راجستھان میں بابوئوں کی قلت

دلیپ چیرین
راجستھان میں بابوئوں کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر اس بات سے خفاہیں کہ راجستھان کی گہلوت حکومت ان کی ترقی نہیں کر رہی ہے۔ راجستھان میں آئی اے ایس افسروں کے 296عہدے ہیں، لیکن ان میں سے ایک تہائی خالی پڑے ہیں۔ یہی نہیں، ایک درجن سے زائد آئی اے ایس افسران اس سال رٹائرہونے والے ہیں۔ اس وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 17سالوں سے راجستھان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک بھی افسر کو آئی اے ایس سطح پر پروموشن نہیں ملا ہے۔اس لئے راجستھان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسرحکومت سے ناخوش ہیں۔ چیف سکریٹری سی کے میتھیو نے مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے کہ ریاست میں آئی اے ایس کیڈر کو بڑھایا جائے، لیکن مرکزی حکومت ان کی بات ماننے کے لئے راضی نہیں ہے۔ کچھ وقت پہلے ریاستی حکومت نے جب اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو سروس کے 6افسروں کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بنایا تھا تو آئی اے ایس ایسو سی ایشن نے اس کی مخالفت کی تھی اور انہیں ہٹانے کے لئے حکومت پر دبائو ڈالا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ راجستھان کے آئی اے ایس افسر ایک ساتھ کئی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے تو تیار ہیں، لیکن اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران کے پروموشن کے خلاف ہیں۔g
وزارت خارجہ کی پریشانی
وزارت خاجہ نے ایک تجویز پیش کی ہےجس کے مطابق وزارت میں سکریٹری سطح کا ایک عہدہ وضع کیا جائے، جس کا کام اہم طور پر پبلک ڈپلومیسی سے متعلق ہوگا، لیکن اس تجویز کو آئی اے ایس لابی پسند نہیں کر رہی ہے۔ اس نے اس تجویز کو خارج کر دیا ہے۔ حالانکہ اس تجویز کی حمایت وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی کر رہے ہیں۔ وہ اس عہدہ پر پی آر چکر ورتی کو لانا چاہتے تھے۔ چکرورتی 1977بیچ کے آئی ایف ایس افسر ہیں اور فی الحال وزارت خارجہ میں اسپیشل سکریٹری ، پبلک ڈپلومیسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیبنٹ سکریٹری اجیت سیٹھ نے بھی وزارت کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ اس سے آئی ایف ایس لابی مایوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کے دائرۂ اختیار کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔g
وزارت مالیات میں ردبدل کا امکان
وزارت پرنب مکھرجی کے صدر بننے کی بات سامنے آنے کے بعد سے ہی نارتھ بلاک میں اس بات پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے کہ وزارت مالیات میں افسرسطح پر پھیر بدل ہوگا۔ تاہم، یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اخراجات کے سکریٹری سمت بوس اب زیادہ وقت تک نہیں رہیں گے۔ ساتھ ہی وزارت کے چیف اقتصادی مشیر کوشک بسو کی بھی وداعی ہو سکتی ہے، کیونکہ انہیں پرنب دا نے ہی بلایا تھا۔ بسو کا جانشین کون بنتا ہے،یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اقتصادی امور کے سکریٹری آر گوپالن ایشین ڈیولپمنٹ بینک میں چلے جائیں۔ ان کی خدمات میں تین مہینے کی توسیع کی گئی تھی۔ یہی نہیں، اس بات کا بھی امکان ہے کہ اگر پرنب مکھرجی راشٹر پتی بھون پہنچ جاتے ہیں تو پھر وزارت مالیات کے کئی افسر ان کو راشٹر پتی بھون بلالیا جائے گا۔ اب تو یہی دیکھنا کہ اگلا وزیر خزانہ کو بنتا ہے، وزارت مالیات میں کون کون افسر آئیں گے اور کون یہاں سے جائیں گے، یہ بھی اس بات پر منحصر ہوگا کہ وزارت مالیات کس کے پاس جاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *