اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے

وصی احمد نعمانی
قرآن و حدیث کے ذریعہ جو رہنمائی ’’ ناسا‘‘ کو مل رہی ہے ۔اس کے ذریعہ وہ نہایت اعتماد و یقین کے ساتھ اپنے تحقیقی پروگرام کو آگے بڑھا سکتا ہے اور اسے کامیابی بھی مل سکتی ہے کہ وہ یہ ثابت کرسکے کہ اس زمین پر جس طرح جاندار ہیں اسی طرح دوسرے سیاروں پر بھی جاندار ہیں اور وہ سب کے سب قرآن کریم کی پیش گوئی کے مطابق آپس میں مل جا سکتے ہیں اور تبادلۂ خیال بھی کرسکتے ہیں جیسا کہ سورہ شوریٰ نمبر 42 آیت نمبر 29 کی تشریح میں بات کہی گئی ہے۔ ہماری زمین سے ماورا زندگی کے وجود کی طرف اشارہ سورہ طلاق کی آخری آیت یعنی چیپٹر نمبر 65 اور آیت نمبر 12 میں ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یا ہے ’’ اس نے آسمانوں کی طرح زمین کی قسم کے اجسام بھی بنائے ‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں زمین کی قسم کے اور بھی اجسام یا اجرام یا سیارے تخلیق کئے ہیں ۔

حال ہی میں امریکہ کے رانڈ کارپوریشن Rand Corporation نے نہایت طاقت ور آلات اور جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرکے یہ پتہ لگایاہے کہ فلکی مشاہدات کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین جس کہکشاں میں واقع ہے ،صرف اس کے اندر 60 کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ان سیاروں کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہوں (بحوالہ ’’اکانومسٹ لندن مورخہ 26 جولائی 1969)

دوسرے الفاظ میں جس طرح یہ زمین اپنی موجودات کے لئے فرش اور گہوارہ ہے اسی طرح کائنات میں اور بھی اجرام یا اجسام میں جو اپنی موجودات کے لئے فرش اور گہوارہ ہیں، یعنی یہ کہ اس آیت میں زمین کی قسم کے سماوی اجسام کی موجودگی کا واضح اشارہ موجود ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان پر ذی حیات مخلوق موجود ہے ۔یہ ’زمین کی قسم سے ‘ کا بالواسطہ مطلب ہے۔ سورہ بنی اسرائیل چیپٹر نمبر 17 آیت نمبر 44 میں کہا گیا ہے ’’ساتوں آسمان اور زمین اور جوان میں ہیں،سب اس کی تسبیح کرتے ہیں‘‘اس آیت کریمہ میں لفظ ’’من‘‘ کا استعمال کیا گیاہ جو اکثر ذی عقل (صاحب فہم) مخلوق کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح سورہ الانبیاء ،چیپٹر نمبر 21 آیت نمبر 4 میں کہا گیا ہے’’(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں کہی جاتی ہے ،میرا پروردگار اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا،جاننے والا ہے‘‘ اس آیت میں اس بات کا اشارہ موجود ہے کہ آسمان ( سماوی اجسام) میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جو آپس میں بات کرتی ہیں لہٰذا ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قرآنی مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں ماورائے زمین حیات Extra Terrestrial life یعنی سماوی اجسام میں ذی حیات مخلوق بلکہ ذی شعور مخلوق کی موجودگی کی طرف صاف اشارہ ہے۔ اس کی تائید بہت سی حدیثوں سے بھی ہوتی ہے۔ عالمی شہرت یافتہ مفسر قرآن ابن کثیر نے سورہ طلاق کی آخری آیت کیتفسیر کے دوران ایک حدیث مبارک کا حوالہ دیا ہے جو اس طرح ہے ۔ ’’ حضور ایک مرتبہ صحابہ کرام کے مجمع میں تشریف لائے ۔ دیکھا کہ سب کسی غورو فکر میں چپ چاپ ہیں ۔ پوچھا کیا بات ہے؟جواب ملا کہ اللہ کی مخلوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرمایا ٹھیک ہے مخلوقات پر نظر دوڑائو۔ لیکن کہیں اللہ کی بابت غورو خوض میں نہ پڑ جانا ۔ سنو! اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے ۔ اس کی سفیدی اس کا نور ہے۔ فرمایا اس کا نور اس کی سفیدی ہے ۔ سورج کا راستہ چالیس دن کا ہے ۔ وہاں اللہ کی مخلوق ہے جس نے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی کبھی نا فرمانی نہیں کی۔ صحابہ  نے کہا پھر شیطان ان سے کہاں ہے؟فرمایا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ شیطان پیدا کیا گیاہے یا نہیں ؟پوچھا کیا وہ بھی انسان ہیں؟فرمایا ا نہیں آدم کی پیدائش کا بھی علم نہیں (حوالہ تفسیر ابن کثیر سورہ طلاق)۔علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح لامعانی میں لکھا ہے کہ عالم کثیر ہیں ،جن کا شمار نہیں ۔ بعض روایات میں ہے کہ اللہ نے ایک لاکھ قندیلیں پیدا فرمائیں اور انہیں عرش کے ساتھ معلق کردیا ۔ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے حتیٰ کہ جنت اور جہنم بھی صرف ایک قندیل میں ہے۔ باقی قندیلوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی جانتا ہے ( روح المعانی جلد اول صفحہ 79)جناب ابو الحسن رفاعی فرماتے ہیں ’’ اللہ تعالیٰ نے ریت کا ایک دریا تخلیق کیا جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک کے لئے تیز آندھی کی طرح چل رہا ہے۔ریت کے ہر ذرہ میں تمہاری دنیا کی طرح ایک دنیا ہے اور کہکشائیں ۔ان میں سے ہر ایک میں اربوں تارے اس کی طرف خاص اشارہ کرتے ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن کثیر نے سورہ فاتحہ کی پہلی آیت کی تفسیر میں جہانوں کے متعلق کئی اقوال کا حوالہ دیا ہے۔ ان میں سے ایک قول حضرت ابو سعید خدری ؓ کا ہے کہ چالیس ہزار عالم ہیں۔ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔ اسی طرح حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ یہ ستارے جو آسمان میں ہیں ان میں بھی زمین کے شہروں کی طرح شہر ہیں ۔ ہر شہر دوسرے سے نور کے ستون کے ذریعہ ملا ہوا ہے۔ ( بحوالہ البحار مادہ نجم جلد 2)حضرت مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں سورہ طلاق کی آخری آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ’’انہی کی مانند ‘‘ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بنائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ویسے ہی متعدد زمینیں بھی بنائیں ہیں اور ’’ زمین کی قسم سے‘‘ کا مطلب ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں اپنی موجودات کے لئے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے اسی طرح اللہ تعالی ٰنے کائنات میں اور زمینیں بھی بنا رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لئے فرش اور گہوارہ ہیں۔ بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا ہے کہ جاندار مخلوق صرف زمین ہی پر نہیں بلکہ عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بے شمار تارے اور سیارے نظر آتے ہیں یہ سب ’’ڈھنڈار‘‘ پڑے نہیں ہیں بلکہ زمین کی طرح ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جن میں دنیائیں آباد ہیں۔ قدیم مفسرین میں سے تو صرف ابن عباس ؓ ایک ایسے مفسر ہیں جنہوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کردیا تھا کہ اس زمین کے علاوہ بھی کہیں اور بھی ذی شعور اور ذی عقل کی بستی ہوسکتی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک ذی شعور مخلوق ہے اور ہر زمین میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے ہاں دوسروں کی بہ نسبت ممتاز او منفرد ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے رانڈ کارپوریشن Rand Corporation نے نہایت طاقت ور آلات اور جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرکے یہ پتہ لگایاہے کہ فلکی مشاہدات کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین جس کہکشاں میں واقع ہے ،صرف اس کے اندر 60 کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ان سیاروں کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہوں (بحوالہ ’’اکانومسٹ لندن مورخہ 26 جولائی 1969)
مندرجہ بالا بحث کی بنیاد پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بھی زندگی موجودہے ۔ اس کا صاف اشارہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث کی بنیاد پر ملتا ہے ۔ اس لئے ناسا کے لئے راہ نما ہے کہ وہ سکون اور اطمینان اور یقین کے ساتھ قرآن و حدیث کی ان باتوں پر یقین کرکے تلاش جاری رکھے ۔ اسے کامیابی ملے گی اور زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر ذی شعور جاندار ملیںگے۔

Share Article

One thought on “اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے

  • September 25, 2012 at 11:42 am
    Permalink

    My name is Taha Hussain Shah.
    I love science i make a diagram of power plant but i am pover boy my age is 2o year.
    gas genrate from salt water genrate from air and electric genrate from magnet.
    U see my diagram?
    contact me plz.
    My mobile number is.
    03315916524
    03414495204
    My facebook id is.
    Taha_Hussain_Shah_1091991@yahoo.com
    Taha.Hussain.Shah.1091991@gmail.com
    My aderas is.
    f.g junir model boys school malpour dakhana khas tehsil o zila islamabad pakistan.
    My nic no is.
    42501-8526003-5
    F.S.C complet in krachi.
    Plz give me laboratory i m student of b.a.
    my mother toung is urdu.
    Help me.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *