منموہن سنگھ پوسٹر بوائے بن گئے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
وزیر اعظم منموہن سنگھ ایماندار ہیں، سادگی پسند ہیں، با اخلاق ہیں، میٹھی زبان بولتے ہیں اور دانشور ہیں۔ ان کی شخصیت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن کیا ان کی یہ خصوصیات کسی وزیر اعظم کے لیے کافی ہیں؟ اگر کافی بھی ہیں، تو ان کی ان خصوصیات کا عکس سرکار پر دکھائی دینا چاہیے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ منموہن سنگھ کی ساری خاصیت سرکار کے کام کاج میں دکھائی نہیں دیتی۔ ویسے، ہندوستان میں وزیر اعظم سب سے طاقتور ہوتا ہے۔ وہ ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہوتا ہے۔

جس ملک کا وزیر اعظم ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات ہو اور وہاں کی ساری اقتصادیات ختم ہو رہی ہو، عوام مہنگائی سے پریشان ہوں، وہاں کی کرنسی کی ویلیو دن بہ دن گر رہی ہو، کسان خود کشی کر رہے ہوں، متوسط طبقہ پریشان ہو، صنعت کار یہ کہیں کہ سرکار فیصلے نہیں لے سکتی، کیوں کہ سرکار کو لقوہ مار گیا ہے اور اس کے اوپر سے گھوٹالے پر گھوٹالے پکڑے جائیں۔ ایسے دانش مند وزیر اعظم کے رہتے ہوئے بھی ایسی خراب حالت پیدا ہوجائے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ وزیر اعظم کے اندر خود فیصلہ لینے کی قابلیت نہیں ہے یا پھر وزیر اعظم نے خود کو ان سب سے الگ کر لیا ہے اور جہاں جو بھی گڑبڑیاں ہو رہی ہیں، ان کی طرف سے انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔

آئین کے مطابق وہ لوک سبھا کا لیڈر ہوتا ہے، مطلب یہ کہ اسے لوک سبھا میں اکثریت کی حمایت حاصل ہونی ضروری ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں مقننہ کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز شخص عوام کا سب سے بڑا نمائندہ ہوتا ہے۔ اگر ملک کا وزیر اعظم لوگوں کے ذریعے منتخب کیا ہوا لیڈر نہ ہو، اگر وہ لوک سبھا کا ہی ممبر نہ ہو، جس نے کبھی لوک سبھا کا انتخاب ہی نہ جیتا ہو، ایسا وزیر اعظم جس کو یہ مقام صرف اس لیے حاصل ہوا کیوں کہ وہ کسی شخص کی ذاتی پسند ہو، تو ایسے وزیر اعظم کو کیا کہا جائے۔ منموہن سنگھ کی شخصیت اور وزیر اعظم کے لیے ضروری اہلیت کے درمیان کافی دوری ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں منموہن سنگھ اس دوری کو نہیں مٹا پائے ہیں۔
2004 میں جب وہ وزیر اعظم بنے، تب انہیں سونیا گاندھی نے منتخب کیا تھا۔ کانگریس میں کئی لوگ اس عہدہ کے لیے دعویدار تھے۔ شاید منموہن سنگھ کی کمیاں ہی ان کی اہلیت بن گئی۔ 2004 میں منموہن سنگھ مقبول عام لیڈر نہیں تھے، کانگریس میں ان کے پیچھے پیچھے چلنے والے نہ تو کارکن تھے اور نہ ہی کوئی لیڈر۔ سیاست میں ان کی ساکھ نہیں تھی۔ 2004 میں وہ راجیہ سبھا کے ممبر تھے اور آج بھی راجیہ سبھا کے ہی ممبر ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پانچ سال وزیر اعظم رہنے کے باوجود بھی 2009 کے عام انتخاب میں انہوں نے لوک سبھا کا الیکشن لڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ حالانکہ راجیہ سبھا کا ممبر رہتے ہوئے وزیر اعظم بنے رہنا کوئی گناہ نہیں ہے، تکنیکی اور قانونی طور پر یہ جائز تو ہے، لیکن وزیر اعظم اگر عوام کے ذریعے منتخب کیا ہوا شخص بنے تو جمہوریت کو مضبوطی ملتی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے کئی لوگوں سے جب یہ پوچھا کہ منموہن سنگھ راجیہ سبھا میں ملک کی کون سی ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں تو زیادہ تر لوگوں نے غلط جواب دیا۔ ویسے، وہ راجیہ سبھا میں آسام کے نمائندہ کے طور پر ہیں، لیکن ماضی میں آسام سے ان کا کوئی رشتہ نہیں رہا۔ وہ نہ تو آسام میں پیدا ہوئے اور نہ ہی انہوں نے وہاں تعلیم حاصل کی اور نہ ہی وہ آسام کی مقامی زبان جانتے ہیں۔ منموہن سنگھ نے 1999 میں دہلی کی جنوبی دہلی سیٹ سے لوک سبھا کا الیکشن لڑا تھا، جس میں ان کی شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ کبھی لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑا۔
وزیر اعظم جہاں ملک کی پوری طاقت مانا جاتاہے وہیں وہ ملک کی اخلاقی اقدار کی بھی علامت ہوتا ہے۔آسام سے راجیہ سبھا میں منتخب ہو کر آنا اور آسام میں اپنے لئے رہنے کے گھر کا انتظام کرنا جہاں صرف نوکر رہتا ہو اخلاقیات پر پہلا بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ایک مضبوط لیڈر ہونے کے لئے ، ایک ویژن اور فیصلے لینے کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔لیڈر کتنا بھی دانشور کیوں نہ ہو۔ اگر اس کے پاس حال و مستقبل کے مسائل سے نمٹنے کا بلو پرنٹ نہ ہو تو وہ لوگوں کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتا اور اگر کوشش بھی کرتا ہے تو نقصان ہوجاتاہے۔ 1991 میں جب منموہن سنگھ نے ایک بلو پرنٹ دیا تھا کہ’’ نئی اعتدال پسند پالیسیوں کے لاگو ہوتے ہی 20 سال کے اندر ملک بجلی کے معاملے میں خودمختار ہوجائے گا۔ نوکریاں بڑھ جائیں گی، غریبی کم ہوجائے گی، رہن سہن بڑھ جائے گا۔ ہندوستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوجائے گا لیکن 20 سال بعد آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔
ملک کے سینکڑوں ضلع اس وقت بھوک ،بے روزگاری اور غریبی سے جھوجھ رہے ہیں ۔ جنگلوں اور گائوں میں رہنے والے لوگ سرکار کے خلاف نکسل وادیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے نکسل واد کو سب سے بڑا خطرہ بھی بتایا لیکن اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے کیا کیا۔ فیصلے نہ لینے کی وجہ سے آج یہ حال ہے کہ جب منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تھے تو ایسے ضلعوں کی تعداد 80 تک محدود تھی جو آج بڑھ کر 250 تک پہنچ گئی ہے۔ ماہر اقتصادیات وزیر اعظم کو پاکر لوگوں میں امید جاگی۔ خاص طور پرکسانوں کو لگا کہ ان کی مصیبتیں ختم ہوجائیں گی۔ کسانوں کی سبسڈی سال در سال ختم ہوتی گئی۔ حالت یہ ہے کہ سال 2011 میں 14004 کسانوں نے خود کشی کی۔ اس کے لئے کون ذمہ دار ہے۔یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ جب سے منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے ہیں تب سے ان کے سامنے ہر سال خود کشی کے اعدادو شمار سامنے آتے ہوںگے لیکن منموہن سنگھ نے کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ سرکار یہیں پر نہیں رکی۔ترقی کے نام پر کسانوں سے زمین چھین کر پرائیویٹ کمپنیوں کو دینے میں لگ گئی۔ منموہن سنگھ یہاں بھی چوک گئے۔ غریبوں کے حق میں کوئی بھی فیصلہ نہیں لے پائے۔
بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔اور ترقی کا اوسط گھٹ رہا ہے۔ ترقی کی شرح 9 فیصد سے گھٹ کر اس سال کے پچھلے تین ماہ میں3.5فیصد پر رک گئی ہے لیکن پی ایم او 9 فیصد کی ترقیاتی شرح کو یاد کرکے خوش ہوجاتا ہے۔پرنب مکھرجی جب وزیر خزانہ تھے تب منموہن سنگھ نے سارے معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ بینکوں کے چیئرمین کی تقرری رک سی گئی۔ وزیراعظم نے کبھی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی۔اہم عہدیداروں کی پوسٹنگ ، ٹرانسفر میں تاخیر کے بارے میں کبھی کسی سے جواب طلب نہیں کیا۔ پارلیامنٹ میں11اہم بل لٹکے پڑے ہیں ۔اس کے علاوہ 44 بلوں کا ڈرافٹ تیار ہے۔ اس ضروری کام کو اللہ کے بھروسے پرچھوڑ دیا گیا ہے۔ پرنب مکھرجی کے سرکار سے باہرجاتے ہی منموہن سنگھ بے حد فعال ہوگئے۔ اقتصادی صوت حال کو سدھارنے کے لئے ’انیمل اسپرٹ‘ کی بات کہہ کر سرکار کے کام کاج میں بدلائو کا اشارہ دیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب اب تک کیا کر رہے تھے۔ایسی کیا مجبوری تھی۔2004 سے یہ’ انیمل اسپرٹ‘ غائب تھی۔یہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی کمزوری تھی یا پھر وہ اب تک فیصلے لینے میں ناکام رہے۔مہنگائی کی مار ایسی پڑرہی ہے کہ غریب کے ساتھ ساتھ امیر بھی پس رہا ہے۔منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں مہنگائی کی جو حالت رہی ہے،وہ ماہر اقتصادیات کی ساری تھیوری کو فیل کردیتی ہے۔اگر فصل برباد ہوجائے، پیداوار میں کمی ہوجائے یا پھر بازار میں عدم دستیابی کی وجہ سے کسی شئے کی قیمت بڑھتی ہے تو سمجھ میں بھی آتاہے لیکن بہترین فصل کے باوجود اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے۔ منموہن سنگھ جیسے قابل ماہر اقتصادیات کو مہنگائی کے اصل اسباب کا پتہ ہو ہی نہیں پاتا،پتہ ہوگا بھی کیسے۔ جب جب قیمتیں بڑھیں تب منموہن سنگھ کا بیان آیا کہ کچھ دنوں میں قیمتیں کم ہوجائیںگی۔ لیکن قیمتیں کم ہونے کے بجائے اور بڑھتی گئیں۔ پھر وزیر اعظم نے ایک اور نئی تاریخ کا اعلانکیا۔لیکن قیمتیں پھر بڑھ گئیں،اسی طرح قیمتیں بڑھتی گئیں اور وزیر اعظم کی ڈیڈ لائن بھی بڑھتی گئی۔ دراصل وزیر اعظم فیصلہ کرہی نہیں پاتے۔ وہ بے بس ہیں، مجبور ہیں، کیونکہ ان کی کابینہ میں ایسے ایسے وزراء ہیں جو بول بول کر مہنگائی بڑھا دیتے ہیں۔ ’وعدہ کا روبار‘ کا عذاب پچھلے کچھ سالوں میں ایسا بڑھا جس سے کہ مہنگائی بے قابو ہوگئی ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مہنگائی روکنے کے لیے اب تک کسی نتیجے پر پہنچ ہی نہیں پائے۔
تاریخ میں منموہن سنگھ کو اس لیے یاد کیاجائے گا کیونکہ ان کے دور میں ملک میں سب سے زیادہ گھوٹالے ہوئے۔ منموہن سنگھ جب وزیر خزانہ تھے تب 1992میں تین بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ جس سے پورا ملک ہل گیا۔ یہ تین گھوٹالے تھے 1500سو کروڑ روپے کا ہرشد مہتہ گھوٹالہ، انڈین بینک گھوٹالہ اور پامولین آئل گھوٹالہ ۔ جب سے انہوںنے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے گھوٹالو ں کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ ٹوجی گھوٹالہ۔ کوئلہ گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ، ستیم گھوٹالہ، آدرش گھوٹالہ، منموہن سنگھ کے دور میں ہوئے گھوٹالے کی فہرست بہت ہی طویل ہے۔ ان گھوٹالو ں میں سرکار، نجی کمپنیوں، اور لیڈروں کے گٹھ جوڑ کا پتہ چلتا ہے۔ فیصلہ نہ لینے کی وجہ سے بدعنوانی کی جڑیں مضبوط ہو گئی ہیں۔حکومت کے کام کرنے کے طریقوں اور پالیسیوںکی وجہ سے گھوٹالے بڑھتے چلے گئے اور یہ بیماری اب سماج کے سب سے نچلی سطح یعنی پنچایت تک پہنچ گئی ہے۔منریگا جیسی اسکیمیں بد عنوانی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔نہ کوئی روک تھام ،نہ کوئی فیصلہ ،ملک کے غریب عوام اپنے ایماندار وزیر اعظم کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتی رہی لیکن منموہن سنگھ کی طرف سے کوئی فیصلہ نہ آیا ۔ وزیر اعظم ایماندار ہیں۔یہ ان کے مخالفین بھی کہتے ہیںلیکن ان کی اس ایمانداری کی پرچھائیں سرکار کے کام کاج پڑتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
2004 میں لوک سبھا انتخاب کے بعد منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔سونیا گاندھی نے منموہن سنگھ کو وزیر اعظم تو بنا دیا، لیکن ان کی قائدانہ صلاحیت پر بھروسہ نہیں کر سکیں۔ شاید یہ ملک کے پہلے ایسے وزیر اعظم رہے، جو اپنی کابینہ کا انتخاب خود نہ کرسکے۔ کانگریس پارٹی نے انہیں اپنے فیصلے لینے کی آزادی نہیں دی۔ کانگریس نے سرکار بننے کے فوراً بعد 4 جون، 2004 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ سے قومی مشاورتی کونسل کی تشکیل کروائی۔ یہ ایک مشاورتی ادارہ ہے، جو یو پی اے سرکار کو پالیسیوں سے متعلق صلاح دیتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کو پالیسیوں سے متعلق صلاح دینے کا انتظام کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ پارٹی کو وزیر اعظم کی عقل و فہم پر بھروسہ نہیں ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ قومی مشاورتی کونسل کی تشکیل وزیر اعظم کرتے ہیں، لیکن اس کی صدر سونیا گاندھی ہیں اور ان کی صلاح پر وزیر اعظم اس کے اراکین کو نامزد کر سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ صلاح کار کمیٹی کی کمان وزیر اعظم کے پاس نہ ہو کر سونیا گاندھی کے پاس ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس مشاورتی کونسل کے اراکین وزیر اعظم اور سرکار کے کام کاج پر منفی تبصرہ کرنے سے چوکتے نہیں ہیں اور ایسے اراکین مشاورتی کونسل میں بنے بھی رہتے ہیں۔ حال ہی میں قومی مشاورتی کونسل کی ایک رکن، ارونا رائے نے منموہن سنگھ کی سرکار پر یہ الزام لگایا ہے کہ سرکار بدعنوانی اور جوابدہی کے موضوع کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ مشاورتی کونسل کے اراکین کے ذریعے یہ کوئی پہلا الزام نہیں ہے۔ حیرانی تو اس بات پر ہوتی ہے کہ منموہن سنگھ ان الزامات کا کبھی جواب نہیں دیتے۔ سونیا گاندھی کی قیادت والی قومی مشاورتی کونسل نے وزیر اعظم کے وقار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے نہ صرف سرکار کے کام کاج پر سوال اٹھتاہے، بلکہ یہ وزیر اعظم کو کمزور ثابت کرنے کی مجموعی حکمت عملی ہے۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ منموہن سنگھ میں یو پی اے کے ’کامن منیمم پروگرام‘ کو نافذ کرنے کی قابلیت نہیں ہے۔
سیاسی طور پر منموہن سنگھ کو یو پی اے کی حلیف پارٹیاں اور اپوزیشن ایک غیر تربیت یافتہ سیاست داں مانتی ہیں۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ صدرِ جمہوریہ کا انتخاب منموہن سنگھ کے لیے حیران کرنے والا ہے۔ کانگریس کے کئی لوگ انہیں صدرِ جمہوریہ بنانا چاہتے تھے۔ اتنا ہی نہیں، یو پی اے کو حمایت دینے والی ممتا بنرجی نے تو میڈیا کے سامنے ان کے نام کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ اس سے ایک الجھن کی صورت پیدا ہوگئی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ممتا بنرجی اور ملائم سنگھ یادو نے منموہن سنگھ کا نام کیوں لیا، کس کے کہنے پر لیا؟ فرض کیجئے، منموہن سنگھ کی وجہ اگر اندرا گاندھی وزیر اعظم ہوتیں تو کیا کوئی حلیف پارٹی ان کا نام صدرِ جمہوریہ کے لیے پیش کرنے کی ہمت کر پاتا؟ ممتا بنرجی کو یہ ہمت کانگریس کے لوگوں سے ملی۔ وجہ بھی صاف ہے۔ منموہن سنگھ پارلیمنٹ کے اندر کبھی ایک سرگرم وزیر اعظم کی شکل میں نہیں ابھر سکے۔ اپوزیشن کے لیڈروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا، بحث میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینا، کابینہ کے ساتھیوں کو بڑھاوا دینا، سرکار کی تجویزوں کے لیے حمایت جٹانا اور پارلیمنٹ کے ذریعے سرکار کے لیے ملک میں ماحول بنانا، اپنی تقریروں سے ملک اور سرکار کی سمت و رفتار کو واضح کرنا وغیرہ وزیر اعظم کا فرضِ منصبی ہوتا ہے۔ مخلوط حکومت میں یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ حلیف پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔ یو پی اے سرکار کے دوران جو دکھائی دیا، اس سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر وزیر اعظم کے اس رول کو پرنب مکھرجی نبھاتے آئے ہیں۔ یو پی اے کے لیے مسئلہ تب تب پیدا ہوا، جب جب وزیر اعظم نے اپنے فیصلے کو تھوپنا چاہا، چاہے وہ معاملہ نیوکلیئر ڈیل کا ہو یا پھر ایف ڈی آئی کا، سرکار پریشانی میں پھنس گئی۔ وزیر اعظم نے سیاسی قابلیت کی جگہ اِموشن کا سہارا لیا۔ کئی بار انہوں نے عہدہ چھوڑنے کی بات کہہ کر اپنی کمزوری ظاہر کر دی۔منموہن سنگھ شاید ملک کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے، جنہیں الگ الگ وزارتوں کو یہ لکھ کر بھیجنا پڑا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں، اس کی اطلاع وہ وزیر اعظم کے دفتر کو دیں۔ اس خط کو لکھنے کی ضرورت اس لیے پڑی، کیوں کہ کانگریس کے کئی بڑے لیڈر وزیر اعظم سے پوچھ کر کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ منموہن سنگھ کی سرکار میں ایک نہیں، کئی وزیر اعظم کام کر رہے ہیں۔ منموہن سنگھ کے پاس ان وزارتوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت نہیں ہے۔ کہاں کیا گڑبڑیاں ہو رہی ہیں، اس کا بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ قیادت کی کمی نہیں تو اور کیا ہے۔سرکار لنگڑی لولی حکومت کی طرح کام کررہی ہے۔جس پر منموہن سنگھ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔کمزور قیادت کا مرکزی حکومت کے کام کاج کے اوپر زبردست اثر پڑا۔ نہ کوئی وزیر فیصلہ لے رہا ہے، نہ کسی وزارت میں اسکیمیں بن رہی ہیں۔ جب لیڈر ہی ٹال مٹول کریں گے تو بھلا سکریٹری کیسے کام کریں گے۔ جنہیں ریٹائر ہونے میں کچھ سال باقی ہیں، وہ فیصلے نہیں لے رہے ہیں اور جو فوری طور پر ریٹائر ہونے والے ہیں، وہ فائلوں کے اوپر بیٹھ گئے ہیں اور فیصلے بھی نہیں لے رہے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر پورے ملک میں آئی اے ایس کی سطح پر، نوکر شاہی کی سطح پر ایک ’ڈیڈ لاک‘ آ گیا ہے۔ وزیر اعظم بھی اس ’ڈیڈ لاک‘ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، اس ڈیڈ لاک کو توڑنے میں کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔ سرکار کام نہیں کر رہی ہے، اس الزام سے نمٹنے کے لیے ہی سہی، منموہن سنگھ کو پہل کرنی چاہیے تھی، کیوں کہ سرکار بہتر ڈھنگ سے اپنا کام کرے یہی ایک فعال وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے اور ایک مضبوط وزیر اعظم کا فرض بھی۔ لیکن منموہن سنگھ خود کو جواہر لعل نہرو کے بعد دوسرا ایسا وزیر اعظم ثابت کرنا چاہتے ہیں، جس نے بین الاقوامی سطح پر اہمیت کے ساتھ اپنا رول نبھایا۔ منموہن سنگھ خود کو تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کی شکل میں درج کرانا چاہتے ہیں، جو دنیا کے چھوٹے بڑے تمام ملکوں میں گیا اور وہاں جاکر اس نے ہندوستان کی تصویر کو نکھارا۔ لیکن یہاں بھی منموہن سنگھ مات کھا گئے۔ جن بڑے ملکوں میں منموہن سنگھ گئے، وہاں سے ہندوستان کے لیے کچھ بھی نہیں لا پائے۔ جن چھوٹے ملکوں میں گئے، وہاں بھی گنواکر ہی آئے، لائے کچھ بھی نہیں۔
منموہن سنگھ شاید ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں، جن کی الیکشن کے دوران کوئی اہمیت نہیں ہوتی، ورنہ پارٹی اپنے پرچار کے لیے انہیں ایک اسٹار کمپینر کی طرح میدان میں اتارتی ۔ حال ہی میں اترپردیش میں انتخاب ہوا، یہ انتخاب کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی دونوں کے لیے فیصلہ کن تھا۔ لیکن منموہن سنگھ کانگریس کی انتخابی ریلیوں میں کہیں نہیں نظر آئے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کانگریس منموہن سنگھ کی ریلیاں کرنے میں ہچکچاتی ہے۔ اگر انہیں کہیں بھیجا بھی جاتا ہے، تو اسے صرف ایک خانہ پری ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ کانگریس نے یہ مان لیا ہے کہ منموہن سنگھ کے پرچار سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ اتر پردیش میں کانگریس الیکشن ہار گئی تو ہار کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے انٹونی کمیٹی بنی۔ اس کمیٹی نے راہل گاندھی کو کلین چٹ دے دی اور ہار کا ٹھیکرا منموہن سنگھ سرکار پر پھوڑ دیا۔ اس کمیٹی نے کہا کہ ہار کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسیاں، مہنگائی اور بدعنوانی ذمہ دار ہیں۔ انٹونی کمیٹی رپورٹ ایک آئینہ ہے، جس میں منموہن سنگھ کی کمزوری کو صاف صاف دکھایا گیا ہے۔ ویسے بھی کانگریس کے لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر منموہن سنگھ وزیر اعظم رہے تو آنے والے انتخاب میں پارٹی کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی۔ کانگریس اور یو پی اے سے جڑی پارٹیوں کو یہ صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ آنے والے الیکشن میں ان کا حال کہیں ویسا ہی نہ ہو جائے، جیسا کانگریس کا اتر پردیش میں ہوا۔کوئی یہ کیسے یقین کرے کہ منموہن سنگھ واقعی ایک مضبوط وزیر اعظم ہیں۔ ایک نظارہ جو پورے ملک نے دیکھا اور دیکھنے والے حیران بھی ہوئے۔ لوک سبھا میں انا ہزارے کی تحریک کو لے کر بحث چل رہی تھی۔ راہل گاندھی جب تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تب منموہن سنگھ لوک سبھا میں نہیں تھے۔ وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے لوک سبھا آئے اور راہل گاندھی کی تقریر سنی۔ جس طرح سے وہ بھاگتے ہوئے آئے اور اپنی سیٹ پر بیٹھے، اس سے ایسا لگا جیسے کوئی اسٹوڈنٹ کلاس میں ٹیچر کے آنے کے بعد داخل ہوا ہو۔ وزیر اعظم کو کبھی کبھی دنیا کو دکھانے کے لیے بھی کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اسی دن لوک سبھا میں لالو پرساد یادو نے کسی اور حوالہ سے منموہن سنگھ کو صلاح دے ڈالی۔ منموہن سنگھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لالو نے کہا ’دیش اور راج لنج پنج سے نہیں چلتا ہے، یہ رعب سے چلتا ہے‘۔ منموہن سنگھ کو رعب بھی دکھانا نہیں آتا ہے۔ جو لوگ ہندوستان کی سیاست کو سمجھنے میں چوک کرتے ہیں، وہ منموہن سنگھ کی سب سے بڑی کمزوری کو سب سے بڑی طاقت بتاتے ہیں۔ دراصل، منموہن سنگھ ’بازار واد‘ اور غیر ملکی سرمایہ کے پوسٹر بوائے بن گئے ہیں اور یہی وزیر اعظم کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *