وہ صحافی جنھوں نے جمہوریت کا خون کیا

ڈاکٹر منیش کمار
چوتھی دنیا کو کچھ ایسی دستاویزات ملی ہیں، جن سے کئی نامور اور معززصحافیوں کے چہرے بے نقاب ہو گئے۔ان دستاویزوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان عظیم صحافیوں نے نہ صرف صحافت کو شرمسار کیا ہے، بلکہ انھوں نے اپنے کارناموں سے ملک میں جمہوریت کا قتل کرنے والی طاقتوں کو تقویت پہنچانے کا کام کیا ہے۔یہ دستاویز بتاتی ہیں کہ کس طرح ملک کے نامور اور معزز صحافیوں نے حکومت کی تاناشاہی کی پالیسیوں کو جائز قرار دیا اور اس کے عوض رقم وصول کی۔ہم اس شمارے میں ان صحافیوں کے نام، ان کے اخبارات کے نام اور حکومت سے انھوں نے کتنے پیسے لئے، ان کا بیورہ شائع کر رہے ہیں۔ جمہوریت کی نیلامی کرنے والوں کی فہرست میں ایسے کئی نام ہیں، جو آج صحافت کی بلندیوں کے افق پر ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں، جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن سرکاری دستاویز سے کچھ ناموں کو نکال دینا بے معنی ہوگا ، اس لئے ہم سبھی زندہ اور مرحوم صحافیوں کے نام شائع کر رہے ہیں۔

ایمر جنسی کے دوران دوردرشن پر سب سے زیادہ نظر آنے والے صحافی جی پی بھٹناگر ہایں۔ وہ 21مرتبہ حکومت کی پالیسیوں کو صحیح بتانے دوردرشن پہنچے۔ انہیں دوردرشن کی طرف سے 2100روپے ملے۔ دوسرے نمبر پر انڈین ایکسپریس کے سمیرکول کا نام ہے۔ وہ 20بار دوردرشن پر نظر آئے۔

 

یہ واقعہ ہندوستانی تاریخ کے سب سے سیاہ دور کا ہے۔ جب 26جون، 1975کو اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، آئین کو معطل کر دیا گیا اور حکومت نے جسے اپنا مخالف سمجھا، اسے جیل بھیج دیا۔ اپوزیشن کے لیڈروں کے ساتھ ساتھ حکومت نے ملک کے کئی نامور صحافیوں کو بھی جیل بھیج دیا۔ جس نے بھی جمہوریت کی دہائی دی ، آئین کے ذریعہ دئے گئے اختیارات کی بات کی، اسے سیدھا جیل بھیج دیا۔ ملک کے تمام اخباروں اور رسائل و جرائد پر سینسر شپ نافذہو گئی۔ دوردرشن نے کانگریس پارٹی کے مائوتھ پیس کی جگہ لے لی تھی۔ ایمر جنسی کے دوران دوردرشن سرکاری پروپیگنڈہ کا سب سے مضبوط ہتھیار بن گیا۔ سرکاری پالیسیوں کو صحیح بتانا اور مخالفت کرنے والوں کو غدار وطن بتانا یہی دوردرشن کا بنیادی مقصد تھا۔ جو بھی پروگرام نشر کئے گئے، ان میں حکومت کے ذریعہ پھیلائے گئے جھوٹ کو دکھایا گیا۔ پروگراموں کا استعمال مخالفین اور صحافیوں کو نیچا دکھانے کے لئے کیا گیا۔ جہاں کئی صحافی سرکاری زیادتیوں کے خلاف لڑ رہے تھے، وہیں کچھ ایسے بھی صحافی تھے، جو اپنی خود غرضی کے لئے گھٹنوں پر رینگنے لگے۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ تھے، جو حکومت کے لئے کام کر رہے تھے۔ وہ کون صحافی تھے، جو دور درشن کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر ملک کو گمراہ کر رہے تھے، لوگوں کو جھوٹی دلیلیں دے رہے تھے، حکومت کی پالیسیوں کو صحیح اور جمہوریت کے لئے لڑنے والوں کو غلط بتا رہے تھے۔ قابل غور بات صرف یہ ہے کہ ایمر جنسی کے دوران میڈیا پر سینسر شپ نافذ تھی ۔ دوردرشن پر صرف وہی دکھایا جاتا تھا، جس سے حکومت کی کرتوتوں کو صحیح ٹھہرایا جا سکے۔جب پورے ملک میں ہی حکومت کی مخالفت پر پابندی تھی تو بھلا دوردرشن کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر مخالفت کرنے کی ہمت کون کر سکتا تھا، لیکن سوال صرف اتنا ہی ہے کہ خود کو صحافی کہنے والے لوگ دوردرشن کے اسٹوڈیو میں حکومت کی قصیدہ خوانی کرنے آخر کیوں گئے؟

چوتھی دنیا کو ملی دستاویز ڈائریکٹریٹ جنرل دوردرشن کی دستاویز ہیں۔ ان دستاویزوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایمر جنسی کے دوران کن کن صحافیوں نے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ ان دستاویزوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کیسے پیسے لے کر ایمرجنسی کو جائزبتایا گیا تھا اور سرکاری اسکیموں کو بہتر بتانے کی وکالت صحافیوں نے کی تھی۔ دوردرشن کی مذکورہ دستاویزات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمر جنسی کے دوران چلائے گئے پروگراموں کا اہم مقصد سرکاری پالیسیوں کی تشہیر کرنا تھا۔مطلب، ایمر جنسی کیسے ملک کے لئے بہتر ہے، کس طرح سرکاری نظام سدھر گیا ہے،وغیرہ وغیرہ۔مذکورہ دستاویز بتاتی ہیں کہ ایمر جنسی کے دوران دور درشن کی یہ ذمہ داری تھی کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگرام اندرا گاندھی کی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے بیس نکاتی اور پانچ نکاتی پروگراموں کی تشہیر کریں اور فروغ دیں۔ اس کے لئے دور درشن صحافیوںکو بلاتا تھا دوردرشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کی دستاویز میں صحافیوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ان کے اخباروں کے نام بھی دئے گئے ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی دیا گیا ہے کہ ان صحافیوں نے اپنی خدمات کا کتنا انعام حاصل کیا۔

ایمر جنسی کے دوران دوردرشن پر سب سے زیادہ نظر آنے والے صحافی جی پی بھٹناگر ہیں۔ وہ 21مرتبہ حکومت کی پالیسیوں کو صحیح بتانے دوردرشن پہنچے۔ انہیں دوردرشن کی طرف سے 2100روپے ملے۔

دوسرے نمبر پر انڈین ایکسپریس کے سمیرکول کا نام ہے۔ وہ 20بار دوردرشن پر نظر آئے۔ انہیں ان کی خدمات کے لئے 2000روپے ملے۔ ان کے بعد نام آتا ہے ۔اسٹیٹس مین اخبار کے پی شرما کا، جنھوں نے 11بار دہلی دوردرشن پر کانگریس کی قصیدہ خوانی کی۔ اس کے لئے انہیں 1100روپے ملے۔’’سماچار‘‘ اخبار کے ستیہ سُمن نے بھی 9بار دوردرشن پر کانگریس کی حمایت کی۔انہیں 900روپے ملے۔ انڈین ایکسپریس کے چیتن چڈھا اور ہندوستان ٹائمز سے وابستہ جی ایس بھارگو 8بار دوردرشن کے دہلی دفتر پر پہنچے، دونوں کو 800روپے ملے۔ کئی صحافیوں نے 7بار دوردرشن پر اپنے علم کا استعمال ایمر جنسی کو جائزقرار دینے میں کیا۔ ان میں ٹائمز آف انڈیا کے دلیپ پڈگائونکر اور ایس سوامی ناتھن ایّر، نوبھارت ٹائمز کے اکشے کمار جین، انڈین ایکسپریس کے بلراج مہتا، بزنس اسٹینڈرڈ کے گوتم گپتا اور پرتاپ اخبار کے جی ایس چاولہ شامل ہیں۔ دو ایسے بھی نام ہیں، جنہیں دوردرشن پر مسلسل چلنے والے ایک پروگرام کے لئے بک کیا گیا تھا۔ یہ دونوں صحافی نوبھارت ٹائمز کے مہابیر ادھیکاری اور ساریکا کے کملیشور تھے۔ یہ ہر پندرہ دن پر آنے والے پروگرام میں حصہ لیتے تھے۔ انہیں کتنا پیسہ ملا، اس کی جانکاری دوردرشن کی ان دستاویزوں میں نہیںہے۔ 1975میں مختلف جگہوںسے دوردرشن نشر ہوتا تھا۔ دوردرشن ڈائریکٹوریٹ کی دستاویزوں میں دہلی، امرتسر ، ممبئی، کولکاتا اور چنئی سے نشر ہونے والے پروگرام کی تفصیل ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ جو پیسہ ان صحافیوں نے لیا، وہ موجودہ وقت میں بہت کم نظر آتا ہے، لیکن 1975میں اس کی قیمت آج کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی۔صحافت اور جمہوریت ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ جمہوریت کے بنا سچی صحافت کا وجود ہی نہیں ہے اور آزاد صحافت کے بنا جمہوریت ادھوری ہے۔ آزادی کی لڑائی میں شامل مجاہدین آزادی نے اخبارات کو اپنا ہتھیار بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں سماجی اور سیاسی فرائض کی ادائیگی کے بغیر صحافت کرنا صرف ایک دھوکاہے۔ ہر طرح کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانا اور جمہوریت کی حفاظت کرنا صحافت کا اولین فرض ہے۔جب اندرا گاندھی نے ایمر جنسی نافذ کی اور جمہوریت کا گلا گھونٹا، تو ہر صحافی کا یہ فرض تھا کہ وہ اس تانا شاہی کے خلاف آواز اٹھاتا، لیکن کچھ لوگوں نے اس کے برعکس کام کیا۔وہ جمہوریت کے لئے لڑنے کے بجائے کانگریس پارٹی کی ظالمانہ اور غیر آئینی پالیسیوں کے دفاع میں اتر آئے اور اس کے لئے پیسے بھی لئے۔ ظاہر ہے، ان صحافیوں نے یہ سب اپنے مفاد کے لئے کیا۔ دوردرشن کی دستاویز اس معنی میں اہم ہیں، کیونکہ یہ بتاتی ہیں کہ فی الوقت صحافت میں آئی گراوٹ کی جڑیں کہاں ہیں، ہندوستان میں صحافت کب اور کیسے پٹری سے اتر گئی؟
آج حالت یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا کی معتبریت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ لوگوں میں یہ خیال بڑھتا جا رہا ہے کہ میڈیا بھی دلال بن گیا ہے۔ یہ خیال کچھ حد تک غلط بھی نہیں ہے۔ جب ملک کے بڑے بڑے ایڈیٹر اور صحافیوں کے کالے کارناموں کا انکشاف ہوتا ہے تو اخباروں میں شائع خبروں پر یقین کرنے والوں کو صدمہ پہنچتا ہے۔ بڑے صحافی بڑے دلال بن گئے ہیں تو چھوٹے صحافی بھی پیچھے نہیں ہیں۔ پیسے لے کر جھوٹی خبریں شائع کرنے کے چلن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔چھوٹے چھوٹے شہروں میں صحافی اور نامہ نگار ناجائز وصولی کا کام کرنے لگے ہیں۔ دھمکی دینے اور بلیک میل کرنے سے لے کر افسران کے ٹرانسفر ، پوسٹنگ کرانے کا کام بھی صحافیوں کا نیا شوق بن گیا ہے۔ الیکشن کے دوران ٹی وی چینلوں اور اخباروں کا جو کیرکٹر سامنے نکل کر آتا ہے، وہ جسم فروشی سے کم نہیں ہے۔ صحافت میں دلالی کی بنیاد کہاں پڑی، یہ ان دستاویزوں سے پتہ چلتاہے۔ آج بھی ایسے صحافی موجود ہیں، جو حکومت کے کالے کارناموں کو چھپانے کے لئے دلیلیں دیتے ہیں، بدعنوانی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال ہے۔ جس طرح لیڈروں اور افسروں کی بدعنوانی سے آج جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے، اسی طرح صحافت کی معتبریت ختم ہونے سے جمہوریت کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔ جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لئے سماجی تانے بانے کے ساتھ بھروسہ مند صحافت ہی وقت کاتقاضہ ہے۔

 

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *