اعظم خاں بھول گئے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں

وسیم راشد
ملت میں سیاست کا فقدان ہے اور اس فقدان کا فائدہ وہ سیاسی لیڈران اٹھا رہے ہیں جن پر قوم نے بھروسہ کیا ہے۔ دراصل ان لیڈروں کو یقین ہے کہ اس قوم کے ساتھ جیسا بھی سلوک کیا جائے ،لوٹ کر تو انہی کے پاس آنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان ان جیسے لیڈروں کے پاس اپنا آئینی حق مانگنے جاتی ہے تو ان  کے ساتھ سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے۔ ضلع رامپور سے مسلمانوں کے ووٹ پر اسمبلی تک پہنچنے والے اعظم خاں  سے لوگوں کی بڑی توقعات وابستہ ہیں ۔یوپی کے مسلمان ان سے اچھا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیںکہ ریاست کے لئے اعظم خان مسیحا ثابت ہوںگے مگر اعظم خان کے بدلتے  رویے کی وجہ سے  ان کا یہ گمان ختم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔کیونکہ اب تک قوم کے لئے اونچا نعرہ دینے والے اعظم خان اور ان کی پارٹی نے مسلمانوں کے لئے کچھ ایسا عملی طور پر نہیں کیا ہے جس کیوجہ سے یہ کہا جا سکے کہ ان کی پارٹی مسلمانوں کیلئے  بھلا  چاہتی ہے ،او پر سے ان کا مسلمانوں کے ساتھ تیکھا اور غیر مہذبانہ بیان زخم پر نمک پاشی کا کام کر رہا ہے۔

آزادیٔ ہند میں علماء کے کارنامے شامل نہ ہوتے تو شاید آج ملک کو آزادی نصیب نہیں ہوتی۔مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی،مولانا محمود حسن ، مولانا فضل حق خیرآبادی اور ان جیسے بے شمار علماء کرام ہیں جنہوں نے سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تب جاکر ہمارا ملک آزاد ہوا۔ اگر وہ اعظم خان کی سوچ کے حامل ہوتے اور اپنی دینی صلاحیتوں کو مسجد اور مدرسوں تک ہی محدود رکھتے اور سیاست سے دور رہتے تو اتنا عظیم کارنامہ (آزادی) انجام نہیں دیا جا پاتا

ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ  میرٹھ کے مسلمانوں نے اعظم خان سے صرف اتنا مطالبہ کیا  تھاکہ وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں افطار و سحری کے اوقات میں بجلی کا خاص انتظام کروائیں تو اعظم خان کو یہ مطالبہ اتنا برا لگا کہ وہ آپے سے باہر ہوگئے اور مطالبہ    کرنے والے نائب قاضی اور ان کے ساتھ موجود لوگوں کو برا بھلا کہہ ڈالا۔ اعظم خان ایم ایل سی ڈاکٹر سروجنی اگروال کی افطار کی دعوت پر میرٹھ آئے ہوئے تھے۔چونکہ اعظم خان کے پاس یوپی سرکار کی اہم وزارت ہے لہٰذا  فطری طور پر علاقے کے عوام کو کسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہوگا تو وہ ان کے پاس ہی جائیںگے۔اس وقت علاقے کے لوگوں کو جو بڑی پریشانی ہے وہ ہے بجلی کی سپلائی کی ،وہ بھی رمضان المبارک کے موقع پر۔اس پریشانی کو لے کر نائب شہر قاضی زین الراشدین اعظم خان کے پاس یہ مطالبہ لے کر گئے کہ وہ افطار اور سحری کے موقع پر بجلی کی خاص سپلائی کا انتظام کروائیں۔نائب شہر قاضی کے اس مطالبہ سے اعظم خان اتنا ناراض ہوئے کہ انہیں سخت سست سنا دیا یہاں تک کہ سخت تیور دکھاتے ہوئے نائب شہر قاضی کو داڑھی رکھ کر سیاست نہ کرنے کی نصیحت دے ڈالی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اعظم خان نے تو یہاں تک کہہدیا کہ وہ ڈاڑھی والوں سے کہیں بہتر اور پختہ ایمان والے مسلمان ہیں۔اعظم خان کا علماء کرام کو سیاست سے دور رہنے کا یہ مشورہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے وہ ایک موقع پر امام بخاری کو سیاست میں حصہ نہ لینے کی بات کہہ چکے ہیں ۔دراصل اعظم خان کا ماننا ہے کہ امام اور مولوی حضرات کو سیاست میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے خیال میں امام اور مولویوں کا کام صرف لوگوں کو نماز پڑھانا ہے نہ کہ سیاست میں حصہ لینا۔
اعظم خان شاید اس بات کو بھول چکے ہیں کہ ان کے سپریمو ملائم سنگھ یادو الیکشن کے زمانے میں دیوبند اور دیگر علماء سے اپنے حق میں بیان دینے کی اپیل کرانے  کے لئے ملاقات کرتے رہے ہیں۔اگر علماء کو الگ رکھنے کا نظریہ صحیح ہے تو پھر ان کے سپریمو کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہے اور الیکشن کے زمانہ میں علماء کی چوکھٹ کی خاک نہیں چھاننی چاہئے۔ جہاں تک اعظم خان کی سوچ کی بات ہے تو انہیں علماء کو سیاست سے الگ رکھنے کے فرسودہ خیال کو ترک کردینا چاہئے کیونکہ آزادیٔ ہند میں علماء کے کارنامے شامل نہ ہوتے تو شاید آج ملک کو آزادی نصیب نہیں ہوتی۔مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی،مولانا محمود حسن اور ان جیسے بے شمار علماء کرام ہیں جنہوں نے سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تب جاکر ہمارا ملک آزاد ہوا۔ اگر وہ اعظم خان کی سوچ کے حامل ہوتے اور اپنی دینی صلاحیتوں کو مسجد اور مدرسوں تک ہی محدود رکھتے اور سیاست سے دور رہتے تو اتنا عظیم کارنامہ ( آزادی) انجام نہیں دیا جا پاتا۔اعظم خان کے اس بیان کو تاریخ سے لا علمی یا حقیقت سے چشم پوشی کہا جا ئے گا یا پھر وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مسلمانوں کے مسائل  کو نظر انداز کردینا چاہتے ہیںاور بہت حد تک ممکن ہے ایسا ہی ہو، کیونکہ کچھ مسلم  لیڈر اپنے کو سیکولر کہلانے کے شوق میں مسلمانوں کا کام اس لئے نہیں کرتے ہیں کہ کہیں ان پر مسلم پرست لیڈر ہونے کا الزام نہ لگ جائے۔اس وقت اعظم خان کا ستارہ عروج پر ہے۔ وہ سماجوادی  پارٹی کے اہم چہروں میں شامل ہیں لہٰذا وہ  بھی دیگر لیڈروں کی طرح مسلم پرست بن کر اپنی شبیہ بگاڑنا نہیں چاہیںگے، شاید اسی لئے انہوں نے افطار اور سحری کے وقت میں بجلی سپلائی کے مطالبے پر تیور سخت کر لیا ہو،مگر اعظم خاں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر پارٹی نے انہیں یہ عزت دی ہے تو صرف اس لئے  تاکہ ان کی  وجہ سے پارٹی کی گرفت مسلم ووٹ پرمضبوط رہے اور مسلمان اعظم خان کے بہترین خدمتوں کی وجہ سے آنے والے پارلیمانی انتخاب میں اسی طرح سماجوادی پارٹی کے ساتھ جڑے رہیں جس طر ح  گزشتہ اسمبلی میں ان کے ساتھ جڑے ہوئے رہے اور پارٹی کو  اقتدار تک پہنچایا۔لیکن اعظم خان نے جس طرح نائب شہر قاضی  کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے ،یہ نہ صرف ریاست کے مسلمانوں کو پارٹیسے بد ظن کردے گا بلکہ مسلمانوں کی ناراضگی اعظم خان کی امیج کو پارٹی میں خراب کر سکتی ہے۔ اب تو مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اعظم خان کے اس رویے پر ناراضگی کا اظہار کرنے لگی ہیں ۔ ’’ راشٹریہ مسلم وکاس مہا سبھا‘‘کے  علاوہ ’’ جمعیۃ علماء ہند ‘‘کے شہر جنرل سکریٹری مولانا سلمان قاسمی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اعظم خان کا یہ بیان نہ صرف نائب شہر قاضی کی بے عزتی کرتا ہے بلکہ تمام علماء کرام اور مسلمانوں کی توہین بھی ہے جو رمضان کے روزے رکھتے ہیں ۔
مسلمانوں کی طرف سے سخت ناراضگی کے بعد اعظم خاں کو احسا س ہوا کہ انہوں نے  نائب شہر قاضی کے ساتھ کچھ زیادہ ہی نازیبا لہجہ اختیار کیا ہے ،چنانچہ بعد میں فون کرکے ان سے معافی مانگ لی ۔نائب شہر قاضی نے انہیں معاف بھی کر دیا مگر علاقے کے مسلمانوں کو ان کے بیان سے جو ذہنی کرب پہنچا ہے اس کو ختم  نہیں کیا جاسکتا ہے۔اگر اعظم خاں  واقعی مسلمانوں کے ذہن کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو نہ صرف مستقبل میں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان نہ دیں بلکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس بھی کریں ۔یوپی کے مسلمانوں نے اعظم خان کو اس لئے ووٹ دیا تھاکہ وہ ان کے جائز مطالبات  پورے کرائیں گے مگر یہاں تو الٹا ہی ہوگیا کہ وہ مطالبہ کرنے والے پر ہی آگ بگولہ ہورہے ہیں اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کچھ دیگر مسلم  لیڈر ان کے اس عیب پر پردہ پوشی کرنے کے لئے بے تکا جواز پیش کررہے ہیں۔ چنانچہ سماجوادی پارٹی کے ایک مسلم لیڈر کہتے ہیں کہ ’’  مسلمانوں کے پاس خاص طور پر یوپی کے مسلمانوں کے پاس مسلم قیادت کا فقدان ہے اور ایسے میں اگر اعظم خان جیسے قد آور لیڈرکو کوئی سیاسی  نقصان پہنچا تو اس کا سیدھا نقصان یوپی کے مسلمانوں کا ہوگا۔مطلب یہ ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس قیادت کی کمی ہے اس لئے مسلمانوں کے پاس جو لیڈر ہیں، ان کے لئے سب کچھ جائز ہے۔ وہ جب چاہیں مسلمانوں کی دلآزاری کریں ۔نائب قاضی کے ساتھ ہوئی بد سلوکی کو بھی موصوف سماجوادی لیڈر نے ہلکے میں لیتے ہوئے اعظم خان کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہر بات کو کہنے اور سننے کا موقع محل ہوتا ہے‘‘۔اب ذرا کوئی بتائے تو کہ یہ موقع کب اور کیسے ہوتا ہے۔ اگر افطار پارٹی کے موقع پر پریس والوں سے بات چیت کے دوران افطار و سحری میں پیش آنے  والے مسائل کے بارے میں کچھ مطالبے  کیے جائیں تو اس میں کیا برائی تھی۔
یہ سچ ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کی کمی ہے  اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مسلمان جس لیڈر پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں ووٹ دے کر اسمبلی یا پارلیمنٹ تک پہنچاتے ہیں وہی لیڈر پاور میں آنے کے بعد مسلمانوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیتے ہیں مگر وہ لیڈر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ چاہے لیڈر کا کتنا ہی فقدان کیوں نہ ہو، مسلمان صرف  ایسے لوگوں  کوہی اپنا لیڈر بنانا پسند کرتے ہیں جو ان کے کام آئیں ورنہ پھر ان کا بدلہ وہ الیکشن کے موقع پر ضرور لیتے ہیں۔ یوپی سمیت ملک کے تمام صوبوں میں لیڈروں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں اور عوام کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے ۔ان کی باتوں  کا جواب تیور اور تیکھے انداز میں نہیں دیا جانا چاہئے۔جس طرح جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے لئے، عوام کے ذریعہ ہوتی ہے اسی طرح  لیڈر بھی عوام کے لئے ، عوام کے ذریعہ ہوتے ہیں ۔انہیں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ یہ لال بتی کی گاڑی یہ نام و نمود، عوام کی وجہ سے ہی ہے۔ جس دن یہ عوام خلاف ہوگئے ،اس دن  یہ سب کچھ کھو جائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *