ہندوستان بدعنوان کیوں ہے؟

میگھناد دیسائی 

اس میں میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے ۔دونوں بڑی سیاسی پارٹیاںاس کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دارٹھہراتی ہیں ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان بد عنوانی کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے ۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہندوستان میںبدعنوانی کوئی خبر نہیں ہے ۔آزادی کے ملنے کے وقت سے ہی ہندوستان میںبدعنوانی موجود رہی ہے۔1946 میںہی اترپردیش کے کانگریسی لیڈروں کے رویے نے پنڈت نہرو کو خوف زدہ کردیا تھا ۔وہ سوچتے تھے کہ کانگریس کے ہی لیڈرکسی نہ کسی طرح انڈین پینل کوڈکے ضابطوں کی خلاف ورزی کر تے ہیں ۔ہندوستان میںبد عنوانی سے لڑنے کے لیے کئی قانون ہیں ۔گزشتہ پچاس سے زیادہ سالوںمیںبدعنوانی کے معاملے پر کئی کمیشن بنے ۔چالیس سالوںمیںکئی بار لوک پال قانون بنانے کی کوشش کی گئی اور ابھی ایک لوک پال بل لٹکا پڑا ہے ۔انا ہزارے کی تحریک پھیکی پڑ گئی ہے ۔پورے ہندوستان میںگھوٹالے ہوئے ہیں ۔کرناٹک میںمائننگ ،مہاراشٹر میںہاؤسنگ ،2 جی ،اتر پردیش میںتاج کوریڈور اور بہار میںچارہ وغیرہ کئی گھوٹالے ہوئے ہیں ۔آپ چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں ۔کچھ گھوٹالوں کی جانچ چل رہی ہے ،کچھ کی جانچ رکی پڑی ہے ،تو کچھ کی جا نچ کا لوگوںکو انتظار ہے ۔ہندوستان میںبدعنوانی سے لڑنے کے لیے کسی دوسرے قانون کی ضرورت نہیںہے ۔حکومت برطانیہ کے وقت سے ہی ہندوستان میںعوامی خدمت گاروںکے رویوںکے بارے میںسخت پرویزن ہیں ،جو آج بھی لاگو ہیں ،لیکن انھیں عمل میں نہیں لایا جاتا ہے ۔وی کے نہرو نے کہاتھا کہ جب وہ آئی سی ایس آفیسر تھے ،تب انھوں نے فلم کا ایک پاس قبول کر لیا تھا ،جس پر ان کے سینئر آفیسر نے اعتراض کیا تھا ۔ان سے کہا گیا کہ وہ کسی طرح کے تحائف قبول نہ کریں ۔گلزاری لال نندا دو بار عبوری وزیر اعظم رہے اور بعد میںانھوںنے احمدآباد میںواقع اپنے دو کمروں کے فلیٹ میںعام لوگوں کی طرح اپنی زندگی گزاری ۔تقریباً بیس سال تک وہ وزیر رہے ،لیکن کسی طرح کی کوئی غیر قانونی سہولت یادولت انھوں نے قبول نہیں کی ۔اب ایسا نہیں ہے ،سب کچھ بدل گیا ہے ۔

بدعنوانی قانون کی کمی کے سبب نہیں ،رویے کے سبب بڑھ رہی ہے ۔ہندوستان میںحکومتی نظام ،مغربی ممالک کی حکومتوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے ۔مغرب کے ایک بڑے ماہر سماجیات بیبرنے اقربا پروری کو بدعنوا نی کا اہم سبب بتایا تھا ۔وہاں ان کے اس اصول پر عمل کیا جاتا ہے ۔کسی بھی نظام میںسینئرٹی سلسلہ وار ہوتی ہے اور قاعدے قانون کے مطابق اس پر عمل کیا جاتا ہے ۔سینئر آفیسر،اپنے سے جونیر کی عزت کرتے ہیںاوراسی طرح آگے بھی چلتا جاتا ہے ۔ان کے درمیان صرف کام کا رشتہ ہونا چاہیے ۔دفتر میںکام کرنے کے علاوہ ،ان کے درمیان گھریلو رشتہ قائم ہوتا ہے ،تو پھربدعنوانی بڑھنے کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔

بدعنوانی قانون کی کمی کے سبب نہیں ،رویے کے سبب بڑھ رہی ہے ۔ہندوستان میںحکومتی نظام ،مغربی ممالک کی حکومتوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے ۔مغرب کے ایک بڑے ماہر سماجیات بیبرنے اقربا پروری کو بدعنوا نی کا اہم سبب بتایا تھا ۔وہاں ان کے اس اصول پر عمل کیا جاتا ہے ۔کسی بھی نظام میںسینئرٹی سلسلہ وار ہوتی ہے اور قاعدے قانون کے مطابق اس پر عمل کیا جاتا ہے ۔سینئر آفیسر،اپنے سے جونیر کی عزت کرتے ہیںاوراسی طرح آگے بھی چلتا جاتا ہے ۔ان کے درمیان صرف کام کا رشتہ ہونا چاہیے ۔دفتر میںکام کرنے کے علاوہ ،ان کے درمیان گھریلو رشتہ قائم ہوتا ہے ،تو پھربدعنوانی بڑھنے کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔مجھے یاد ہے ،جب میری پہلی ملازمت کیلی فورنیا کے برکلے میںلگی تھی ،تو حسن اتفاق انہی دنوں میرے باس کی بیٹی کی شادی تھی ۔انھوں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے کسی بھی سا تھی کو شادی میں نہیں بلایا ۔میں نے محسوس کیاکہ یہی قاعدہ ہے ۔ان کی بیٹی کی شادی کا ان کے کام سے کوئی رشتہ نہیں تھا ،اس لیے انھوں نے اپنے کسی معاون کو شادی میںنہیں بلایا ۔حالانکہ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مغربی سماج میں بدعنوانی نہیں ہے ،لیکن اگروہاں بدعنوانی کی خبر ملتی ہے ،تو کافی تکلیف دہ ہوتی ہے ،کیونکہ وہاںبد عنوانی کو سماج قبول نہیںکرتا ہے ۔
ہندوستان میں کام کرنے والوں کے درمیان باہمی رشتے قائم ہوتے ہیں اور پھر وہ گھریلو رشتے بن جاتے ہیں ۔ا ن کاآشیرواد چاہتے ہیں ،انھیں گفٹ دیتے ہیں۔سینئر آفیسر اپنے جونیرکے ساتھ ا س طرح کا سلوک کرتا ہے ،جیسے کسی مشترکہ خاندان میں جواں سال ممبر کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔اپنے سینئروں کو کسی تہوار کے موقع پر،یا پھران کے یہاںہونے والی کسی تقریب کے موقع پر ،تحفہ دیا جاتا ہے ۔ہندوستان میں یہ عام بات ہے ،جوکہ ثابت ہو چکی ہے ۔جونیر لوگوںکے درمیان اس بات کا مقابلہ ہوتا ہے کہ کون اپنے با س کو کتنا بڑھیا تحفہ دیتا ہے ،کیونکہ اسی کی بنیاد پر،ان پر باس کی مہربانی ہوگی اور پرموشن ہوگا ۔مختصر الفاظ میںکہیںتو ہندوستان میںپریوار اور کام کے درمیان کے رویے کو الگ کرنے کا کوئی قاعدہ قانون نہیں ہے ۔جلدی سے جلدی آپ اپنے سینئر کو چاچا اور ان کی بیوی کوموسی کہناشروع کردیتے ہیں ۔آپ اپنے باس سے اچھا تعلق قائم کر نے کے لیے وسائل کا استعمال کرتے ہیں ۔بیبر نے اسے بدعنوانی کا سبب مانا ہے ۔اس طرح کے رویے کو ہندوستان میںنہ صرف ثابت کیا جاچکا ہے ،بلکہ ا س کی تعریف بھی ہوتی ہے ۔ہندوستانیوں کے لیے بد عنوانی کچھ ایسی ہو گئی ہے ،جیسے کہ دال چاول ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *