قرآن، کمپیوٹر معجزہ

وصی احمد نعمانی
اللہ رب العزت نے قرآن کی شکل میں انسانیت کو ایک بہت بڑی دولت اپنے محبوب کے توسط سے عنایت فرمایا۔یہ پوری کتاب ہر قوم اور ہر زمانہ میں انسانی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے۔اس کے ساتھ یہ بات بھی طے ہوجاتی ہے کہ ہر زمانہ میں ان کی ضرورت کے مطابق بے شمار مسائل پیدا ہوں گے یا پیدا کئے جاتے رہیں گے ۔تو کیا ہر زمانہ میں سوال کا جواب اس کتاب اللہ میں ملے گا۔ اس کا جواب بہت صاف طور پر ملتا ہے کہ ہر زمانہ کے ہر سوال کا جواب اس کتاب میں ملتا ہے ۔ موجودہ وقت جس کو سائنس و ٹکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے اس میں تمام چیلنجز کا جواب ملتا ہے ۔ سائنس و ٹکنالوجی کے اس شاندار زمانہ میں سب کچھ ایک چھوٹی سی مشین میں موجود ہے اور تمام سوالوں کا جواب ، ہر مسئلہ کا حل اس چھوٹی سی ننھی سی مشین سے مل جاتا ہے ۔ہم سب اس مشین کو کمپیوٹر کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ خدا کی کرشمہ سازی کی ایک معمولی سی علامت ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ کمپیوٹر نہیں بلکہ کائنات کی خدائی عظیم الشان رہنما ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔

صحابہ کی ایک جماعت وحی لکھنے پر لگی رہی۔ ایک جماعت حفظ کرنے پر مامور رہی۔ اس سخت حالت میں کسی انسان کا ذہنی دخل نہیں تھا کہ وہ قرآن کے حروف کے مابین ایک معتبر تعلق اور رشتہ قائم کرکے حروف و اعراب وغیرہ کو گن کر ان کی تعداد وغیرہ کو بتا سکے۔ اب یہ رشتہ ،الفاظ ،حروف ، آیات وغیرہ میں بہت حتمی طور پر ملتاہے اور یہ آپسی رشتہ ایسا مکمل ہے کہ انسانی عقل و شعور جواب دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے بس کا کام نہیں تھا۔ ان حروف ، آیات ، اعراب ، حروف مقطعات وغیرہ کے سائنسی اور ریاضی فارمولے جو اب کمپیوٹر کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں وہ سب اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ آج کا سائنس داں خود اپنے ایجاد کردہ کمپیوٹر سے جو نتیجہ نکالتا ہے ۔ اس سے وہ خود دنگ رہ جاتا ہے ۔ اس کے سامنے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ہے کہ وہ تسلیم کرے کہ قرآن تو ایک زندہ معجزہ ہے ۔

اس سائنس و ٹکنالوجی کے عجیب و غریب دور میں جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں کمپیوٹر نے اپنے تیز دماغ کی وجہ سے ایک معتبر مقام بنا لیا ہے وہیں اس قرآن کے شیدائیوں کے لئے اس نے ایک اہم سفر کی شروعات کردی ہے۔لہٰذا قرآ ن کے مفکروں ، دانشوروں اور اہل حکمت نے کمپیوٹر کا استعمال قرآنی معجزات کو جاننے اور پرکھنیکے لئے کرنا شروع کردیا ہے اور اس چھوٹی سی مشین نے قرآن کے ان کرشموں کو آشکار کرنے میں ایسی مدد دی جس کا تصور بھی کرنا دشوار گزار کام تھا۔ کمپیوٹر کی اس کامیابی کے پیش نظر یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدانے روشنی ،روشنی کی لکیروں،مقناطیسی اور برقی قوتوں کے استعمال میں بھی اپنی کیسی کیسی کبریائی کو پنہاں کر رکھا ہے اور اپنی نشانیوں کو سمجھنے والوں کے لئے کھول دیا ہے۔ایسا ہی کچھ احساس ہوتا ہے کمپیوٹر کی کارکردگی کو بنیاد مان کر اللہ کی کتاب میں مخفی بہت سے راز کو سمجھنے میں اور کیوں نہ ہو، آخر کمپیوٹر میں استعمال ہونے والا ہرذرہ تو اسی پروردگار عالم نے ہی تخلیق کی ہے تو بھلا ان طاقتوں پر منحصر کام کرنے والا کمپیوٹر کیوں نہ اس بات کی گواہی دے کہ قرآن صرف اللہ کی کتاب ہے ۔ اسے دنیا اور کائنات کی کوئی دوسری طاقت لکھ ہی نہیں سکتی ہے۔چنانچہ قرآن اور سائنس کے میدان میں کام کرنے والے بے شمار لوگوں کو اس نے توفیق دی اور کہا کہ ذرا تم اس وقت کی سب سے طاقتور اور اہم ننھی منھی سی مشین کا استعمال قرآن کی کرشمہ سازیوں کو جاننے یا انہیں آشکار کرنے میں کرکے دیکھو اور لوگوں نے دیکھا اور پھر وہ سر جھکا کر صرف یہ کہہ پاتا ہے کہ اے رب العزت راز کا جاننے والا تو ہی تو ہے۔ مگر جسے تو توفیق عطا کرتا ہے وہ تمہاری کچھ نشانیوں کو سمجھ کر تیری بے پناہ عنایتوں کے دامن میں پناہ حاصل کر لیتا ہے۔ کمپیوٹر بھی ایک ایسا ہی ذریعہ ہے لہٰذا سائنس دانوں نے کمپیوٹر کی مدد سے قرآن کریم کے حروف ، اعراب ، الفاظ آیتیں تک کو گن ڈالا۔اور یہ کام امریکہ ، مصر ،ایران وغیرہ میں بڑے پیمانہ پر کیا جانے لگا جس کے نتیجہ میں ان کے درمیان ایک عجیب و غریب نظم اور باہمی ربط معلوم ہوا ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ قرآن انسان کا کلام ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ اس کا نزول حضور پر 23 سال میں ضرورت کے مطابق ہوتا رہا۔ اسی درمیان دین کے فروغ کے لئے حضور کو ’’جہاد ‘‘ جیسے اہم مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ اسلام کی تبلیغ، رہن سہن، اسلامی معاشرہ کی بنیاد ڈالنے میں آقا کا وقت لگتا رہا۔ساتھ ہی قرآن کریم کی حفاظت کا بھی بندو بست کرتے رہنا پڑا۔ صحابہ کی ایک جماعت وحی لکھنے پر لگی رہی۔ ایک جماعت حفظ کرنے پر مامور رہی۔ اس سخت حالت میں کسی انسان کا ذہنی دخل نہیں تھا کہ وہ قرآن کے حروف کے مابین ایک معتبر تعلق اور رشتہ قائم کرکے حروف و اعراب وغیرہ کو گن کر ان کی تعداد وغیرہ کو بتا سکے۔ اب یہ رشتہ ،الفاظ ،حروف ، آیات وغیرہ میں بہت حتمی طور پر ملتاہے اور یہ آپسی رشتہ ایسا مکمل ہے کہ انسانی عقل و شعور جواب دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے بس کا کام نہیں تھا۔ ان حروف ، آیات ، اعراب ، حروف مقطعات وغیرہ کے سائنسی اور ریاضی فارمولے جو اب کمپیوٹر کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں وہ سب اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ آج کا سائنس داں خود اپنے ایجاد کردہ کمپیوٹر سے جو نتیجہ نکالتا ہے ۔ اس سے وہ خود دنگ رہ جاتا ہے ۔ اس کے سامنے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ہے کہ وہ تسلیم کرے کہ قرآن تو ایک زندہ معجزہ ہے ۔
آئیے کچھ ایسے کمپیوٹر کے کارناموں کو دیکھیں اور سوچیں کہ زمانہ تو کسی چیز کو ایجاد کرکے اپنا کارنامہ سمجھتا ہے مگر ان کی ایجاد کردہ کارنامہ خود خدا کی ملکیت اور اس کی بادشاہت کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کی ایجاد نے بھی خدا کی کتاب کو صرف اس کی کتاب ہونے کی دلیل پیش کی ہے۔مصر کے سائنس داں ’’ ڈاکٹر ارشاد خلیفہ‘‘ نے سالہا سال کی محنت اور ریسرچ و تحقیق کی بنیاد پر الیکٹرانک آلات سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ بے انتہا حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی ہر سورہ کے ابجدی اعداد و شمار بھی فراہم کئے ہیں۔ سورتوں کے حروف، اعراب ، آیات وغیرہ کی تعداد نوٹ کرکے لاکھوں کی تعداد میں ڈاٹا کمپیوٹر میں فیڈ کیا اور یہ عمل انہوں نے قرآن کریم کی کل 114 سورتوں پر اپنایا تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے حروف اور سورتوں و آیات میں ایک گہرا تعلق اور سائنسی رشتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہے۔ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم میں کل چار الفاظ ہیں ’’ اسم، اللہ ، الرحمن، الرحیم‘‘۔ان چاروں الفاظ کو پورے قرآن میں تحقیق کرکے کمپیوٹر میں فیڈ کردیا اور یہ نتیجہ نکالا کہلفظٖ اسم قرآن میں 19 بار آیا ہے۔ لفظ اللہ قرآن میں 2698 بار آیا ہے۔الرحمن 57 بار آیا ہے۔الرحیم 114 بار آیا ہے۔ ان چاروں الفاظ کی پوری کی پوری تعداد 19 کے ہندسے منقسم ہوجاتی ہے ۔ پورے قرآن میں ان چاروں الفاظ کی تعداد کسی جگہ بھی کم و بیش کردی جائے تو اس لفظ کی تعداد 19 سے پوری طرح منقسم نہیں ہوگی اور یہ پتہ چل جائے گا کہ کسی نے ان الفاظ کے ساتھ قرآن میں تحریف کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ یعنی یہ ہندسہ ’’19‘‘ قرآنی کمپیوٹری نظام میں ایک انٹرلاگ سسٹم ہے جو قرآن کے ان الفاظ میں ،ان کی تعداد میں کسی بھی ہیرا پھیری کا پردہ فاش کردے گا۔ کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ ایک ایسی مشین ایجاد ہوگی جو ثبوت پیش کرے گی کہ قرآن جیسی کتاب کو ما فوق الفطرت کے علاوہ کوئی تخلیق نہیں کرسکتاہے۔ حضرت ابو بکر فرماتے ہیں کہ ہر ایک کتاب میں ایک راز ہوتا ہے اور قرآن کریم کا راز وہ حروف مقطعات ہیں جو الگ الگ پڑھے جاتے ہیں جیسے الم،حم، ق ن وغیرہ۔19 کا یہ ہندسہ جس کے بارے میں اوپر بیان کیا گیا یہ بذات خود قرآن حکیم کی لفظی ترکیبات کے اعجاز کا روشن ثبوت ہے۔ اور اس سے یہ سچائی سامنے آتی ہے کہ چاہے جیسیجدید ترین مشین ایجاد کر لی جائے وہ قرآن کی حقانیت کو بیان کرے گی ۔کیونکہ پورے قرآن مجید کے حروف ایک خاص حساب کے مطابق ہیں ۔ لاکھوں حروف میں سے صرف ایک کا فرق بھی اس کے حساب کو بگاڑ دیتا ہے۔ حساب کی اس حد تک درستگی اس دور میںمسلم اور غیر مسلم دونوں کے لئے ایک طرف تو یہ ثبوت فراہم کرتی ہے کہ قرآن مجید ساڑھے چودہ سو سال گزرجانے کے بعد بھی ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے۔
اس ہندسہ 19 کے بارے میں خود قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے کہ’’ اس کے اوپر 19 ہے‘‘۔کچھ علماء نے ترجمہ کیا کہ اس پر 19 فرشتے مقرر ہیں (سورہ74، آیت نمبر30) مگر یہاں ہندسہ 19 کی اہمیت کو اجاگر کرنا مقصودہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ قرآن کریم میں کل 114 سورہ ہیں جو ہندسہ 19 سے پوری طرح تقسیم ہوجاتے ہیں۔ اللہ نے اس نکتہ پر بھی قرآن کی حقانیت کو واضح کیا ہے ۔وہ یہ ہے کہ 114 سورہ میں سے ایک سورہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے۔ گویا کہ صرف 113 سورتوں کے شروع میں بسم اللہ ہے ۔ مگر یہ 113 تو 19 کے ہندسہ سے تقسیم نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے ایک بسم اللہ کا اضافہ سورہ نمل چیپٹر 27 آیت نمبر 30 میں کرکے 19 سے تقسیم ہونے کے لائق بنا دیا۔یعنی بسم اللہ کا جو عدد113 تھا اسے 114 کردیا گیا تاکہ 19 کے ہندسہ سے تقسیم ہوسکے۔ آج قرآن کے شیدائی اور مخالفین بھی اس سائنس و ٹکنالوجی کے دور میں مختلف قسم کی سائنسی ریسرچ میں مشغول ہیں اور اس بات کا ریاضی کی مدد سے حساب لگا یا جارہا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ قرآن مجید میں کون کون سے الفاظ اور کلمات حروف اور اعراب کتنی بار آئے ہیں۔ اور کیوں آئے ہیں ،ان میں کیا حکمت ہے۔ مثال کے طور پر یہ بات دریافت کی جارہی ہے کہ قرآن مجید کی جن سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں ان حروف مقطعات کا ہر حرف اس سورت میں یا تو 19 بار آیا ہے یااتنی مرتبہ ضرور آیا ہے کہ وہ نمبر 19 سے پوری طرح منقسم ہوجائے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں ہر جگہ قوم لوط کا استعمال گیا ہے مگر صرف ایک جگہ بجائے قوم لوط کے اخوان لوط کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ استعمال سورہ ق نمبر 50 آیت نمبر 13 میں کیا گیا ہے’’ اور لوط کے بھائی اور ایکہ والے اور بتع کی قوم نے بھی جھٹلایا‘‘۔اگر قوم لوط کی جگہ اخوان لوط کا استعمال نہیں ہوتا تو ایک ’قوم لوط ‘کی زیادتی کی وجہ سے 19 سے تعداد نہیں کٹتی۔ اس طرح خدا نے ہر جگہ الفاظ اور اعراب وغیرہ کو انٹر لاکنگ سسٹم سے جوڑ رکھا ہے۔ ورنہ سورہ ق میں حرف قاف کا نمبر 19سے تقسیم نہ ہوکر19 کے ہندسہ کو بے اثر کردیتا۔ اب اگر ایک ق بھی کوئیگھٹا بڑھا دے تو خود آیات پکڑ میں آجائے گی ۔اگلی مثال سورہ ن کی ہے ۔ اس حرف کا استعمال سورہ نون میں 133 بار ہوا ہے جو 19 کے ہندسہ سے تقسیم ہوجاتا ہے۔ اس لئے پورے سورہ میں کسی بھی ایک ن کا اضافہ یا اخفا کردیا جائے تو تحریف فوراً پکڑ میں آجاتی ہے۔ خود قرآن کی پہلی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم میں کل 19 حروف ہیں ۔ ایک حرف کی زیادتی یا کمی قرآن میں کسی طرح کی ہیرا پھیری کی پکڑمیں مدد کرتی ہے۔
قرآن میں کل حروف مقطعات 14 ہیں۔ اور حروف مقطعات کے میل سے بننے والی سورہ بھی 14 ہی ہیں مگر اس طرح کی سورتوں کے نام کے اعتبارسے ان کی تعداد 29 ہوتی ہے۔ اگر حروف مقطعات ،ان کے میل سے بننے والی سورتوں کی تعداد اور نام کے اعتبار سے کل تعداد کو جوڑ دیں تو 57=14+14+29 بنتے ہیں اور یہ مجموعی تعداد 19 کے ہندسہ سے پوری طرح تقسیم ہوجاتی ہے ۔ اس طرح اگر حروف مقطعات ، یا سورہ مقطعات یا ان کے ناموں کی تعداد میں کسی طرح بھی کم و بیش کردیں تو بھی اس طرح تحریف پکڑ میں آجاتی ہے اور یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ خدا کی حکمت نے قرآن کریم کو ہر طرح سے محفوظ کر رکھا ہے اور قیامت تک محفوظ رہنا ہے۔اس سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں خدا نے موقع دیا کہ آج جس مشین پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا جاتا ہے وہی مشین قرآن کی حقانیت اور اللہ کی کتاب ہونے کی گواہی دیتی ہے اور آج کمپیوٹر کا جواب بھی یہی ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *