مشاعرے سے ادب کی خدمت نہیں ہوتی

مخصوص لب و لہجہ اور سلیس انداز بیان جناب ملک زادہ جاوید کو دیگر شعراء سے منفرد کرتا ہے۔ شاعری میں عام فہم الفاظ کا استعمال کرنے کی وجہ سے ہی انھوں نے اپنے والد ملک زادہ منظور سے الگ پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔آج شعر و ادب کی دنیا میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔گزشتہ دنوں چوتھی دنیا نے ان کا ایک انٹرویو لیا جس کو قارئین کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔
محترم ہمارے قارئین کو اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ہماراتعلق تعلیمی گھرانہ سے ہے۔ میرے والد محترم پروفیسر ملک زادہ منظور کی وجہ سے ادباء و شعراء کا ہمارے یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ہم نے دور طالب علمی سے اپنے گھر میں علمی خوشبو محسوس کی ہے،اس لئے ابتدا سے ہی میرے اندر شعر و ادب سے دلچسپی رہی۔جب میں لکھنؤ یونیورسٹی میں بی اے پارٹ وَ ن ْمیں تھا تو طلبا نے ’’ بزم ادب‘‘ نام سے انجمن بنائی اور اس کا مجھے سکریٹری بنا دیا۔ ایک دن میرے ایک استاد شبیہ الحسن نے کہا کہ آپ لوگ بزم ادب چلا رہے ہیں تو اس کے تحت کچھ نہ کچھ اردو کا کام ہونا چاہئے تاکہ لگے کہ آپ لوگ اردو کے طالب علم ہیں۔انہوں نے خاص طور پر مجھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ اس انجمن کے سکریٹری ہیں تو عملی طور پر کچھ کریں ،صرف کاغذی سکریٹری بن کر نہ رہیں۔ ان کی بات مجھے سچائی پر مبنی لگی ۔میں نے سوچا کہ اردو کا کام شعر و شاعری میں طبع آزمائی کرکے شروع کیا جائے کیونکہ میں نے بچپن سے شعر و شاعری کی لطافت کو اپنے گھر میں محسوس کیا ہے چنانچہ گریجویشن سے ہم نے شعرو شاعری کا آغاز کیا،میں چونکہ لکھنئو میں رہتا تھا ۔لکھنؤ ایک ادبی جگہ ہے ۔یہاں طرحی مشاعروں کا بہت رواج تھا ۔ میں ان مشاعروں میں جاتا اور اپنے اشعار پیش کرتا ۔اس طرح مجھے اپنی اس کوشش کو نکھارنے کا پورا موقع ملا
آپ نے شعرو شاعری کی شروعات کرنے میں کوئی دقت محسوس کی؟
کسی بڑے سایہ دار پیڑ کے نیچے چھوٹے پودے کا پنپنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ میں جو شعر کہتا تھا تو لوگ اسے بڑی شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عام طور پر لوگ یہ شک کرتے تھے کہ ابا نے شعر لکھ کر مجھے دے دیا ہوگا۔ سامعین کا یہ شک میرے سامنے ایک چیلنج تھا۔مجھے اپنی شناخت بنانی تھی۔ میں نے غور کرنا شروع کیا کہ کوئی ایسا طریقہ اپنا نا چاہئے جس سے سامعین کا یہ شک دور کیا جاسکے چنانچہ میں نے والد محترم کے شعری انداز سے ہٹ کر طبع آزمائی شروع کی۔میرے والد کلاسیکل غزل کی نمائندگی کرتے تھے۔میں نے کلاسیکل غزل سے ہٹ کر ایسے اشعار شروع کیے جس میں جدت پسندی کا اثر ہو۔اس کے علاوہ میں نے ڈاکٹر بشیر بدر کے مشورہ پر عام فہم اور سادہ الفاظ کا استعمال کرنا شروع کیا۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ میری شاعری میں عام فہم الفاظ جدت پسندی سے متاثر نظر آئیں گے۔اس کے بعدعوام نے مجھے ایک علیحدہ شناخت کے ساتھ قبول کیا اور اشرفی صاحب نے ’اردو تاریخ ‘میں اور جامعہ ملیہ کے پروفیسر کوثر مظہری نے ’جواز و تنقید‘ میں میرا نام شامل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ والد سے الگ ڈگر طے کرنے کے بعد ہی مجھے ادب اور شاعری میں قبول کیا گیا۔
شعر و شاعری کی کس صنف نے آپ کو زیادہ متاثر کیا؟
ہر میدان میں زور آزمائی کرنے کی وجہ سے ایسے شاعر کا تعارف چوں چوں کا مربہ بن کر رہ جاتاہے۔ مجھے لگا کہ ایک آدمی کی شناخت کسی ایک میدان میں ہی ہونی چاہئے۔چنانچہ میں نے اپنی شناخت غزل گو کی حیثیت سے کرانے کی کوشش کی ہے۔
شاعرات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
بہت خراب رائے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچاس سال سے کم عمر کی شاعرات میں 90 فیصد شاعرات اپنا کلام پیش نہیں کرتی ہیں۔ کسی دوسرے کے اشعار کو خوش الحانی سے پیش کرکے واہ واہی لوٹتی ہیں بلکہ منور رانا نے تو یہاں تک کہا ہے کہ 100 فیصد خواتین دوسروں کے اشعار پیش کرتی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ سب کی سب نہیں بلکہ دس فیصد اپنے اشعار پیش کرتی ہیں۔
مشاعروں میں دو طرح سے اشعار پیش کیے جاتے ہیں۔تحت اللفظ اور ترنم۔ دونوں میں ادب کے قریب کس کو مانتے ہیں؟
تحت اللفظ کا حال تو یہ ہے کہ پاکستان میں اگر آپ کسی اسٹیج پر ترنم میں شعر پیش کرتے ہیں تو آپ کا آدھا نمبر وہیں کٹ گیا البتہ یہ مزاج ہمارے ملک میں نہیں ہے مگر میں جہاں تک سمجھتا ہوں کہ ترنم ہلکی پھلکی شاعری کو بھاری بھرکم بنا کر سامعین میں واہ وہی لوٹنے کا ایک بہترین ذریعہ بنا ہوا ہے۔جبکہ تحت اللفظ میں کہے گئے اشعار اس وقت تک سامعین کو محظوظ نہیں کرسکتے جب تک کہ اشعار معیاری نہ ہوں۔
تحت اللفظ میں بھی کچھ لوگ اوور ایکٹنگ کرتے ہیں ۔کیا یہ ایکٹنگ اشعار کی قدروں کو بڑھاتی ہے؟
دیکھئے میرا سوچنا یہ ہے کہ مشاعرہ ایک پرفرمنگ آرٹ ہے۔ادب کے لوگوں کو مشاعرہ سے توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئے۔ مشاعرہ ادب کی خدمت نہیں کرتا ہے۔یہاں لوگ آتے ہیں پرفرمنگ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ کوئی بھی شاعر یہ نہیں کہتا کہ اسے بھی ادیبوں کے زمرے میں شامل کیا جائے مگر ادب کے لوگ ضرور چاہتے ہیں کہ انہیں مشاعروں میں جگہ ملے۔ جب وہ مشاعرے میں اپنی پرفرمنگ سامعین کے معیار پر پیش نہیں کرپاتے ہیں،ہوٹ ہوتے ہیں تو باہر نکلنے کے بعد کہتے ہیں کہ مشاعرے کا معیار گر گیا ہے،سستی شاعری ہوگئی ہے۔البتہ گزرے زمانے میں ادبی لوگ مشاعرے میں ہوتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔
آپ مشاعرے کو کیا سمجھتے ہیں تفریح طبع کا ذریعہ یا ادب کو فروغ دینے کا وسیلہ؟
ادب کو نہیں بلکہ اردو زبان کو فروغ دینے کا ذریعہ۔آپ ان مشاعروں کو اردو کا ابتدائی اسکول کہہ سکتے ہیں جہاں لوگوں کو اردو کی طرف راغب کرنے کا کام کیا جاتاہے۔یہاں مختلف سطح کے لوگ ہوتے ہیں اور ہر سطح کو ذہن میں رکھتے ہوئے اشعار کہے جاتے ہیں لہٰذایہاں سے ادب کی توقع نہیں کی جاسکتی
طنز و مزاح کی شاعری میں کچھ ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جس کو پھوہڑ پن کہا جاسکتا ہے۔ایسے الفاظ کے بارے میں یا ایسی شاعری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
پہلے مشاعرے مخصوص لوگوں کے درمیان ہوا کرتے تھے۔ شاہوں ، نوابوں ،امیروں کے دربار میں منعقد ہوتے تھے۔ وہاں سننے اور سنانے کے ٓاداب ہوتے تھے مگر اب مشاعرے کی سرحدیں وسیع ہوچکی ہیں جہاں سننے کے کوئی آداب نہیں ہوتے۔ یہاں رکشہ پلر سے لے کر پڑھے لکھے سبھی آتے ہیں۔ان میں وہ طبقہ جو انپڑھ ہے ان کو محظوظ کرنے کے لئے مزاحیہ شعر و شاعری کا سہارا لیا جاتاہے۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مشاعرے کی اگلی صف میں مدارس کے طلبا ہوتے ہیں۔آپ کو لگتا ہے کہ یہ بچے ادب میں دلچسپی کی وجہ سے شریک ہوتے ہیں؟
دو وجہ ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اردو کو سمجھتے ہیں اور اشعار کی معنویت سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس لئے بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہیں فلم وغیرہ میں انٹرٹینمنٹ کی اجازت تو ہوتی نہیں لہٰذا انہیں یہاں انجوائے کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔ مشاعرے کے اٹھانے میں پچاس فیصد ان کا عمل دخل ہوتا ہے۔ لیکن میں ان کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ چونکہ وہ اردو کو سمجھتے ہیں لہٰذا ایسی شاعری کی ہی حوصلہ افزائی کریں جو واقعی شعری معیار کو چھوتی ہو۔ مشاعرے کو سنجیدہ عمل سمجھیں تفریح طبع کا ذریعہ نہیں۔
مشاعرے کو فروغ دینے میں اردو صحافت کا کردار کیا ہے؟
اردو صحافت نے کلچر کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے
س: اپنے کچھ پسندیدہ اشعار سنائیں؟
جو دوسروں سے غزل کہلوا کے لاتے ہیں
زباں کھلی تو تلفظ سے مار کھاتے ہیں
اٹھائو کیمرہ تصویر کھینچ لو ان کی
اداس لوگ کہاں روز مسکراتے ہیں
چلئے دکھائیں آپ کو پرکھوں کی عظمتیں
ملبہ کسی کھنڈر کا ہٹایا نہیں گیا
بڑے مکانوں نے کتنے بنا دیے سید
یہ بات سوچ کر شجرہ کبھی نہیں رکھا
سنبھل کر گفتگو کرنا بزرگو!
کہ بچے اب پلٹ کر بولتے ہیں۔
آپ چوتھی دنیا کے توسط سے قارئین تک کوئی پیغام پہنچانا چاہیں گے؟
میں یہ چاہتا ہوں کہ ہمارا جو کلچر ہے ،ہماری جو زبان ہے محفوظ رہے۔اردو زبان نہ صرف ہماری زبان ہے بلکہ ہماری تہذیب ہے۔ اس زبان کے ذریعہ ہم نے صرف کلچر ہی نہیں بلکہ اپنے مذہب کوبھی سمجھا ہے۔ اسلام کی اصل زبان تو عربی میں ہے ۔ ہر آدمی عربی نہیں جانتا ہے ۔ لیکن مذہب کو ہم نے اردو کے حوالے سے سمجھا ہے لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ اردو زبان ہماری تہذیبی اور روحانی زبان ہے لہٰذا اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *