اصل ٹارگت صدر زرداری

اعجاز حفیظ خان
بدقسمتی سے پاکستان میں سپنے اور اپنے کم ہی راس آتے ہیں ۔حالانکہ اُس کے ہاتھ میں ایسی کوئی لکیر نہیں ہے ۔لیکن جب اپنے ہی ہاتھ کرنا شروع کر دیں ؟ہمارے وطن کا آج بھی سیاسی منظر نامہ سب کے سامنے ہے ۔سب سے دکھ بھری بات یہ ہے کہ سیاست کس محاذ ہو رہی ہے ؟اگر آج ہمارے کچھ بڑوں کی اس پر سے آنکھیںبند ہیں تو کیاتاریخ نے بھی حالات و واقعات پر چشم پوشی کر رکھی ہے ؟ عرض ہے کہ اُس کی آنکھیں تو ایک لمحے کے لئے بھی بند نہیں ہو تیں۔ کل کوجب اسے بیان کیا جا ئے گا تو اس کی ہچکیاں بھی سنائی دیں گی ۔مسلم لیگ ن کے رہنما جناب خرم دستگیر کہتے ہیں کہ ’’امید ہے کہ پارلیمنٹ 25جولائی کو ہی تحلیل ہو جا ئے گی ‘‘۔یاد رہے کہ اُس دن این آر او کیس کی سپریم کورٹ میں تاریخ ہے ۔انہیں اس قسم کی ’’امید ‘‘کس نے دلائی ہے ؟مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ آج کل پاکستان میں کچھ خواتین و حضرات ڈپریشن کو جیسے کسی پروڈکٹ کے طور پر پھیلا رہے ہیں ۔

وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے بھی انہیں اسی قسم کا مشورہ دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اپوزیشن کی ناشتے سے پہلے اور بعد میں یہی کوشش ہوتی ہے کہ حکومت ختم ہو۔تمام جماعتیں الیکشن کی طرف آئیں ‘‘۔عرض ہے کہ انہیں ’’وہاں ‘‘سے فرصت ملے گی تو وہ الیکشن کی طرف آئیں گے ۔اِن کی اِ ن ’’مصروفیت ‘‘ سے پاکستان کے دل پر کیا گزر تی ہو گی ؟نظیر ؔصدیقی کے شعر میں اس کی کچھ کچھ جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

جناب خرم دستگیر کی جماعت کے صدر پہلے سے ہی وزیراعظم جناب راجا پرویزاشرف کی رخصتی کے بارے میں پیش گوئی کر چکے ہیں ۔کاش کہ ان باتوں کا بھی نوٹس لیا جاتا ۔اگر آج نہیں لیا جا رہا تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ یہ سب کچھ’’ داخل ِ دفتر ‘‘ کر دیا گیا ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ عوام ان باتوں کا نوٹس الیکشن ڈے کو ضرو ر لیں گے۔ویسے بھی سیاست میں آخری فیصلہ عوام کا ہی ہو تا ہے ۔ عرض ہے کہ آج ہمارے کچھ سیاست دان کسی کی محبت میں پوری طرح سے ملوث ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ کل کو…آسیؔ غازی پوری کا ایک شعر نذر ِ قارئین ہے
یہ دونوں ایک ہی ترکش کے ہیں تیر
محبت اور مرگ ِ ناگہانی
یہ وضاحت بھی کرتے چلیں کہ ’’مرگ ِ ناگہانی ‘‘سے ہماری مراد سیاسی موت ہے ۔ہماری تو دعا ہے کہ پرور دگار ان خواتین و حضرات کو لمبی عمر عطا کرے۔ آمین۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کل کو یہ اپنی آنکھوں سے اپنی آج کی کرتوتوں کے انجام کو بھی دیکھیں ۔صرف معصوم اور مظلوم پیارے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کیسی کیسی بیان بازی ہو رہی ہے ۔اب تو دہشت گردی کی طرح گمراہ گردی بھی پاکستان کے لئے ناسور بن گئی ہے ۔چار دن کی زندگی …یہ لوگ کچھ تو خدا کا خوف کریں ۔یاد آیا کہ سردار فاروق لغاری نے اپنی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ختم کرنے سے پہلے اُس وقت کی اپوزیشن سے پہلے ہی اپنی لائن سیدھی کر لی تھی ۔جب میاں نواز شریف صاحب دو یہائی اکثریت سے حکومت میں آ گئے تو اُن دنوں اُن کی پارٹی کے اجلاس میں کسی رکن اسمبلی نے 58ٹو بی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔اس راز کو وقت سے پہلے فاش کرنے پر اُس رکن اسمبلی کی کافی کلاس لے گئی ۔ایک وفد کی صورت میں لغاری صاحب کو یقین دلایا گیا کہ ایسا نہیں ہو گا اور ایک دن جب وہ چوٹی (اُن کے گائوں کا نام )میں تھے ،تو 58ٹو بی کوختم کر دیا گیا اور پھر ایک دن اُن کی لائن ہی کٹ گئی ۔اس کے بعد انہوں نے غم و غصہ میں ’’ملت پارٹی ‘‘کے نام سے ایک پارٹی بھی بنائی ۔آج اُس کے آثار کے لئے محکمہ آثار قدیمہ سے ہی رجوع کیا جا سکتا ہے۔حالانکہ کہ یہ کل ہی کی بات ہے ۔میاں نواز شریف کے اپنے اور سپنے بھی دو تہائی اکثریت پر حیران و پریشان تھے ۔ اُن دنوں اُن کے رفقاء کی دیوانگی بھی دیکھنے والی تھی ۔اس راز پر بھی کبھی بات کریں گے کہ اس کے پیچھے کس کس کی چمتکاری تھی ۔فی الحال تو اصغر ؔگونڈوی کے ایک شعر سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔
اﷲ رے دیوانگیٔ شوق کا عالم
اک رقص میں ہر ذرّہ صحرا نظر آیا
صحرا پر لیلیٰ مجنوں کی یاد تو آئے گی ۔دوسری طرف اس محاذ پر ہمارے ہیر رانجھا بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔لیکن ہمارے سیاست دشت کس کی نظر لگ گئی ہے کہ ہیر اور رانجھا تو کہیں نظر نہیں آتے البتہ کیدئوں سے یہ میدان جیسے ہائوس فل ہو ۔بھٹو صاحب اور شہید رانی نے ہماری بے رحم سیاست میں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اسے رومانیت کا بھی درجہ دیا تھا ۔آج نام نہاد انقلاب پسندوں نے جیسے اُسے ختم کرنے کا تہیہ کر رکھاہے۔ہر ایک کے بٹوے میں اُس کا انقلاب چھپا ہوا ہے ۔نیٹو سپلائی بھی کھل گئی ۔ شاید ہمارے انقلابیوں تک یہ خبر نہیں پہنچ سکی ہے ۔عرض ہے کہ پیارے عوام کو بیوقوف بنانے کا نام انقلاب نہیں ہے ۔مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ جو لوگ انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں ،اصل میں انقلاب ان لوگوں کے خلاف آنا چاہیے ۔ان کی ہٹ دھرمی سے پاکستان کی بقا و سلامتی کو خطرہ لا حق ہو گیا ہے ۔ان کا ایجنڈا ملک کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے ۔جہاں یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی کے ہر آنے والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا جا ئے گا ،ایسی سیاسی ماحول میں سرمایہ کاری کون کرے گا؟سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری 65.6 فیصد کم ہو گئی ہے ‘‘۔کیا ہمارے آج کے ہیروز کو اس تلخ حقیقت کا علم نہیں ہے ؟عدم ؔ کا ایک شعر بھی نذر ِ قارئین ہے
لوگ یزداں کو بیچ دیتے ہیں
اپنا مطلب نکالنے کے لئے
ایسے لوگ کسی بھی ریاست کے لئے کسی روگ سے کم نہیں ہوتے ۔ہمارا اپوزیشن کو مشورہ ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ سیاسی میدان میں لوٹ آئے ۔وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے بھی انہیں اسی قسم کا مشورہ دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اپوزیشن کی ناشتے سے پہلے اور بعد میں یہی کوشش ہوتی ہے کہ حکومت ختم ہو۔تمام جماعتیں الیکشن کی طرف آئیں ‘‘۔عرض ہے کہ انہیں ’’وہاں ‘‘سے فرصت ملے گی تو وہ الیکشن کی طرف آئیں گے ۔اِن کی اِ ن ’’مصروفیت ‘‘ سے پاکستان کے دل پر کیا گزر تی ہو گی ؟نظیر ؔصدیقی کے شعر میں اس کی کچھ کچھ جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
بے سبب جی نہیں نڈھال اپنا
پھر کہیں دل نے چوٹ کھائی ہے
یہ بھی بتاتے چلیں کہ دل پہ کسی کے چوٹ لگتی ہے ،درد کسی اور دل میں بھی ہوتا ہے ۔یارلوگوں کا درد ِ حقیقی زرداری صاحب کی صدارت ہے ۔ پہلے یہ اپنے ٹارگٹ کی طرف آہستہ آہستہ جا رہے تھے ۔اب کچھ تیز ہو گئے ہیں ۔زرداری صاحب کے بارے میں چار سال سے پیش گو ئیوں کا بھی ایک سے بڑھ کر ایک بازار سجا ہوا ہے ۔ہر سال جس میں کچھ نیا سودا آجا تا ہے۔میرا سیاسی تجزیہ ہے کہ اُن سے یہ قلعہ سر نہیں ہو سکے گا ۔وہ اس کا خواب ضرور دیکھیں ،دن رات دیکھیں لیکن کچھ خواب ڈرائونے بھی تو ہوتے ہیں۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *