راشٹر پتی بھون میں پہلا سیاستداں

سنتوش بھارتیہ 
سال 2008 میں گلوبل ایکونامی سلو ڈاؤن (عالمی کساد بازاری) آیا۔ اس وقت وزیر خزانہ پی چدمبرم تھے۔ ہندوستان میں سنسیکس ٹوٹ گیا تھا، لیکن عام خیال یہی تھا کہ اس مندی کا ہندوستان میں کوئی اثر نہیں ہونے والا ہے۔ اُن دنوں ٹاٹا وغیرہ نے بہت اچھی پرفارمنس دی تھی اور ایک نظریہ یہ بنا کہ ہندوستانی اقتصادیات کو دنیا کی اقتصادیات کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی اقتصادیات نے عالمی اقتصادیات کو کئی طرح کے راستے بھی دکھائے۔

پرنب مکھرجی وزیر خزانہ بنے اور دوسرا سلو ڈاؤن (مندی) اُن کے دور میں آیا۔ پرنب مکھرجی نے یہ تاثر دیا کہ چونکہ عالمی اقتصادیات میں سلو ڈاؤن آیا ہے، جس کا اثر ہندوستانی اقتصادیات پر پڑا ہے اور اسی کی وجہ سے ہمارے یہاں پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ سب سے خراب مندی کا دور 2008 میں آیا تھا۔ اس وقت نہ وزیر خزانہ نے کہا اور نہ کسی ماہر اقتصادیات نے کہا کہ اس سے ہندوستان کی اقتصادیات متاثر ہوگی۔ لیکن آج سلو ڈاؤن آیا اور سلو ڈاؤن کے آتے ہی یہ بیان آیا کہ ہماری اقتصادیات ڈگمگا سکتی ہے۔

ان دنوں جب یوروپی اقتصادی بحران کی وجہ سے کسی ملک میں مندی آتی تھی تو یہ ہندوستان کے لیے ایک اَپارچونٹی مانی جاتی تھی۔ ٹاٹا نے لینڈ رووَر خرید لی، ہمارے دوسرے بزنس مین نے بھی کئی کمپنیاں حاصل کیں۔ ایک اندازہ کے مطابق، تقریباً 150 بلین ڈالر کی غیر ملکی کمپنیاں ہندوستانیوں نے خریدیں۔ پرنب مکھرجی وزیر خزانہ بنے اور دوسرا سلو ڈاؤن (مندی) اُن کے دور میں آیا۔ پرنب مکھرجی نے یہ تاثر دیا کہ چونکہ عالمی اقتصادیات میں سلو ڈاؤن آیا ہے، جس کا اثر ہندوستانی اقتصادیات پر پڑا ہے اور اسی کی وجہ سے ہمارے یہاں پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ سب سے خراب مندی کا دور 2008 میں آیا تھا۔ اس وقت نہ وزیر خزانہ نے کہا اور نہ کسی ماہر اقتصادیات نے کہا کہ اس سے ہندوستان کی اقتصادیات متاثر ہوگی۔ لیکن آج سلو ڈاؤن آیا اور سلو ڈاؤن کے آتے ہی یہ بیان آیا کہ ہماری اقتصادیات ڈگمگا سکتی ہے۔ چونکہ یوروپ کی اقتصادیات کولیپس (چرمرا) کر رہی ہے، اس لیے ہمارے یہاں بھی اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے۔ ان بیانات کے پیچھے کیا اسباب ہو سکتے ہیں؟ تلاش کریں تو کئی اسباب ملتے ہیں۔ اس میں پہلا سبب ہے اومیتا پال، جنہیں وزارتِ مالیات میں صلاح کار کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ جب لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اومیتا کو کیوں صلاح کار کے عہدہ پر فائز کیا گیا، ان کی ضرورت کیا ہے یا ان کی مالیات کے شعبہ میں مہارت کیا ہے، تو پرنب مکھرجی نے کہا کہ ’شی اِز نیڈڈ (ان کی ضرورت ہے)۔
دادا پرنب مکھرجی کا تجزیہ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں کو دیکھنا پڑے گا۔ پہلا پہلو ہے، بیوروکریسی (نوکر شاہی)۔ بیوروکریسی کا ری ایکشن، تقرری میں دیری، پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں دیری۔ دوسرا ہے، میجر پالیسی ڈسیژن (بڑی پالیسیوں کے فیصلہ) میں دیری۔ تیسرا پہلو ہے، وزیر اعظم اور دوسرے وزیروں کے ساتھ ان کے رشتے۔ چوتھا ہے، وزیر خزانہ کے طور پر ان سے جتنی امیدیں تھیں، کیا وہ پوری ہوئیں؟ ایل آئی سی کا چیئرمین ڈیڑھ سال تک اپوائنٹ نہیں ہوا اور اورینٹل انشورنس کمپنی کا چیئرمین دو سال تک اپوائنٹ نہیں ہوا۔ 2010 میں تین بینکوں کے چیئرمین تین تین مہینے دیر سے اپوائنٹ ہوئے۔ تین مہینے تک یہ پوسٹ خالی پڑی رہی۔ اس سال کچھ بینکوں میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اپوائنٹ ہونے تھے، جن کی تقرری ایک بورڈ کرتا ہے، جس کا چیئرمین ریزرو بینک کا گورنر ہوتا ہے۔ چھ مہینے پہلے تقرری ہو گئی، لیکن فائننس منسٹری نے دادا کے استعفیٰ تک انہیں کلیئر نہیں کیا۔ پیرالائسس کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کا اثر بینکوں پر پڑ رہا ہے۔ جہاں پر یہ لوگ کام کر رہے ہیں، وہاں پر کام نہیں ہو رہا ہے، کیوں کہ انہیں دوسرے بینکوں میں جانا ہے اور جہاں انہیں جانا ہے، وہاں کام ٹھپ پڑے ہیں، کیوں کہ جب تک یہ نہیں آئیں گے، تب تک فیصلے کون لے گا۔ اس طرح پرنب مکھرجی صاحب نے 12 بینکوں کو، اپنا فیصلہ نہیں لینے کے سبب پیرالائز کر دیا۔ یہ تقرریاں کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟ جب میں نے چھان بین کی تو پتہ چلا کہ دراصل دادا اپنے تین لوگوں کو، اپوائنٹ منٹ کمیٹی کے فیصلے کے خلاف تین بینکوں میں لانا چاہتے تھے اور چونکہ یہ ممکن نہیں ہوا، اس لیے انہوں نے اپوائنٹ منٹ کمیٹی کی سفارشوں کو منظوری ہی نہیں دی۔ یہ تینوں لوگ تین چھوٹے بینکوں کے چیئرمین ہیں، لیکن دادا اُنہیں تین بڑے بینک دینا چاہتے تھے۔ آئی ڈی بی آئی میں سی ایم ڈی اپوائنٹ ہونا ہے اور سیبی میں دو اپوائنٹ منٹ ہونے ہیں۔ یہ دونوں جگہیں دو سال سے خالی پڑی ہیں۔ سیبی بہت اہم ادارہ ہے۔ یو ٹی آئی کے چیئرمین کی پوسٹ پچھلے ڈیڑھ سال سے خالی پڑی ہے۔ یہاں پر اومیتا پال اپنے بھائی شری کھوسلا کو لانا چاہتی تھیں۔ یو ٹی آئی میں امریکن کمپنی فارین پارٹنر ہے اور اس میں ایک کلاؤز پڑا ہوا ہے ’چیئر مین ہیز ٹو بی اپوائنٹیڈ وِد کنسرن آف آل پارٹیز‘ (چیئرمین کی تقرری تمام فریقین کی رضامندی سے ہونی چاہیے)۔
اُس فارین کمپنی نے یہ آبجیکشن کر دیا کہ ’مسٹر کھوسلا ڈَز ناٹ ہیو ایکسپیرئنس‘ (کھوسلا کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے)۔ اس نے کھوسلا کے لیے کانسینسس (منظوری) نہیں دی اور میڈم پال نے اور کسی کو اپوائنٹ ہونے نہیں دیا۔ ایس بی آئی کا کیس تو اور مزیدار ہے۔ او پی بھٹ ریٹائر ہوئے اور اِنہوں نے پردیپ چودھری کو نیا چیئرمین بنا دیا۔ او پی بھٹ کے وقت ایک سی ایم ڈی ہوا کرتا تھااور ایک ایم ڈی۔ اِنہوں نے ایک سی ایم ڈی بنا دیا اور تین ایم ڈی بنا دیے۔ ایس بی آئی میں پالیسی پیرالائسس ہو گیا، کیوں کہ تین ایم ڈی تھے اور تینوں کے کام ڈیوائڈ نہیں تھے۔ تینوں میں کس کے پاس اختیار زیادہ ہے یا کون خود کو سپریم ثابت کر سکتا ہے، اس کی ہوڑ لگ گئی۔ اس کی وجہ سے دنیا کی ایک ریٹنگ ایجنسی نے ایس بی آئی کی ریٹنگ ڈاؤن کر دی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس نے ریٹنگ ڈاؤن کرنے کے لیے کوئی اقتصادی وجہ نہیں بتائی، بلکہ اس نے کہا کہ ’پالیسی ڈسیژن ہیز بین ویری پُور‘ (پالیسی سے متعلق فیصلہ بہت ناقص رہا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ ڈسیژن (فیصلہ) لیتا کون ہے؟ ڈسیژن تو پرنب مکھرجی کو ہی لینا تھا۔ شری ایس ایس این مورتی سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین تھے۔ انہیں ریٹائر کرکے ٹربیونل کا ممبر بنایا گیا۔ سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین کے عہدہ پر اومیتا پال کے گرو بھائی کو لانا تھا۔ وہ بلیک منی کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ اومیتا پال چاہتی تھیں کہ وہ بلیک منی کمیٹی کے ساتھ ساتھ سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین بھی ہو جائیں۔ فائل کیبنیٹ سکریٹری کے پاس گئی، لیکن انہوں نے اسے ایپروو (منظور) نہیں کیا، بلکہ ٹال دیا۔ وہ سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین نہیں بن پائے، صرف بلیک منی کمیٹی کے چیئرمین رہ گئے۔ پالیسی میٹر میں سب سے بڑی مثال ووڈافون کی ہے۔ ووڈا فون کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا نچوڑ یہ ہے کہ ’یو ہیو ڈن رانگ تھنگ ٹو ٹیکس ووڈا فون اِن انڈیا‘ (ہندوستان میں ووڈا فون پر ٹیکس لگاکر آپ نے غلط کیا ہے)اس کے بعد فائننس منسٹر نے ووڈا فون پر ریٹروسپیکٹیو ٹیکس لگا دیا۔ سپریم کورٹ نے بالکل صاف کہا کہ ’یو کین ناٹ ٹیکس ووڈا فون‘ (آپ ووڈا فون پر ٹیکس نہیں لگا سکتے)۔ پھر یہ ریٹروسپیکٹیو ٹیکس کا کلاؤز (شق) کیوں ڈالا؟ جب ہم نے ووڈا فون کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کی جانچ کی تو فائننس منسٹری کے لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں اگر کوئی کچھ بھی بتا سکتا ہے تو مسز اومیتا پال بتا سکتی ہیں، کیوں کہ وہ فیصلہ انہوں نے ہی لیا تھا۔ اگر اس کے پیچھے پیسہ ہے تو فارین کمپنی بڑا پیسہ دے نہیں سکتی، کیوں کہ ووڈا فون پہلے ہی یو کے (برطانیہ) میں رشوت کے معاملے میں پھنسی ہوئی ہے۔ برطانوی اور امریکی کمپنی اپنے یہاں یہ انڈرٹیکنگ دے چکی ہیں کہ وہ فیئر پریکٹس کریں گی۔ چھوٹے موٹے معاملے تو نمٹائے جا سکتے ہیں، لیکن اگر کئی سو کروڑ کا مسئلہ ہو تو یہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے یہاں انڈرٹیکنگ دے رکھی ہے کہ یہ برائب (رشوت) نہیں دیں گے اور اگر کوئی بھی ایسی چیز ثابت ہوتی ہے تو کمپنیوں کے ڈائریکٹر جیل جا سکتے ہیں۔ اب ٹو جی گھوٹالے کا معاملہ لیں۔ جب ٹو جی گھوٹالہ ہوا تو چدمبرم فائننس منسٹر تھے۔ ان کے اور راجا کے درمیان نوٹ کا لین دین ہوا۔ اسی طرح کے نوٹ یقینی طور پر فائننس منسٹری اور ٹیلی کام منسٹری کے درمیان بھی بھیجے گئے ہوں گے، لیکن فائننس منسٹری نے کوئی بھی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا۔ فائننس منسٹری کے ٹھوس فیصلہ نہ لینے کے سبب ہندوستان سے ٹیلی کام سیکٹر تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر آ گیا ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر سے بڑی کمپنیاں بھاگ گئیں۔ اس سے زیادہ اہم پہلو ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر میں جن کمپنیوں کے پانچ کروڑ یا دس کروڑ کے ٹرن اوور تھے، وہ بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ پرووڈنٹ فنڈ بل، مائکرو فائننس بل ادھورے پڑے ہوئے ہیں۔ ایف ڈی آئی کے بارے میں فیصلہ گزشتہ کئی سالوں سے رکا پڑا ہے۔ جاتے جاتے پرنب مکھرجی نے فیصلہ لیا کہ ہم ایف ڈی آئی میں اور چھوٹ دیں گے۔ مائکرو فائننس بل کو تو فائننس منسٹر نے بہت خوبصورتی کے ساتھ ٹال دیا۔ بنگلہ دیش میں ڈاکٹر خان نے ایک بہت ہی خوبصورت کانسپٹ ڈیولپ کیا، جس میں گاؤں میں کسانوں کو مہاجنوں سے چھٹکارہ پانے کا راستہ بتایا۔ کسان جب مہاجن کے پاس جاتا ہے تو اسے بہت اونچی شرحِ سود پر پیسہ ملتا ہے۔ بینک اسے پیسہ دیتے نہیں۔ ہمارے یہاں بھی ایک مائکرو فائننس بل آیا، جس میں بینک کسانوں کو قرض دیں گے یا بینک کے ذریعے نامزد کمپنیاں انہیں قرض دیں گی۔ اس سے کسان اب کھیتی کے ساتھ ساتھ اپنے چھوٹے کاروبار کے لیے قرض لے پائے گا۔ مائکرو فائننس سیکٹر ان صوبوں میں تیزی سے پھلنے پھولنے لگا، جو غریب تھے۔ کچھ دنوں کے بعد آندھرا حکومت ایک آرڈِنینس لے آئی۔ مزے کی بات ہے کہ فائننس سیکٹر سنٹرل سبجیکٹ میں آتا ہے اور کوئی بھی صوبائی حکومت نہ اس کے اوپر قانون لا سکتی ہے اور نہ آرڈِنینس، لیکن کسی نے اسے چیلنج نہیں کیا اور فائننس منسٹری اس کے اوپر خاموش رہی، کیوں کہ پرنب مکھرجی کے پاس اس کے اوپر میٹنگ لینے کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔ ہندوستان میں دو لاکھ کروڑ کا مائکرو فائننس سیکٹر ختم ہو گیا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ چیپٹر کلوز۔ یہ پالیسی پیرالائسس کی ایک بہتر مثال ہے۔ دو سال سے مائکرو فائننس بل زیر التوا ہے۔ غریب ریاستوں میں اب کسانوں کو، کمزور طبقوں کو کوئی بھی پیسہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اب وہ پھر سے مہاجنوں کے شکنجے میں جا چکے ہیں۔ اگر سرکار کے مختلف محکموں کے بلوں پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ التوا میں پڑے ہوئے بل فائننس منسٹری کے ملیں گے، کیوں کہ پرنب مکھرجی کے پاس ان بلوں کو دیکھنے کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔ پرووڈنٹ فنڈ بل اٹکا ہوا ہے، گار (جنرل اینٹی اویئر نس رولس، جے اے اے آر) کا معاملہ، بلیک منی کا معاملہ، یہ سارے معاملے بنا کسی پالیسی ڈسیژن کے بیچ میں لٹکے ہوئے ہیں۔ اب پرنب مکھرجی کے دوسرے وزیروں اور وزیر اعظم سے رشتے کی بات کریں۔ فائننس منسٹر مانا جاتا ہے کہ عام طور پر کابینہ میں دوسرے نمبر کی پوزیشن رکھتا ہے۔ فائننس منسٹری اِن دنوں کی منسٹری ہو گئی ہے، کیوں کہ ہر پہلو کا اہم پہلو فائننس ہوتا ہے، اس لیے بنا فائننس کے کلیئرنس کے کوئی بھی فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک طرح سے دیکھیں تو وزیر اعظم سے زیادہ اہم فائننس منسٹری کا کام ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ماہر اقتصادیات ہونے کے سبب منموہن سنگھ کو اقتصادی معاملے کی مہارت حاصل ہے، لیکن پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم سے کسی بھی موضوع کے اوپر، خاص کر اقتصادی موضوعات کے اوپر رابطہ نہیں کیا، کیوں کہ ان کا ماننا ہے کہ وہ نہ صرف ماہر ہیں، بلکہ سارے مسئلوں کو ٹھیک کرنا انہی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دونوں کے رشتے بہت عجیب ہیں۔ دونوں میں عمومی طور سے بات تو ہوتی ہے، لیکن ملک کے کسی مسئلہ کو لے کر یا اقتصادی حالت کو لے کر پرنب مکھرجی وزیر خزانہ رہتے ہوئے وزیر اعظم کے ساتھ کبھی بیٹھے ہوں، یہ خبر نہ ہمارے پاس ہے اور نہ کسی وزیر کابینہ کے پاس۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فائننس منسٹری کے افسر اور پرائم منسٹر آفس کے افسر تو آپس میں بات کر لیتے ہیں، لیکن وزیر اعظم اور وزیر خزانہ آپس میں بات نہیں کرتے۔ جب سے پرنب مکھرجی وزیر خزانہ بنے ہیں، تب سے وزیر اعظم نے کوئی خط وزیر خزانہ کو لکھا ہو یا وزیر خزانہ کے ناطے کوئی خط وزیر اعظم کو لکھا گیا ہو، خاص کر ان موضوعات پر، جن کا رشتہ پالیسی ڈسیژن سے ہے، ہمارے علم میں تو نہیں ہے۔

پرنب مکھرجی کے وزیر خزانہ رہتے ہوئے وزیر اعظم نے کبھی وزارتِ خزانہ میں دخل اندازی نہیں کی۔ انہوں نے سارے فیصلے پرنب مکھرجی پر چھوڑ دیے۔ پرنب مکھرجی نے بھی وزیر اعظم کی صلاح کبھی نہیں مانگی۔ اگر دوسرے الفاظ میں کہیں تو اسے انا کا ٹکراؤ مانا جاسکتا ہے۔ پرنب مکھرجی نے کبھی بھی منموہن سنگھ کو اپنے سے زیادہ اقتصادی معاملوں میں با علم یا سیاسی معاملوں میں سمجھدار مانا ہی نہیں۔
چدمبرم جب وزیر خزانہ تھے، تو چونکہ وہ منموہن سنگھ سے جونیئر تھے، اس لیے انہیں ان لوگوں کی صلاح بھی مل جاتی تھی، جو منموہن سنگھ کو بھی صلاح دیتے تھے، جیسے مونٹیک سنگھ آہلووالیہ، سی رنگ راجن اور کوشک بسو۔ یہ تینوں فائننس سے جڑے معاملوں میں چدمبرم کو صلاح دیتے تھے، لیکن جب پرنب مکھرجی وزیر خزانہ بنے اور چونکہ یہ منموہن سنگھ سے سینئر تھے، اس لیے ان تینوں کی انٹری فائننس منسٹری میں ایک طرح سے بین (بند) ہوگئی۔ پرنب مکھرجی کے استعفیٰ دینے سے 20 دن پہلے سے پھر ایک نئی صورتِ حال ابھری۔ وزیر اعظم نے سیدھے اقتصادی معاملوں میں دخل اندازی کرنی شروع کی اور ہر کیبنٹ منسٹر اور سکریٹریز کو یہ پیغام پہنچ گیا کہ انہیں اب سی رنگ راجن سے ملنا ہے اور ان کی رائے لینی ہے۔ پرنب مکھرجی کے استعفیٰ دینے کے 20 دن پہلے سے سی رنگ راجن سارے لوگوں کی میٹنگ مالیاتی مسئلوں پر لینے لگے اور انہیں رائے دینے لگے۔ ہندوستان کی اقتصادی حالت خراب ہونے یا فائننس منسٹری کے کام نہ کرنے میں کہیں وژن کی کمی تو نہیں تھی؟ پرنب مکھرجی کے استعفیٰ سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں جب پوچھا گیا کہ ہندوستان کی اقتصادی حالت کیوں خراب ہوتی چلی گئی تو پرنب مکھرجی نے کہا، ہاں میں جانتا ہوں، لیکن یہ ریوائیو ہوگی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیسے، تو انہوں نے کہا کہ یہ میری ’گٹ فیلنگ‘ ہے۔ کیا ایک فائننس منسٹر ایک ملک کو اپنی ’گٹ فیلنگ‘ کی وجہ سے چلا رہا ہے یا ایک واضح اقتصادی پالیسی کے ذریعے وہ فیصلے لے رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے صاف کہا ’بیکاز آئی ایم این آپٹی مسٹ دیٹ اِز وائی آئی ہیو این آپٹی مزم دیٹ انڈین ایکونامی وِل ریوائیو بیک‘ (چونکہ میں ایک رجائیت پسند ہوں، اس لیے مجھے پوری امید ہے کہ ہندوستانی اقتصادیات کا احیا ہوگا)۔ یہ مزے کی چیز ہے کہ آپ کچھ کیجیے مت، کسی کو کچھ کرنے دیجیے مت۔ پالیسی پیرالائسس آپ کی منسٹری میں آ گئی ہے، آپ اسے ریوائز نہیں کر رہے ہیں اور آپ ’گٹ فیلنگ‘ پر ایکونامی ریوائیو کرنا چاہتے ہیں۔
ہندوستان میں عام آدمی اپنے پیسے کو محفوظ رکھنے کے لیے اور زیادہ فائدہ کمانے کے لیے دو راستوں کا استعمال کرتا ہے، یا تو وہ پراپرٹی میں پیسے لگاتا ہے یا گولڈ میں۔ تیسرا آپشن پرووڈنٹ فنڈ ہے، لیکن پروویڈنٹ فنڈ اُس آدمی کو یہ گارنٹی نہیں دے گا کہ اس کا اتنا پیسہ بڑھے گا یا اسی تناسب میں بڑھے گا، جتنا پراپرٹی یا گولڈ میں بڑھتا ہے۔
اب اقتصادیات کا چہرہ بدلا ہے۔ اب لوگ یہ نہیں چاہتے کہ وہ کہیں پیسہ رکھیں اور انہیں ایک مقررہ سود مل جائے۔ ملٹی لیئر ایکونامی ہو گئی ہے۔ جو پیسہ پروویڈنٹ فنڈ میں آئے گا، وہ بعد میں کیپٹل مارکیٹ میں آئے گا، پھر انفراسٹرکچر میں چلا جائے گا۔ ایک سائیکل میں پیسہ گھومتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ پروویڈنٹ فنڈ کا کوئی لیجسلیشن نہیں ہے۔ پروویڈنٹ فنڈ میں رِٹرن اچھا نہیں ملتا ہے۔ اس کی جگہ پر پراپرٹی یا گولڈ میں پیسہ اتنا ہی محفوظ ہے، جتنا کہ پروویڈنٹ فنڈ میں، لیکن اس میں رِٹرن بہت زیادہ ہے۔ اگر 10 لاکھ روپے پراپرٹی یا گولڈ میں لگے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ وہ پیسہ 20 یا 25 سال میں ایک کروڑ روپے ہو جائے گا، لیکن ایسا کوئی امکان پروویڈنٹ فنڈ میں نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ ہمیں یہ لگتا ہے کہ اس ملٹی لیئر چین کو سمجھنے کی زحمت وزیر خزانہ نے اٹھائی ہی نہیں اور اس ملٹی لیئر سسٹم کو جوآدمی نہیں سمجھے گا، وہ کامیاب وزیر خزانہ نہیں ہو سکتا۔ فل ٹائم پالیٹیشین اینڈ ایکسٹرا اسمارٹ پالیٹیشین کین ناٹ بکم اے سکسیس فل فائننس منسٹر۔ فائننس منسٹری کی بہترین عقل مندی کی ایک اور مثال او این جی سی ہے۔ پہلے طے ہوا کہ او این جی سی کو شیئر مارکیٹ میں لے جائیں اور اس کے شیئر بیچے جائیں۔ تقریباً پچاس کروڑ روپے سٹی بینک جیسے بینکوں کو دیے گئے کہ اس کے شیئر بکوائیں۔ ڈھائی بجے خبر آئی کہ دو پرسنٹ شیئر بھی نہیں بکے ہیں، تو ہڑبڑی میں فائننس منسٹری سے فون گیا ایل آئی سی میں اور کہا گیا کہ وہ اس کے شیئر خریدے۔ او این جی سی کے سارے شیئر ایل آئی سی نے خرید لیے۔ یہ بھی ایک اسکینڈل بن گیا۔ اس چھوٹی چیز کو فائننس منسٹری نہیں ہینڈل کر پائی تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں فائننس منسٹری نے کیا سمجھداری دکھائی ہوگی۔
سیاست اور اقتصادیات، دونوں میں ایک فرق ہے۔ سیاست میں آپ سمجھوتے در سمجھوتے کر سکتے ہیں۔ کاسٹ، کریڈ، ذاتوں کو بیلنس کرنے کے فیصلے لے سکتے ہیں۔ اس میں آج آپ نے اس کی مدد کی، کل اس کی مدد کر دی۔ لیکن اقتصادیات میں آپ کا ایک فیصلہ ورلڈ ایکونامی کو متاثر کرتا ہے یا متاثر ہوتا ہے۔ آپ اگر اپنے بزنس مین، اپنے انٹرپرینیور کو کمفرٹ نہیں دے سکتے ہیں، تو آپ کسے کمفرٹ دے سکتے ہیں۔ ہمارے بہت سارے فیصلوں کا فائدہ چین، افریقہ اور یو ایس کو ہوا ہے۔ گار پر ٹیکس لگا دیا، لوگوں نے پیسہ آپ کی کنٹری سے نکال لیا۔ کیا وہ پیسہ لوگوں نے اپنی جیب میں رکھا؟ نہیں، وہ پیسہ انہوں نے چین، افریقہ یا کسی اور ملک میں انویسٹ کر دیا۔ اس کا سولیوشن انہوں نے نکالا کہ ایف ڈی آئی میں پیسہ بڑھا دیتے ہیں۔ ایف ڈی آئی بڑھانے کا فیصلہ اس لیے صحیح نہیں ہے، کیوں کہ ہندوستان میں انویسٹ منٹ کم ہو رہا ہے، یہ سچ نہیں ہے۔ رٹیل میں ایف ڈی آئی کو پرمیشن دینے کے الگ لاجک ہیں۔ اس طرح کا فیصلہ ایسا ہے، جیسے ہندوستان کی اقتصادیات کو آپ آکسیجن دے رہے ہوں۔ رٹیل سیکٹر کے الگ مسائل ہیں، الگ لاجک ہے، الگ ڈیمانڈ ہے۔ اس کے لیے ایف ڈی آئی لاگو کرنے کے حق میں بحث ہو سکتی ہے، مخالفت میں بحث ہو سکتی ہے۔ بگڑی ہوئی اقتصادیات کے نام پر ایف ڈی آئی لاگو کی جائے، یہ غلط سوچ ہے۔ بالکل ویسی ہی سوچ ہے کہ آپ پوری اقتصادیات کو آکسیجن دے رہے ہوں۔ اقتصادیات آکسیجن سے نہیں چلتی۔ گار کے معاملے میں بھی وزارتِ خزانہ نے یہی کیا اور بلیک منی کے معاملے میں بھی یہی کیا۔ وزارتِ خزانہ نے بیان دیا’منی کیپٹ اِن یو ایس اینڈ ایبراڈ انڈیا اِز ناٹ بلیک منی‘ (امریکہ میں اور ہندوستان سے باہر رکھا پیسہ کالا دھن نہیں ہے)۔ یہ وزارتِ خزانہ نے کون سی انوکھی بات کہی اور کون سی نئی کھوج کی، میری سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر ہندوستان میں رہنے والے کسی شخص کے کسی رشتہ دار کا پیسہ جو باہر کام کرتا ہے، اگر وہاں کے کسی بینک میں رہتا ہے تو بلیک منی بالکل نہیں ہے۔ ہندوستان میں رہنے والے کسی شخص کے کسی رشتہ دار کا پیسہ، جو غیر ممالک میں کام کرتا ہے، اگر وہاں کے کسی بینک میں رکھا ہے تو وہ بلیک منی نہیں ہے، اتنے سنجیدہ موضوع پر اتنے لائٹ اسٹیٹ منٹ یا احمقانہ اسٹیٹ منٹ کی آخر ضرورت کیا تھی؟ وزارتِ خزانہ نے یہ اسٹیٹ منٹ شاید یہ سوچ کر دیا ہے کہ یہ بہت بڑا انٹیلیکچولی ہائی پچ کا ہائی فائی اسٹیٹ منٹ ہے۔
انا ہزارے اور بابا رام دیو بلیک منی کی بات کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو سرکار کہتی ہے کہ انا ہزارے اور بابا رام دیو غلط کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان میں بلیک منی ہے، دوسری طرف وہ بلیک منی پر کمیٹی بناتی ہے اور بلیک منی کے کنورژن کا پلان فائنلائز کر رہی ہے۔ سرکار یہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ غیر ملکی بینکوں میں جو پیسہ ہے، وہ کسی طریقے سے آسانی سے ہندوستان واپس لایا جا سکے۔ وہ اس کا پلان بنا رہی ہے۔ اگر انا ہزارے اور رام دیو کا اَنشن پاگل پن ہے اور اگر ملک میں بدعنوانی نہیں ہے، تو کیوں بلیک منی پر سرکار نے کمیٹی بنائی، کیوں انویسٹی گیٹ کر رہی ہے اور کیوں بلیک منی کے کنورژن کا پلان بنا رہی ہے؟ غیر ملکی بینکوں میں رکھے پیسے کو ہندوستان واپس لانے کی تجویز کو کیوں پارلیمنٹ میں قبول کیا گیا؟ کیا ملک میں کسی آدمی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے یا سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بلیک منی کا سورس کیا ہے؟ اس لیے بتانے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ ہر آدمی جانتا ہے کہ بلیک منی کا سورس کرپشن ہے۔
Source of money which is outside India is corruption and same time you are saying there is no corruption in our government. Why our ministers are working on black money?
(سورس آف منی وِچ اِز آؤٹ سائڈ انڈیا، اِز کرپشن اینڈ سیم ٹائم یو آر سیئنگ، دیئر اِز نو کرپشن اِن اَور گورنمنٹ۔ وہائی اوَر منسٹرس آر ورکنگ آن بلیک منی؟)
کنٹرووَرسیز کے اٹھنے کے پیچھے کیا پرنب مکھرجی صاحب کا بیڈ مینجمنٹ نہیں ہے۔ ایک مزیدار بات بتاتے ہیں۔ فائننس منسٹری نے فیس بک کے اوپر ایک اکاؤنٹ کھولا۔ اس اکاؤنٹ کو ڈی کے متل اور پرنب مکھرجی خود دیکھتے تھے۔ اس میں ایک دن لکھا ہوا آیا کہ بس ایک ہی الو کافی ہے بربادِ گلستاں کرنے کو، ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا۔ اس کے بعد ڈی کے متل اور پرنب مکھرجی نے اسے دیکھنا بند کر دیا۔ فائننس منسٹری نے اب فیس بک اکاؤنٹ کی ٹون بدل دی۔ اب وہاں صرف فوٹو آتے ہیں کہ فائننس منسٹر کہاں کہاں گئے۔g

فیصلے نہ لینے کی قیمت
وزیر اعظم کے پاس فائلیں جانے لگیں تو انھوں نے سوچا کہ وہ کیوں فیصلے لیں۔ لہٰذا انھوں نے وزیروں کا گروپ بنانا شروع کیا، جسے جی او ایم کہا گیا۔ حکومت نے جتنے جی او ایم بنائے ان میں دو تہائی سے زیادہ کا صدر انہوں نے پرنب مکھرجی کو بنایا۔ جب چدمبرم وزیر خزانہ تھے، تب پرنب مکھرجی ایک ایسے جی او ایم کے بھی صدر بن گئے جس کا کام بقیہ تمام جی او ایم سے کام کروانا تھا، کیوں کہ وزیر جی او ایم کے لیے وقت نہیں دیتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی بھی جی او ایم نے کوئی سفارش کی ہو، جس کے صدر پرنب مکھرجی رہے ہوں، کیوں کہ ان کے پاس خود جی او ایم کی میٹنگوں کو کسی لاجیکل اینڈ تک لے جانے کا وقت نہیں تھا۔ پرنب مکھرجی کی اپنی منسٹری میں کتنے ہلکے ڈھنگ سے غور ہوتا تھا اور جس کے اوپر ٹائم دینا پرنب مکھرجی مناسب نہیں سمجھتے تھے، اس کی ایک مثال افراط زرہے۔ پرنب مکھرجی کا ماننا تھا کہ ’’انفلیشن اِز اے سسٹمیٹک ایپروچ۔ اٹس اے باسکیٹ آف گڈس‘‘۔ انھوں نے کبھی افراط زرپر حملہ نہیں کیا۔ انھوں نے سسٹم پر اٹیک کیا۔ فائننس منسٹری یہ سمجھ نہیں پائی کہ منی سپلائی زیادہ ہونے سے مہنگائی بڑھی ہے یا پھر اشیاء کی کمی کی وجہ سے بڑھی ہے، جب کہ حقیقت یہ تھی کہ صنعتی ترقی کم ہو رہی تھی۔ ہندوستان کی اپنی صنعتی ترقی کی شرح نیچے جا رہی تھی۔ ضروری اشیاء کی کمی ہو رہی تھی، جس کی وجہ سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ حکومت اپنی عقل و خرد سے مہنگائی کیسے بڑھاتی ہے ، اس کی مثال خام لوہا اور اسٹیل ہے۔ ہمارا خام لوہا سب سے زیادہ چین جا رہا تھا۔ حکومت نے طے کیا کہ خام لوہے کو چین نہیں بھیجنا ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اس نے سیدھا راستہ نہ لے کر ریلوے کے کرایے میں 300 فیصد کا اضافہ کردیا۔ اس سے خام لوہا چین جانے سے رک تو گیا، لیکن حکومت نے یہ نہیں سوچا کہ اس کی وجہ سے خام لوہا ہندوستان کی فیکٹریوں میں بھی نہیں جائے گا۔ اس کا اثر ٹاٹا، رائورکیلا وغیرہ مقامات پر واقع ہندوستان کی تمام اسٹیل فیکٹریوں پر پڑا اور اس کی وجہ سے خام لوہے کا کام کرنے والے، خاص کر کان کنی میں لگے لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ اب ہندوستان میں اسٹیل بننا کم ہو گیا۔ اسٹیل اب چین سے آ رہی ہے ،جو مہنگی ہے اور ہم وہی مہنگی اسٹیل خرید رہے ہیں۔ ہم نے ایک صنعت کو مارا۔ کل ملا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکومت پیاز بھی کھا رہی ہے اور جوتے بھی کھا رہی ہے۔ ٹھیک یہی مثال سیمنٹ کی ہے۔

۔50 روپے کی بوری 400 روپے تک فروخت کی گئی۔ اس کی وجوہات وزارت مالیات نے دور نہیں کیں۔ وزارت مالیات سے وابستہ ادارے، خواہ وہ آر بی آئی ہو یا ان کے دوسرے ادارے ہوں، کسی کے پاس بھی صحیح اعداد و شمار نہیں ہیں کہ کل کالا دھن ہے کتنا۔ کوئی چار لاکھ کروڑ کہہ رہا ہے تو کوئی 8 لاکھ کروڑ تو کوئی 10 لاکھ کروڑ اور آر بی آئی اسے 30 لاکھ کروڑ بتا رہی ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کے الگ الگ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وزارت مالیات کالے دھن کے ایشو پر سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ وزارت مالیات کا سب سے مزیدار کنٹراڈکشن ہے کائونٹر فیڈ کرنسی کو لے کر، جسے ہم لوگ نقلی نوٹ کہتے ہیں۔ ویسے تو ایک کمال یہ ہوا کہ نقلی نوٹ ہندوستان کے ریزرو بینک کے خزانہ میں پائے گئے۔ اس کی سی بی آئی تفتیش ہوئی، چھاپے مارے گئے، لوگ گرفتار ہوئے ، لیکن اس کے بعد کی کارروائی کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ریزرو بینک سے نقلی نوٹ بینکوں میں بھیجے گئے۔ اس کے اوپر وزارت مالیات نے کتنا دھیان دیا، ہمیں نہیں معلوم، لیکن ہمیں اتناضرور معلوم ہے کہ وزارت مالیات نے اس پر بالکل دھیان نہیں دیا۔ حالانکہ ہماری باتیں کنٹرا ڈکٹری لگ سکتی ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نقلی نوٹوں کے بارے میں پی چدمبرم جب وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے بیان دیا تھا کہ ہندوستان میں جتنی کرنسی موجود ہے، اس میں ہر تیسرا نوٹ نقلی ہے۔ حکومت جب ایسا بیان دیتی ہے تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہماری بنیادی مشینری، ہماری وزارت مالیات کتنی مستعد ہے۔ اس نے اسے روکنے کے کچھ کچھ کیوں نہیں کیا؟ آپ کو ایک واقعہ بتاتے ہیں۔ آپ کے پاس امتحان پاس ہونے کے دو طریقے ہیں۔ دونوں ہی طریقوں سے نمبر برابر آتے ہیں۔ پہلا طریقہ ہے کہ آپ رٹا ماریں اور اتنا زیادہ جواب رٹ لیں کہ آپ کے سوال کاجواب صحیح ہو اور آپ کے 90 نمبر آ جائیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کے پاس اتنا علم ہو کہ آپ کے پاس جو سوال آئے اس کا سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ جواب وہی ہوگا اور آپ کو بھی 90 نمبر ہی ملیں گے، لیکن گاڑی تب پھنس جاتی ہے جب کہیں پر مشکل سوال آ جائے۔ ایسا سوال آ جائے جس کا رٹا نہیں مارا گیا ہو اور تب علم والا آدمی پاس ہو جاتا ہے اور رٹے والا رک جاتا ہے۔ اب تک ہمارے ملک میں معمولی سوال تھے، معمولی مسائل تھے۔ ہمارے آئی اے ایس اور وزیر محترم رٹا مار کر ان کا حل نکالتے رہے (چونکہ رٹامار کر پاس ہوئے تھے)، لیکن اب مسئلہ سنگین ہو گیا تو یہ بغلیں جھانک رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وزیر خزانہ بھی رٹا مار کر پاس ہوئے ہیں، لیکن ان کی سرگرمیاں یہ بتاتی ہیں یا ان کے طریقے یہ بتاتے ہیں کہ وہ بھی رٹا مار کر پاس ہوئے، اس لیے اس وقت لڑکھڑا رہے ہیں۔ عجیب فیصلے لیتے ہیں۔ سی آر آر کم کرتے ہیں، منی فلو بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ پیسے آ جاتے ہیں، مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ اسے سنبھالنے کے لیے ایس ایل آر کم کرتے ہیں۔ جویلری پر ایک فیصد ٹیکس لگا دیا۔ فیصلہ ایسا کیا کہ اس ایک فیصد کا اسسمنٹ آپ نے انسپکٹر کے اوپر چھوڑ دیا۔ پورے ملک میں تحریک شروع ہوئی۔ کسی کو ایک فیصد ٹیکس دینے میں اعتراض نہیں تھا، لیکن اس کی قیمت کے لیے جو آپ نے انسپکٹر لگا دیا، اس پر اعتراض تھا۔

اسی طرح سے لوک سبھا میں پہلی بار شاید دنیا میں پہلی بار یہ لفظ آیا’’سینس آف ہائوس‘‘۔ جب انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کے وقت پارلیمنٹ بلائی گئی تو دادا نے سینس آف ہائوس کی حکمت عملی بنائی اور کہا کہ لوک پال بل پاس کریں گے۔ ہائوس کی اس اہم میٹنگ کو خاص طور پر پرنب مکھرجی نے سنبھالا۔ پہلی بار یا تو حکومت نے پارلیمنٹ کی بات کو، یعنی سینس آف ہائوس کو نہیں مانا یا پارلیمنٹ نے ملک کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اپنے ہی سینس کو ایکشن میں ٹرانسلیٹ نہیں کیا اور عجیب بات یہ ہے کہ جو اسٹینڈنگ کمیٹی لوک پال کو ہینڈل کر رہی تھی، اس کے چیئر مین ابھیشیک منو سنگھوی ایک خاتون کو جج بنانے کی سپاری لیتے ہوئے کمیٹی سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس اُٹھا پٹک میں پرنب مکھرجی کے سیاسی جوہر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتصادی امور میں ان کی پہل بہت چھوٹی اور گمراہ کن یعنی کنفیوژڈ نظر آتی ہے، لیکن یہ ملک کی خوش نصیبی ہے کہ وزارت مالیات سے پرنب مکھرجی کو نجات مل گئی۔ اب پرنب مکھرجی ملک کی تندرستی کے اوپر نظر رکھیں گے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ان کے جاتے ہی یہ بیان دیا کہ اقتصادی صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لیے اینیمل اسپرٹ کی ضرورت ہے۔ اس بیان پر تبصرہ ابھی تک وزیر اعظم کی طرف سے نہیں آیا ہے۔ ہم اس تبصرہ کے منتظر ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *