سوال شکوک اور حل

حق اطلاعات قانون کے دائرے میں کون کون سے محکمے آتے ہیں؟
حق اطلاعات قانون جموں و کشمیر کے علاوہ پورے ملک میں نافذ ہے۔ ایسے سبھی ادارے جن کا قیام آئین کے تحت ، یا اس کے کسی رول کے تحت یا سرکاری کسی نوٹیفکیشن کے تحت ہوا ہو، اس کے دائرے میں آتے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ سبھی اکائیاں، جو سرکار کی ملکیت میں ہوں،سرکار کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی ہویا سرکار کے ذریعہ کلی یا جزوی طور پر فنڈنگ کی جاتی ہو اس میںشامل ہیں۔
جزوی فنڈنگ کا کیا مطلب ہے؟
حق اطلاعات قانون یا دیگر کسی قانون میں جزوی طور سے’ فنڈنگ ‘ لفظ کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ممکن ہے یہ قانون اس معاملے سے جڑے عدالتی فیصلوں کے ساتھ ساتھ واضح ہوجائے ۔
کیا پرائیویٹ اکائیاں بھی حق اطلاعات قانون کے تحت آتی ہیں؟
سبھی پرائیویٹ اکائیاں جو سرکار کی زیر نگرانی کنٹرول کی جاتی ہیں یا جزوی طور پر فنڈنگ کی جاتی ہیں، سیدھے سیدھے اس کے دائرے میں آتی ہیں اور پرائیویٹ اکائیاں بالواسطہ اس کے دائرے میں آتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی سرکاری محکمہ کسی پرائیویٹ اکائی سے کوئی جانکاری لے سکتا ہے تو اس سرکاری محکمہ میں پرائیویٹ اکائی سے جانکاری لینے کے لئے حق اطلاع کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے۔
کیا سرکاری کنفیڈینشل قانون1923 حق اطلاعات کے آڑے نہیں آتا؟
نہیں، حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 22 کے تحت حق اطلاعات قانون، سرکاری کنفیڈینشل قانون 1923 سمیت کسی بھی قانون کے اوپر ہے۔ حق اطلاعات قانون بننے کے بعد صرف وہی اطلاع کنفیڈینشل رکھی جا سکتی ہے جس کی وضاحت اس قانون کی دفعہ 8 میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اطلاع کو کسی قانون کے تحت کنفیڈینشل نہیں کہا جا سکتا۔
اگر کسی معاملے میں اطلاع کا کچھ حصہ کنفیڈیشنل ہو تو کیا مزید جانکاری حاصل کی جا سکتی ہے؟
ہاں، حق اطلاعات قانون کی دفعہ 10 کے تحت اطلاع کے اس حصے کی دستیابی ہوسکتی ہے جس کو دفعہ 8 کے مطابق کنفیڈینشل نہ مانا گیا ہو۔
کیا فائل نوٹنگ کی فراہمی ممنوع ہے؟
نہیں،فائل نوٹنگ سرکاری فائلوں کا ایک اہم حصہ ہے اور حق اطلاع میں اسے فراہم کرانے کی گنجائش ہے۔یہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے ذریعہ 31 جنوری 2006 کے ایک آرڈیننس میں بھی واضح کیا گیا ہے۔
اطلاع حاصل کرنے کے بعد مجھے کیا کرنا چاہئے؟
اس کا کوئی ایک جواب نہیں ہوسکتا۔ یہ اس بات پر منحصر ہوگی کہ آپ کس طرح کی اطلاع مانگ رہے ہیں اور آپ کا مقصد کیا ہے۔ بہت سے معاملوں میں صرف اطلاع مانگنے سے ہی مقصد حل ہوجاتاہے۔ مثال کے طور پر اپنی درخواست کی پوزیشن کی جانکاری مانگنے سے ہی آپ کا پاسپورٹ یا راشن کارڈآپ کو مل جاتاہے۔ اس لئے اطلاع کی مانگ کرنا اور سرکار سے سوال پوچھنا خود ایک اہم قدم ہے ۔اگر آپ نے حق اطلاعات کا استعمال کرکے بد عنوانی یا کھوٹا کو اجاگر کیا ہے ،تو آپ ویجلنس ڈپارٹمنٹ، سی بی آئی میں ثبوت کے ساتھ شکایت درج کر اسکتے ہیں یا ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔
کیا سرکار کے پاس اطلاع کے لئے درخواستوں کا ڈھیر لگ جانے سے جنرل ورک متاثر نہیں ہوگا؟
یہ ڈر بے بنیاد ہے، دنیا میں 68 ملکوں میں حق اطلاعات قانون چل رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس قانون کے پاس ہونے سے پہلے ہی ملک کی 9ریاستوں میں یہ قانون نافذ تھا۔ ان میں سے کسی ریاستی سرکار کے پاس درخواستوں کا ڈھیر نہیں لگا۔ یہ بے بنیاد باتیں ان لوگوں کے دماغ کی پیداوار ہیں، جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے اور وہ پوری طرح بے کار ہیں۔درخواست جمع کرنے کی کارروائی میں بہت وقت، انرجی اور کئی طرح کے وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ جب تک کسی کو واقعی اطلاع کی ضرورت نہ ہو، تب تک وہ درخواست نہیں دیتا۔
قانون کو لاگو کرنے کے لئے کیا بہت زیادہ پیسے کی ضرورت نہیں ہوگی؟
قانون کولاگو کرنے لئے جو بھی پیسہ لگے گا وہ ایک فائدے کا سودا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں خرچ کی گئی ساری رقم،سرکار بد عنوانی اور بد نظمی میں کمی آنے کے سبب اسی سال وصول کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر اس بات کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ راجستھان میں’’ سوکھا راحت مہم ‘‘ اور دہلی میں ’’پروگرام برائے عوامی نظامِِِ تقسیم ‘‘ میں گڑ بڑی کو حق اطلاعات قانون کے استعمال سے بہت حد تک کم کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اطلاع کا حق، جمہوریت کے لئے بہت ضروری ہے۔ یہ ہمارے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ سرکار میں عوام کی حصہ داری ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے عوام یہ جانے کہ کیا ہو رہاہے، تو جس طرح ہم اپنی پارلیمنٹ کو چلنے کے لئے سارے خرچوں کو ضروری مانتے ہیں، حق اطلاعات قانون کو لاگو کرنے کے لئے بھی سارے خرچوں کو ضروری ماننا ہوگا۔
لوگوں کو فالتو درخواست کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
کوئی بھی درخواست فالتو نہیں ہوتی ہے۔ کسی کے لئے پانی کا کنکشن نہ ملنا سب سے بڑا مسئلہ ہو سکتاہے لیکن آفیسر اسے فالتو مان سکتے ہیں۔ نوکر شاہی میں کچھ مفاد پرست طبقوں کی طرف سے فالتو درخواست کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ حق اطلاعات قانون کسی بھی درخواست کو فالتو مان کر نا منظور کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ نوکر شاہوں کا ایک طبقہ چاہتا ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو یہ اختیار دیا جائے کہ اگر وہ درخواست کو بے کار سمجھے تو اسے نا منظور کر دے۔ اگر ایسا ہو تو ہر پبلک انفارمیشن آفیسر ہر درخواست کو بیکار بتا کر نا منظور کر دے گا۔ یہ قانون کے لئے بہت بری صورت حال ہوگی۔ کیا فائلوں پر لکھے جانے والے ریمارکس عام کرنے سے ایماندار افسران اپنی بیباک رائے لکھنے سے نہیں بچیں گے؟ یہ غلط ہے ، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہر آفیسر جب یہ جانے گا کہ وہ جو بھی فائل میں لکھ رہاہے وہ عوام کے ذریعہ جانچ کی جا سکتی ہے تو اس پر عوامی مفاد سے جڑی چیزیں لکھنے کا دبائو ہوگا۔ کچھ ایماندار آفیسر نے یہ قبول کیا ہے کہ حق اطلاعات قانون نے انہیں سیاسی و دیگر کئی طرح کے دبائو سے نجات پانے میں مدد کی ہے۔ اب وہ سیدھے کہہ سکتے ہیں کہ وہ غلط کام نہیں کریںگے، کیونکہ اگر کسی نے اطلاع مانگ لی تو گھوٹالے کا پردہ فاش ہو سکتا ہے۔ آفیسروں نے اپنے سینئروں سے تحریری شکل میں حکم مانگنا شروع بھی کر دیاہے ۔ سرکار فائل نوٹنگ کو حق اطلاعات کے دائرے سے باہر رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ان وجہوں کو دیکھتے ہوئے فائل نوٹنگ دکھانے کو حق اطلاعات کے دائرے میں بنے رہنا بہت ضرور ی ہے۔
کیا لوگوں کو صرف اپنے سے جڑی اطلاع مانگنی چاہئے، انہیں سرکار کے ان محکموں سے جڑی اطلاعیں نہیں مانگنی چاہئیں، جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے؟
قانون کی دفعہ 6(2) میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ درخواست کنندہ سے اطلاع مانگنے کی وجہ نہیں پوچھی جائے گی۔ حق اطلاعات قانون اس حقیقت پر مبنی ہے کہ عوام ٹیکس دیتے ہیں ۔ اس لئے انہیں جاننے کا حق ہے کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے اور اس کا سرکاری نظام کیسا چل رہا ہے۔ دہلی میں رہنے والا کوئی آدمی تامل ناڈو سے جڑی کوئی بھی اطلاع مانگ سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *