بہار میں ایک وائس چانسلر تین یونیورسٹیاں

سنیل سوربھ
کسی بھی ریاست کی ترقی میں تعلیم کا اہم رول ہوتا ہے۔بہار کا تعلیمی نظام قدیم دور سے پوری دنیا میں مشہور رہاہے۔پچھلے دور میں’ نالندہ یونیورسٹی‘ اور’ وکرم شیلا یونیورسٹی ‘اس کی مثال ہے۔یہاں دانشوروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی بھرمار رہی ہے۔ آریہ بھٹ سے لے کر وششٹ نارائن سنگھ،اوتار تلسی تک ہزاروں دانشور ان اور تعلیم یافتہ شخصیتیں بہار کی زمین میں پیدا ہوئیں۔ آج ریاست کے اقتدار پر قابض لوگ بہار کو ترقی کرنے میں گجرات سے بھی زیادہ شرح ترقی کی بات کر رہے ہیں،لیکن حقیقت دعوے سے کوسوں دور ہے۔ جب ریاست کا ایجوکیشن سسٹم ہی چوپٹ ہے تو ترقی کرنے کی بات ہی کہاں آتی ہے۔ اعدادو شمار جو پیش کر لیں، کمپیوٹر میں اپنی بات کہہ دیں، سروے کے اعدادو شمار انٹر نیٹ میں ڈال کر دنیا کو بھلے ہی بتا دیں کہ بہار ترقی کے راستے پر ہے، لیکن صرف ریاست کے ایجوکیشن سسٹم کی ہی بات کریں تو سچائی سامنے آ جائے گی۔ ریاست کی پانچ پانچ یونیورسٹیوں کا کام ایک سال سے انچارج کے سہارے چل رہا ہے۔ایک وی سی کے ذمہ تین تین یونیورسٹیوں کا چارج ہے۔ صوبے کی سب سے بڑی ’مگدھ یونیورسٹی‘ کا چارج’ بی این منڈل یونیورسٹی‘ کے وی سی پروفیسر ارون کمار کے ذمہ ہے۔ گزشتہ جون کے دوسرے ہفتہ سے ارون کمار کو’ نالندہ اوپن یونیورسٹی ‘کا بھی چارج ملا ہے۔لگتا ہے کہ بہار میں وی سی کے عہدہ کے لائق اب کوئی فرد بچا ہی نہیں ۔ہو سکتا ہے ارون کمار کو بی جے پی ایم ایل اے ایشا سنہا کا رشتہ دار (سمدھی) ہونے کا فائدہ ملا ہو۔ لیکن تقرر کیے گئے وائس چانسلروں میں سب سے زیادہ تنازع میں ارون کمار ہی رہے ہیں ،چاہے پرنسپلوں کی تقرری کا معاملہ ہو یا پٹنہ برانچ دفتر کے بند ہونے کا معاملہ ، یا پھر کالج کارکنان کے پروموشن ،تنخواہ ڈسکری پنسی دور کرنے کا معاملہ ہو۔بہار کی دیگر یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر ’مگدھ یونیورسٹی ‘ کی بات کریں تو ان دنوں یہاں پوری طرح غیر یقینی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ ایکادعہدیدار کو چھوڑ کر ہر کوئی بہتی گنگا میں ہاتھ صاف کر رہا ہے۔ اس طرح ایک سال سے ریاست کی ان تعلیمی درسگاہوں میں ریاستی سرکار، ہائی کورٹ اورچانسلر کے احکام و ہدایات سے عجیب و غریب صورت حال بنی ہوئی ہے۔کبھی وی سی کا مالی اختیار چھن جاتا ہے تو کبھی مل جاتا ہے، کبھی ان کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے ۔ریاست کی سبھی یونیورسٹیوں میں اساتذہ، تعلیم سے جڑے کارکنان کی تنخواہیں ، پروموشن کے ساتھ ساتھ متعدد مسائل کا حل نہیں ہو پا رہا ہے۔ جبکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس کے لئے یونیورسٹیاں ہیں یعنی طلباء و طالبات کی تعلیم و تربیت، امتحانوں کی دیکھ ریکھ بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں ہو پا رہی ہے۔ وقت پر اسناد نہ ملنے کی وجہ سے سینکڑوں لوگ نوکری سے محروم ہو رہے ہیں،لیکن اس سے صوبے کے انسانی وسائل سے جڑی تنظیموں کی باگ ڈور تھامنے والے افراد کو دیکھنے والے وزیر ، ہائی کورٹ ، وی سی دفتر کو کوئی افسوس نہیں ہے اور نہ ہی کوئی فکر ہے۔ ان سبھی نے اپنی انا کے ٹکرائو میں صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو گڈھے میں پہنچا دیا ہے۔آج ریاستی سرکار اور چانسلروں کے بیچ چل رہی تکرار سے اعلیٰ تعلیم کا خسارہ ہورہا ہے ۔ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک طرف پٹنہ ہائی کورٹ’ مگدھ یونیورسٹی‘ کے اس وقت کے وی سی ڈاکٹر اروند کمار اور ویر کنور سنگھ یونیورسٹی کے اس وقت کے وی سی ڈاکٹر سبھاش پرساد سنہا کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہٹانے کا حکم دیتا ہے، وہیں دوسری طرف پھر سے چانسلر چھہ یونیورسٹیوں میں وی سی کی تقرری کر دیتے ہیں۔معاملہ پھر پٹنہ ہائی کورٹ میں آ جاتا ہے۔ بہار ریاستی یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق کسی بھی یونیورسٹی کے وی سی عہدے کا چارج وی سی کی موت ہونے، کوئی حادثہ ہونے، یا پھر استعفیٰ دینے کے بعد کسی کو دیا جا سکتا ہے، وہبھی فوری طور پر، لیکن چانسلر نے بہار سرکار سے کوئی صلاح کئے بغیر ہی ’مگدھ یونیورسٹی ‘، ’کنور سنگھ یونیورسٹی‘ سے ہٹائے گئے وی سی کا چارج دلا دیا۔یہاں تک کہ’ نالندہ یونیورسٹی‘ سے وی سی کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد اس کا چارج بھی ’بی این منڈل یونیورسٹی‘ کے وی سی کو دلا دیا۔ جبکہ قاعدے کے مطابق وی سی اور پرو وائس چانسلر کی تقرری چانسلر اور وزیر اعلیٰ یعنی ریاستی سرکار کے اتفاق اورتحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے کی جاتی ہے لیکن چانسلر نے ایسا نہیں کیا۔تقرر کیے گئے دو وی سی کامیشور سنگھ’ سنسکرت یونیورسٹی دربھنگہ‘ کے وی سی ڈاکٹر اروندر کمار پانڈے اور’ بھیم رائو امبیڈکر یونیورسٹی‘ کے وی سی ڈاکٹر ومل کمار پر مجرمانہ مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ قانون کے ماہرین بتاتے ہیں کہ ان دونوں کی تقرری یو جی سی ایکٹ کے خلاف ہے۔ اب تو آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ میںبھی ’بھیم رائو امبیڈکر‘ یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر راجندر مشر، ’ایم ایم ایچ عربی ،فارسی یونیورسٹی پٹنہ‘ کے ڈاکٹر محمد شمس الضحیٰ، ’جے پرکاش یونیورسٹی چھپرا‘ کے وی سی ڈاکٹر رام ونود سنگھ، ’سنسکرت یونیورسٹی دربھنگہ‘ کے ڈاکٹر اروند پانڈے ،’ پٹنہ یونیورسٹی‘ کے وی سی ڈاکٹر شمبھو سنگھ کی تقرری کو بھی غیر قانونی بتایا ہے۔ آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ میں پرو وائس چانسلر کی تقرری کو بھی غیر قانونی بتایا گیا ہے۔ ’پٹنہ یونیورسٹی‘ میں ڈاکٹر جے پی سنگھ، ’عربی فارسی یونیورسٹی ‘میں ڈاکٹر سلطان خوش ہد جاوید، ’متھیلایونیورسٹی‘ میں ڈاکٹر کماریش پرساد اور ’بی این منڈل یونیورسٹی‘ میں ڈاکٹر پشپندر کمار ورما کی تقرری کو بھی آڈٹ رپورٹ میں غیر قانونی بتایا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ کے دوران جن دستاویزوں کی مانگ چانسلرسکریٹریٹ میں کی گئی تھی، وہ چانسلر سکریٹریٹ نے فراہم نہیں کرائیں۔ ادھر ریاستی سرکار کے فروغ انسانی وسائل کے محکمہ کی طرف سے بار بار چانسلر کو لکھا جا رہا ہے کہ ریاست کی سبھی یونیورسٹیوں میں مستقل وی سی کی تقرری کریں۔ پچھلے ڈیڑھ دو برسوں سے صوبے کی ان یونیورسٹیوں میں مستقل وی سی نہیں رہنے کی وجہ سے کئی طرح کی گڑ بڑی ہو رہی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا ہے کہ ریاست کی سات یونیورسٹیوں میں سوا سترہ کروڑ روپے کی ہیرا پھیری کا معاملہ بھی روشنی میں آیا ہے۔ اس طرح ریاست کے ہائی ایجوکیشن سسٹم اور یونیورسٹیوں کا کام انچارج کے سہارے چل رہا ہے۔ مگدھ یونیورسٹی ٹیچر ایسو سی ایشنکے جنرل سکریٹری ڈاکٹر برجیش رائے کہتے ہیں کہ چانسلر اور ریاستی سرکار کے ٹکرائو میں اساتذہ، طلباء و طالبات کا تونقصان ہو ہی رہا ہے ساتھ ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں کا وقار بھی کم ہورہا ہے جسے بچانے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی نظام پر پانی کی طرح خرچ ہورہا ہے پیسہ
بہار میں تعلیمی نظام پر موجودہ سرکار کی طرف سے پانی کی طرح پیسے کو بہایا جارہا ہے۔ بڑی لیکن رقم خرچ ہونے کے بعد بھی پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے معیار میں کوئی سدھار نہیں ہو پا رہا ہے۔ آج بھی دیہی علاقوں کی بات تو چھوڑ دیں شہری علاقوں میں بھی سرکاری اسکول پیڑ اور سڑک کنارے چلتے نظر آتے ہیں۔ عمارت ہے تواساتذہ نہیں اور کہیں اساتذہ ہیں تو طلباء کی حاضری نہیں۔آج بہار کے محکمۂ تعلیم کا سالانہ ایجوکیشنل اسٹرکچر تین ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ بہار میں تعلیمی نظام کی کیا صورت حال ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ رقم کاغذی اعدا دو شمار بناکر خرچ کی جا رہی ہے جبکہ حقیقی صورتحال بہت ہی خوفناک ہے۔یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 1990 کے پہلے پورے صوبے کا پلان اسٹرکچر تین ہزار کروڑ کا تھا جس میں آج کا جھارکھنڈ بھی شامل تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آج کے تعلیمی نظام میں بہار کو پورے ملک میں اول ہونا چاہئے تھا لیکن صورت حال اس کے بر عکس ہے۔ ہائی ایجوکیشن سسٹم بھی اسی رقم میں شامل ہے، باوجود اس کے بہار کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھنے لکھنے کا معیار دیگر ریاستوں کے مقابلے بہت ہی خراب حالت میں ہے۔ یہاں ایک ہی آدمی کو کئی کئی یونیورسٹیوں کا چارج دیا گیا ہے۔ لگتا ہے جیسے بہار میں دانشوروں کی کمی ہو گئی ہے۔ ’بی این منڈل یونیورسٹی‘ کے وی سی پروفیسر ارون کمار کو دو دیگر یونیورسٹیوں کا چارج بھی دیا گیا ہے۔ پروفیسر کمار 23 جنوری2011 کو’ بھوپندر نارائن منڈل یونیورسٹی‘ ، مدھے پورہ کے وی سی بنائے گئے۔ جب پٹنہ ہائی کورٹ نے ’مگدھ یونیورسٹی ‘ بودھ گیا کے اس وقت کے وی سی ڈاکٹر اروندر کمار کو غیر قانونی تقرری کے سبب ہٹانے کا حکم دیا تو چانسلر نے پروفیسر ارون کمار کو 23 جولائی 2011 کو ’مگدھ یونیورسٹی‘ کا چارج بھی سونپ دیا۔ گزشتہ 28 مئی 2012 کو ارون کمار کو ’نالندہ اوپن یونیورسٹی ‘ کے وی سی کا چارج بھی دیا گیا۔’ نالندہ اوپن یونورسٹی‘ کے وی سی کے ریٹائر ہوجانے کے بعد وی سی کا عہدہ وہاں خالی ہوا تھا۔ ‘ پروفیسر ارون کمار پر اہم ذمہ داری لگاتار سونپے جانے کے پیچھے کئی لوگ دبی زبان سے چرچا کرتے نظر آتے ہیں۔کل ملا کر بہار کا اعلیٰ تعلیمی نظام ،چانسلر ، بہار سرکار کے فروغ انسانی وسائل اور پٹنہ ہائی کورٹ کے ہدایات و احکام کی وجہ سے عجیب و غریب صورت حال یں پھنسا ہے یہی وجہ ہے کہ بہار کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنا لکھنا کم، سیاست اور لوٹ پاٹ کی پالیسی زیادہ متحرک ہے۔

Share Article

One thought on “بہار میں ایک وائس چانسلر تین یونیورسٹیاں

  • July 30, 2012 at 11:48 pm
    Permalink

    good night sir!
    Chauthi dunya ka main purana quari hoon!
    Aap ki janib se chaapi khabren haquiquat par mabni hoti hai!
    Hum ummeed karte hain ki future men bhi isi be baaki ke sath khabren shaae karen!
    ali haidar 30.07.2012

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *