انا کے سامنے بڑی چنوتی

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے نے جیسے ہی اَنشن ختم کرنے کا اعلان کیا، ویسے ہی لگا کہ بہت سارے لوگوں کی ایک دیرینہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ سے میڈیا کے ایک بہت بڑے حصے میں اور سیاسی پارٹیوں میں ایک بھونچال سا آگیا۔ میڈیا میں کہا جانے لگا ایک آندولن کی موت، سولہ مہینے کی تحریک جو سیاست میں بدل گئی۔ ہم انقلاب چاہتے تھے سیاست نہیں، جیسی باتیں ملک کے سامنے مضبوطی کے ساتھ لائی جانے لگیں۔

اب تک جنرل وی کے سنگھ کو ہم ایک ایماندار فوجی افسر کے روپ میں جانتے تھے۔ جب وہ فوج کی کمان سنبھالے ہوئے تھے تب بھی ان پر بے شمار الزامات لگائے گئے پر وہ ہر الزام سے بری ہوتے گئے۔اس وقت وہ فوج کے رہنما تھے مگر عوام کے دل سے قریب نہیں تھے ۔ انا ہزارے کا انشن تڑوانے کے لئے جب وہ پہلی بار عوام کے بیچ آئے اور انہوں نے بے پناہ علم و فراست کے ساتھ تقریر کی تو پہلی بار عوام نے ان کے دل کے ساتھ خود کو قریب محسوس کیا ۔ اپنی  تقریر میں جس طرح  انہوں نے مسلمانوں کو بھی مخاطب کیا  اور سبھی اہم رہنمائوں کے ساتھ مسلمانوں کے اہم لیڈروں کا بھی نام لیا ،اس سے انہوںنے مسلمانوں کے دل میں بھی اپنا مقام بنا لیا۔ ان کی تقریر میں عوام کا درد تھا، عوام کی تکلیف تھی اور چند منٹوں میں ہی وہ عوام کے دل و دماغ سے قریب ہوتے چلے گئے اور عوام کے دل کی دھڑکن بن گئے۔

کیا تھی وہ دیرینہ خواہش جو پوری نہیں ہوئی۔ اگر دھیان سے دیکھیں تو سمجھ میں آئے گا کہ دیرینہ خواہش تھی انا ہزارے یا ان کی ٹیم کے کسی ممبر، خاص کر اروِند کجریوال کا اَنشن کرتے ہوئے مر جانا۔ میڈیا کے لوگوں کی ویسی ہی خواہش تھی جیسے کچھ جگہوں پر حادثات کروا کر ان کی رپورٹنگ کرنا۔ دوسری طرف سیاسی پارٹیوں کی خواہش تھی کہ اگر یہ دونوں نمٹ جائیں تو ان کا راستہ آسان ہو جائے۔ ان دونوں ہی خواہشوں کا پورا نہ ہوپانا میڈیا کے ایک گروہ اور سیاسی پارٹیوں کی بوکھلاہٹ کی بنیادی وجہ رہا۔ سوال بھی جو پوچھے گئے وہ عجیب تھے، جیسے امیدوار کا کیسے انتخاب کریں گے، پیسے کے بغیر الیکشن کیسے لڑیں گے، ذات پات کا کیسے مقابلہ کریں گے اور عوام کو اپنی بات کیسے سمجھائیں گے، ساتھ ہی یہ بھی کہ ا ن کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی، ان کی اقتصادی پالیسی کیا ہوگی، یہ لوک پال کے علاوہ کچھ جانتے بھی ہیں یا نہیں۔ چوبیس گھنٹے کے اندر میڈیا کے ذریعے اٹھائے گئے یہ سوال بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک کا میڈیا کتنا کھوکھلا ہوگیا ہے۔ ان سوالوں پر کسی بھی نامہ نگار نے یا تجزیہ کار نے انا ہزارے یا ان کے ساتھیوں سے ایک بار بھی بات نہیں کی اور منفی نتیجہ نکال کر لوگوں کے سامنے رکھنا شروع کردیا۔ یہ ان چینلوں پر بھی ہو رہا تھا، جن چینلوں نے انا ہزارے کے سیاست میں آنے کو لے کر سروے کرائے تھے اور چینل لگاتار یہ بتا رہے تھے کہ ان کے سروے میں 96 فیصد سے زیادہ لوگ انا ہزارے کے سیاست میں آنے کے حق میں ہیں۔ شاید میڈیا کی انہی عقلمندیوں کی وجہ سے لوگ اب نیوز چینلوں کو تفریح کا ذریعہ زیادہ ماننے لگے ہیں، دماغ بنانے کا ذریعہ کم۔ وہ ٹیلی ویژن پر ہونے والی بحثوں کو تفریح کے اس خانہ میں رکھتے ہیں، جس خانہ میں تفریحی پروگراموں کو رکھتے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انا ہزارے اور ان کی ٹیم سے غلطیاں ہوئی ہیں، پر غلطیوں کے علاوہ انا ہزارے نے پچھلے سال بھر میں ملک میں عوام کے درمیان جو امید جگائی، وہ گزشتہ 20 سال کا انوکھا، تاریخی واقعہ ہے۔ ہندوستان کے الیٹ کلاس کو، سیاسی پارٹیوں کے سمجھدار لوگوں کو اور سرکار چلا نے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انا ہزارے نے ملک میں ایک ایسی خطرناک امید پیدا کی ہے، جس کے پورا نہ ہونے کا نتیجہ ایک خطرناک ناامیدی میں نکلے گا، جو جرم، نکسل واد اور انتشار کی طرف لوگوں کو کھینچے گا۔ یہ خطرناک امید اسی لیے پیدا ہوئی، کیوں کہ ملک کے 120 کروڑ لوگوں میں سے 90 کروڑ لوگوں کو ترقی کا فائدہ نہیں ملا، مواقع ختم ہوتے چلے گئے اور اس وجہ سے پیدا ہوئے صفر کو بھی نہیں بھرا جاسکا۔  اسی لیے لوگ پورے ملک میں کھڑے ہوگئے اور ایک ایسا انوکھا عوامی سیلاب دیکھنے کو ملا، جس نے نئی امیدوں کی آبیاری کی۔ ایک چھوٹا جلوس نکلتا ہے تو اسے سنبھالنے کے لیے پولس اور پیرا ملٹری کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انا کی پورے سال بھر چلنے والی تحریک میں کہیں پولس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ ان اشاروں کو نہ سیاسی پارٹیاں سمجھ رہی ہیں، نہ ملک کا کارپوریٹ سیکٹر سمجھ رہا ہے، نہ سرکار سمجھ رہی ہے اور نہ ہی میڈیا سمجھ رہا ہے۔ شاید اس کی ایک عام وجہ ہو سکتی ہے کہ یہ چاروں طبقے عوام سے کٹ گئے ہیں اور پوری طرح ملک اور ریاست کی راجدھانیوں میں سمٹ گئے ہیں۔
انا ہزارے اور ان کی ٹیم کی سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ پچھلے سال رام لیلا میدان میں اَنشن ختم ہونے کے بعد وہ ملک بھر میں کہیں نہیں گئے۔ اس کا سبب انا ہزارے کا بیمار ہونا ضرور تھا، لیکن وہ اسٹریچر پر ہی سہی، صرف چار جگہ ملک میں اجلاس کر لیتے اور لوگوں سے کہتے کہ سرکار نے اتنا وقت دیا ہے، اگر سرکار وعدہ پورا کرتی ہے تو اس کا استقبال کریں گے اور اگر وعدہ پورا نہیں کرتی ہے تو جدوجہد کریں گے۔ اگر انا ہزارے یہ کرتے تو پورے ملک کے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہوتے۔
اب انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک بڑی چنوتی ہے، اور وہ چنوتی ہے ملک کے لوگوں کے سامنے ایک ایسا خاکہ پیش کرنا، جس میں عام عوام کی حصہ داری ہو۔ ہماری سیاسی پارٹی، سرکار اور کارپوریٹ سیکٹر کے لوگ اس اندھے کی طرح ہیں، جو ساون میں اندھا ہو گیا تھا اور سوچتا تھا کہ ہمیشہ ہریالی ہی ہریالی رہتی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ کبھی بھی ان کے نیچے کی زمین کھسک سکتی ہے۔ اس لیے انا ہزارے کی سوچ اور کام کرنے کے طریقہ پر تنقید کرنے کی جگہ انہیں چاہیے کہ یہ اپنے طریق کار میں تبدیلی لائیں اور پارٹی میں کارکن نام کے ذی روح کو پھر سے قابل احترام جگہ دیں، لوگوں کے مسائل کے لیے آواز اٹھانا شروع کریں۔ ملک کے تقریباً 272 ضلعے نکسل واد کے زیر اثر آگئے ہیں اور اِن 272 ضلعے کے لوگوں کا موجودہ سیاسی عمل سے اعتماد اٹھنے لگا ہے۔ ان ضلعوں کی تعداد کم نہیں ہو رہی ہے، بلکہ بڑھ رہی ہے اور یہ خطرناک ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر اور سرکار سے متاثر ہو کر میڈیا نے راجدھانی سے نکلنا بند کر دیا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلوں کی رپورٹ اور دہلی سمیت ملک کی راجدھانیوں سے نکلنے والے اخبار، اخباروں کی رپورٹیں ایک طرح کی ہوتی ہیں اور ان 272 ضلعوں سے نکلنے والے اخباروں کی رپورٹ دوسری طرح کی ہوتی ہے۔ لوگوں میں جب سیاسی پارٹیوں اور سرکار کے تئیں عدم اعتماد بڑھتا ہے تو اس کا سیدھا مطلب ہوتا ہے جمہوریت کے تئیں عدم اعتماد کا بڑھنا۔ اس ذمہ داری کو نہ سمجھنا سیاسی پارٹیوں کا جمہوریت کو ختم کرنے کے عمل میں سہارا دینا جیسا مانا جاسکتا ہے۔ اسی لیے فوج کے حال ہی میں ریٹائر ہوئے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے جب ملک کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ ہمارے آئین کے ذریعے متعین کردہ سمتوں کے خلاف سرکاریں جا رہی ہیں، تو صرف دہلی میں ان کی تقریر سن رہے لوگوں نے تالیاں نہیں بجائیں، بلکہ پورے ملک میں جو بھی ان کی تقریر دیکھ رہا تھا اور اسے سن رہا تھا، اس نے تالیاں بجائیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ملک میں 1975 جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں، جب لوک نائک جے پرکاش نے نعرہ دیا تھا کہ ’سنگھاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ نعرہ بہت خوشی میں دیا گیا نعرہ نہیں تھا، بلکہ لوگوں کے دکھ، تکلیف اور درد سے نکلا ہوا نعرہ تھا۔ جنرل نے یہ بھی کہا کہ آئین کی پیرویاس کے باوجود اگر صلاحیت ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کو اونچے عہدوں تک پہنچنے نہیں دیا جاتا، تو اسے آئین کی خلاف ورزی نہیں تو اور کیا کہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئین کے ذریعے دی گئی ضمانت کے باوجود صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو یکساں مواقع فراہم نہیں کرائے گئے، جس کی وجہ سے آج وہ دلتوں سے بھی بدتر زندگی جینے پر مجبور ہیں۔
ہندوستان میں فلم انڈسٹری اور جیلوں کو چھوڑ کر دوسری کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں پر مسلمان زیادہ تعداد میں دکھائی دیتے ہوں۔ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کا فیصد آزادی کے 64 سالوں بعد بھی اب تک پانچ فیصد کی حد کو پار نہیں کر سکا ہے۔ موجودہ اعدادو شمار تو یہی بتاتے ہیں کہ انڈین ریلوے میں مسلمانوں کی نمائندگی 4.5 فیصد، سول سروسز میں 3 فیصد، فارین سروس میں 1.8 فیصد اور انڈین پولس سروس میں صرف 4 فیصد ہے۔ اسی طرح اگر ریاست جموں و کشمیر کو چھوڑ دیں تو ایک دو کو چھوڑ کر ملک کی کسی بھی ریاست میں کوئی مسلم وزیر اعلیٰ نہیں بن سکا ہے۔ ملکی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کا یہ حال ہے کہ اس وقت 543 ممبرانِ پارلیمنٹ میں سے صرف 36 ایم پی ہی مسلمان ہیں۔ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے۔ یہاں کے آئین نے ہر شہری کو برابر کے حقوق دیے ہیں اور ان کمزور طبقوں کے لیے الگ سے ریزرویشن کا انتظام بھی کیا ہے، جو سماجی، معاشی اور تعلیمی میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ گئے۔ لیکن جب ہم مسلمانوں کی بات کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بحیثیت قوم انہیں مجموعی طور سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر یہ بات جھوٹ ہوتی تو، حکومت آج یہ تسلیم کرنے پر مجبور نہیں ہوتی کہ اس ملک میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بد تر ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ 2005 میں یو پی اے حکومت کے ذریعے تشکیل کردہ سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آ جانے کے بعد بھی سرکار کی طرف سے اب تک کوئی ایسا بڑا قدم نہیں اٹھایا جاسکا ہے، جس سے مسلمانوں کی اقتصادی، معاشی اور تعلیمی بدحالی کو دور کیا جاسکے، یا اگر مرکزی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے حق میں کبھی کوئی اعلان بھی ہوتا ہے تو بی جے پی جیسی مسلم مخالف جماعتیں اسے مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا قدم بتاتی ہیں اور اتنا شور مچاتی ہیں کہ برسر اقتدار پارٹی کا یہ صرف ایک اعلان ہی ہو کر رہ جاتا ہے اور اس سے مسلمانوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا۔ اسی طرح، چونکہ مرکز میں برسر اقتدار کانگریس پارٹی کی نیت مسلمانوں کے تئیں کبھی بھی صاف نہیں رہی، اس لیے اس کی طرف سے مسلمانوں کے لیے اگر کبھی کوئی انتظام کیا بھی جاتا ہے تو عدالتیں اسے ٹھکرا دیتی ہیں اور اس طرح اس کا نفاذ نہیں ہو پاتا، جیسا کہ ابھی ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کے معاملے میں ہوا۔
یہ بات صحیح ہے کہ ملک کی تقسیم کے وقت مسلمانوں کا ایک بڑا تعلیم یافتہ، مالدار اور دانشور طبقہ پاکستان چلا گیا تھا اور ہندوستان میں ایسے بہت کم مسلمان بچے تھے، جو تعلیمی یا معاشی اعتبار سے طاقتور ہوں۔ لیکن جب ہندوستان کے آئین نے انہیں یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے ہیں، تو انہیں بھی دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ ترقی کی منزلیں طے کرنی چاہیے تھیں۔ اگر ساٹھ سال کے اتنے لمبے عرصے میں مسلمان دوسری قوموں سے پیچھے رہ گئے، تو اس کی بنیادی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کی اندیکھی کی گئی ہے۔ اور صرف اندیکھی ہی نہیں کی گئی، بلکہ مسلمانوں کی اس بدتر حالت کو چھپا کر بھی رکھنے کی کوشش کی گئی، ورنہ جب سچر کمیٹی نے ہندوستانی عدلیہ یا فوج میں کام کرنے والے مسلمانوں کی تعداد جاننے کی کوشش کی تھی، اس وقت بی جے پی یا دیگر مسلم مخالف جماعتوں کی طرف سے ہنگامہ برپا نہیں کیا جاتا اور یہ دلیل دینے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ یو پی اے حکومت عدلیہ یا فوج جیسے سیکولر اداروں کو فرقہ ورانہ رنگ دینا چاہتی ہے۔ معاملہ کسی بھی سرکاری ادارے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا نہیں ہے، بلکہ یہ معاملہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کی فلاح و ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ ملک مجموعی طور سے تب تک ترقی نہیں کرسکتا، جب کہ ملک میں رہنے والے ہر شہری کا خیال نہ رکھا جائے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی علاقے، ذات، مذہب یا فرقے سے ہو۔ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس جے ایس ورما بھی یہی مانتے ہیں کہ ’’ہندوستان میں جس قسم کا معاشرہ ہے، اسے برقرار رکھنے کے لیے صرف جمہوریت ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ایک شمولیتی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ یہ جمہوریت زیادہ دنوں تک تبھی برقرار رہ سکتی ہے، جب معاشرے کے ہر طبقہ کو ساتھ لے کر چلا جائے۔‘‘
عدلیہ کے ساتھ ساتھ پولس اور نوکرشاہی جیسے سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی حد سے زیادہ کمی کی سب سے بڑی وجہ تقرری کے دوران مسلمانوں کے ساتھ برتا جانے والا تعصب ہے، خاص کر انٹرویو کے دوران۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا یہ رویہ صرف اعلیٰ عہدوں سے متعلق ہونے والی تقرریوں کے دوران ہی دیکھنے کو نہیں ملتا، بلکہ یہ گروپ ’سی‘ اور گروپ ’ڈی‘ جیسے چوتھے درجے کی سرکاری ملازمتوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسے دور کرنے کے لیے مختلف دانشوروں اور مسلم تنظیموں کی طرف سے بار بار یہ تجویز پیش کی گئی کہ سلیکشن کمیٹی کا کم از کم ایک رکن کسی مسلمان کو بنایا جائے، لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔  اسی طرح پولس فورس میں معمولی سپاہی کی بھرتی میں بھی مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے امتیاز کی شکایتیں ملتی رہی ہیں، لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ بعض ریاستوں میں پولس بھرتی میں مقامی زبان اور ہندو مذہب کے بارے میں ٹھوس معلومات ہونا لازمی ہے، کیوں کہ ٹیسٹ میں ان کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان جگہوں پر مسلمانوں کے ٹیسٹ پاس نہ کرپانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر اب یہ سوچ پیدا ہوگئی ہے کہ سرکاری نوکریوں میں ان کا سلیکشن نہیں ہوگا، اس لیے اب وہ ان نوکریوں کے لیے اپلائی بھی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ان نوکریوں میں ان کی تعداد دنوں دن گھٹتی جا رہی ہے۔ اس کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتیں ہی ذمہ دار ہیں، کیوں کہ مسلمانوں کے اندر اگر یہ سوچ پیدا ہوئی ہے تو یہ صرف ایک یا دو دن کے تجربہ کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی ہے، بلکہ ان کے خلاف کئی دہائیوں سے ہونے والے امتیازی برتاؤ اور سرکار کی طرف سے اس کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہ کرنا اور مسلمانوں کی مسلسل اندیکھی کی وجہ سے ان کی اندر یہ سوچ پیدا ہوئی ہے۔ اب حکومت بجائے اس کے کہ اپنی کمزوریوں کو دور کرتی، سسٹم میں پیدا ہونے والی خرابی کو درست کرتی، وہ اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے اب یہ دلیل پیش کر رہی ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کو پڑھاتے ہی نہیں، سرکاری نوکریوں کے لیے ہونے والے امتحان میں مسلمان بچے بیٹھتے ہی نہیں، اس لیے ان کا سلیکشن نہیں ہوتا اور سرکاری ملازمتوں میں ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست میں بھی چونکہ مسلمانوں کی نمائندگی زیادہ نہیں ہے، اس لیے ان کی آواز کو ایوانِ سیاست میں اٹھانے والا کوئی نہیں ہے اور اگر کوئی اٹھاتا بھی ہے تو چونکہ اس کی آواز میں طاقت نہیں ہوتی، اس لیے سرکار اس پر کوئی خاص دھیان نہیں دیتی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *