وزارتِ خارجہ اور آئی اے ایس لابی

مضبوط آئی اے ایس لابی کی سخت مخالفت کے باوجود، وزارتِ امورِ خارجہ نے سکریٹری (پبلک افیئرس) کی نئی پوسٹ تیار کرنے کا من بنا لیا ہے۔ آئی اے ایس لابی، جس میں کیبنٹ سکریٹری اجیت سیٹھ بھی شامل ہیں، کا ماننا ہے کہ وزارتِ امورِ خارجہ میں پہلے سے ہی پانچ سکریٹریز موجود ہیں، ایسے میں وزارت کو سکریٹری سطح کی نئی پوسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن وزارتِ خارجہ کے فیصلہ سازوں کو اپنے وزیر ایس ایم کرشنا کی پوری حمایت حاصل ہے، جو مسٹر سیٹھ اور دیگر افسران کی مزاحمت کے باوجود ایک نیا سکریٹری بنانے پر آمادہ ہیں۔ سکریٹری، پبلک افیئرس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ نوڈل پوسٹ ہوگی جس کا کام ویزا، حج، تشہیر اور پبلک ڈپلومیسی سے متعلق امور کو دیکھنا ہوگا۔ نیا سکریٹری وزارت کے اندر پہلے سے موجود چاروں شعبوں میں تال میل بیٹھانے کا بھی ذمہ دار ہوگا، تاکہ وزارت کے کام کاج کو ٹھیک ڈھنگ سے چلایا جاسکے۔ اس معاملہ کو اب ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) اور وزارتِ خزانہ کے حوالے کردیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اسے جلد ہی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آئی اے ایس لابی اب بھی اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتی ہے یا پھر جیت وزارتِ امورِ خارجہ کے فیصلہ سازوں کی ہوتی ہے؟
بدعنوان بابوؤں کے خلاف ہوگی کارروائی
یو پی اے حکومت پر بدعنوانی کے الزامات ہمیشہ سے لگتے رہے ہیں، لہٰذا اب وہ یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ سرکار وہ سب کچھ کر رہی ہے جسے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اس نے بدعنوان افسروں کے خلاف کارروائی کرنی شروع کر دی ہے۔ اطلاع کے مطابق، ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ نے تمام وزارتوں کو بدعنوانی ختم کرنے کے لیے نئی میکانزم تیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ بدعنوان بابوؤں کے خلاف کارروائی کو تیز کردیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرسنل سکریٹری، پی کے مشرا ان معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے، ان پر اوپر سے نتائج سامنے لانے کا زبردست دباؤ ہے۔ حال ہی میں سنٹرل وجیلنس کمیشن (سی وی سی) نے بدعنوانی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے کی وجہ سے 172 افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم ایسی بھی بہت سی مثالیں ہیں، جب وزارتوں نے بدعنوان بابوؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور بہانہ یہ بنایا کہ اس میں انہیں پروسیجر سے متعلق دشواریاں ہو رہی ہیں۔ تاہم اب مشرا پر سب سے بڑی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ زیر التوا معاملوں پر کارروائی وقت پر ہو رہی ہے۔
پوسٹ ایک، دعویدار کئی
کرناٹک میں حقوق انسانی سے متعلق معاملوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ریاست کا حقوق انسانی کمیشن سرکاری بابوؤں کے درمیان کافی مقبول ہے، خاص کر ان افسروں کے درمیان جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم 14 ریٹائرڈ بابوؤں نے پینل کے رکن کی پوسٹ کے لیے اپلائی کیا ہے۔ فی الحال پینل کو چیئرپرسن سمیت اراکین کی ایک نئی ٹیم کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت نے حالانکہ چیئر پرسن کے عہدہ کے لیے چند سابق چیف جسٹس کے نام شارٹ لسٹ کیے ہیں، لیکن سابق بابوؤں کے درمیان ممبر کی پوسٹ کے لیے ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ فی الحال اس دوڑ میں جو ریٹائرڈ بابو شامل ہیں، ان کے نام ہیں : جی ایم دھننجے، پی گنیشن، کے جی گوپال کرشن گوڑا، ایس ایم جمدار، جی وی کونگاوَد، میرا سکسینہ، ٹی وائی نیاز احمد، سی این سیتھا رام، ڈی وینکٹیشور راؤ، شنکر پاٹل، ایم وی مورتھی، کے وی روندر ناتھ ٹیگور اور جی کے بور گوڑا۔اب ان میں سے کامیابی کس کو ملتی ہے، اس کا فیصلہ سلیکشن پینل کو کرنا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ، قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر، وزیر داخلہ اور دوسرے لوگ شامل ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *