شام کے بحران کا حل کون کرے گا

وسیم احمد
شام جل رہا ہے۔ملک شدید بحران کی زد میںہے مگر عالمی برادری اب تک کوئی قابل ذکر کردار ادانہیں کر سکی ہے اور عرب لیگ اور اقوم متحدہ وہاں جاری قتل و غارت گری کو روکنے میں پوری طرح ناکا م ہیں۔عالمی برادری کی اس بے توجہی اور بشار الاسد کی ضد کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام کی کیفیت طاری ہے جس کو زائل کرنے کے لئے سپر پاور سے شامی افواج کے خلاف فضائی حملوں ، پناہ گزینوں کے لئے محفوظ بستیوں کے قیام اور شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے کئی اراکین بھی اس طرح کے مطالبے اپنی حکومت سے کررہے ہیں مگر امریکی صدر اوبامہ اس معاملے میں کوئی قدم اٹھانے میں انتہائی احتیاط برت رہے ہیں۔سینکڑوں لوگوں کے قتل کردیے جانے اور بشار کے اپنی ضد پر قائم رہنے کے بعد بھی صدر اوبامہ کا محتاط قدم اٹھانا حیرت انگیز ہے ۔ مبصرین اوبامہ کے اس رویے کی اصل وجہ امریکہ کے اقتصادی بحران کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں اپنے پائوں پھنسا کر پہلے ہی بہت بڑا مالی نقصان اٹھا چکا ہے ۔یہ نقصان اتنا بڑا تھا کہ امریکہ کی پوری معیشت ہِل کر رہ گئی،اب اوبامہ مزید اقتصادی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ہیں، اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ شام پر فوجی کارروائی کرنے کی قیادت کوئی اور یوروپی ملک کرے اور امریکہ اس کے ساتھ ہو۔ظاہر ہے بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے والی بات کہ کوئی بھی ملک شام پر فوجی حملہ کرنے کی پیشوائی کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتا ہے۔ کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ روسی عنایتوں کے طفیل شامی افواج کی دفاعی صلاحیت خاصی مضبوط ہے اور اس کی بیشتر دفاعی تنصیبات گنجان آباد علاقوں کے نزدیک یا ان کے بیچوں بیچ واقع ہیں۔ ایسی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش میں عام شہریوں کوبھی بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے باعث یہ بحران مزید سنگین اورخوں ریز ہوجائے گا۔روس شام کے دفاع میں اس کی بھرپور مدد کرسکتا ہے۔ایسی صورت میں جو بھی ملک شام پر فوجی کارروائی کی قیادت کرے گا اسے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہجنگ کی صورت میں روس اپنے پرانے حلیف شام کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گا ۔ویسے بھی شام کی بندرگاہ طرطوس میں روس کا ایک بحری اڈہ پہلے سے قائم ہے جسے آج تک روسی فوجی استعمال کررہے ہیں لہٰذا ایسی صورت میں روس شام کی مدد کے لئے آگے آئے ،بعید از امکان نہیں ہے۔اس قیاس کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ شام میں بحران جوں جوں شدید ہوتا جارہاہے روس کا اثرو رسوخ اتنی ہی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے چنانچہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’ انٹر فیکس نے ایک عسکری عہدیدار کے حوالے سے بتا یا ہے کہ روس نے چار جنگی کشتیاں شام کی جانب روانہ کی ہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایک بڑا بحری جنگی جہاز شام کی جانب روانہ کیا گیاہے۔ظاہر ہے یہ صورت حال اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ روس کا اثر شام کے بحرانی دور میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اگرچہ امریکہ روس کی شام کی بندرگاہ پر موجودگی کو غیر اہم کہہ رہا ہے مگر کہیں نہ کہیں اسے یہ خوف ستا رہا ہے کہ فوجی کارروائی کی صورت میں شام کو روس کی مدد دستیاب ہوسکتی ہے۔امریکہ کی طرف سے شام پر فوجی کارروائی سے گریز کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت کے تشدد سے بچنے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار ہونے والے پناہ گزینوں کے لئے محفوظ بستیا ں قائم کرنے کی غرض سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام میں اپنی زمینی افواج داخل کرنی پڑیںگی ۔ ایسا کرنے کی صورت میں شام کا بحران ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس سے سبھی ممالک بچنا چاہتے ہیں۔امریکہ شام میں حکومت مخالف جماعت کو اسلحہ سے مدد کرکے بشار الاسد کے لئے مشکلیں کھڑی کر سکتا ہے مگر وہ ایسا کرنے میں احتیاط برت رہا ہے کیونکہ ایک تو یہ کہ باغی کسی مربوط تنظیم کا حصہ نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ ان کی صفوں میں القاعدہ سے منسلک بعض عناصر بھی موجود ہیں۔ لہٰذا اگر ان گروہوں کو مسلح کیا گیا تو شام کا بحران مکمل خانہ جنگی کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس سے نقصان عام شہریوں کا ہی ہوگا۔ ایسی صورت حال کو دیکھنے کے بعد سمجھا جا سکتا ہے کہ شامی بحران کا کوئی فوری اور سستا حل دستیاب نہیں ہے مگر عالمی برادری کو کسی نہ کسی حل تک پہنچنا ہی ہوگا۔شام کا مسئلہ نہ تو حقیقت سے چشم پوشی سے حل ہوگا اور نہ ہی ہتھیار لے کر دمشق پر چڑھ دوڑنے سے حل ہوگا۔ بلکہ شام کے بحران کے حل کے لئے کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ ، سفارتی دبائو اور شامی حزب اختلاف کے ایسے گروہوں کو محدود مقدار میں اسلحہ فراہم کرکے امن کی راہ نکالی جا سکتی ہے جن کا دہشت گردی سے تعلق نہ ہو۔
شام کے مسئلے کا حل انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کو حل کرنے کے لئے انفرادی طور پر عرب لیگ کئی مرتبہ اپنے نمائندے بھیج چکی ہے مگر ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی ہے ۔اس کے بعد ایک نئی کوشش کے طور پر شام کے لئے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کے طور پر کوفی عنان کو بھیجا گیا تاکہ وہ بشار اسد کو تشدد کی راہ اختیار کرنے سے روک سکیں،مگر وہ بھی خالی ہاتھ لوٹے ہیں اوردورے سے لوٹنے کے بعد اس بات کو تسلیم کیا کہ شام میں ان کی اب تک کی کوششیں سولہ ماہ سے جاری بد امنی اورخون خرابے کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوں نے شام کے دورے سے لوٹنے کے بعد شام کے مسئلے کا حل نکالنے کے لئے روس اور ایران کے اثرو رسوخ کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کے معاملے میں روس خاصے اثرو رسوخ کا مالک ہے مگر یہ بات یقینی نہیں کہ آنے والے وقتوں میں حالات کا تعین محض روس ہی کرے گا ۔کوفی عنان نے اپنے دورے سے لوٹنے کے بعد شام کے مسئلے کو حل کرنے میں ایران کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اس معاملے میں ایران کا بھی ایک اہم کردار ہے اور اسے بھی انجام کار مسئلے کے حل کا حصہ بننا ہوگا اور ایرانی اثرو رسوخ سے انکار ممکن نہیں ہے‘‘۔حالانکہ عنان کے اس بیان کو ایران مخالف قوتیں غیر اہم بتا رہی ہیں مگر اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شام کی موجودہ صورت حال اور بحران کی شدت کو کم کرنے میں ایران اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔کوفی عنان تین مرتبہ شام کا دورہ کرچکے ہیں مگر ان کا ہر دورہ ناکام ثابت ہوا ہے۔غالباً اس کی وجہ یہ ہو کہ امریکہ شامی مسئلے کا حل ایران کو الگ تھلگ رکھ کر کرنا چاہتا ہے کیونکہ ایران شام میں بحران کا اصل ذمہ دار امریکہ کو ہی ٹھہراتا رہا ہے۔ایرانی صدر کئی باریہ الزام عائد کرچکے ہیں کہ امریکہ ا ور اس کے اتحادی شامی صدر بشار الاسد کے خلاف ہیں اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔ بہر کیف ملک شام جل رہا ہے مگر کوئی بھی ملک کا بحران حل کرنے کے تئیں سنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے ۔ہر ایک کے اپنے مفاد ہیں اور مفاد کو مقدم رکھ کر ہی اس مسئلے کا حل تلاش کیا جارہا ہے جبکہ نہتے انسانوں پر مظالم کو روکنے کے لئے ہر ملک کو مفاد سے اوپر اٹھ کر آگے آنا چاہئے اور وہاں کے عوام کو ظلم و جبر سے باہر لانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانا چاہئیں۔خاص طور پر سعودی عرب کو عالم عرب میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ایسے میں سعودی حکمراں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا کر سنجیدگی کے ساتھ مسئلے کا حل تلاش کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *