تین لاکھ ٹن دھان

سرکار کسانوں سے بڑی مقدار میں دھان کی خرید تو کرتی ہے،لیکن اسے صحیح ڈھنگ سے رکھنے پر دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔کھلے میدان میں پڑا پڑا سڑ جاتا ہے۔ریاست میں دھان خرید کا کام ’آدیواسی وِکاس مہا منڈل‘ کے ذریعہ کیا جاتاہے۔ آدیواسی وکاس مہا منڈل کے ذریعہ خریدا گیا 3 لاکھ 64 ہزار 806 کوئنٹل دھان گودام نہ ہونے کی وجہ سے کھلے میدان میں رکھا ہے جس کے بارش میں سڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس سے آدیواسی وکاس مہا منڈل کے ساتھ ساتھ سرکار کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہونا طے ہے۔آخر سرکار نے کروڑوں روپے کا دھان سڑنے کے لئے کیوں چھوڑ رکھا ہے؟
غور طلب ہے کہ آدیواسی وکاس مہا منڈل نے ’گوندیا‘ اور ’ناگپور‘ ضلع کے کسانوں سے بڑی مقدار میں دھان کی خرید کی تھی۔ یہ دھان چاول میلوں نے اب تک نہیں اٹھایا ہے۔آدیواسی مہا منڈل کے ذریعہ جگہ جگہ خریدا گیا دھان سال 2010 سے مختلف ایگزیکٹو سوسائٹی کے میدانوں میں جہاں کا تہاں پڑا ہے۔ حالانکہ دھان کی حفاظت کے لئے کئی جگہوں پر ترپال اور ٹین کا انتظام کیا گیا ہے لیکن بھاری بارش ہونے پر اس کے خراب ہونے کا ڈر ہے۔2009-10 کے دوران آدیواسی وکاس مہا منڈل نے 5 لاکھ 55 ہزار 970 کوئنٹل دھان کی خرید کی تھی۔ اس وقت اسے پرائیویٹ گوداموں میں رکھنے کا انتظام کیا گیا تھا لیکن سرکاری مِیلنگ اور ٹرانسپورٹ ریٹ بہت کم ہونے کی بات کہہ کر چاول میلوں نے دھان اٹھانے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد 2010-11 میں 4 لاکھ 25 ہزار 276 کوئنٹل دھان کی خرید کی گئی، لیکن گوداموں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے مختلف پرچیزنگ سینٹروں پر ہی کھلے میدان میں چھوڑ دیا گیا ۔ اس مرتبہ بھی چاول میلوں نے دھان نہیں اٹھایا۔ پچھلے دو سیزنوں میں خریدا گیا دھان رکھنے کی جگہ نہ ہونے کے باوجود 2011-12 میں بھی 4 لاکھ 50 ہزار 861 کوئنٹل دھان کی خرید کر لی گئی۔ نومبر 2011 میں سرکار کے ذریعہ میِلنگ ریٹ بڑھانے کے اعلان کے بعد چاول میلوں نے میلنگ کی کوشش شروع تو کر دی ہے، لیکن انتظامیہ کے ذریعہ دیر سے فیصلہ لینے کی وجہ سے ابھی بھی بڑی مقدار میں دھان کھلے میدان میں پڑا ہے اور اب بارش بھی ہونے لگی ہے۔ سرکاری کی لاپرواہی کی وجہ سے 2011-12 کا 58 ہزار 608 کوئنٹل اور 2010-11 کا 3 لاکھ 64 ہزار 806 کوئنٹل دھان گوندیا ضلع کے مختلف پرچیزنگ سینٹروں کے میدانوں میں پڑا ہے۔
اس بربادی کے لئے ذمہ دار کون؟
فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گوداموں میں رکھے اناج کی صورت حال بھی بہت اچھی نہیں ہے۔فوڈ کارپوریشن آف انڈیا( ایف سی آئی) کے گوداموں میں پچھلے تین سالوں کے دوران 16 ہزار ٹن سے زیادہ دھان سڑنے کا خلاصہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مہاراشٹر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں غذا میں کمی کے مسائل بھیانک شکل اختیار کرتے جارہے ہیں،غریب لوگ دن بھر جان توڑ محنت کرنے کے باوجود آدھا پیٹ کھانا کھانے پر مجبور ہیں تو اتنی بڑی مقدار میں دھان اور دیگر اناج سڑنے کے لئے کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس خلاصے کے بعد اب ایف سی آئی افسروں کے ذریعہ اناج محفوظ رکھنے کے لئے’ سائلو سسٹم ‘اپنانے کی بات کہی جارہی ہے،کسان جس فصل کو اپنا خون پسینہ بہا کر لگاتا ہے، اس کو اکٹھا تو سرکار کرتی ہے،لیکن اسے محفوظ رکھنے یا اس سے بھوکوں کی بھوک مٹانے کے تئیں وہ سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ایف سی آئی گوداموں میں اناج سڑنے کے کئی سبب ہیں، جیسے کیڑوں اور نمی کا ہونا، خرید کے وقت مذکورہ درجے کا دھیان رکھنا، غیر فطری طریقے سے دھان کا اکٹھا کرنا،جگہ کا تنگ ہونا ، کرمچاریوں کی لا پرواہی، بارش کا پانی آنا اور غذائی اجناس کے نقل و حمل کا مناسب بندوبست نہ ہونا وغیرہ۔
جانکاری کے مطابق 2010-11 میں ٹرانسپورٹیشن کی وجہ سے 0.47 فیصد اور بکھرنے کی وجہ سے 0.22 فیصد دھان کا نقصان ہوا۔ دھان سڑنے کے معاملے میں سب سے زیادہ نقصان مہاراشٹر کو ہوا ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ریاست میں ایک لاکھ کوئنٹل اناج اکٹھا کرنے والے اسٹور روم کی تعمیر کی منظوری سرکار نے دے دی ہے۔ سائلو سسٹم سے گودام میں ایک بار میں 25 ہزار میٹرک ٹن اناج کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ جو موجودہ سسٹم کے مقابل کئی گنا زیادہ ہے۔اس لئے غذائی اجناس محفوظ رکھنے کے لئے سائلو سسٹم کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی اناج کو سڑنے سے بچایا جا سکے۔ ریاستی سرکار ہو یا مرکزی سرکار ، غذائی اجناس کے معاملے میں دونوں ہی اپنی ذمہ دار نبھانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ہائی کورٹ بھی کئی بار پھٹکار لگا چکا ہے، لیکن سرکار کے ورک سسٹم پر کوئی فرق نہیں پڑا۔یہی وجہ ہے کہ بھرپور غذائی اجناس ہونے کے باوجود ان کے داموں میں لگاتار اضافہ ہورہاہے۔ مہنگائی کی مار سے غریب کراہ رہا ہے ،وہیں دوسری طرف غذا میں کمی کا مسئلہ ہماری اقتصادی ترقی کو منہ چڑا رہا ہے۔یہ سب سرکار کی مایوسی کا نتیجہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *