انفارمیشن کمشنر، سرکار اور آر ٹی آئی

حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) آزاد ہندوستان میں بنا پہلا ایسا قانون ہے، جسے عام آدمی کے جاننے اور جینے کے حق سے جوڑ کر دیکھا گیا ۔ اس نے عام آدمی کو سوال پوچھنے کی ہمت دی۔ حکومت اور انتظامیہ میں بیٹھے لوگوں کو پہلی بار لگا کہ کوئی ان سے بھی سوال پوچھ سکتا ہے اور یہی بات ان لوگوں کو ٹھیک نہیں لگی۔ اس لئے اس قانون کو عمل میں نہ لانے کی پوری سازش رچی جانے لگی۔ قانون بننے سے پہلے ہی سال میں کچھ بیوریکریٹ کی صلاح پر سرکار نے اس قانون میں ترمیم کرکے فائل نوٹنگ جیسے اہم پروویزن کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ کوشش بھی ناکام رہی لیکن ایک معاملے میں سرکار کامیاب رہی، اور وہ ہے انفارمیشن کمیشن کی تقرری کا معاملہ۔ انفارمیشن کمشنر کا عہدہ ابتدا سے ہی سیاسی مفاد پانے کے لئے بد نام رہا ہے۔ انفارمیشن کمشنروں کی تقرری کی ذمہ داری محکمہ ڈی او پی ٹی کے پاس تقرری کے سلسلے میں کوئی حتمی قانون نہیں ہے۔ اسی کا فائدہ اٹھاکر سرکار اپنے قابل بھروسہ اور وفادار بیوریکریٹ کو انفارمیشن کمشنر بنا دیتے ہیں۔ مذکورہ وفادار بیوریکریٹ ایسے ہوتے ہیں، جو کسی بھی قیمت پر اپنے آقائوں کے فائدے کی اندیکھی نہیں کر سکتے۔ حالانکہ وزیر اعظم، لیڈر آف اپوزیشن اور ایک کابینی وزیر کی قیادت میں ایک سلیکشن کمیٹی ہے ، جو انفارمیشن کمشنر کے لئے آئے نوموں پر آخری مہر لگاتی ہے۔ حق اطلاعات قانون میں صحافیوں، دانشوروں ، اکیڈمک اور عوامی خدمت سے جڑے لوگوں کو بھی انفارمیشن کمشنر بنایا جا سکتا ہے، لیکن ڈی او پی ٹی کی من مانی کا عالم یہ ہے کہ زیادہ تر سینٹرل انفارمیشن کمشنر سابق نوکر شاہ ہیں۔ اگر بات اسٹیٹ انفارمیشن کمشنر کی کریں تو وہاں بھی یہی عالم ہے۔ ڈی او پی ٹی کے لئے سماجی تنظیموں، لیڈروں، وزراء اعلیٰ اور ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ کی گئی کسی سفارش کا کوئی مطلب نہیں ہوتاہے۔2005 میں پہلی بار جب مرکزی انفارمیشن کمشنر کی تقرری کی جانی تھی ، تب 15 لوگوں نے اس عہدے کے لئے درخواست دی تھی۔ ان ناموں میں ایک سے بڑھ کر ایک سماجی ، اکیڈمک خدمات انجام دینے والے لوگ تھے۔ لیکن جب سلیکشن کمیٹی کے پاس نام بھیجے گئے تو ان 15 ناموں میںسے ایک بھی شامل نہیں تھا۔ ڈی او پی ٹی نے اپنی طرف سے پانچ نام سلیکشن کمیٹی کے پاس بھیجے تھے اور انہیں پانچ ناموں پر کمیٹی متفق ہوگئی۔ یہ نام تھے، وجاہت حبیب اللہ، پی بالا سبرامنیم، او پی کیجریوال، اے این تیواری، ایم ایم انصاری۔ دلچسپ بات یہ کہ ان ناموں میں سے زیادہ تر نام ایسے تھے، جو سابق نوکرشاہ تھے۔ اسی طرح اگست 2008 میں جب سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں انفارمیشن کمشنر کے چار عہدے خالی ہوئے تو ڈی او پی ٹی نے اپنی طرف سے 6 نام بھیجے، جن میں سے چار ناموںپر سلیکشن کمیٹی نے اپنی مہر لگا دی۔ ظاہر ہے، ایسے انفارمیشن کمشنر (پہلے نوکر شاہ رہ چکے ہوں) سرکار اور انتظامیہ میں شفافیت لانے کی جگہاپنی پوری وفاداری نامزد کرنے والی سرکار کے تئیں دکھاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ابھی بھی ڈی او پی ٹی کوئی تقرری کے لئے کوئی حتمی رخ طے نہیں کرتا ہے انفارمیشن کمشنر جیسا ذمہ دار عہدہ یوں ہی سیاسی تقرری کا ذریعہ بنتا رہے گا اور عام آدمی کو طاقت دینے والا یہ قانون روز بروز کمزور ہوتا جائے گا۔

’اندرا آواس یوجنا‘کی تفصیل

فرسٹ اپیلیٹ آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاع ایکٹ2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
میرا نام …………ہے۔ میں…………پنچایت کے …………گائوں کا رہنے والا ہوں۔ میرے پاس رہنے کے لئے گھر نہیں ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک مجھے ’اندرا آواس یوجنا ‘کے تحت گھر الاٹ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حق اطلاعات کے آفیسر کے تحت مندرجہ ذیل اطلاعات دیں:
1 سرکار کے ریکارڈ کے مطابق، کیا میں ’اندرا آواس یوجنا‘ کا حقدار ہوں؟اگر نہیں تو کیوں؟
2 اگر ہاں ، تو اب تک مجھے ’اندرا آواس یوجنا‘ کا الاٹ کیوں نہیں کیا گیا ہے؟مجھے ’اندرا آواس یوجنا ‘کا فائدہ ملے یہ دیکھنے کی ذمہ داری کس آفیسرکرمچاری کی ہے؟ ان کا نام اور عہدہ بتائیں۔
3 میرے گرامن پنچایت میں گزشتہ پانچ برسوں میں کل کتنے لوگوں کو اس یوجنا کے تحت گھر الاٹ کیے گئے ہیں ؟ان کی لسٹ مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ فراہم کرائیں:
الف: گھر پانے والے کا نام ب: الاٹمنٹ کی تاریخ ج: کس بنیاد پر الاٹمنٹ ہوا
د: جس گرام سبھا میں گھر حاصل کرنے والے کا سلیکشن کیا گیا اس گرام سبھا کی حاضری کے رجسٹر کی تصدیق شدہ کاپی دیں۔
4 کیا مذکورہ تمام الاٹمنٹ بی پی ایل لسٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے؟مذکورہ پنچایت کی بی پی ایل لسٹ کی تصدیق شدہ کاپی دیں۔
5 اندرا آواس یوجنا کے الاٹمنٹ سے متعلق سبھی ہدایات احکام قوانین کی مصدقہ کاپی دیں۔
میں درخواست فیس کی شکل میں 10 روپے الگ سے جمع کر رہا رہی ہوں۔یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے سبھی دی گئی فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر…………ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے دفتر سے متعلق نہیں ہو تو حق اطلاعات قانون2005 کی دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی اطلاع فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیل آفیسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
مخلص
نام :————————————————————————
پتہ : ————————————————————————-
تاریخ : ———————————————————————
منسلک دستاویز
(اگر کچھ ہوتو)

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *