برمی مسلمانوں کا ہمدرد کوئی نہیں

رشید الدین
اسلام دنیا میں جب کبھی انسانی حقوق اور مساوات کی بات کی گئی امریکہ اور اس کے حلیف اس کے واحد علمبرادر کی حیثیت سے میدان میں آگئے ،لیکن جب کبھی معاملہ اسلام اور مسلمانوں کا منظر عام پر آیا یہ تمام جھوٹے دعویدار الٹے پیر بھاگ گئے کیونکہ انہیں انسانیت سے تو ہمدری ہے لیکن مسلمانوں سے نہیں شاید وہ انہیں انسانیت میں شامل ہی دیکھنا نہیں چاہتے ۔ اس کی تازہ مثال برما میں جاری خونریزی ہے۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا بدھسٹ دہشت گردوں کی جانب سے قتل عام کیا جارہا ہے لیکن افسوس اس پر دنیا کی توجہ ہونے کے بجائے معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ برما میں جہاں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور ملک چھوڑ دینے کے لئے عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے وہاں کے40 لاکھ مسلمان رمضان المبارک کے اہتمام کے لئے دنیا بھر کے دیگر مسلمانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فوج کے ساتھ کام کرنے والے مخالف مسلم ’’ ناگ‘‘ دہشت گردوں نے تباہی کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا ہے۔ برما میں پہلی مرتبہ سحر اور افطار کے اعلانات پر پابندی عائد کردی گئی۔ 300 مساجد کو بند کردیا گیا۔اب برما کیمسلمان رمضان میں بھی مسجدمیں عبادت نہیں کر پائیںگے۔

۔ برطانوی سامراج میں ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی تجارت میں مدد کیلئے جبرًا برما منتقل کیا تھا۔ ان حالات میں کم سے کم ہندوستان کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر وہاں کیحکومت کی سرزنش کرتا لیکن مسلمانوں کا عجیب حال ہے ،نہ ہی ہندوستان ان کی مدد کرنے کو تیار ہے اور نہ برما کیحکومت انہیں چین سے رہنے دے رہی ہے ۔ آج سب سے زیادہ بے حسی اگر کسی کے بارے میں دیکھی جاتی ہے تو وہ بیچارے مسلمان ہیں ۔دنیا میں ہر چیز کی قیمت ہے لیکن مسلمان کے خون کی کوئی قیمت نہیں ۔ اس کی وجہ مسلمانوں میں عدم اتحاد ہے ۔ 50 سے زائد مضبوط مالیاتی موقف کے مسلم ممالک موجود ہیں لیکن ان میں زیادہ تر اپنی اہمیت اور اتحاد کو بھلا کر امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔

گھروں میں تلاوت قرآن اور سماعت قرآن کو ملک سے غداری اور سازش قرار دیا گیا جس کی سزا قتل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ماہ کے عرصہ میں دو ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بدھسٹ دہشت گردوں نے غیر متاثر ہ علاقوں کی مساجد کے لائوڈ اسپیکر کو بند کردیا اور وہاں بھی سحر و افطار کے اعلانات پر پابندی لگادی گئی۔ اطلاعات کے مطاق برما کے مظلوم مسلمان رمضان المبارک ے روایتی طور پر اہتمام کے لئے مسلم ممالک کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہیں۔ مسلمان ایسا نہیں کہ برما میں تعداد میں کم ہیں ۔مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی حصہ داری 10 تا 12 فیصد ہے۔ اس صورت حال میں بھی کیا مسلم ممالک کی غیرتنہیں جاگے گی ۔ انسانی حقوق کے علمبرار ممالک تو کجا اقوام متحدہ ، یونیسف اور دیگر عالمی اداروں کو فوری ان مظلوموں کی عیادت کے لئے آگے آنا پڑے گا۔ برما کا تاریخی پس منظر دیکھیں وہاں بسنے والے مسلمانوں کا تعلق زیادہ تر ہندوستان، بنگلہ دیش اور چین سے نقل مقام کرنے والوں کا ہے۔ برطانوی سامراج میں ہندوستانی مسلمانوں کا تعلقزیادہ تر ہندوستان بنگلہ دیش اور چین سے نقل مقام کرنے والوں کا ہے۔ برطانوی سامراج میں ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی تجارت میں مدد کیلئے جبرًا برما منتقل کیا تھا۔ ان حالات میں کم سے کم ہندوستان کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر وہاں کیحکومت کی سرزنش کرتا لیکن مسلمانوں کا عجیب حال ہے ،نہ ہی ہندوستان ان کی مدد کرنے کو تیار ہے اور نہ برما کیحکومت انہیں چین سے رہنے دے رہی ہے ۔ آج سب سے زیادہ بے حسی اگر کسی کے بارے میں دیکھی جاتی ہے تو وہ بیچارے مسلمان ہیں ۔دنیا میں ہر چیز کی قیمت ہے لیکن مسلمان کے خون کی کوئی قیمت نہیں ۔ اس کی وجہ مسلمانوں میں عدم اتحاد ہے ۔ 50 سے زائد مضبوط مالیاتی موقف کے مسلم ممالک موجود ہیں لیکن ان میں زیادہ تر اپنی اہمیت اور اتحاد کو بھلا کر امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم اسلامی کانفرنس کا جود تو ہے لیکن اس کے مطالبات اور پالیسی کو کبھی بھی مغربی دنیا نے قبول نہیں کیا۔ آج ہم بھول گئے کہ جب مسلمانوں نے بے سروسامانی کے عالم میں بدر کے میدان میں کفار ان قریش سے مقابلہ کیا تھا۔ اس وقت دنیا کومسلمان کے خون کی قیمت معلوم تھی۔ امریکی صدر باراک اوباما نے امریکہ کے دو سابق صدر بش سینئر و جونیئر کو بھی اسلام اور مسلم دشمنی کے معاملے میں پیچھے چھوڑ دیا ۔وہ ہر چھوٹی اور کمزور مملکت کو اپنی کٹھل پتلی کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔انہیں چاہئے کہ پہلے اپنے ملک کے اندرونی حالات کاجائزہ لیں ۔ امریکہ نے برما میں منتخب حکومت کی جگہ ایک کٹھ پتلی فوجی جرنل کو اقتدار حوالے کردیا جس نے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمان برما کے شہری نہیں ہیں ایسے حکمرانوں سے انصاف کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔مظلوم مسلمانوں کو بنگلہ دیش (پروسی ملک) منتقل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *