اف! اتنی شرائط : مسلم طلبہ کو اسکالرشپ ملے تو کیسے؟

وسم احمد 

ہندوستان میں آج بھی 41 فیصد سے زائد آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور خواندگی کی صورت حال بھی ابتر ہے ۔ مردوں میں 82.14 اور خواتین میں 65.46 فیصدکا اوسط ہے ۔کسی بھی ملک میں اس طرح کی صورت حال جہالت اور بچہ مزدوری جیسے حالات پیدا کرتی ہے۔ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تعلیمی اسکالر شپ ایک ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیمی اسکالر شپ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو بچے ذہین ہیں،پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر معاشی اعتبار سے کمزور ہیں ،تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ہیں ایسے بچوں کو اسکالر شپ دے کر تعلیم جاری رکھنے میں مدد کی جائے تاکہ افلاس تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ایسے غریب والدین کو نظر میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی منصوبے کے تحت کئی طرح کے تعلیمی وظائف کے منصوبے بنائے گئے۔ 2008-09 میں پری میٹرک اسکالر شپ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس کے تحت رواں سال تک ملک کی مختلف ریاستوں میں 1.22 کروڑ اسکالر شپ دی جاچکی ہیں۔ وزارت برائے اقلیتی امور نے مالی سال 2012-13 کے لئے پہلی کلاس سے دسویں تک کے طلباء کے لئے 75 لاکھ اسکالرشپ دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔یہ گزشتہ مالی سال کی بہ نسبت دوگنا ہے۔جبکہ 9.5 لاکھ اسکالرشپ کا ہدف پوسٹ میٹرک کے لئے طے کیا گیا ہے۔یہ بھی گزشتہ سال کی بہ نسبت دوگنا ہے۔یہ اسکالر شپ گیارہویں سے پی ایچ ڈی تک کے طلبا کو دی جاسکتی ہے۔اس طرح کی اسکالر شپ کا فیصلہ 2007-08 میں لیا گیا تھا اور رواں سال تک تقریباً 18.09 لاکھ اسکالر شپ دی جاچکی ہیں۔اور تیسری طرح کی اسکالر شپ ٹیکنیکل اور پروفیشنل کورس انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر طے کی گئی ہے۔اس کے لئے پورے ملک سے 20 ہزار طلبا کا انتخاب کیا جائے گا جن کے والدین مالی اعتبار سے کمزور ہیں۔

ذہین بچوں کو اسکالر شپ دینے کا منصوبہ قابل قدر ہے۔اس سے ان بچوں کو مدد ملے گی جو پڑھنا تو چاہتے ہیں مگر ان کے پاس وسائل کی کمی ہے مگر اسکالر شپ کے حصول کے لئے حکومت نے جو طریقے اختیار کیے ہیں ،اس کی وجہ سے بہت سے مستحق بچے اسکالرشپ حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔لہٰذا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے

حکومت تعلیم میں بہتری لانے اور ذہین بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لئے منصوبے تو بناتی ہے،خطیر رقم بھی مختص کرتی ہے مگر اس رقم کو مؤثر بنانے میں کامیاب نہیں ہوپاتی ہے ۔اس میں حکومت کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے۔مگر جو طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے اس میں پیچیدگیوں کی وجہ سے منصوبہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رقم کا کچھ فی صد حصہ ہی استعمال ہوپاتا ہے اور باقی رقم یونہی پڑی رہ جاتیہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسکالر شپ کے لئے جو اسکیمیں آتی ہیں ان کے بارے میں والدین اور طلباء کو پتہ ہی نہیں چل پاتا ہے کہ وہ ان کو کس طرح اور کہاں سے حاصل کریں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اسکیم نکالنے کے بعد اس کی مناسب تشہیر نہیں کرتی ہے۔ہونا یہ چاہئے کہ جب اس طرح کی اسکیمیں نکالی جاتی ہیں تو ان کی اردو ،ہندی ،انگریزی و دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ تشہیر کی جائے تاکہ طلباء کو ان کے بارے میں مکمل معلومات مل سکے اور اس طرح خاص طور پر اردو اخبارات کو اشتہار کی شکل میں مالی مدد بھی ہوجائے اور دوسری بات یہ کہ وزارت برائے اقلیتی امور نے اسکالرشپ حاصل کرنے کے لئے ایسی سخت شرائط لگا رکھی ہیں جن کو پوری کرنا ہر والدین کے بس کی بات نہیں ہے۔جن بچوں نے پچاس فیصد نمبر حاصل کیے ہوں ایسے بچے جب اسکالر شپ کے لئے فارم بھرتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ کم سے کم پانچ سال پرانا رہائشی ثبوت پیش کریں۔ ظاہر ہے بہت سے ایسے والدین ہیں جن کے پاس نہ تو اپنا گھر ہے اور نہ اگریمنٹ پیپر ۔ایسے والدین بچوں کے معیاری نمبر ہونے کے باوجود ثبوت مہیا نہ کرانے کے سبب اسکالر شپ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس طرح کی پریشانیاں ان والدین کو زیادہ پیش آتی ہیں جو ملک کے کسی میٹرو پولیٹن سٹی میں روزگار کی تلاش میں آئے اور پھر وہیں محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔خاص طور پر راجدھانی دہلی میں ملک کے ہر صوبے کے لوگ موجود ہیں جو یہیں کام کرتے ہیں اور مختلف اسکولوں میں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔چونکہ زیادہ تر والدین غریب ہیں لہٰذا شہر کے پوش علاقے میں رہائش نہیں لے سکتے اور نہ ہی وہ کسی منظور شدہ کالونی میں کرائے کا گھر لینے کی ہمت کرسکتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں کرائے کا گھر مہنگا ہوتا ہے۔وہ کسی غیر منظور شدہ کالونی کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انہیں سستے داموں پر کرائے کا گھر مل جاتا ہے۔ان کچی کالونیوں میں مالک مکان نہ تو کرائے کا اگریمنٹ کرتے ہیں اور نہ ہی ثبوت کے طور پر کوئی پیپر دیتے ہیں۔خاص طور پر مسلمان جو اقتصادی طور پر اتنہائی خستہ حال زندگی گزارتے ہیں،ان کی خستہ حالی کا ثبوت سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بھی آچکا ہے۔یہ لوگ زیادہ تر جھگی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔اب ذرا کوئی بتائے کہ ایسے والدین اسکالر شپ کے لئے کہاں سے رہائشی ثبوت پیش کرسکیں گے۔میرا خود ذاتی تجربہ ہے کہ میرا بچہ دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے ۔اس کے نمبر معیاری تھے چنانچہ میں نے متعلقہ اسکول سے ضروری کاغذات لے کر وزارت برائے اقلیتی امور کے دفتر میں جمع کیے۔ایک ہفتہ کے بعد مجھے وزارت سے کسی صاحب نے فون کیا کہ آپ کے بچے کی اسکالر شپ منظور کی جا سکتی ہے مگر اس کے لئے آپ کو رہائشی پروف دینا ہوگا۔ میں نے فون کرنے والے سے کہا کہ میں کچی کالونی میں رہتا ہوں ،وہاں مجھے مکان مالک کی طرف سے کوئی پیپر نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو بھی دیا جاتا ہے،البتہ آپ کہیں تو میں حلف نامہ بنوا کر بطور رہائش پیش کروں لیکن حلف نامہ قبول کرنے سے منع کردیا گیا۔ اس طرح میرا بچہ اسکول میں بہترین نمبرسے کامیاب ہونے کے باجود اسکالر شپ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔یہ واقعہ صرف میرا نہیں ہے بلکہ مجھ جیسے سینکڑوں غریب والدین کا ہے جو بھاگ دوڑ کر بڑی امیدوں کے ساتھ کاغذات جمع کرتے ہیں تاکہ حکومت سے کچھ مدد مل جائے مگر تمام کاوشیں اس لئے ناکام ہوجاتی ہیں کہ والدین کے پاس ریزیڈنشیل پروف نہیں ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس نہ تو اپنا گھر ہے اور نہ ہی وہ کسی ایسے مہنگے علاقے میں رہتے ہیں جہاں اگریمنٹ پیپر بنائے جاتے ہیں ۔جب اس طرح کی پریشانیوں کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائی گئی تو دہلی سرکار کے محکمہ پلاننگ نے پیش رفت کرتے ہوئے گزشتہ دنوں دہلی اقلیتی کمیشن کو سرکلر کی ایک کاپی سونپ دی ،جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اب اقلیتی طلبا کو سرکاری اسکالر شپ کے حصول کے لئے دہلی میںصرف تین سال کی رہائش کا پروف دینا ہوگا ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جن والدین سے پہلے پانچ سال کے رہائشی ثبوت طلب کیے جاتے تھے ،اب ان سے صرف تین سال کا ثبوت پیش کرنے کے لئے کہا جائے گا۔پلاننگ کمیشن شاید اس بات کو محسوس نہیں کرسکا کہ سالوں میں تخفیف کردینے سے والدین کے مسائل حل نہیں ہوںگے۔ جن کے پاس رہائشی ثبوت کے طور پر کچھ ہے ہی نہیں ،وہ تین سال یا پانچ سال کا ثبوت کہاں سے لائیںگے۔ اگرچہ پلاننگ کمیشن نے پانچ سال کی مدت کو کم کرکے اپنی پیٹھ آپ تھپتھپا لی ہے کہ اس نے اقلیتی طبقہ کے طلبا کے لئے مسئلے کا حل نکال لیاہے مگر سچائی تو یہ ہے کہ الجھنیں جوں کی توں ہیں اور جس طرح گزشتہ سال امتیازی نمبر ہوتے ہوئے بھی بے شمار بچے اسکالر شپ حاصلکرنے سے محروم رہ گئے ۔یہ صورت حال اب بھی برقرارہے۔اگر کچھ والدین تین سال کے رہائشی ثبوت فراہم کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو ان والدین کے بارے میں کیا حل ہے جو دو سال سے کم عرصہ سے ریاست میں رہ رہے ہیں ۔ ان کے پاس ثبوت تو ہے مگر تین سال سے کم عرصے کا ہے۔ ان کو اسکالر شپ کیسے دی جاسکے گی۔ اس لئے اسکالر شپ دینے کے لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ والدین سے بچوں کے اسکول میں پڑھنے کے ثبوت منگوائے جائیں اور دیکھا جائے کہ انہوں نے مقررہ اوسط نمبر حاصل کیے ہیں یا نہیں؟اگر مقررہ نمبرحاصل کیے ہیں تو وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں انہیں اسکالر شپ کا حقدار قرار دینا چاہئے۔ حالانکہ اس میں ایک دشواری ہے ۔اور وہ دشواری یہ ہے کہ اسکالر شپ کا معاملہ مرکز اور ریاست کے درمیان مشترک ہے۔جو اسکالر شپ طلباء کو دی جاتی ہے ،اس میں سے پچیس فیصد ریاستی سرکار کو ادا کرنا پڑتا ہے۔اب اگر رہائشی ثبوت کے بغیر اسکالر شپ دی جانے لگی تو یہ طے کیسے ہوگا کہ جس بچے کو اسکالر شپ کا پچیس فیصد ریاست ادا کر رہی ہے، وہ بچہ اس کی ریاست سے تعلق رکھتا بھی ہے یا نہیں ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے ،اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ،مگر اس کے ساتھ ہی غریب و بے گھر والدین کے جو مسائل ہیں اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس کا ایک حل تو یہ نکالا جاسکتا ہے کہ ریاستی سرکار کو پچیس فیصد کی ادائیگی کا پابند اسکول کے جائے وقوع کے اعتبار سے بنایا جائے۔ یعنی بچے چاہے ملک کی کسی بھی ریاست سے تعلق رکھتے ہوں ، وہ جس ریاست کے اسکول میںپڑھتے ہیں اسی ریاستی سرکار کو پچیس فیصد ادا کرناچاہیے ۔اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر اسکالر شپ کی پوری ذمہ داری مرکزی سرکار کو اپنے ذمہ لینا چاہئے تاکہ جو والدین دوسری ریاستوں میں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں اور وہ غریب ہیں تو انہیں بھی اس اسکیم کا فائدہ مل سکے۔اسکالر شپ کا مقصد ہے مالی اعتبار سے کمزور والدین کی مدد کرنا تاکہ ان کے بچے بھی تعلیمی میدان میں آگے بڑھ کر ملک و قوم کا نام روشن کریں لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے والدینکے ریزیڈنشیل پر وف کی پرابلم کو محسوس کرے اور کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرے جس سے ان والدین کے مسائل بھی حل ہوسکیں۔حکومت کو چاہئے کہ خاص طور پر مسلمانوں کے بچوں کو اسکالر شپ دینے کے لئے کوئی مضبوط قدم اٹھائے۔کیونکہ ملک میں ان کی مالی حالت دیگر تمام کمیونٹی سے کمزور ہے۔ان کی اسی کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں کئی ایسی تنظیمیں ہیں جو مسلم بچوں کو اسکالر شپ دیتی ہیں۔چنانچہ گوہاٹی میں ایک معروف ٹرسٹ ہے ’’اے کیو ایم صلاح الدین اینڈ نجمہ النساء میموریل ٹرسٹ۔نیو دہلی میں ’’عامر مصطفی قدوائی ٹرسٹ‘‘۔لکھنؤ میں’’ آغا ایجوکیشن فائونڈیشن‘‘۔ممبئی میں ’’آغا خان ایجوکیشن سروس انڈیا‘‘۔آسام میں ’’ اجمل فائونڈیشن‘‘جو صرف آسام کے مسلم بچوں کو اسکالر شپ دیتا ہے۔کانپور میں ’’الامین چیرٹیبل فنڈٹرسٹ سپر ٹینری۔بنگلور میں ’’الامین اسکالر شپ ٹرسٹ‘‘۔احمدآباد میں ’’ الاخلاص فائونڈیشن‘‘۔بہار میں ’’ اسماء فائونڈیشن‘‘۔بنگلور میں خواتین کے لئے ’’ بزم نسواں ٹرسٹ‘‘۔کیرالہ میں ’’ دی چلڈرین فائونڈیشن‘‘۔بنگلور کے بچوں کے لئے ’’دانش ایجوکیشن ٹرسٹ‘‘۔جے پور میں ’’غریب نواز ایجوکیشن اینڈ ایکونومکس ویلفیئر سوسائٹی‘‘ ۔یہ سب ایسے آرگنائزیشن ہیں جو مسلم بچوں کو بہتر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسکالر شپ اور دیگر سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ان ٹرسٹوں کے علاوہ بھی کئی ایسے ٹرسٹ ہیں جو بچوں کو ملک سے باہر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میںتعاون دیتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر پرائیویٹ تنظیمیں مسلم بچوں کو مواقع فراہم کر رہی ہیں تو حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے اسکالر شپ کی شرائط میں نرمی لائے تاکہ وہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھا ئیں اور اپنی تعلیم کو بہتر کرسکیں۔

 

Share Article

2 thoughts on “اف! اتنی شرائط : مسلم طلبہ کو اسکالرشپ ملے تو کیسے؟

  • July 6, 2012 at 2:17 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ویب سائٹ ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *