درخواست کہاں اور کیسے جمع کریں

مجھے اطلاع کون دے گا۔؟میں درخواست کسے دوں؟
تمام سرکاری محکموں میں ایک یا ایک سے زیادہ پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری کی گئی ہے۔ آپ کو اپنی درخواست انہیں کے پاس جمع کرنی ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کے ذریعہ مانگی گئی اطلاع محکمے کی مختلف شاخوں سے اکٹھا کرکے آپ تک پہنچائیں۔ اس کے علاوہ بہت سے معاون پبلک انفارمیشن آفیسر مقرر کیے گئے ہیں۔ ا نکا کام صرف عوام سے درخواست لے کر اسے متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس پہنچائے۔
مجھے پبلک انفارمیشن آفیسر کے پتے کی جانکاری کیسے ملے گی؟
یہ پتہ لگانے کے بعد کہ آپ کو کس محکمے سے اطلاع لینی ہے، پبلک انفارمیشن آفیسر کے سلسلے میں جانکاری اسی محکمے سے مانگی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ اس محکمے میں نہیں جا پارہے ہیں یا محکمہ آپ کو جانکاری نہیں دے رہا ہے تو آپ اپنی درخواست اس پتے پر بھیج سکتے ہیں :۔ پبلک انفارمیشن آفیسر۔کیراف،ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ( محکمہ کا نام اور پتہ)یہ اس محکمہ کے ہیڈ کی ذمہ داری ہوگی کہ اسے متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس پہنچائے۔ آپ متعدد سرکاری ویب سائٹوں سے بھی پبلک انفارمیشن آفیسر کی اطلاع حاصل کر سکتے ہیں۔
کیا کوئی پبلک انفارمیشن آفیسر میری درخواست یہ کہہ کر نا منظور کر سکتا ہے کہ درخواست یا اس کا کوئی حصہ اس سے متعلق نہیں ہے؟
نہیں ، وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔ وہ متعلقہ محکمہ کے پاس آپ کی درخواست کو بھیجنے اور اس کے بارے میں آپ کو اطلاع کرنے کا پابند ہے۔
اگر کسی محکمہ نے پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری نہ کی ہو تو کیا کرنا چاہئے؟
اپنی درخواست پبلک انفارمیشن آفیسرکے ذریعہ ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کے نام سے مقررہ فیس کے ساتھ متعلقہ سرکاری آفیسر کو بھیج دیں۔ آپ آرٹیکل 18 کے تحت ریاستی انفارمیشن کمیشن سے بھی شکایت کر سکتے ہیں۔ انفارمیشن کمیشن کے پاس ایسے افسروں پر 25000 روپے جرمانہ لگانے کا اختیار ہے، جس نے آپ کی درخواست لینے سے انکار کیا ہے۔ شکایت کرنے کے لئے آپ کو صرف انفارمیشن کمیشن کو ایک معمولی خط لکھ کر یہ بتا تا ہے کہ فلاں محکمے نے ابھی تک پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری نہیں کی ہے اور اس پر جرمانہ لگانا چاہئے۔
کیا پبلک انفارمیشن آفیسر مجھے اطلاع دینے سے منع کر سکتا ہے؟
پبلک انفارمیشن آفیسر حق اطلاعات قانون کے آرٹیکل 8 میں بتائے گئے موضوع سے متعلق اطلاع دینے سے منع کرسکتا ہے ۔ اس میں غیر ملکی سرکاروں سے حاصل شدہ خفیہ اطلاع ، سیکورٹی معاملوں سے متعلق اطلاعات، سیاسی، سائنسی یا ملک کے مالی مفاد سے جڑے معاملے، وغیرہ کی لسٹ شامل ہیں ۔ایکٹ کی دوسری شیڈول میں ایسی 18 ایجنسیوں کی لسٹ دی گئی ہے، جہاں اطلاع کا اختیار لاگو نہیں ہوتا ہے۔ پھر بھی اگر اطلاع بد عنوانی کے الزاموں یا حقوق انسانی کی خلاف سے جڑی ہوئی ہے توان محکموں کو بھی اطلاع دینی پڑے گی۔
کیا اس کے لئے کوئی فیس بھی ہے؟
ہاں ، اس کے لئے فیس اس طرح ہے:درخواست فیس 10 روپے، اطلاع دینے کا خرچ 2 روپے فی صفحہ، دستاویزوں کی جانچ کرنے کی فیس ،جانچ کے پہلے گھنٹے کی کوئی فیس نہیں ہے لیکن اس کے بعد ہر گھنٹے کا پانچ روپے فیس کے طور پر دینا ہوگا۔ یہ فیس مرکز اور کئی ریاستوں کے لئے اوپر لکھی فیس کے مطابق ہے۔ لیکن کچھ ریاستوں میں یہ اس سے الگ ہے۔
میں فیس کیسے جمع کرسکتا ہوں؟
درخواست فیس کے لئے ہر ریاست کا اپنا الگ الگ سسٹم ہے۔ عام طور پر آپ اپنی فیس مندرجہ ذیل طریقوں سے جمع کر سکتے ہیں: خود سے جاکر جمع کرا کر (اس کی رسید لینا نہ بھولیں) ڈیمانڈ ڈرافٹ، بھارتیہ پوسٹل آرڈر، منی آرڈر سے (کچھ ریاستوں میں نافذ )بینکرس چیک سے،مرکزی سرکار سے متعلق معاملوں میں اسے اکائونٹ آفیسر کے نام دیے ہونے چاہئے۔ کچھ ریاستی سرکاروں نے اس کے لئے خاص کھاتے کھولے ہیں۔ آپ کو اس کھاتے میں فیس جمع کرنا ہوتا ہے،یا اس کے لئے اسٹیٹ کی کسی بھی شاخ میں نقد جمع کرکے اس کی رسید درخواست کے ساتھ نتھی کرنی ہوتی ہے۔ یا آپ اس کھاتے کے حق میں دیے پوسٹل آرڈر یا ڈی ڈی بھی درخواست کے ساتھ منسلک کرسکتے ہیں۔ کچھ ریاستوں میں آپ درخواست کے ساتھ مقررہ فیس کی کورٹ اسٹامپ بھی لگا سکتے ہیں۔ پوری جانکاری کے لئے متعلقہ ریاست کے ضابطوں کاجائزہ لیں۔
میں اپنی درخواست کیسے جمع کرسکتا ہوں؟
آپ خود سے پبلک انفارمیشن آفیسر یا معاون پبلک انفارمیش آفیسر کے پاس جاکر یا کسی کوبھیج کر درخواست جمع کرا سکتے ہی۔ آپ اسے پبلک انفارمیشن آفیسر یا معاون انفارمیشن آفیسر کے پتہ پر ڈاک کے ذریعہ بھی بھیج سکتے ہیں۔ مرکزی سرکاری کے سبھی محکموں کے لئے 629 ڈاک گھروں کو مرکزی اسسٹنٹ انفارمیشن آفیسرکی حیثیت دی گئی ہے۔ آپ ان میں سے کسی بھی ڈاک گھر میں جاکر درخواست اور فیس جمع کر سکتے ہیں۔ وہاں جاکر جب آپ حق اطلاع کی درخواست کائونٹر پر جمع کریںگے تو وہ آپ کو رسید اور ایکنالوجمنٹ دیں گے اور یہ اس ڈاک گھر کی ذمہ داری ہے کہ طے وقت پر آپ کی درخواست مذکورہ پبلک انفارمیشن آفیسر تک پہنچائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *