راجیش کھنہ کاجانا۔۔۔۔۔

مہیش بھٹ
ایک دن پھول آنے بند ہوگئے جو ٹرکوں میں بھر بھر کر آتے تھے۔ گھر کا ایک انچ حصہ بھی ایسا نہیں ہوتا تھا، جو پھولوں سے بھرا ہوا نہ ہو۔ میرا پورا گھر ایک خوشبودار باغیچہ بن جاتا تھا۔ اور اس کے بعد، ایک برتھ ڈے پر کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک گلدستہ بھی نہیں۔ یہ وہ دن تھا، جب میں نے محسوس کیا کہ میری زندگی کے بہترین سال اب پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب وہ وقت پلٹ کر آنے والا نہیں ہے… میں دوبارہ کبھی راجیش کھنہ نہیں بن سکوں گا۔‘‘ یہ وہ الفاظ تھے جو راجیش کھنہ نے اپنے چہرے پر ایک شکست خوردہ انسان کی مانند ہلکی سی مسکان کے ساتھ، ان درد بھرے لمحوں کو یاد کرتے ہوئے مجھ سے کہے تھے۔
پٹنہ سے بذریعہ ہوائی جہاز ممبئی آتے ہوئے ایک بار میری ملاقات راجیش کھنہ سے ہوئی۔ وہ ایک ایسے بادشاہ کی طرح نظر آ رہے تھے، جس کی کوئی سلطنت نہ بچی ہو۔ لیکن غم زدہ ہونے کے باوجود بھی ان کے اندر کا جاہ و جلال نظر آرہا تھا۔
راجیش کھنہ جس طاقت و توانائی کے ساتھ بولتے تھے، اس سے میں کافی متاثر تھا۔ ایسا ہونا لازمی بھی تھا، کیوں کہ میرے سامنے وہ شخص تھا، جسے میں نے اس کی شہرت کی بلندی کے زمانے میں دیکھا تھا۔ یہ زمانہ 1970 کا تھا، جب میں نے راج کھوسلا کی آئیکونک فلم ’دو راستے‘ میں بطور معاون پروڈیوسر اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ یہ فلم راجیش کھنہ کے سپراسٹار بننے کی شروعات تھی۔ مجھے وہ دن یاد ہے، جب ممبئی کے جوہو میں واقع سن این سینڈ ہوٹل میں ’دو راستے‘ فلم کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی اور آنند بخشی، لکشمی کانت اور راج کھوسلا وہاں بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے، اور ہم جیسے لوگ کھانے پینے سے متعلق ان لوگوں کی ضروریات کو پوری کرنے میں ان کی مدد کر رہے تھے۔ اس محفل میں ہندوستان کے اب تک کے سب سے بڑے شو مین، راج کپور، جو اپنی فلم ’میرا نام جوکر‘ کی ناکامی کی وجہ سے اُداس نظر آرہے تھے، میں نے ان کی زبان سے سنا کہ وہ راجیش کھنہ کو اپنی اگلی فلم میں لینے کی التجا کر رہے تھے، اور اس طرح اپنی ناکامی کے درد کو ہلکا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں راجیش کھنہ نے راج کپور سے کہا کہ ’’سر، مجھے میرے اسٹارڈم کی سزا مت دیجئے، پلیز۔ آپ مجھ سے جس طرح بات کر رہے ہیں، اس سے مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ آپ جیسا ایک بڑا فنکار مجھ سے ایسے بات کرے، مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ آپ مجھے حکم دیجئے، میںآپ کی فلم میں ایکسٹرا کا رول بھی کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
یہ تھا راجیش کھنہ کا اسٹارڈم۔ جب وہ اُس دن پارٹی میں آئے تھے، اس وقت میں ’ہی۔مین‘ دھرمیندر کو وہسکی پیش کر رہا تھا۔ دھرمیندر نے ہماری آنے والی اگلی فلم ’میرا گاؤں، میرا دیش‘ میں کام کرنا شروع کیا تھا۔اچانک، راجیش کھنہ کمرے میں داخل ہوئے۔ کمرے میں موجود سبھی لوگ ان کی طرف بھاگے اور ایک کونے میں دھرم جی کے ساتھ میں اکیلا رہ گیا۔ دھرم جی نے اس نظارہ کو رشک بھری آنکھوں سے اس طرح دیکھا جیسے کوئی تیز چمکدار بلب اچانک بجھ گیا ہو، انہوں نے میری طرف گھوم کر آہستہ سے کہا ’اسے ہی میں سپر اسٹار کہتا ہوں!‘
لیکن جس طرح اساطیری کردار ’ایکارس‘ کی کہانی اس کے زوال کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، اسی طرح راجیش کھنہ کی کہانی بھی ان کے ’سپر اسٹار‘ بننے کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ مجھے دو سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ میں کولکاتہ ایئرپورٹ پر دیر رات جانے والی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک خوبصورت دکھائی دینے والا گراؤنڈ اسٹافر میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ ہمارے جیسے موجودہ فلم ساز پرانے زمانے کے آئیکنس (عظیم فنکاروں) کی دیکھ بھال کیوں نہیں کرتے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ’’سر، ہمیں یہ دیکھ کر کافی صدمہ پہنچا کہ راجیش کھنہ، جنہیں ہم پیار کرتے ہیں، ایئرپورٹ لاؤنج میں بیٹھے ہوئے بری طرح رو رہے تھے اور پوری طرح نشے کی حالت میں تھے۔کیا آپ لوگ ایسا کوئی سسٹم نہیں بنا سکتے کہ ماضی کے اسکرین آئڈلس کی حفاظت کی جاسکے؟ انہیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے، سر۔ یہ لوگ ہماری قومی وراثت ہیں۔ ہماری یادداشتیں ان سے جڑی ہیں۔‘‘
دانائی ہمیشہ عام آدمی کے ہونٹوں سے بولتی ہے۔ لیکن بہت ہی سچی، کڑوی، حساس بات کہنے والا یہ نوجوان آدمی ’شو بز‘ کے بارے میں شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ جب کیمرے کی لائٹ کسی آدمی کے اوپر سے بند ہو جاتی ہے، تو وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسے کوئی نہیں دیکھتا۔ یہ اکیلے پن سے اکیلے پن تک کا سفر ہے، جب تک کہ وہ آدمی اپنی بازیافت نہ کر لے، یعنی خود کو پھر سے اس چمکتی دنیا میں نہ منوالے جو ماضی میں اسٹار ہوا کرتا تھا، جیسا کہ کچھ لوگوں نے کیا ہے۔ وہ اگر ایسا نہیں کرتا کہ تو اس کی چمک بھی اسی طرح ماند پڑ جاتی ہے جیسے ایک ٹوٹے ہوئے تارے کی۔ یہ ایسا کاروبار ہے جو آپ کو چوس کر سڑک کے کنارے تھوک دیتی ہے۔ اس سیارہ کا نام بالی ووڈ ہے۔ ماضی میں جتنے بھی لوگ اونچے مقام تک پہنچے ہیں، ان کے مرنے کے بعد ہی تاریخ کے کوڑے دان سے انہیں اٹھا کر ان پر کچھ لکھا گیا ہے۔
راجیش کھنہ کی موت نے میڈیا کو، صحافیوں اور کیمرہ کروز کو 36 گھنٹے سے زیادہ وقت تک مصروف رکھا۔ ان کو شہرت کی بلندی پر ایک بار پھر سے دیکھنے کو ملا تو ان کی موت پر، یعنی وہ شہرت، وہ اسٹارڈم پانے کے لیے انہیں مرنا پڑا۔ ان کی وہ ’شان و شوکت‘ جس نے ان کا ساتھ سالوں پہلے چھوڑ دیا تھا، اسے دوبارہ دیکھنے کا موقع صرف ان کی موت پر ہی ملا۔ شہرت کی نامراد دیوی ایک بار پھر ان کے گھر ’آشیرواد‘ پر دیکھنے کو ملی، یہ گھر ستر کی دہائی میں فلم انڈسٹری کی نامی گرامی شخصیتوں کے لیے ایک مقدس مقام جیسا درجہ رکھتا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ راجیش کھنہ ایک کلچرل آئیکن تھے۔ فلموں کی دنیا میں ان کا کارنامہ ہندوستانی سنیما کے اس مخصوص زمانے کی نشاندہی کرتا ہے جو معصومیت اور رومانس سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے پائیدار محبت اور اچھائی کی جیت کی کہانی کو اس وقت تک زندہ رکھا، جب تک ’اینگری ینگ مین‘ امیتابھ بچن نے سلیم- جاوید کی ’دیوار‘ اور ’زنجیر‘کے طرز اظہار سے اسے ختم نہیں کردیا۔ یہیں سے سپر اسٹار کے طور پر راجیش کھنہ کے زوال کی شروعات ہوتی ہے۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ بڑے لوگ دو بار مرتے ہیں، ایک بار تب، جب ان کی عظمت کا خاتمہ ہوتا ہے اور دوسری بار تب، جب خود ان کی اپنی موت ہوتی ہے۔اور ان دونوں موتوں کے درمیان فاصلہ اگر بہت زیادہ ہو، تو اس آدمی کو بے انتہا اذیت و کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔عوام کے ہر دل عزیز ہیرو کے طور پر، راجیش کھنہ کی دھیمی اور دردناک موت ہمیں وقت اور موت کے گزرنے کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ راجیش کھنہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کا تعلق ان سے زیادہ ہم سے ہے۔ دوسرے کی موت ہم کو ہمیشہ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمیں بھی ایک دن مرنا ہے، اسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔ میری نسل کے لوگوں کے لیے راجیش کھنہ کی موت ایک بہت بڑا نقصان ہے، کیوں کہ ہماری زندگی کی شروعات ان کے سپر اسٹارڈم کے پس منظر میں شروع ہوئی۔ اور ان کے مرنے سے، ہمارے اندر بھی کچھ ضرور مرا ہے۔ انسانی نسل ہیرو پیدا کرتی ہے تاکہ وہ ہمیں موت کی دہشت سے دور رکھ سکیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ان کے جیسا ہیرو، جن کی فلموں نے ہمیں مسحور کیا، وقت کے اندھیرے میں کہیں گم ہو جائے۔ ان کے مرنے کے ساتھ ہی ہماری اس اساطیری کہانی کی بھی موت ہو جاتی ہے کہ اسے کبھی مرنا نہیں ہے۔
راجیش کھنہ کی موت نے خود ہماری موت کے خوف کو ہمارے شعور کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے۔ اس بڑے واقعہ سے باہر نکلنے میں ہمیں کافی وقت لگے گا۔ میرے لیے اور ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے لیے، موت کی سچائی کے ساتھ جینا ایسا ہی ہے جیسے یہ سمجھنا کہ ہم کار کو ایسی سڑک پر چلا رہے ہیں، جو سیدھے ایک چٹان کی طرف جا رہی ہے۔ راجیش کھنہ نے کچھ دیر کے لیے اس چٹان کے خیال کو ہم سے دور کر دیا تھا، لیکن اب جب کہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، ایسا لگ رہا ہے کہ وہ چٹان اب قریب آنے والی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *