مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا خاموش کیوں ہے ؟

رضوان عابد
کیا میانمار (برما) کے مسلمان انسان ہیں؟ اگر انسان نہیں بھی ہیں تو انسانی حقوق کے چمپئن کہاں ہیں، جو معمولی سے معمولی جانور کے مارنے پر بھی چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ کہاں ہیں وہ مغرب کی تہذیب یافتہ قومیں، وہ انسانیت کے علم بردار جو افغانستان میں ایک عورت کے کوڑے لگائے جانے پر کووں کی طرح کائیں کائیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ پوری دنیا کی قوموں کی مجرمانہ خاموشی گواہی دے رہی ہے کہ آنے والے دور میں تیسری عالمی جنگ مسلمانوں اور باقی دنیا کے بیچ ہوگی۔ وہ طاقتیں جو آخرکار اس دنیا پر حکومت کر رہی ہیں، وہ یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ اس بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا کے کس حصے سے آواز اٹھتی ہے۔ ابھی تک حکومتی سطح پر نہ تو کسی ملک نے اور نہ ہی عالمی میڈیا نے اس پر کوئی آواز بلند کی ہے۔ پچھلے دس دنوں میں برما میں پچاس ہزار مسلمان بہت بے دردی کے ساتھ فوج، پولس اور بدھ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ شاید دنیا کا یہ سب سے بڑا قتل عام ہے۔ اسے ریاستی دہشت گردی کا نام دیا جائے یا وحشی درندوں کا کارنامہ۔ ویسے تو وحشی درندے بھی صرف اتنی ہی جان لیتے ہیں، جتنا انہیں کھانا ہوتا ہے، وہ پورے جنگل کو مارتے نہیں پھرتے۔ برما کے اس وحشیانہ کھیل کو بیان کرنے کے لیے تو کوئی نئی اصطلاح ایجاد کرنی ہوگی۔ جتنی بے دردی کے ساتھ برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے، اگر اس کا ایک فیصد بھی مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہوتا تو امریکہ کی فوجیں اب تک وہاں پہنچ چکی ہوتیں۔ نیٹو اپنی فضائیہ کے ساتھ وہاں موجود ہوتا۔ اقوام متحدہ ابھی تک ایسے ملک پر ہر طرح کی پابندیاں لگا چکا ہوتا۔ پوری دنیا کی قومیں اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے اس ظلم کو روکنے کے لیے اپنی اپنی فوجیں بھیج چکی ہوتیں اور پوری دنیا کا میڈیا مستقل تفاصیل بیان کر رہا ہوتا۔ چین اور روس دھمکیاں دے چکے ہوتے۔ ایران جو مسلمانوں کا چمپئن بنتا ہے، ابھی تک ایٹم بم مارنے کی دھمکی دے چکا ہوتا، سعودی عرب بے انتہا امداد دے چکا ہوتا۔

برما کے یہ مسلمان تقریباً آٹھ صدیوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ برما کے فوجی حکمراں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ برما کے شہری نہیں ہیں، یا تو یہ لوگ برما چھوڑ دیں یا پھر ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ بڑی بڑی کشتیوں میں ان مسلمانوں کو بھر کر کھلے سمندر میں چھوڑا جاتا رہا ہے، جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ آخرکار یہ سمندر میں ڈوب کر مر جاتے ہیں۔ مسجدوں کو منہدم کیا جا رہا ہے، مسلم اداروں کو توڑا جا رہا ہے اور بند کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل نہیں کرسکتے، زمین جائیداد نہیں خرید سکتے، یہاں تک کہ قانونی طور سے یہ مسلمان نوکریاں بھی نہیں کرسکتے۔

برما میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 22 لاکھ ہے، جن میں سے سات لاکھ آج بھی اپنی ہی زمین پر اجنبی ہیں۔ یہ سات لاکھ مسلمان آج تک برما کے شہری نہیں بن سکے ہیں اور خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ تو بنگلہ دیش میں بس گئے ہیں، لیکن وہاں بھی ان کی حالت کچھ بہتر نہیں ہے۔ برما کے یہ مسلمان تقریباً آٹھ صدیوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ برما کے فوجی حکمراں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ برما کے شہری نہیں ہیں، یا تو یہ لوگ برما چھوڑ دیں یا پھر ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ بڑی بڑی کشتیوں میں ان مسلمانوں کو بھر کر کھلے سمندر میں چھوڑا جاتا رہا ہے، جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ آخرکار یہ سمندر میں ڈوب کر مر جاتے ہیں۔ مسجدوں کو منہدم کیا جا رہا ہے، مسلم اداروں کو توڑا جا رہا ہے اور بند کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل نہیں کرسکتے، زمین جائیداد نہیں خرید سکتے، یہاں تک کہ قانونی طور سے یہ مسلمان نوکریاں بھی نہیں کرسکتے۔ 1978 میں مسلمانوں کی اکثریت والے صوبہ ’’اراکان‘‘ میں کنگ ڈریگن آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجہ میں دو لاکھ سے زیادہ مسلمان بے گھر ہو گئے۔ دنیا بھر میں فوج کو غیر سیاسی کردار کا حامل اور کمزوروں کا محافظ سمجھا جاتا ہے، لیکن برما میں فوج اور پولس مسلمانوں کی بدترین دشمن ثابت ہوئی ہے۔ برما کے لٹے پٹے مسلمان چند برسوں سے ہندوستان کے مختلف شہروں میں بھٹک رہے ہیں۔ پچھلے کچھ مہینوں سے دہلی میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہ لوگ دہلی میں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے پناہ گزین کے دفتر کے باہر بہت دنوں تک پڑے رہے، لیکن ان کو پناہ گزیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ جس علاقے میں دفتر واقع ہے، وہاں کے رہنے والوں نے پولس پر دباؤ ڈال کر ان کو وہاں سے مار پیٹ کرواکر بھگا دیا۔ اگر ایسے پناہ گزیں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا یا نیپال سے آتے اور مسلمان نہ ہوتے تو کیا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا؟ دہلی میں ایسے ہزاروں خاندانوں کو اوقاف کی زمینوں پر کالونیاں بنا کر دی گئی ہیں، یہ لوگ سول قانون کی کوئی پرواہ کیے بغیر تعمیری اضافے بھی کر لیتے ہیں، مگر ان کو کچھ نہیں کہا جاتا، کیوں کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش کے غیر مسلم مہاجروں کو ای پی ڈی پی کالونیاں بنا کر دی گئیں، جن کی قیمتیں آج کروڑوں میں ہیں اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو آج بھی پولس کتے کی طرح پکڑ کر سرحد پر چھوڑ آتی ہے، جب کہ یہ بیچارے معمولی مزدوریاں کرتے ہیں اور ہندوستانیوں کی خدمت کرتے ہیں۔
فرانس میں مسلم خواتین کے حجاب کے ساتھ سکھوں کی پگڑی پر بھی پابندی لگائی گئی۔ 2007 میں شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کور وکیل کو لے کر خود پیرس پہنچ گئیں۔ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ صاحب فرانس گئے تو سکھوں کی پگڑی کے سلسلے میںصدر سرکوزی سے بات چیت کی۔ حال ہی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ صاحب کی ملاقات برما کی جمہوریت پسند لیڈر آنگ سانگ سوکی سے بھی ہوئی۔ اس میٹنگ سے پہلے ہندوستان کی مختلف تنظیموں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ برمی لیڈر سے ملاقات کریں تو برما کے ان مظلوم خانہ بدوش مسلمانوں کے بارے میں بھی بات کریں، لیکن وزیر اعظم صاحب نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ ان سب باتوں کے بعد وزیر اعظم صاحب کو کیا سمجھا جائے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق، جون 2012 میں برما کے وسطی علاقے میں دس مسلمانوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف جب مسلمانوں نے اپنے اکثریتی صوبے میں احتجاج کیا تو برما کی پولس نے نہتے مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے ہزاروں مسلمانوں کو موقع پر ہی قتل کر دیا اور لاتعداد زخمی بھی ہوئے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا، جب ’’ٹونگوپ‘‘ نامی شہر میں 3 جون 2012 کو مسلمانوں کی بس پر بدھ دہشت گردوں نے حملہ کیا، یہ لوگ نماز ادا کرکے واپس آرہے تھے۔ 10 جون کو برما کے صدر کی طرف سے مسلمانوں کے علاقے شمالی اراکان میں ہنگامی حالت نافذ کرکے فوجی اداروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ جو چاہیں کریں۔ اب فوج اور پولس نے پورے گاؤں کو گھیر کر مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا۔ باقی لوگوں کو بسوں اور ٹرکوں میں بھر کر لے گئے اور آج تک ان کا پتہ نہیں ہے۔ پوری بستیوں کو آگ لگا دی گئی اور اگر کسی نے بھاگنے کی کوشش کی، تو اسے گولیوں سے بھون دیا گیا، باقی رہی سہی کسر بدھ دہشت گردوں نے تلواروں، نیزوں، چھریوں کے ذریعے پوری کردی۔ انہوں نے گاجر مولی کی طرح مسلمانوں کو کاٹنا شروع کردیا۔ قانون نام کی چیز اس وقت برما میں نہیں ہے۔
برما کے مسلمان تقریباً ایک ہزار سال سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 1048 عیسوی میں ’’بیاط وائی‘‘ نامی مسلمان سردار کا ذکر ملتا ہے، جسے ’’مان‘‘ خاندان کے بادشاہ نے اس لیے قتل کردیا تھا، کیوں کہ وہ حکومت حاصل کرنے کے لیے طاقت جمع کر رہا تھا۔ 1652 میں شاہجہاں کے بیٹے شجاع نے جب برما کا دورہ کیا، تو اسے وہاں گرفتار کر لیا گیا۔ شہزادہ نے رہائی پانے کے لیے بھاری تاوان ادا کیا، پھر بھی اس کا قتل کر دیا گیا، اس کی دولت پر قبضہ کر لیا گیا اور عورتوں کو جیل میں ڈال دیا گیا جہاں وہ بھوک پیاس کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئیں۔ اس ظلم کے خلاف جب برمی مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ہر داڑھی والے کو قتل کر دیا گیا، باقی کے مسلمان بھاگ کر ہندوستان آگئے۔ 1589 میں برمی بادشاہ ’’انٹاؤنگ‘‘ نے برما کے باقی ماندہ مسلمانوں کو بودھ مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا، اس کے باوجود کچھ مسلمان اسلام پر قائم رہے۔ 1760 میں ’’النگ پایا‘‘ نام کے برمی بادشاہ نے حلال گوشت پر پابندی لگا دی۔ 1819 میں برمی بادشاہ ’’بداؤ پایا‘‘ نے چار مسلم علماء کو سور کاگوشت کھانے پر مجبور کیا، جب انہوں نے منع کیا تو ان کو قتل کر دیا گیا۔ 1921 میں برما میں تقریباً 5 لاکھ مسلمان تھے، لیکن انگریز ہندوستان کی طرح وہاں بھی غیر مسلموں پر مہربان رہے۔ 1945 میں برما مسلم کانگریس (بی ایم سی) بنائی گئی۔ عبدالرزاق اس کے صدر منتخب ہوئے۔ مسلمانوں نے برما کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا، لیکن 1955 میں اس تنظیم پر پابندی لگا کر اس کو ختم کر دیا گیا۔ 1962 میں فوجی حکمراں ’’جنرل نی ون‘‘ کے دور میں برما میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی گئی، حد یہ ہوئی کہ مسلمانوں کو اپنی شریعت پر چلنا دو بھر ہوگیا۔ افغانستان میں بدھ کی مورتیوں کو توڑے جانے کے بعد برما میں مسلمانوں کی بستیاں اور مسجدیں نذر آتش کردی گئیں اور مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ 16 مارچ 1997 کو بدھوں کا ایک بہت بڑا گروہ مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتا ہوا بڑھا اور مسجد اور ساری مذہبی کتابوں کو آگ لگا دی۔ حکومت تماشائی بنی رہی۔ ایک ہزار سال سے یہ سلسلہ جاری ہے اور آج تک برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *