منترالیہ میں آگ سازش یا حادثہ

پروین مہاجن 

ممبئی کے لوگ اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں وزارت میں آگ لگنے کی خبر ملی۔ سکریٹریٹ یعنی سرکار کا گھر، جس کی تزئین کاری پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تھے لیکن ایک چنگاری سے پیدا آگ نے سب کی نظروں کے سامنے بالائی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سے دفتروں میں بیٹھے وزیر اعلیٰ ، نائب وزیر اعلیٰ سمیت دیگر وزیروں کے دربار میں خلل پڑا اور ان کو بھاگ کر باہر آنا پڑا ۔ فائر بریگیڈ اورجوانوں نے بڑی مشکل سے عمارت میں پھنسے چار ہزار لوگوں کو بچایا۔ اس کے بعد بھی تین لوگوں کی موت ہوگئی اور دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی یا جھلس گئے۔ مگر اس آگ میں سب سے زیادہ جھلسی ریاستی سرکار، جسے اب یہ پتہ لگانا ہے کہ یہ آگ کیسے لگی؟یہ لگی یا لگائی گئی؟لگائی گئی تو کس سازش کے تحت؟یہ سوال عام آدمی کے دل میں اس لئے اٹھ رہے ہیں کہ یہ سرکار چوطرفہ بد عنوانی سے گھری تھی اور اس کے کئی وزیروں کے کام کاج کا چٹھا دھیرے دھیرے سامنے آرہا تھا۔ اس لئے اس آگ سے اٹھنے والے سیاسی بیانوں کے علاوہ عوام کے دل میں اٹھ رہے سوالوں کا بھی سرکار کو حل نکالنا ہوگا۔جب تک عوام کے شکوک دور نہیں ہوتے ، تب تک اس کی آنچ سے سرکار جھلستی رہے گی۔کیونکہ جب سال 2008 میں ممبئی مہانگر پالیکا کے فائر بریگیڈ افسروں نے منترالیہ کا جائزہ لینے کے بعد آگ لگنے کا خدشہ ظاہر کرکے انتباہ دیا تھا تو سرکار نے اس کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا۔
جس چوتھی منزل سے آگ کی شروعات ہوئی ،اس میں آدیواسی وزیر ببن رائو پاچپوتے، وزیر تعلیم راجندر درڈا، شہری ترقیات کے اسٹیٹ منسٹر سچن اہر، شہری ترقیات کے چیف سکریٹری ٹی سی بنجامن، شہری ترقیات کے سکریٹری منو کمار شریواستو، شہری ترقیات کے نائب سکریٹری سریش کاکانی کے ساتھ پورے شہری ترقیاتی محکمہ کی فائلیں بھی تھیں۔ پانچویں منزل میں چیف سکریٹری جینت کمار بانٹھیا، رجسٹرار محکمہ،ایمرجنسی محکمہ،سکریٹری برائے ٹرانسپورٹ شیلیش کمار شرما۔سکریٹری برائے سیاحت آنند کلکرنی،امداد باہمی کے وزیر ہرش وردھن پاٹل، شراب پر پابندی لگانے والے وزیر گنیش نائک، ثقافتی وزیر سنجے دیو تلے، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ،ہائی ٹیکنیکل ایجوکیشن منسٹر راجیش ٹوپے، منسٹر آف کوپریشن پرکاش سالونکے،اسٹیٹ منسٹر برائے ٹرانسپورٹ گلاب رائو دیو کر، ایڈیشنل چیف سکریٹری(ہوم) امیتابھ راجن کا دفتر تھا۔ سب سے اہم منزل یہ چھٹی منزل تھی جس پر سرکار کے بوس لوگ یعنی وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان ، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار، وزیراعلیٰ کے چیف سکریٹری اجیت جین، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری نتن کریر ، وزیر مملکت داخلہ ستیج پاٹل، وزیر تعلیم فوزیہ خان کی آفس تھا۔ ساتویں منزل پر وزیر داخلہ کا ریکارڈ و آئی ٹی محکمہ ہے۔ اتنے اہم آفس ہونے کے بعد بھی وزارت کی انٹرنل سیکورٹی کے تئیں سرکار کا لا پرواہ رہنا کسی کو بھی کھٹک سکتا ہے۔ آگ لگنے پر بھی وزارت کے الارم کا نہ بجنا کئی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔آگ بجھانے کے جتنے بھی انتظام عوام کے پیسے سے وزارت میں مہیا تھے سب ناکارہ ثابت ہوئے ۔ ساری ٹکنیک دھری کی دھری رہ گئی۔ منترالیہ کے ہر دفتر میں لگے چھوٹے فائر اکسٹینگویشر کو مینٹن کرنے کے لئے باقاعدہ لاکھوں روپے کے مینٹننس کا ٹھیکہ دیا جاتاہے لیکن جب ضرورت پڑی تو سب بیکار ثابت ہوئے ۔ اتناہی نہیں ہر منزل پر ایمرجنسی کی حالت میں پانی کے لئے موٹی موٹی پائپ لائن بھی بچھائی گئی ہے لیکن جب ضرورت پڑی تو اس سے پانی ہی نہیں گیا۔ جب اس سلسلے میں دفتر کے چیف پروین پردیشی سے پوچھا گیا تو ان کا ٹکا سا جواب تھا ہم اس کی جانچ کرائیں گے۔
جب یہ آگ لگی تو سبھی لوگوں کے دل میں یہ تشویش پیدا ہوئی کہ یہ آگ آدرش ہائوسنگ سوسائٹی سے جڑی فائلوں کو جلا کر اس میں پھنسے افراد، افسرشاہوں اور اثرو رسوخ رکھنے والوں کو بچانے کے لئے تو نہیں لگائی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے جڑی فائلیں پہلے بھی غائب ہو چکی تھیں۔ لیکن سی بی آئی نے یہ کہہ کر اس خدشے کو حل کردیا کہ اس سے جڑی ساری فائلیں محفوظ ہیں۔ ایک تشویش کا حل تو ہوگیا ،لیکن کئی شکوک ابھی بھی باقی ہیں جن کا حل نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ سمیت دیگر وزیر یہ ضرور کہتے ہیں کہ آگ لگنے کا سبب شارٹ سرکٹ ہو سکتاہے، مگر جس طرح سے وزیروں و سینئر لیڈروں سے جڑے غیر قانونی کام کے معاملے سامنے آرہے تھے اس سے یہ شک عام آدمی کے دل میں اٹھنا فطری بات ہے کہ کہیں اس آگ لگنے کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ چوہان نے یہ ضرور دعویٰ کیا ہے کہ وزارت میں لگی آگ سے سرکار کا کام کاج متاثر نہیں ہوگا،کیونکہ 2 لاکھ 27 ہزار فائلیں اسکین کی جا چکی ہیں۔ ان میں داخلہ،ریونیو،انڈسٹری اور یوڈی محکمہ کی فائلیں شامل ہیں مگر باقی محکموں کی فائلوں کا کیا ہوا؟کیا ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی جبکہ ان میں کئی ایسی باتیں تھیں جو سرکار یا کسی دیگر وزیر کو مشکل میں ڈال سکتی تھیں۔ اسی لئے اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ایکناتھ کھڑ سے کا یہ سوال معنی رکھتا ہے کہ آگ لگی یا لگائی گئی؟اس کی اصلیت عوام کے سامنے آنی چاہئے۔ کھڑسے کے مطابق منترالیہ میں آگ لگنے سے ریاستی سرکار کی ناک کٹ گئی ہے۔ آگ کے سبب کی چھان بین ہونی چاہئے۔ ماہرین آسانی سے اس بات کا پتہ لگا سکتے ہیں کہ آگ کیسے لگی۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر غیر ملکی ماہرین کی مدد لی جانی چاہئے۔ جن محکموں کے دفتر جلے ہیں۔ اسے لے کر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ کھڑسے کی بات میں دم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جن محکموں کے دفتر جل گئے ان سے جڑے گھوٹالوں کی فائلیں بھی اس آگ میں خاک ہو گئی ہیں جن میں آدرش ، سینچائی ،یو ایل سی، لواسا، نٹکرے کے پلاٹ و دیگر معاملوں سے جڑی فائلیں بھی ہو سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آدرش کو چھوڑ بھی دیا جائے تو اس جیسے چھوٹے بڑے سینکڑوں کیسیزسامنے آنا شروع ہی ہوئے تھے کہ یہ آگ لگ گئی۔ مطلب یہ کہ اب سرکار کسی بھی معاملے میں آسانی سے کہہ سکتی ہے کہ اس سے متعلق فائل مل نہیں رہی ہے یا اس آگ میں خاک ہو چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ آگ لگنے کے معاملے کی جانچ پولیس محکمے کی کرائم برانچ کرے گی۔ جس سے آگ لگنے کی وجہ کا پتہ چل سکے۔ اس کے ساتھ ہی منترالیہ کی عمارت کی اسٹرکچرل اور فائر آڈیٹنگ کی رپورٹ آنے کے بعد فیصلہ لیا جائے گا، مگر ایک بات یہ سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ ممبئی مہانگر پالیکا کے فائر بریگیڈ محکمہ نے سال 2008 میں ہی سرکار کو انتباہ دیا تھاکہ وزارت کی عمارت آگ لگنے کے لحاظ سے محفوظ نہیں ہے تو اس پر غور کیوں نہیں کیا گیا؟16 اپریل 2012 کو اسمبلی میں شیو سینا کے ایم ایل اے نیلم گورھے نیمنترالیہ اور ودھان سبھوںکے ایمرجنسی سسٹم اور آگ لگنے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات پر سوال اٹھایا تھا لیکن سرکار نے تب بھی کوئی دھیان نہیں دیا ۔اگر ممبئی مہا نگر پالیکا رپورٹ پر غور کرتے ہوئے سرکار اس کے سجھائو پر کام کرتی تو شاید یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا ۔ ریاستی سرکار کے ذریعہ کرائے گے جائزے میں ممبئی مہانگر پالیکا کے فائر بریگیڈ نے وزارت کی عمارت میں ممکنہ آگ زنی کے نقطۂ نظر سے 32 خامیوں کو اپنی رپورٹ میں گنایا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ فائر بریگیڈ نے وزیروں اور افسروں کے کیبنوں کی آرائش میں بار بار کی جانے والی تبدیلی پر سخت اعتراض جتایا تھا۔اس کے بعد بھی یہ لوگ اپنی پسند کے مطابق آرائش کراتے رہے ہیں۔ منترالیہ کے کچھ انٹری گیٹوں پر فائلوں کے ڈھیر جمع ہونے اور الماریاں رکھنے پر بھی اعتراض کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مترالیہ کے بجلی سسٹم میں 14 خامیوں کی بھی رپورٹ میں وضاحت کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ یہ انتباہ دیا گیا تھا کہمنترالیہ میں ہر طرف پھیلی فائلیں ایک دن آگ زنی کا سبب بنے گی ۔ مین بلڈنگ اور توسیع شدہ عمارت میں تو ہر منزل میں ہر جگہ کھلی جگہ ہونے کے بعد بھی چوتھی منزل کے بیچوں بیچ دفتر بنایا گیا۔ وزارت کی پہلی منزل میں کینٹین ہے، توسیع شدہ عمارت کے گرائونڈ فلور پر کینٹین ہونے کے بعد بھی تیسری ، پانچویں اور چھٹی منزل پر بھی کینٹین ہے، جس میں گیس سلینڈر بڑی تعداد میں رکھے جاتے ہیں۔ ممبئی مہانگر پالیکا نے منترالیہ کی کینٹین کو ہری جھنڈی نہیں دی تھی اور ان کو کہیں اور منتقل کرنے کی صلاح دی تھی۔ اس کا یہی مطلب ہوا کہ جہاں سے سرکار پوری ریاست میں حکم چلاتی ہے، اس عمارت کی سیکورٹی کے تئیں ہی لا پرواہ بنی رہی۔اس سے تو یہی واضح ہوتاہے کہ سرکار خود کی اندیکھی کرتی رہی ہے۔ اب فائر بریگیڈ محکمہ کی کمیاں گنوائی جا رہی ہیں
فی الحال تو یہی کہا جارہا ہے کہ جنمحکموں میں گھوٹالے ہوئے تھے ان کے وزیروں و افسروں نے راحت کی سانس لی ہے۔ متعلقہ فائلیں آگکی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ اس لئے ان کی جانچ ہونے سے رہی۔ اس کے پہلے تو اسی بات کی جانچ ہوگی کہ منترالیہ میں آگ لگی کیسے؟جب تک اس کی جانچ چلتی ہے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ منترالیہ میں آگ لگنے کا حادثہ عوام میں چرچا کا موضوع کچھ دن بنا رہ سکتا ہے پھر بھلا دیا جائے گا۔ عوام کے پیسے سے وزیروں کے دفتر نئے سرے سے سج جائیں گے ۔ ان کی جیب سے تو کچھ جانا نہیں ہے۔ کچھ دن میں سرکار کا کام کاج معتدل طور سے چلنے لگے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *