینا چاہتی ہیں۔ شریمتی گاندھی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، آر کے دھون ان کی ساری خواہشیں پوری کر دیتے تھے۔

کیا ملک کا مستقبل ایک نوکر شاہ لکھ رہا ہے، کیا کانگریس کا مستقبل ایک نوکر شاہ لکھے گا اور کیا سونیا گاندھی کے بیٹے کو اگلے باصلاحیت وزیر اعظم کی شکل میں نکھارنے کا کام ایک نوکر شاہ واقعی کر پائے گا؟ لوگوں کے من میں سوال اور شکوک و شبہات بھلے ہوں، لیکن سونیا گاندھی کے من میں پلک چٹرجی کو لے کر نہ تو کوئی شک ہے اور نہ ہی کوئی سوال ہے۔

آر کے دھون شریمتی گاندھی کے سرکاری کام، یعنی وزیر اعظم ہونے کے ناطے وہ جو چاہتی تھیں، ان پر عمل کروانے کا کام کرتے تھے۔ آر کے دھون شریمتی گاندھی کے سیاسی کام، جو وہ کانگریس صدر ہونے کے ناطے کرنا چاہتی تھیں، ان پر بھی عمل کرواتے تھے اور شریمتی گاندھی ماں کے ناطے جو اپنے بچوں کے لیے کرنا چاہتی تھیں، انہیں بھی پورا کروانے کا کام آر کے دھون کرتے تھے۔ راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی کی پڑھائی سے لے کر ان کے اپنے اپنے پروفیشن میں جانے تک سارے راستے آر کے دھون نے بنائے تھے۔ سنجے گاندھی کا ماروتی بنانے کا خواب رہا ہو یا راجیو گاندھی کا پائلٹ بننے کا خواب، دونوں کو عملی جامہ آر کے دھون نے پہنایا تھا۔ آر کے دھون کے سینے میں شریمتی اندرا گاندھی کے، سنجے گاندھی کے اور راجیو گاندھی کے سینکڑوں راز آج بھی دفن ہیں۔ آر کے دھون کو نہ جانے کتنے لالچ دیے گئے، لیکن آر کے دھون ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ ایسا آدمی کسی سیاست داں کو ملنا سب سے بڑی خوش قسمتی ہوتی ہے۔ شاید ہر لیڈر کے ساتھ ایسا صرف ایک آدمی ہوتا ہے، کیوں کہ آر کے دھون کا رشتہ نہ راجیو گاندھی کے ساتھ ویسا بن پایا اور نہ سونیا گاندھی کے ساتھ، جیسا ان کا رشتہ شریمتی اندرا گاندھی کے ساتھ تھا۔ شریمتی گاندھی کی زندگی میں آر کے دھون دوسرے سب سے طاقتور آدمی تھے۔
آج ایسے ہی سب سے طاقتور آدمیوں میں سے ایک کا نام پُلک چٹرجی ہے۔ پُلک چٹرجی اس وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ان کے پرنسپل سکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں، لیکن پلک چٹرجی کی طاقت وزیر اعظم کے دفتر میں صرف پرنسپل سکریٹری ہونے کے ناطے نہیں ہے۔ پلک چٹرجی میں وہ ساری خوبیاں ہیں جو آر کے دھون میں تھیں۔ پلک چٹرجی آئی اے ایس افسر ہیں اور ان کی ملاقات راجیو گاندھی سے اس وقت ہوئی تھی، جب راجیو گاندھی لوک سبھا کے لیے اپنا پرچہ نامزدگی بھر رہے تھے۔ پلک چٹرجی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ناطے اس انتخاب میں رٹرننگ آفیسر تھے۔ پہلی نظر میں راجیو گاندھی کو سیدھا سادہ، چشمہ لگائے دبلا پتلا افسر اس لیے بھا گیا، کیوں کہ انہیں لگا کہ چشمے کے پیچھے سے جھانکتی اُن آنکھوں میں کچھ ایسا ہے جو اپنی جانب کھینچتا ہے اور یہ بات انہوں نے سونیا گاندھی کو بتائی تھی۔ لیکن جب راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے تو ان کے خاص لوگوں کی جگہ ارون سنگھ اور ارون نہرو نے لے لی اور بعد میں راجیو گاندھی کے سب سے نزدیک ماکھن لال فوتیدار ہوگئے۔ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد شریمتی سونیا گاندھی نے پُلک چٹرجی پر بھروسہ کیا اور جب وہ اپوزیشن کی لیڈر بنیں تو انہیں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنایا۔ او ایس ڈی رہتے ہوئے پلک چٹرجی نے سونیا گاندھی کو وہ ساری اطلاعات فراہم کیں، جن کی ضرورت سونیا گاندھی کو تھی اور ایسی صلاحیں دیں جن سے سونیا گاندھی کو لگا کہ یہ آدمی صرف ان کے بارے میں سوچتا ہے، اپنے بارے میں نہیں سوچتا۔ دھیرے دھیرے سونیا گاندھی کا اعتماد اپنے آس پاس کے سیاسی لیڈروں سے زیادہ پلک چٹرجی پر جمنے لگا اور وہ پلک چٹرجی کی رائے سے سیاسی فیصلے بھی لینے لگیں۔ این ڈی اے حکومت کے دوران شریمتی گاندھی کے ارد گرد سیاسی صلاح کاروں کی ایک بڑی جماعت تھی، لیکن ہمیشہ سونیا گاندھی نے آخری فیصلہ پلک چٹرجی کی رائے سے لیا۔ 1974 بیچ کا یہ آئی اے ایس افسر بعد میں وزیر اعظم کے سکریٹریٹ کا، یعنی پی ایم او کا ایک حصہ بن گیا اور وہاں سکریٹری کے طور پر کام کیا۔ پلک چٹرجی حکومت ہند میں کبھی کسی وزارت میں نہیں گئے، انہوں نے چار بار حکومت ہند میں اپنی خدمات دیں اور چاروں بار وہ پی ایم او کا حصہ بنے۔ بیچ میں وہ 2008 میں تین سال کے لیے ورلڈ بینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بن کر واشنگٹن چلے گئے۔ 2004 سے 2009 تک پلک چٹرجی پی ایم او میں جوائنٹ سکریٹری تھے۔
پلک چٹرجی دراصل، منموہن سنگھ کے وزیر اعظم بننے کے بعد سونیا گاندھی اور سرکار کے بیچ کی کڑی بن گئے۔ منموہن سنگھ کو وزیر اعظم نہیں بننا تھا، سونیا گاندھی لگ بھگ وزیر اعظم بن چکی تھیں، انہوں نے ذاتی طور سے مل کر وی پی سنگھ اور چندرشیکھر کی حمایت اور یقین دہانی حاصل کر لی تھی اور سونیا گاندھی کی بنا کسی محنت کے، وی پی سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ تقریباً پوری اپوزیشن کو سونیا گاندھی کے حق میں کھڑا کر دیا تھا۔
سونیا گاندھی کیوں وزیر اعظم نہیں بنیں، اس کا راز صرف تین لوگ جانتے ہیں، جن میں پہلا نام کنور نٹور سنگھ، دوسرا نام ماکھن لال فوتیدار اور تیسرا نام احمد پٹیل کا ہے۔ ایک چوتھا نام بھی ہے، جو اس راز کو جانتا ہے اور وہ ہیں پلک چٹرجی، جن کی اس وقت واضح رائے تھی کہ سونیا گاندھی کو ابھی وزیر اعظم نہیں بننا چاہیے۔ پلک چٹرجی کی جان بھلے ہی چلی جائے، لیکن شاید وہ اس راز سے کبھی پردہ نہیں ہٹائیں گے۔
پلک چٹرجی وزیر اعظم کے دفتر میں سونیا اور پی ایم او کے بیچ کی کڑی تو تھے، لیکن وہ وہاں سرکار کی پالیسیوں پر کوئی بھی اثر نہیں ڈال پا رہے تھے۔ سونیا گاندھی نے قومی صلاح کار کمیٹی بنائی، اس قومی صلاح کار کمیٹی کے برخلاف منموہن سنگھ کام کرنے لگے۔ دھیرے دھیرے سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کا سیاسی ربط ضبط کم ہونے لگا، دوسری طرف سرکار میں اقتدار کے تین محور ابھرنے لگے۔ منموہن سنگھ کے علاوہ پرنب مکھرجی اور پی چدمبرم اس طرح سے کام کر رہے تھے، گویا وہ متوازی وزیر اعظم ہوں۔ سرکار کے اندر چل رہی اس کھینچ تان کو پلک چٹرجی نے سونیا گاندھی کو بتایا، پر دونوں ہی سرکار پر کوئی بھی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے، کیوں کہ منموہن سنگھ کا قد ملک میں بڑا ہو گیا تھا۔ پُلک چٹرجی نے اپنی بنیادی ذمہ داری سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور ان کے شوہر روبرٹ وڈیرا کی مشکلوں کو حل کرنا مان لیا۔ ملک کو آج تک نہیں معلوم کہ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور شریمتی سونیا گاندھی اور خاندان کے داماد روبرٹ وڈیرا کب ملک سے باہر جاتے ہیں، کیوں جاتے ہیں، کہاں ٹھہرتے ہیں اور کب واپس آ جاتے ہیں۔ ان کے باہر جانے کا کوئی مقصد بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کو دنیا کی نظروں سے کامیابی کے ساتھ چھپانے اور انہیں کامیابی کے ساتھ بروئے کار لانے کا کام پُلک چٹرجی کرتے ہیں۔
راہل گاندھی کئی پریشانیوں میں پھنسے، ان کے اوپر کئی مقدمے ہوئے، ان سب کو پلک چٹرجی نے سنبھالا۔ پرینکا گاندھی نے ہماچل پردیش میں زمین خریدی، وہاں اپنا ایک مکان بنوایا، پھر بنا بنایا مکان توڑ دیا اور اسے نئے سرے سے، نئے نقشے سے بنوانے لگیں۔ ملک حیران زدہ ہے کہ کشمیر اور ہماچل میں وہ آدمی زمین نہیں خرید سکتا جو وہاں کا رہنے والا نہیں ہے اور اس ناممکن کام کو پلک چٹرجی نے کر دکھایا۔ جب سونیا گاندھی بیمار ہوئیں اور ملک سے باہر لندن گئیں، تو لندن میں ان کی ڈاکٹری جانچ کا سارا کام پلک چٹرجی نے کروایا، حالانکہ سونیا گاندھی کی بہن ان کے ساتھ تھیں، پر وہ جانچ غلط ثابت ہوئی۔ پلک چٹرجی کو لگا کہ لندن کی جانچ شاید غلط ہو، تو شریمتی گاندھی کو فوراً امریکہ آنے کی صلاح دی اور شریمتی گاندھی کس اسپتال میں اپنی جانچ کروائیں گی، وہاں بایوپسی ہوگی یا آپریشن ہوگا، ان سب کا فیصلہ پلک چٹرجی نے کیا۔ ان سب میں پلک چٹرجی نے اتنی احتیاط برتی کہ دنیا کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ سونیا گاندھی سلان کیٹرنگ ہاسپیٹل میں ہیں۔ دنیا تبھی جان پائی جب پلک چٹرجی نے چاہا، کیوں کہ اس کے بعد ہی جناردَن دویدی نے ملک اور دنیا کو بتایا کہ شریمتی گاندھی بیمار ہیں

اب تک ملک میں حالات بدل چکے تھے۔ کانگریس حکومت کی ساکھ ختم ہو رہی تھی، راہل گاندھی سیاسی طور پر ناکام ہو رہے تھے، رابرٹ وڈیرا کی سیاسی آرزو بڑھ رہی تھی اور پرینکا گاندھی اور رابرٹ وڈیرا میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، اس کی بھی خبریں باہر آ رہی تھیں۔ سرکار بہت کمزور طریقے سے چل رہی تھی اور اپنا اثر کھوتی جا رہی تھی۔ ایسے میں سونیا گاندھی نے ایک اہم فیصلہ لیا اور انہوں نے پلک چٹرجی کو امریکہ سے واپس بلاکر وزیر اعظم کا مشیر خاص بنوا دیا۔ سونیا گاندھی کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ 2014 میں ان کی پارٹی کی سرکار بننے میں اڑچنیں آ سکتی ہیں۔ راہل گاندھی بھی کامیاب لیڈر ہو پائیں گے یا نہیں ہو پائیں گے، اس میں بھی شک پیدا ہو گیا ہے۔ احمد پٹیل، جناردَن دویدی اور موتی لال ووہرا مل کر راہل گاندھی کو سیاسی طور سے کتنا کامیاب کر پائیں گے، اس میں شک ہے۔ منموہن سنگھ کی کابینہ کے ہی کچھ لوگ راہل گاندھی کو بگاڑنے میں اپنی صلاحیت خرچ کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں انہوں نے ان سب لوگوں کو ایک کنارے کر کے پلک چٹرجی کے اوپر دو ذمہ داریاں ڈالی ہیں، پہلی ذمہ داری سرکار میں آگئے اسٹیگنیشن، تعطل کو ختم کرکے سرکار کو تیزی سے فیصلہ لینے والی سرکار بنانا اور دوسرا کام راہل گاندھی کو کامیابی کے ساتھ انتظامی امور سنبھالنے والے کی شیبہ عطا کرنا۔ سونیا گاندھی راہل گاندھی کے صلاح کاروں سے بہت خوش نہیں ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اپنے انہی دوستوں کی وجہ سے راہل گاندھی ابھی تک اپنی شبیہ کامیاب لیڈر کی نہیں بنا پائے ہیں۔
پلک چٹرجی نے پی ایم او میں آتے ہی پہلا کام اقتدار کے مرکز کو بدلنے کا کیا۔ پہلے اقتدار کا مرکز کیبنیٹ سکریٹری اجیت سیٹھ ہوا کرتے تھے، لیکن اب اقتدار کا مرکز ساؤتھ بلاک، یعنی پلک چٹرجی بن گئے ہیں۔ پلک چٹرجی نے پی ایم او کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کا بیان نہیں آتا ہے، بلکہ پی ایم او کا بیان آتا ہے۔ پلک چٹرجی نے پی ایم او کو وزیر اعظم سے بڑا بنا دیا ہے۔ پلک چٹرجی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اس بات کے لیے مجبور کر دیا ہے کہ وہ کمیٹی آف سکریٹریز (سی او ایس) بنائیں، جس کے چیئرمین خود پرنسپل سکریٹری پلک چٹرجی ہوں گے۔ اب تک ایمپاورڈ گروپ آف منسٹرس (ای جی او ایم) ہوا کرتے تھے، اب پلک چٹرجی نے ان ای جی او ایم کو اِرّیلیونٹ کردیا ہے۔ دراصل، آج تک کسی بھی ای جی او ایم نے کوئی مثبت رپورٹ دی ہی نہیں۔ پہلی ذمہ داری پلک چٹرجی نے کول اور پاور سیکٹر کو ٹھیک کرنے کی لی ہے اور انہوں نے اپنے دربار میں انل امبانی، رتن ٹاٹا، مدھو سودن راؤ، انل اگروال، پرشانت روئیا اور اشوک ہندوجا کو آنے کے لیے مجبور کردیا۔ اب پلک چٹرجی نے 90 ہزار میگاواٹ کے پاور پروجیکٹ اور کول گیس کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے لگ بھگ 60 ہزار کروڑ کے خسارے کو کنٹرول کرنے کا کام لیا ہے۔ پلک چٹرجی نے 30 دن، 7 دن اور 90 دن کے ایکشن پلان اس مسئلہ کا سامنا کرنے کے لیے بنائے ہیں اور انہوں نے پاور، پٹرولیم، کول، انوائرمنٹ اور فائنینس سکریٹریز کو اپنا ممبر بنایا ہے۔ وزیر اعظم نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ پلک چٹرجی کی لیڈرشپ میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پلک چٹرجی نے ٹورزم سیکٹر کو درست کرنے کا ذمہ بھی اپنے اوپر لے لیا ہے۔ پلک چٹرجی کے اوپر انفراسٹرکچر سیکٹر کو بھی آگے بڑھانے کا ذمہ ہے تاکہ سست رفتار اقتصادیات کو ریوائیو کیا جاسکے۔
2008 میں جب اقتصادیات کی حالت بگڑی تو اس وقت کے کیبنیٹ سکریٹری کے ایم چندرشیکھر نے فیصلے لیے۔ اس کے بعد اجیت سیٹھ نے فیصلے لیے۔ ٹی کے اے نائر وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری تھے، لیکن ٹی کے اے نائر کی لائلٹی صرف اور صرف منموہن سنگھ کے ساتھ تھی۔ وہ منموہن سنگھ کے ذاتی مسائل کا حل بھی ڈھونڈتے تھے اور منموہن سنگھ کی خواہشوں کو پورا کرنے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتے تھے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کو لانا اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی شبیہ کو بگاڑنے کا کام ٹی کے اے نائر نے کیا۔ لیکن پلک چٹرجی ان سب سے الگ ہیں۔ پلک چٹرجی لو پروفائل میں رہنے والے، سادہ زندگی بسر کرنے والے افسروں میں سے ہیں۔ پلک چٹرجی کے اوپر ابھی تک بدعنوانی کا الزام نہیں لگا ہے۔ سبرامنیم سوامی نے ضرور پلک چٹرجی پر وزیر اعظم کو غلط رائے دے کر ٹو جی گھوٹالہ میں تساہلی برتنے کا الزام لگایا ہے۔ اتنے بڑے نوکر شاہ کی بیٹی کی شادی بہت معمولی طریقے سے ہوئی، جب کہ ان سے کم قد کے نوکر شاہ اپنے بچوں کی شادی بہت شاندار ڈھنگ سے کرتے ہیں۔ آج بھی ملک میں لوگ پلک چٹرجی کے نام سے متعارف نہیں ہیں، پر اس وقت پلک چٹرجی سونیا گاندھی کی آخری امید کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ سونیا گاندھی کی دو ہی خواہشیں ہیں، منموہن سنگھ سرکار بہتر سرکار کی شکل میں ملک میں جانی جائے اور راہل گاندھی کی شبیہ با صلاحیت ایڈمنسٹریٹو لیڈر کی بنے۔ اس کے لیے پلک چٹرجی نے میڈیا فرنٹ پر کام کرنے کے لیے این ڈی ٹی وی میں کام کر رہے پنکج پچوری کو وزیر اعظم کا میڈیا صلاح کار بنوایا، حالانکہ پنکج پچوری میڈیا کو سر کرنے کی جگہ میڈیا کو ناراض زیادہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں میں جانے والے تمام ریجنل چینلوں کے نامہ نگاروں کو پنکج پچوری نہ صرف حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلکہ انہیں بے عزت بھی کرتے ہیں۔
خود پلک چٹرجی 18 مہینے بعد ہونے والے عام انتخاب کے لیے سرکار کی عام آدمی والی امیج کو ری اسٹیبلش کرنے کے کام میں لگ گئے ہیں، جو ٹو جی گھوٹالہ اور مہنگائی کی وجہ سے خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنے لیے 12 شعبے چنے ہیں، جہاں پر فوراً کارروائی کی ضرورت ہے اور یہی 12 شعبے سرکار کے اگلے دو سال کے ٹاپ ایجنڈے میں رہنے والے ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ پلک چٹرجی نے منسٹریز کو اور ٹاپ آفسز کو کہا ہے کہ وہ مختلف کاموں کو پورا کرنے کی موجودہ حالت اور اس میں لگنے والے وقت کے بارے میں رپورٹ دیں اور اگر انہیں اس سلسلے میں کوئی پریشانی آ رہی ہے اور وہ پی ایم او کی مدد چاہتے ہیں، تو یہ بھی بتائیں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دیری سے بچنے کے لیے یہ تمام رپورٹیں پی ایم او میں انٹرنیٹ کے ذریعے پہنچنی چاہئیں۔ پلک چٹرجی نے جن دیگر شعبوں کو اپنے لیے چنا ہے ان میں لوک پال بل، انتخاب سے متعلق اصلاحات، تحویل اراضی قانون میں ترمیم، عدالتی جوابدہی بل بھی شامل ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *