سازشی ٹولہ

اعجاز حفیظ خان

حکومت پاکستان 65 برس کا ہو چکا ہے۔ اس کے کارواں میں ِ غرباء سب سے زیادہ شریک تھے لیکن ’’منزل ‘‘پر ہمارے رہبروں کے ہاتھوں اُن پر کیا بیتی ؟مصطفیٰ زیدی نے اس کی کچھ یوں منظر کشی کی ہے ۔
’’تم نے ہر عہد میں ہرنسل سے غدّاری کی ‘‘ وہ عہد بھی گزر ہی گیا ۔آج کے بارے میں کیا کہیں گے ؟ آج کس فوجی ڈکٹیٹر کا گریباں پکڑیں گے ؟آج تو ہمارے ہمارے اپنے اور سپنے ہی اُن کی ’’کمی‘‘ کا احساس تک نہیں ہونے دے رہے ۔سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی بھی بولنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔اُن کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد ہی عدلیہ خود کو آزاد کہتی ہے ۔خود اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ اس بار ہمارا یوم آزادی سازشوں اور رنجشوں کے’’ جوش و خروش ‘‘کے ساتھ منایا گیا ۔ پاکستان کے ساتھ یہ سب کچھ نیا نہیں ہے ۔البتہ اس بارطریقہ واردات ضرور بدلا ہواہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ڈکٹیٹر ضیا کے انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔انجام سے مراد اُن کا راکھ ہونا نہیں ،بلکہ آج کوئی اُن کا نام تک نہیں لیتاہے۔البتہ کچھ کے دل میں ارمان اُن جیسے ہی ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اب اُن کی جگہ جمہوریت دشمنوں نے جمہوریت کے نام پر ہی ،بڑی چالبازی سے لے لی ہے ۔پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کرنے کا انہوں نے بھی تہیہ کیا ہوا ہے۔عرض ہے کہ جس کسی نے پیپلز پارٹی کا پیچھا کرنا چاہا وہ پھر دشت کا ہی ہو کر رہ گیا۔عرض ہے کہ پاکستان جمہوریت کے نام پر بنا تھا ۔تحریک پاکستان میں نہ کوئی جنرل اور نہ ہی کوئی جج۔ آج یہ بات ٹاک آف دی ٹائون بن گئی ہے کہ قانون سازی کا اختیار کسے ہے ؟الطاف حسین صاحب کی یہ بات بہت باوزن ہے کہ’’ اگرپارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی تو جو ڈیشل سسٹم نافذ کر دیا جا ئے ‘‘۔عرض ہے کہ اس کے لئے بھی تو آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی ۔
معزز قارئین !عید کے بعد آنے والے دنوں سوچ کر بیچارہ دل ،اپنوں کا مارا آج کل کچھ زیادہ ہی بد گمان ہے ۔پریشان ہونے کا اس لئے نہیں لکھا کہ اس کا تو اب وہ عادی ہو چکا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جیسے اُس کا ہی ساتھی ہو چکا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ حالات و واقعات کچھ بھی ہوں ، ِ غرباء کے لئے عید خوشیوں سے بھر پور ہوتی ہے ۔اسے بے شک خواب ہی کہہ لیں اور سچ تو یہ بھی ہے کہ اس کی تعبیر مشکل سے ہی مل پاتی ہے ۔بہر کیف کچھ خواب جیتی جاگتی آنکھوں کے لئے بھی تو ہوتے ہیں ۔کا ش کہ وہ وقت رُک جاتا لیکن …جب سے جمہوریت بحال ہوئی ہے ،کچھ لوگوں نے عوام کو بے حال کرنے میں کوئیکسر نہیں اٹھا رکھی۔ایسے میں یہ سوال کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا کیا ۔یہ لوگ بظاہر الگ الگ ہیں لیکن عوام کو دکھی کرنے میں ایک ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ۔البتہ کبھی کبھار ان کے ’’انداز ِ مستانہ‘‘کچھ الگ الگ سے دکھائی دیتے ہیں ۔عوام کے سامنے روزانہ ’’دیوداس ‘‘ کا کردار ادا کرنے والوںکی اب اِن سائڈ سٹوریاںبھی زبان خلق بنتی جا رہی ہیں ۔آنے والے دنوں میں یہ اور رش لیں گی۔کرپشن …ٹاپ فائیو میں ان خواتین و حضرات کا نام بھی آ گیا ہے۔یہ تو ایک دن ہونا ہی تھا لیکن اس سے پہلے پاکستان میں کیا کچھ نہیں کیا گیا ۔تاریخ کا بھیانک سبق ہوتا ہے ۔کل تک جنہوں نے ایک خاص ایجنڈے کے تحت پیپلز پارٹی کے گریبان کو پکڑ کر ایک تماشا لگایا ہوا تھا لیکن آج خود ان کا اپنا گریباں…
صدر زرداری نے قوم کے نام یوم ِ آزادی کے بیان میں اس صورتحال کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے ۔’’پارلیمنٹ اور آئین پر نئی طرز کے حملوں پر نظر رکھنا ہوگی ۔پارلیمان کی آواز کو کوئی خاموش نہیں کر سکتا ہے،اسے سازشوں سے بچائیں گے ‘‘۔اﷲکرے ۔لگتا ہے کہ پارلیمنٹ نے اپنی بالادستی کوعملی طور پر بھی شوکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔آئین کے مطابق سو فیصد پارلیمنٹ ہی سپریم ہے ۔جب اپنے اپنے آئین کی بات ہو گی تو ایسے میں پارلیمنٹ کو ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہو گا ۔اگر پاکستان بننے کے بعد آئین بھی بن گیا ہوتا تو پاکستان آج بھی دنیا کی سب سے بڑی مسلمانوں کی ریاست ہونی تھی ۔ ِ غربا ء نے تحریک ِ پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ اجاڑ دیا تھا ،اس لئے نہیں کہ اُن کے منتخب نمائندوں کو گھر بھیج دیا جا ئے ۔شیشے کے گھروں میں رہنے والوں کو تو بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ لوگ پیارے پاکستان پر برسہا برس سے سنگ باری کر رہے ہیں ۔اس لئے کہ 14 اگست 1947ء کے بعد حقیقی منزل ان لوگوں کو ہی ملی اور جو کارواں میں شریک نہیں تھے نیرنگیٔ سیاست کا تو آنے والا وقت ہی پتہ چل پائے گا لیکن یہ ضرور عرض کریں گے کہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ۔اسی وجہ سے پیارے عوام کے غم بھی بہت بڑھ چکے ہیں ۔
عرض ہے کہ پارلیمنٹ اپنا آئینی کردار ادا کر کے پیارے عوام کی اُداسی کو دور کر سکتی ہے ۔اس کے لئے بھی عوام سے رجوع کرنا ہو تا ہے ۔جناب یوسف رضا گیلانی پہلے ہی ٹرین مارچ کی تجویز دے چکے ہیں۔جس دن یہ چل پڑی ،عوام کے قدم اس کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔عید کے بعد اس خوشی کا پیارے عوام کو انتظار رہے گا ۔اگر سازشی ٹولہ شکست کھا جاتا ہے ،تو عوام کے لئے وہ دن بھی کسی عید سے کم نہیں ہو گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *