پینسٹھ سال کی آزادی : تلخیاں بھول کر آگے بڑھنے کا وقت

محمود شام، کراچی پاکستان
آْزادی کا دن دنیا بھر میں خوشیاں اور مسرتیں لے کر نازل ہوتا ہے، لیکن ہمارے خطے میں یہ زخم ہرے کر دیتا ہے۔ زخمیوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ عصمتوں کی کرچیاں بکھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ گلیوں میں بھڑکتی آگ، کوچوں میں بہتا لہو، ہم یہ سب کچھ بھول جاتے، اگر تاریخ اپنے آپ کو دہرا نہ رہی ہوتی۔ اگر سرحدوں پر کشیدگی نہ ہوتی۔ اگر ویزے کی سختیاں نہ ہوتیں۔ دونوں دوونوں طرف مسافروں کو خفیہ ایجنسیاں ہراساں نہ کر رہی ہوتیں۔ امن، سکون، چین اگر ہمارا مقدر بن جاتا۔

پاکستان کے بیدار، روشن خیال، سیاسی طور پر باشعور لوگوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے ہندوستان کے لوگوں سے زیادہ جدوجہد کی ہے۔ ہندوستان کو اگر جمہوری، اقتصادی برتری حاصل تھی، اس کا فائدہ اس پورے خطے کو ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہاں ہمیشہ سیاسی قائدین کی منتخب حکومتیں رہیں، تو اس جمہوری استحکام کا ثمر ہندوستان کی ساری قوموں اور اس کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے تمام لوگوں تک پہنچنا چاہیے تھا۔ ہندوستان کی فلمی صنعت پورے علاقے پر چھائی ہوئی ہے، لیکن اس سے وہاں کے عام آدمی کو کیا فائدہ ملتا ہے اور جنوبی ایشیا کے عوام کو کیا راحت ملتی ہے۔

میں آج پاکستان اور ہندوستان دونوں میں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے ایک ہی تحریر کے ذریعے اپنا دل کھول کر رکھنا چاہتا ہوں، کیوں کہ تاریخ میرے گریبان پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ جغرافیہ میرے بازوؤں کو گرفت میں لے رہا ہے۔ جہاں مجھے ایک طرف یہ فخر ہے کہ دونوں ملکوں میں میرے سطور لاکھوں قارئین کی نگاہوں سے ہم کنار ہوتے ہیں۔ کوئٹہ سے کراچی، کراچی سے لاہور، لاہور سے پشاور اور سرحد کے پار جالندھر سے دہلی، دہلی سے لکھنؤ، ممبئی، حیدرآباد دکن، کلکتہ، سب شہروں میں دلوں میں اترتا ہوں۔ وہیں مجھے یہ شرمندگی بھی ہے کہ میں اور میری نسل دنیا کے اس حصے میں اس استحکام اور اطمینان کی فضا نہیں لا سکے جو یوروپ اور امریکہ کے انسانوں کے نصیب میں ہے۔ ہمیں 65 سال ملے۔ ایک طویل عرصہ۔ اور وہ سرزمین، جسے ہزاروں سال پہلے سے تہذیب اور تمدن میسر تھا۔ جہاں زندگی کی شاندار اقدار اور روایات رہی ہیں۔ جہاں علم و دانش اور تدبر کا دور دورہ رہا ہے۔ جہاں صوفیائے کرام نے اللہ سے محبت اور بندوں کی عظمت کی شمعیں روشن کیں۔ جہاں صدیوں سے شعرائ، اساتذہ، ماہرینِ تعمیرات، مصور، گلوکار، موسیقار، اپنی دانش اور فن سے معاشرے کو معطر کرتے رہے۔ جہاں درسگاہیں، عبادت گاہیں، پیار اور آشتی کی خوشبو پھیلاتی رہیں۔ وہاں آزادی کی جوت جگانے سے، غلامی کی زنجیریں توڑنے سے عام انسانوں کو جو راحت اور شانتی ملنی چاہیے تھی، وہ کیوں نہیں ملی۔ ادھر کروڑوں اسلم اچھے دنوں کے لیے ترستے ہیں۔ ادھر کروڑوں وکرم صبحِ حسیں کے انتظار میں ایڑیاں رگڑتے ہیں۔ ہندوستان کا یہ غرور اپنی جگہ کو وہاں ہمیشہ جمہوری طریقے سے حکومتیں قائم ہوئی ہیں، لیکن اس سے کیا وہاں کی اکثریت کے دن بدل سکے؟ کیا وہاں زندگی کی وہ سہولتیں حاصل ہیں، جو یوروپ کے ملکوں میں ہیں؟ کیا وہاں ہر فرد اپنی مرضی کا جیون بتا سکتا ہے؟ کیا وہاں کی مملکت ہر شہری کو روزگار کا تحفظ دے سکی ہے؟ چھوٹی ذات والوں کو برابری ملی ہے؟ ہندوستان کے مدیران، قائدین، دانشوروں، میڈیا، تاجر برادری نے کبھی اس انداز سے نہیں سوچا کہ کشمیر کا تنازع برقرار رہنے سے ہی پاکستان میں فوج کو ملکی امور پر تسلط کا موقع ملا ہے۔ اپنے دفاع کے لیے بڑی نفری اور اخراجات زیادہ رکھنے کا جواز حاصل ہوا ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہ ملنا پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو شدت پسندی اور جہاد کی طرف راغب کرنے کا سبب بنا۔
بہت زیادہ وسائل، بیکراں امکانات رکھنے والے یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی دشمنی میں جلتے بجھتے رہے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک مستقل کشیدگی کا باعث بنا رہا اور ان دونوں میں مسلسل تناؤ کی وجہ سے اس تاریخی علاقے کے دوسرے ممالک کی ترقی بھی اس محاذ آرائی کا یرغمال بن گئی۔ دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے میں تقریباً سوا ارب انسانوں سے خوشحالی روٹھ گئی ہے۔ ترقی نے منھ موڑ لیا ہے۔ عام طور پر سارے تنازعات کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن ایسا منطقی طور پر ناممکن ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں فوج اور مذہبی عناصر کا غلبہ رہا ہے۔ جمہوریت میں تسلسل نہیں رہا۔ لیکن یہ تو ہمارے مسائل تھے۔ ہماری بیماری تھی۔ اس کے علاج میں مدد ملنی چاہیے تھی، نہ کہ اسے بڑھاوا دیا جاتا۔ پاکستان کے بیدار، روشن خیال، سیاسی طور پر باشعور لوگوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے ہندوستان کے لوگوں سے زیادہ جدوجہد کی ہے۔ ہندوستان کو اگر جمہوری، اقتصادی برتری حاصل تھی، اس کا فائدہ اس پورے خطے کو ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہاں ہمیشہ سیاسی قائدین کی منتخب حکومتیں رہیں، تو اس جمہوری استحکام کا ثمر ہندوستان کی ساری قوموں اور اس کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے تمام لوگوں تک پہنچنا چاہیے تھا۔ ہندوستان کی فلمی صنعت پورے علاقے پر چھائی ہوئی ہے، لیکن اس سے وہاں کے عام آدمی کو کیا فائدہ ملتا ہے اور جنوبی ایشیا کے عوام کو کیا راحت ملتی ہے۔
ہم پاکستانی صحافی، ادیب، شاعر، تاجر، صنعت کار اپنے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی، عسکریت پسندی، آمریت، مافیاؤں، جاگیرداری اور سرداری کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ہمارے ادارے بھی آپس میں اسی لیے برسر پیکار رہتے ہیں۔ مغرب ہمیں ناکام ریاست کہہ رہا ہے، لیکن ہم اس ناکامی، زوال کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس تگ و دو کی نتیجہ خیزی سے صرف پاکستان میں ہی نہیں، پورے خطے میں امن و سکون قائم ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کی سیاسی جماعتوں، ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ سب کو چاہیے کہ پاکستان کے عوام کی اس جد و جہد کو سمجھیں، اس کو آگے لے جانے میں اخلاقی مدد کریں۔ یہ ان کے تدبر کا امتحان ہے۔ محاذ آرائی بہت آسان ہے۔ لڑنے کے مواقع بہت ہیں۔
ساڑھے چھ دہائیاں گزر چکیں۔ کچھ نسلیں اسی آگ اور دھوئیں میں عمر گزار کے چلی گئیں۔ کچھ نسلیں اس آنچ میں سے گزر رہی ہیں۔ مستقبل ہمیں آواز دے رہا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسلوں کو نفرت اور کشیدگی کا ورثہ نہیں دینا چاہیے۔ ہمارے نوجوان دو خود مختار ملکوں میں پرورش پاکر بڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان سرحدیں حقیقت ہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ دونوں طرف جوان آبادی کی اکثریت ہے، جو آج کے دور کی حقیقتوں کا ادراک رکھتے ہیں، جذبات کی رو میں نہیں بہتے۔ ان کا مقدر توپیں، لڑاکا جہاز، بم دھماکے نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں جدید علوم کے آفاق تسخیر کرنے چاہئیں۔ جنوبی ایشیا کے وسائل سے یہاں کے عوام کو درپیش مسائل حل ہونے چاہئیں۔ کشیدگی ختم کرنے کے لیے کشیدگی کے اسباب دور کرنے ہوں گے۔ تاریخ ہمیں للکار رہی ہیں۔ وقت اپنے ساتھ آگے بڑھنے کی دعوت دے رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *