فلسفۂ تاریخ اور ہلاکت اقوام کے مطالبہ پر قرآن کا اصرار

رضوان عابد

قرآن نے تذکیر کے دو طریقے پیش کئے۔ایک تذکیر بہ آلاء اللہ اور دوسرا تذکیر بایام اللہ۔ تذکیر بایام اللہ کے معنی ہیں ہلاک شدہ قوموں کے عروج و زوال اور نیست و نابود ہونے کی وجوہات۔ اس کا مطالعہ صرف تاریخ سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا مطالعہ فلسفہ تاریخ سے ہوگا،جب ہی تو ان ہلاک شدہ قوموں کی ہلاکت کے وجوہات سامنے آئیںگے۔قرآن کے مطالعے سے حیرت انگیز بات واضح ہوتی ہے۔ وہ ہلاکت اقوام کا مسئلہ ہے۔ قرآن حکیم قوموں کی ہلاکت کی ایک مختصر وجہ بتاتا ہے کہ ان میں سے اکثر مومن نہیں تھے ۔رسول کے بھیجے جانے کی مختصرغرض بتائی گئی کہ رسولوں کا کام یہ تھا کہ قوموں کو امن و امان کی آخری منزل تک پہنچا دیں اور قوموں کو عروج کی منزل تک پہنچانے کا مختصر دستور العمل تھا کہ ایک اللہ کا ڈر اپنے دل میں ہمیشہ قائم رکھو اور رسولوں کی زبانی احکام کی پابندی کرو۔

مسلمان تو فی الحال معزول قوم ہے اور شاید اسی لئے مسلمانوں پر دوسری قومیں مسلط کی گئی ہیں۔ دنیا کی ڈرپوک ترین قومیں اس وقت مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا رہی ہیں اور مسلمان چلہ کشی ، بے روح نمازوں میں لگی ہوئے ہیں ۔اللہ رحم کرے۔ قوموں کی ہلاکت سے متعلق آیات مندرجہ ذیل دی جارہی ہیں ،تاکہ اندازہ ہو کہ قرآن حکیم نے اس مسئلے کی کھوج نکالنے پر کتنا زور دیا ہے۔

یہ تینوں چیزیں سورہ الشعراء میں بیان کی گئی ہیں۔ ان تین باتوں کی تشریح تقریباًسارا قرآن ہے ۔اور یہی باتیں قرآن کا لب لباب ہیں اور انہی باتوں پر قوموں کی ہلاکت اور عروج و زوال کا دارو مدار ہے۔ قوموں کا اس دنیا میں عروج و زوال اور کچھ عرصہ کے بعد مکمل طور پر ہلاکت اور دوسری قوم کا اس کی جگہ لے لینا بہت ہی حیران کن ہے ۔ یہ ہلاکتیں اور عروج و زوال ہر زمانے میں چلتا رہا ہے ۔ قرآن حکیم نے جس اصرار کے ساتھ قوموں کے باقیات کا مطالعہ لازم قرار دیا ہے ان میں سے چند آیات ذیل میں بیان کردی گئی ہیں اور میں یہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قوموں کی ہلاکت کے سلسلے میں بہت حد تک کوشش کی جائے تو اس سے حیرت انگیز طور پر علم میں اضافہ ہوسکتا۔ یہ کام جس قوم کو کرنا چاہئے تھا یعنی مسلمانوں کو وہ قوم تو یہ کام بالکل نہیں کررہی ہے۔ہاں دنیا کی دوسری اقوام اس کام میںمنہمک ہیں اور ان قوموں کو ہی اس کا باقاعدہ فائدہ بھی پہنچے گا۔مسلمان تو فی الحال معزول قوم ہے اور شاید اسی لئے مسلمانوں پر دوسری قومیں مسلط کی گئی ہیں۔ دنیا کی ڈرپوک ترین قومیں اس وقت مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا رہی ہیں اور مسلمان چلہ کشی ، بے روح نمازوں میں لگی ہوئے ہیں ۔اللہ رحم کرے۔ قوموں کی ہلاکت سے متعلق آیات مندرجہ ذیل دی جارہی ہیں ،تاکہ اندازہ ہو کہ قرآن حکیم نے اس مسئلے کی کھوج نکالنے پر کتنا زور دیا ہے۔ سورۃ الانعام آیت نمبر 11’’( اے پیغمبر) کہہ دو کہ زمین میں چلو پھرو اور ملاحظہ کرو کہ اللہ کے احکام کو ہنسی مذاق سمجھ کر ان پر عمل نہ کرنے والوں کا یہ انجام ہوا‘‘ ۔سورۃ النمل آیت 36’’ پس زمین میں چلو پھرو اور پھر ملاحظہ کرو کہ جھٹلانے والو کا کیا انجام ہوا‘‘ ۔سورہ روم آیت 42 میں کہا گیا ’’ کہہ دو کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ ان لوگوں کا جو پہلے تھے کیا انجام ہوا کیونکہ ان میں سے اکثر اللہ کے ساتھ ساتھ کئی اور خدا کو شریک کرتے ( الگ الگ گروہوں میں بٹ جانے والے لوگ) تھے‘‘۔ سورہ آل عمران آیت 137 ’’ بے شک تم سے پہلے کئی (لوگوں کے بنائے ہوئے) طریقے ہو گزرے ہیں تو زمین میں چلو پھرو اور ملاحظہ کرو کہ اللہ کے قانون کو جھٹلانے والوں کا کیا (برا )انجام ہوا‘‘ ۔سورہ محمد آیت نمبر 10 ’’ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ (خود آنکھوںسے ) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں میںجو پہلے گذر چکے ہیں ،ان کا کیا انجام ہوا۔اللہ نے ان کو نیست و نابود کردیا اور ( اللہ کے قانون کے منکروں یعنی) کافروں کے لئے اس طرح کی مثالیں ( سامنے موجود ) ہیں۔سورہ روم آیت 9 ’’ اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ (خود اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا۔ حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین پر (اپنی کوششوں کے بہت سے) نشان چھوڑے اور اس کو ان لوگوں نے بہت زیادہ آباد کیا تھا اور ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی روشن احکام ساتھ لے کر آئے تھے، تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ ( وہ تمدن اور سماجی ترقی کے ایک مرحلے پر آکر غافل ہوگئے اور ان پر زوال آگیا) ۔سورہ فاطر آیت 44 ’’ اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے اور اللہ ایسا نہیں کہ زمینوں اور آسمانوں میں کوئی اس کو عاجز کرسکے اور ( طاقتور قومیں اس کی سزا سے ہمیشہ کے لئے محفوظ رہ سکیں)کیونکہ بے شک وہ بہت ہی بڑا علم والا اور بڑی ہی قدرت والا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قوت اور طاقت کے زور میں بھی کس طرح قومیں کمزور ہوجاتی ہیں اور کس بہانے سے ان کو اللہ کی نافرمانی کی سزا دی جاتی ہے۔سورہ مومن آیت نمبر 21’’ اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ خود اپنی آنکھوںسے دیکھ لیتے کہ کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے طاقت اور نشانوں کے اعتبار سے بہت زیادہ قوی تھے، تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا اور اللہ کی پکڑ سے ان کو بچانے والا کوئی نہ تھا‘‘ ۔ سورہ مومن آیت نمبر 82 ’’ تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا حال ہوا جو تعداد میں ان سے زیادہ، قوت میں ان سے بہت سخت اور نشانیوں کے لحاظ سے بہت زیاد ہ شاندار تھے ،تو جو کچھ وہ کر رہے تھے اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا‘‘ سورہ یوسف آیت نمبر 109 ’’ تو کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ دیکھ لیں کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے اور بے شک آخرت کا گھر ان ہی لوگوں کے لئے اچھا ہے جو اللہ کے قانون سے خوفزدہ ہیں تو کیا تم (اللہ کی حکمت عملی کو) نہ سمجھوگے(کہ وہ ٹھیک اور سیدھے راستے پر چلنے والوں کو ہی ہمیشہ قائم رکھتاہے)‘‘

ہلاک شدہ اقوام کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کی یہ حیرت انگیز اور اس کثرت کے ساتھ ترغیب کیسی عجیب بات ہے کہ مسئلہ ہلاکت اقوام کے بارے میں ایک مستقل اور عظیم الشان علم فلسفہ تاریخ سے اخذ کیا جائے جو دنیا کے لئے ایک معلومات کا دروازہ کھولے اور تمام آیات میں کیف کان عاقبتہ کے الفاظ نہایت قابل غور ہیں،جس سے مراد اس دنیا میں انجام ہے۔ ادھر آیت نمبر 10 والآخرۃ کے الفاظ جو عاقبہ کے لفظ کے فوراً بعد استعمال ہوئے ہیں قطعی طورپر اس بات کو صاف کردیتے ہیں کہ کسی قوم کا اس دنیا میں ہلاک نہ ہونا ہی اس کی عاقبت بخیر ہے بلکہ یہی دار الآخرۃ ہے ۔ قوت اللہ کے قانون پر چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور جب قدرت کے قانون کا ڈر باقی نہ رہے یہ عطا کردہ قوت سلب کرلی جاتی ہے۔
ان آیات کی رو سے فلسفہ تاریخ کو سمجھنا نہایت ضروری اور فلسفہ تاریخ کو ترقی دے کر اس کی معراج تک پہنچانا ضروری اس لئے ہے کہ تذکیر بایام اللہ کا مقصد پورا ہو سکے۔ فلسفہ تاریخ سے ہی تو پتہ چلے گا کہ تباہ شدہ قومیں کیوں تباہ ہوئیں۔ ان کی تباہی کے پیچھے کیا عوامل تھے اور جب یہ قومیں عروج پر تھیں تو اس عروج کی کیا وجوہات تھیں ۔ اس فلسفہ تاریخ کے سبق سے آج کے مسلمانو ں کو یہ بھی اندازہ ہوجائے گاکہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور ان میں کیا کمزوریاں ہیں اور عروج پر کیسے پہنچے تھے اور اب ملت اسلامیہ کے زوال کے اسباب کیا ہیں ۔اللہ تعالیٰ شرک کو بہت نا پسند فرماتا ہے۔ ْذاتی طور پر شرک کے معنی ہیں اللہ کی ذات و صفات میں کسی دوسرے کو شامل کرنا اور اجتماعی شرک کے معنی ہیں کہ کسی اور کو اللہ کی ذات میں شریک کرکے ایک فرقہ بنا لینا اور اصل دین سے ہٹ جانا ۔ اللہتعالیٰ متعدد بار قرآن میں فرماتا ہے کہ ہدایت پہنچنے کے بعد ان لوگوں نے اختلاف کیا کیونکہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنا چاہتے تھے تو یہ فرقہ بندی انجانے میں نہیں ہوتی۔ یہ تو ہدایت پہنچنے کے بعد ہوتی ہے اور اس کا مقصد کوئی نیک مقصد نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد تو اختلاف پیدا کرکے ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتا ۔ اب فرقوں کے بنانے والے سمجھ لیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *