مصر میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوا

شاہد نعیم
حسنی مبارک کے تیس سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر میں پہلی بار آزادانہ طور پر صدارتی انتخاب عمل میں آئے،جس میں اخوان المسلمین کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنے حریف مصری فضائیہ کے سابق افسر اور سابق وزیر اعظم احمد شفیق کو بھاری ووٹوں سے ہرا کر ملک کے پہلے منتخب صدر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
ڈاکٹر مرسی کی کامیابی سے نہ صرف مصر میں بلکہ پورے خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔’’ اللہ ٗ، اللہ اکبر‘‘ کے فلک شگاف نعروں اور آتش بازی سے تحریر اسکوائر گونج اٹھا ۔ مصری عوام ملک میں جمہوریت کا آفتاب طلوع ہونے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے ۔ ان کے چہروں کی چمک سے اندازہ ہوتا تھاکہ مرسی کی جیت سے ان کے سارے دلدر دور ہوجائیں گے اور ہونے بھی چاہئیں کہ کتنی بڑی قربانیاں دینے کے بعد انہیں جمہوریت کا جشن منانے کا موقع نصیب ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد مرسی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے صدر ہیں اور اخوان المسلمین کے امیدوار کی حیثیت سے ملک کا صدارتی انتخاب جیتے ہیں۔ اخوان المسلمین کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ مغربی ایشیا کی یہ شدت پسند تنظیم ہے ۔ اس کی داغ بیل 1928 میں پڑی اور اس کا مقصد عرب ممالک میں متحدہ مملکت قائم کرنے کا ہے۔ مصر کے آمر حکمراں اس تنظیم کو ملک کے امن کے لئے خطرہ بتا کر اسے دباتے رہے لیکن حسنی مبارک کی حکومت کے زوال کے بعد آنے والے انقلاب نے اس میں نئی روح پھونک دی اور مرسی اخوان المسلمین کے امیدوار کی حیثیت سے ملک کے صدر بن گئے۔

ڈاکٹر مرسی کی کامیابی کا اندازہ سپریم فوجی کونسل کو صدارتی انتخاب کے پہلے رائونڈ میں ہی ہوگیا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ سابق وزیر اعظم احمد شفیق اپنے حریف سے بہت پیچھے ہیں۔ چنانچہ فوجی کونسل نے جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کردیے ۔ جس کے نتیجے میں سپریم کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کی جانب سے اچانک ایک فیصلہ آیا کہ حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہوئے پارلیمانی انتخابات غیر قانونی ہیں اور اگلے پارلیمانی انتخابات نئے آئین بننے کے بعد ہی عمل میں آئیںگے۔گویا نومبر 2011 سے جنوری 2012 کے درمیان جو عام انتخابات ہوئے تھے اور مصری عوام نے جن میں بڑھ چڑھ کر جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا تھا وہ انتخابات بیکار ہوگئے،وہ ایوان زیریں غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔ ملک کی پارلیمنٹ تحلیل کردی گئی ۔ دراصل یہ اسی سپریم کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کا فیصلہ تھا جس کے جج اور دیگر عملہ معزول مطلق العنان حکمراں حسنی مبارک نے اپنے دور اقتدار میں مقررکئے تھے۔ چنانچہ مصری عوام ایک بار پھر تحریر اسکوائر پر جمع ہوگئے اور بر سر اقتدار فوجی ٹولے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے لگے۔ عوام کے جم غفیر کو دیکھ کر فوجی کونسل کو اندازہ ہوا کہ صدارتی انتخاب کے نتیجے میں تاخیر ہونے سے ملک کے حالات سنگین ہوجائیں گے چنانچہ وہ انتخابی نتیجے ڈکلیئر کرنے پر مجبور ہوگئی۔ ڈاکٹر مرسی کی جیت کا اعلان سنتے ہی تحریر اسکوائر پر موجود جم غفیر خوشی کا جشن منانے لگا اور پورے خطے میں خوشی و شادمانیوں کی لہر دوڑ گئی۔ جبکہ مسلم مخالف ممالک میں تشویش اور بے چینی کا ماحول قائم ہوگیا۔
ڈاکٹر محمد مرسی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے صدر ہیں اور اخوان المسلمین کے امیدوار کی حیثیت سے ملک کا صدارتی انتخاب جیتے ہیں۔ اخوان المسلمین کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ مغربی ایشیا کی یہ شدت پسند تنظیم ہے ۔ اس کی داغ بیل 1928 میں پڑی اور اس کا مقصد عرب ممالک میں متحدہ مملکت قائم کرنے کا ہے۔ مصر کے آمر حکمراں اس تنظیم کو ملک کے امن کے لئے خطرہ بتا کر اسے دباتے رہے لیکن حسنی مبارک کی حکومت کے زوال کے بعد آنے والے انقلاب نے اس میں نئی روح پھونک دی اور مرسی اخوان المسلمین کے امیدوار کی حیثیت سے ملک کے صدر بن گئے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مرسی کے صدر بننے کا اثر عرب ممالک اور خاص طور سے شمالی افریقہ پر پڑنا فطری ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی منمانی بھی یقینی طور پر اثر پذیر ہوگی۔ بالخصوص مصر و اسرائیل کا کیمپ ڈیوڈ متاثر ہوگا۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہے جب مصر کے صدر کے پاس بھرپور اختیار ہوںگے ۔ جبکہ فوجی کونسل کی پوری کوشش ہے کہ صدر کے پاس محدود اختیار رہیں۔ اس نے قانون سازی اور بحث کے تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہیں ۔ ملک کی وزارت دفاع اورخارجہ پالیسی بھی فوجی کونسل کے ہی پاس ہے ۔گویا مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے سامنے صرف چیلنج ہی چیلنج ہیں۔ مصری عوام کی توقعات پر کھرا اترنا ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے جبکہ اختیارات کی حصولیابی ابھی باقی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *