بالی ووڈ: نئے چہرے، کم بجٹ، پھر بھی فلمیں کامیاب

سلمان علی 

حال ہی میں ریلیز ہوئیں کم بجٹ اور نئے اداکاروں کی فلموں نے اپنی غیر معمولی کامیابی کے ذریعہ بالی ووڈ میں یہ دستک دینے کی کوشش کی ہے کہ اب وقت کے ساتھ کردار ہی نہیں، بلکہ کردار کے لئے گلیمرس چہروں کی ضرورت نہیں ہے۔ہندوستان میں یہ لائن تو بے حد عام ہے کہ ’’چھوٹا پیکٹ بڑا دھمال‘‘ اور آج کے چھوٹے فلمسازوں نے اسے ہی اپنا بنیادی فنڈہ بنا لیا ہے۔کیونکہ بالی ووڈ میں چھوٹا ہی بڑا ہے۔اس سال میں ریلیز ہوئیں غیر تجارتی فلموں نے زبردست کمائی تو کی ہی ہیساتھ ہی یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہر کردار کو کرنے کے لئے گلیمرس چہرے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے علاوہ ان میں سے کئی فلموں نے تو 100کروڑ سے زیادہ کی کمائی کر کے باکس آفس کی رونق بڑھائی ہے۔لیکن سال کے آخر میں اب مداحوں کی نظریں بالی ووڈ کے خان برادران پر ٹکی ہیں۔لہٰذا ،ان نئے اداکاروں کے لئے یہ اچھی دستک ہو سکتی ہے ، جو سالوں سال بالی ووڈ کے گلیاروں کی دھول چھاننے کے بعد بھی ایک سپورٹنگ رول تک حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔کیونکہ ان فلموں نے صاف اشارہ کیا ہے کہ زمین سے جڑے کردار کے لئے زمین سے جڑے اداکار کی ہی ضرورت ہوتی ہے،نہ کہ کسی گلیمرس چہرے کی۔

22جون کو ریلیز ہوئی بہاری پس منظر پر مبنی فلم ’’گینس آف واسیپور ‘‘ جو ایک کرائم فلم ہے، نے بھی اپنی معمولی کامیابی کا سکا جمایا ہے۔خاص بات ہے کہ اس فلم کے ذریعہ فلم میں اداکاروں کی خوب پذیرائی ہوئی ہے۔جبکہ ایک سچائی یہ بھی ہے کہ فلم میں بے حد فحاشیت او کھلے عام گالیوں سے پوری فلم گلزار ہے۔فلم کا بجٹ 18.5کروڑ رہے، جبکہ اس نے صرف پانچ ہفتوں میں 27.5کروڑ روپے کی کمائی کر ڈالی۔

حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’’عشق زادے ‘‘اور ’’وکی ڈونر ‘‘جیسی کم بجٹ کی فلموں نے بڑی کمائی کر کے خود کو بڑا ثابت کیاہی ہے ساتھ ہی ان کے اداکاروں نے بھی اپنی اداکارانہ صلاحیتوں خوب نمایاں کیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان فلموں میں بہت گلیمرس اور مشہورچہرے نہ ہوتے ہوئے بھی فلموں نے باکس آفس پر اپنی مضبوط چھاپ چھوڑی۔اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ان فلموں کی کہانی ہالی ووڈ فلموں سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہوں، یا پھر اس میں تکنیک کا زبردست استعمال کیاگیا ہو۔فلم کی اسٹوریاں بے حد معمولی تھیں اور ایسے پس منظر پرتیار کی گئیں ، جس میں عشق محبت ہے، نفرت ہے، دادا گیری ہے اور خاندانی رنجش بھی ۔فلم عشق زادے کی کہانی کو ایک ایسے لڑکے اور لڑکی کے کردار پر بنا گیا ہے ، جس میں دونوں خاندانی رنجش میں جلتے رہتے ہیں اور جس کا انجام صرف اور صرف محبت ہوتا ہے۔اس فلم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ فلم میں ڈبل مینگ یعنی گالی گلوج اور فحش زبان کا زبردست استعمال کیا گیا ہے۔اس کے باوجود فلم نے ناظرین کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی۔یہ فلم اب تک باکس آفس پر تقریباً 50کروڑ روپے کی کمائی کر چکی ہے۔
22جون کو ریلیز ہوئی بہاری پس منظر پر مبنی فلم ’’گینس آف واسیپور ‘‘ جو ایک کرائم فلم ہے، نے بھی اپنی معمولی کامیابی کا سکا جمایا ہے۔خاص بات ہے کہ اس فلم کے ذریعہ فلم میں اداکاروں کی خوب پذیرائی ہوئی ہے۔جبکہ ایک سچائی یہ بھی ہے کہ فلم میں بے حد فحاشیت او کھلے عام گالیوں سے پوری فلم گلزار ہے۔فلم کا بجٹ 18.5کروڑ رہے، جبکہ اس نے صرف پانچ ہفتوں میں 27.5کروڑ روپے کی کمائی کر ڈالی۔فلم میں منوج واجپئی نے اپنی لاجواب اداکاری سے خوب رنگ جمایا ہے۔اس کے علاوہ نواز الدین صدیقی اور حما قریشی کی اداکاری نے قابل ستائش اداکاری کی ہے۔
اسی طرح فلم ’’وکی ڈونر ‘‘جس کا بجٹ محض 5کروڑ روپے ہے، اور یہ فلم اب تک 46کروڑ روپے کما چکی ہے۔اس کی کمائی سے بآسانی اندازہ ہے لگایا جا سکتا ہے کہ فلم کی کہانی لوگوں کو کتنی پسند آئی ۔فلم کی کہانی بدلتے معاشرہ اور نوجوانوں کی بدلتی سوچ پر مبنی ہے۔جیسا کہ آ ج کے ہر نوجوان کا خواب جلد سے جلد کامیابی اور پیسہ حاصل کرنا ہے ،خواہ اس کے لئے اسے کسی بھی طرح کا غیر سماجی یا غیر قانونی کام کرناہی کیوں نہ پڑے۔ فلم میں وکی ارورہ(ایوشمان خورانہ) جو ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ نوجوان ہے،لیکن نوکری نہ ملنے کے سبب پریشان ہے۔ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں اسپرم ڈونیشن یعنی اپنے نطفہ کو کسی پیسوں کے بدلے دینے کا دھندہ زوروں پر چل رہا ہے اور آج کے نوجوانوں کے لئے پارٹ ٹائم جاب بن گیا ہے۔ بس اس کے بعدوکی اسپرم ڈونیشن کو ہی اپنا مستقل پیشہ بنا لیتا ہے، اس کے بعد آگے چل کر اسے کیا پریشانیاں ہوتی ہیں، یہ فلم کی کہانی ہے۔
فلم پان سنگھ تومر جو ایک کھلاڑی کی زندگی پر مبنی ہے، جو اپنے اوپر ظلم و ستم سے عاجز آکر ایک ڈکیت بن جاتا ہے۔عرفان خان کی اداکاری میں بنی اس فلم کا بجٹ صرف 8کروڑ ہے جبکہ اس کی اب تک کی کمائی 30کرور 26لاکھ روپے ہے۔آپ کو بتا دیں کہ فلم میں عرفان خان کو چھوڑ دیں تو کوئی بھی ایسا چہرہ نہیں ہے جو ناظرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکے۔
اسی طرح روشن اور سنجے دت کی اداکاری میں ریلیز ہوئی ’’اگنی پتھ‘‘نے بھی زبردست کمائی کی۔ حالانکہ یہ فلم 1990میں آئی امیتابھ بچن کی فلم کا ریمیک ہے۔آپ کو بتا دیں کہ اس فلم کا بجٹ 60کروڑ روپے ہے جبکہ اس کی اب تک کی کمائی 193کروڑ روپے ہو چکی ہے۔یہ ملٹی اسٹارر فلم تھی ، اور اس میں بالی ووڈ کے نامور چہرے موجود تھے۔
گزشتہ دنوں ریلیز ہوئی ’’ہائوس فل 2‘‘ جو 2010میں آئی ہائوس فل کا سیکویل ہے، نے بھی بمپر کمائی کی اور باکس آفس پر اپنی کامیابی کی مہر ثبت کی۔فلم کی کہانی بے حد معمولی تھی اور فلم میں اوور ایکٹنگ کی بھرمار تھی۔لیکن کیونکہ فلم ملٹی اسٹارر تھی ۔ اسی وجہ فلم کمائی کرنے میں کامیاب ہوئی۔آپ کو بتا دیں کہ فلم کا بجٹ صرف 75کروڑ تھا جبکہ اس اب تک کی کمائی 180کروڑ کی ہے۔ کچھ کم بجٹ کی فلموں میں صرف عشق زادے ہی ایسی فلم ہے جس کے پروڈکشن میں 25کروڑ روپے کا خرچ ہوا۔ باقی کی کچھ فلموں تو صرف 10کروڑ روپے کی لاگت پرہی بنی ہیں۔اس کے علاوہ ان چھوٹی فلموں کے سیٹلائٹ رائٹس بھی بہترقیمتوںپرفروخت ہوئے۔سال 2012میں کئی فلموں میں نے 100کروڑ سے بھی زیادہ کی کمائی کی ہے۔ان میں سے بیشتر فلمیں ایسی ہیں، جن میں آپ نئے چہروں کو دیکھیں گے۔ حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان نئے چہروں نے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کو نمایاں کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑ ی ہے۔سال 2012میں ریلیز ہوئی تمام کم بجٹ کی فلموں نے جو پیغام دیا ہے ، وہ یہ کہ فلموں میں کہانیاں ہی نہیں چہرے بھی بدل رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *